کراچی (ڈیجیٹل پوسٹ) کراچی میں واٹر کارپوریشن افسران کی مبینہ نااہلی کے باعث ایشیا کے سب سے بڑے جلدی امراض کے سرکاری ادارے انسٹی ٹیوٹ آف اسکن ڈیزیز کو شدید بحران کا سامنا ہے۔
Share
کراچی (ڈیجیٹل پوسٹ) کراچی میں واٹر کارپوریشن افسران کی مبینہ نااہلی کے باعث ایشیا کے سب سے بڑے جلدی امراض کے سرکاری ادارے انسٹی ٹیوٹ آف اسکن ڈیزیز کو شدید بحران کا سامنا ہے۔ ہر ماہ باقاعدگی سے بل ادا کرنے کے باوجود گزشتہ چھ ماہ سے اسپتال میں پانی کی شدید قلت برقرار ہے جبکہ گزشتہ پندرہ دن سے پانی کی فراہمی مکمل طور پر بند ہے ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف اسکن ڈیزیز ڈاکٹر محمد پریل جوکھیو کے مطابق اسپتال انتظامیہ کو پندرہ روز سے ایک گھونٹ پانی تک میسر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایم ڈی واٹر کارپوریشن اور متعلقہ چیف انجینئر کو متعدد بار آگاہ کیا گیا لیکن مسئلہ حل نہیں ہوا۔ ڈاکٹر محمد پریل جوکھیو نے بتایا کہ واٹر کارپوریشن کی جانب سے ایک ٹینکر بھیجا گیا جس کے نو ہزار روپے وصول کیے گئے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایک سرکاری اسپتال بار بار ٹینکر کے اخراجات کہاں سے برداشت کرے۔ ان کے مطابق اصل لائن میں برسوں سے پانی نہیں آ رہا تھا اور متبادل لائن سے جزوی فراہمی ہو رہی تھی جو اب مکمل بند ہو چکی ہے اسپتال انتظامیہ کے مطابق واٹر کارپوریشن حکام نے موٹر پمپ لگانے کا مشورہ دیا۔ دوستوں کی مالی مدد سے پچپن ہزار روپے خرچ کر کے پمپ نصب کیا گیا مگر اس کے باوجود پانی فراہم نہ ہو سکااسپتال میں روزانہ ڈھائی سے تین ہزار مریض او پی ڈی میں آتے ہیں جبکہ متعدد مریض روزانہ داخل بھی کیے جاتے ہیں۔ ڈائریکٹر کے مطابق اگر صورتحال برقرار رہی اور رات تک پانی بحال نہ ہوا تو کل سے نئے مریضوں کا داخلہ عارضی طور پر بند کرنا پڑ سکتا ہے ڈاکٹر محمد پریل جوکھیو نے میئر اور ڈپٹی میئر کو بھی تحریری طور پر آگاہ کیا ہے تاہم مسئلہ بدستور برقرار ہےاسپتال انتظامیہ نے متعلقہ حکام سے فوری نوٹس لینے اور پانی کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔






