LOADING

Type to search

National

ملتان (ڈیجیٹل پوسٹ) ​پولیس گردی، تھانہ کلچر اور جنوبی پنجاب کی مخصوص سیاسی مداخلت—یہ وہ تکون ہے جس میں بڑے بڑے سورما افسران ملتان آ کر ڈھیر ہو جاتے ہیں

Share

ملتان (ڈیجیٹل پوسٹ) ​پولیس گردی، تھانہ کلچر اور جنوبی پنجاب کی مخصوص سیاسی مداخلت—یہ وہ تکون ہے جس میں بڑے بڑے سورما افسران ملتان آ کر ڈھیر ہو جاتے ہیں۔ لیکن گزشتہ روز جب عثمان اکرم گوندل نے ریجنل پولیس آفیسر ملتان کا چارج سنبھالا، تو محکمہ پولیس کے حلقوں میں ایک ارتعاش محسوس کیا گیا۔ یہ ارتعاش محض ایک نئے افسر کی آمد کا نہیں، بلکہ ایک ایسی “لیگیسی” (Legacy) کا ہے جو گجرات کی مٹی سے گوندھی گئی ہے اور جس کی جڑیں قانون کی حکمرانی میں پیوست ہیں۔
​سلامی سے فیلڈ تک: ایک پروفیشنل کا آغاز
آر پی او آفس ملتان کے صحن میں جب بوٹوں کی دھمک گونجی اور چاک و چوبند دستے نے عثمان اکرم گوندل کو سلامی پیش کی، تو نئے کمانڈر کی نظریں جوانوں کے ٹرن آؤٹ کا جائزہ لے رہی تھیں۔ ایک منجھے ہوئے پولیس افسر کی پہچان یہی ہے کہ وہ پروٹوکول کے حصار میں مقید نہیں ہوتا۔ چارج سنبھالتے ہی برانچوں کا دورہ اور فائل ورک کا معائنہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عثمان اکرم گوندل “رائٹ مین فار دی رائٹ جاب” کے مقولے پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے دفتر کی گرد جھاڑنے کا حکم دے کر واضح کر دیا ہے کہ اب ملتان ریجن میں صرف وہی افسر ٹکے گا جو “کارکردگی” دکھائے گا۔
​گوندل خاندان: شرافت اور قانون کا سنگم
عثمان اکرم گوندل کا پس منظر کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ یہ وہ خاندان ہے جس نے ریاستِ پاکستان کو ہر شعبے میں ہیرا تراش کر دیا۔ ان کے والدِ محترم چوہدری محمد اکرم گوندل مرحوم کی اصول پسندی آج بھی ان کی تربیت میں جھلکتی ہے۔ جب ہم گوندل خاندان کی بات کرتے ہیں، تو ذہن میں چوہدری ثاقب اکرم گوندل (ایڈووکیٹ سپریم کورٹ و ممبر پنجاب بار) کا نام آتا ہے جو قانون کی موشگافیوں کے ماہر ہیں، ان دونوں بھائیوں نے بیوروکریسی اور سماج میں اپنے نام کا لوہا منوایا۔
​یہ ایک ایسا جتھہ ہے جہاں دستار کی لاج رکھنا اور وردی کا بھرم پانا خون میں شامل ہے۔ عثمان اکرم گوندل کے لیے ملتان کا چارج محض ایک ٹرانسفر نہیں، بلکہ اپنے خاندانی وقار اور پیشہ ورانہ ساکھ کا امتحان ہے۔
​رمضان، رعایت اور رٹ آف سٹیٹ
رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ جاری ہے، جہاں فورس عام طور پر سست روی کا شکار ہو جاتی ہے، وہاں نئے آر پی او نے پہلے ہی دن سے گیئر تبدیل کر دیا ہے۔ ان کی ہدایات میں ایک کرختگی بھی ہے اور عوامی ریلیف کے لیے نرمی بھی۔ انہوں نے برانچوں کو فعال کرنے کا جو حکم دیا ہے، اس کا مقصد “ریڈ ٹیپ ازم” کا خاتمہ ہے۔ پولیس ماہرین جانتے ہیں کہ جب تک اوپر والا افسر متحرک نہ ہو، نیچے والا کانسٹیبل حرکت میں نہیں آتا۔
​اصل چیلنج: کیا بدلے گا؟
ملتان ریجن کچے کے ڈاکوؤں سے لے کر بااثر وڈیروں کی آماجگاہ تک پھیلا ہوا ہے۔ عثمان اکرم گوندل کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ اس سیاسی دباؤ کو کیسے ہینڈل کرتے ہیں جس کے لیے جنوبی پنجاب بدنام ہے۔ لیکن جس افسر کے پیچھے اکرم گوندل مرحوم جیسی شخصیت کی دعائیں اور ثاقب اکرم گوندل جیسی قانونی ڈھال ہو، اسے کسی سیاسی بیساکھی کی ضرورت نہیں پڑتی۔
​عثمان اکرم گوندل نے کمان سنبھال لی ہے، بگل بج چکا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ گجرات کا یہ شہسوار ملتان کے تپتے ہوئے میدان میں انصاف کی کتنی ٹھنڈی چھاؤں فراہم کرتا ہے۔ پولیسنگ کی دنیا میں اب نظریں ملتان پر جمی ہیں، کیونکہ یہاں اب صرف آرڈر نہیں چلے گا، بلکہ “گوندل برانڈ” کی حکمرانی ہوگی۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »