LOADING

Type to search

Islamabad National

اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) فتنۃ الخوارج کی بربریت, افغان حکومت کی سرپرستی اور محفوظ پناہ گاہیں

Share

اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) فتنۃ الخوارج نے کا دین اسلام اور انسانیت سے کوئی تعلق نہیں , پاکستان کی سالمیت اور ریاستی وقار کا تقاضا یہ ہے کہ فتنۃ الخوارج کو کچلنے کیلئے فولادی عزم کا مظاہرہ کیا جائے رمضان کے مقدس مہینے میں فتنۃ الخوارج کی ایک اور بربریت سامنےآئی ہے فتنۃ الخوارج نے فیڈرل کانسٹیبلری کے زخمیوں کو لے جانے والی ریسکیو 1122 کی ایمبولینس کو آگ لگا کے ان مریضوں کو زندہ جلا دیا ہے یہ وہی فتنۃ الخوارج دہشت گرد ہیں جو پاکستان میں مساجد‘ امام بارگاہوں‘ سکولوں اور بازاروں میں دھماکے کر کے معصوم بچوں کا خون بہاتے ہیں۔
پاکستان کی حکومت اور عسکری اداروں کی جانب سے مسلسل یہ مؤقف اپنایا گیا ہے کہ افغانستان میں فتنۃ الخوارج (کالعدم تحریک طالبان پاکستان) کو افغان عبوری حکومت کی سرپرستی اور محفوظ پناہ گاہیں حاصل ہیں۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب نے واضح طور پر کہا ہے کہ فتنۃ الخوارج کو افغان عبوری حکومت کی باقاعدہ سرپرستی حاصل ہے۔ پاکستان کا دعویٰ ہے کہ اس گروہ کی پوری قیادت افغانستان میں مقیم ہے اور وہاں سے آزادانہ کارروائیاں کر رہی ہے, 22 فروری 2026 کو پاکستان نے افغانستان کے صوبوں ننگرہار، پکتیکا اور خوست میں فتنۃ الخوارج کے 7 مراکز پر انٹیلی جنس کی بنیاد پر فضائی حملے کیے، جس میں 80 سے زائد دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ یہ حملے افغان سرزمین سے ہونے والے مسلسل حملوں کے جواب میں کیے گئے۔ اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹس میں بھی افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اور انہیں حاصل آزادی کا ذکر کیا گیا ہے، جس کی بنیاد پر پاکستان اپنا مقدمہ عالمی سطح پر پیش کرتا ہے, پاکستانی حکام کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ فتنۃ الخوارج کو بھارت کی بھی سرپرستی حاصل ہے اور وہ افغان سرزمین کو پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ افغان عبوری حکومت ان الزامات کی تردید کرتی رہی ہے اور اسے پاکستان کا اندرونی مسئلہ قرار دیتی ہے۔ تاہم، پاکستان کا کہنا ہے کہ بار بار ثبوت فراہم کرنے کے باوجود افغان حکام نے اپنی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دینے کے وعدے پورے نہیں کیےاسلام میں جنگ کے دوران بھی زخمیوں پر حملہ کرنا اور انہیں نقصان پہنچانا حرام ہے۔رمضان کے مقدس مہینے میں فتنۃ الخوارج کی جانب سے زخمیوں کے ساتھ ظلم ایک کھلی بربریت اور اسلام کے منافی عمل ہے۔، بے گناہوں اور زخمیوں کو نشانہ بنانا ظلم اور کھلی بربریت ہے،جس کی اسلام میں کوئی اجازت نہیں۔ ان جوانوں کا لہو رائیگاں نہیں جائے گا اور فتنۃ الخوارج کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔ آگ میں جلا کے شہید کیے جانے والے فیڈرل کانسٹیبلری کے تمام اہلکار خیبر پختونخوا کے مقامی تھے۔فتنۃ الخوارج نے اس واقعے کی پوری فلم بندی کر کے اُس کو سوشل میڈیا پر ڈال دیا، اس طرح کی بربریت سے فتنۃ الخوارج کا ایک ہی مقصد ہے کہ عوام میں خوف و دہشت پھیلائی جا سکے۔ یاد رہے کہ23 فروری 2026 کو کرک کے علاقے قلعہ شہیدان میں فیڈرل کانسٹیبلری کی پوسٹ پر فتنۃ الخوارج نے کواڈ کاپٹر سے حملہ کیا تھاحملے کے بعد ریسکیو 1122 کی دو ایمبولینس زخمیوں کو لینے پوسٹ پر پہنچیں لیکن واپسی پر دونوں ایمبولینس پر فتنۃ الخوارج نے حملہ کر دیا تھاجس میں ایک ایمبولینس کو آگ لگا کر مریضوں سمیت جلا دیا گیا جبکہ دوسری ایمبولینس زخمیوں کو بحفاظت نکالنے میں کامیاب ہوگئی,
آگ لگنے کی وجہ سے ایمبولینس کا ڈرائیور اور ریسکیو 1122 کا ایک اہلکار بھی جھلس گیا تھا جل کے شہید ہونے والے زخمی اہل کاروں میں فیڈرل کانسٹیبلری کے سپاہی مراد گل، سپاہی ایان خان اور لانس نائیک عادل خان شامل ہیں,سپاہی مراد گل شہید اور سپاہی ایان خان شہید کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو سے تھا اور لانس نائیک عادل خان شہید کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ سے تھا جبکہ دیگر زخمیوں میں حوالدار صابر ولد حکیم شاہ، محمد یوسف ولد شربت خان، حنیف ولد گل زرین اور ایمبولینس ڈرائیور احمد حسین شامل ہیں جو سارے خیبرپختونخوا کے مقامی پختون ہیں , تین روز قبل افغانستان کے اندر فتنۃ الخوارج کے محفوظ ٹھکانوں پر پاکستان کی فضائی کارروائیاں محض ایک فوجی آپریشن نہیں بلکہ اعلان تھا کہ ارضِ پاک کا امن سبوتاژ کرنے والوں کیلئے اب کہیں بھی جائے پناہ باقی نہیں رہی۔ یہ کاری ضرب ان فتنہ پرور عناصر کیلئے ایک فیصلہ کن پیغام ہے جو سرحد پار بیٹھ کر معصوم پاکستانیوں کے خون سے ہولی کھیل رہے تھےفتنۃ الخوارج کی جانب سے ہمیشہ کی طرح اس بار بھی انسانی ہمدردی بٹورنے کیلئے روایتی جذباتی حربوں کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر جعلی اور پرانی تصاویر پھیلائی جا رہی ہیں تاکہ پاکستان کے خلاف عوامی غم و غصہ پیدا کیا جا سکے۔ پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ ہماری امن پسندی کو کمزوری سمجھنے والے اب اپنی بقا کی فکر کریں کیونکہ ریاستِ پاکستان نے اب فتنہ الخوارج کی جڑوں پر براہِ راست وار کرنے کا حتمی فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان نے انتہائی درست اور مصدقہ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر افغانستان کے اندر سات اہم مقامات کو نشانہ بنایا یہ کارروائیاں مخصوص اہداف تک محدود تھیں جن کا مقصد سرحد پار موجود دہشت گرد نیٹ ورکس کو مفلوج کرنا تھا۔ صوبہ ننگرہار میں فتنۃ الخوارج کے دو بڑے مراکز سمیت چار اہم اہداف کو تباہ کیا گیا جبکہ صوبہ پکتیکا میں دو اور صوبہ خوست میں ایک عسکری مرکز کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کارروائیوں میں 80سے زائدفتنۃ الخوارج دہشت گردوں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان کے نشانے نہ صرف درست تھے بلکہ ان کا مقصدفتنۃ الخوارج دہشت گردوں کے اس ڈھانچے کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچانا تھا جو پاکستان میں حالیہ خودکش حملوں میں ملوث پایا گیا تھا کیا مساجد میں نماز ادا کرتے ہوئے مسلمانوں کو شہید کرنا اسلامی اقدار کے مطابق ہے؟ کیا پشاور سکول کے معصوم بچوں کا خون بہانا انسانی حقوق کی پاسداری تھی؟ حقائق یہ ہیں کہ پاکستان کی مسلح افواج نے صرف مخصوص عسکری اہداف کو نشانہ بنایا اور معصوم شہریوں کے تحفظ کو ہر قیمت پر یقینی بنایا۔ پاکستان میں کیے جانے والے حملے‘ سکیورٹی اہلکاروں کی شہادتیں اور معصوم شہریوں کا قتل کس قانون کے تحت جائز ہے؟ٹی ٹی پی نے اپنے مراسلے میں ان حملوں کو خطے کیلئے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔ یہ پاکستان کے اس مؤقف کی تصدیق ہے جو ہم برسوں سے بیان کر رہے ہیں‘ اس لیے خطے کیلئے اصل خطرہ پاکستان کی دفاعی کارروائیاں نہیں بلکہ وہ عناصر ہیں جو پاکستان کے دشمنوں کی مالی اور عسکری امداد سے تخریب کاری کر رہے ہیں۔ یہ دہشت گرد گروہ خطے میں عدم استحکام پیدا کرکے غیر ملکی آقاؤں کے ایجنڈے کو پورا کر رہے ہیں۔ افغانستان کے اندر ان کی موجودگی پورے خطے کے امن کو داؤ پر لگا رہی ہے۔ افغان طالبان اور ان کے زیرِ سایہ پروان چڑھنے والے گروہوں کو اپنی بقا عزیز ہے تو انہیں ادراک کرنا ہو گا کہ دہشت گردی کا یہ راستہ انہیں صرف تباہی کی طرف لے جائے گا۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ضربِ عضب اور ردالفساد جیسے آپریشنز کے ذریعے اپنے اندرونی دشمنوں کا خاتمہ کیا۔پاکستان نے اپنی سرحدوں کو محفوظ بنانے کیلئے پاک افغان سرحد پر ہزاروں کلومیٹر طویل باڑ لگائی تاکہ دہشت گردوں کی نقل و حرکت روکی جا سکے۔ ان تمام تر کوششوں کے باوجود اگر سرحد پار سے حملے ہوتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ دوسری طرف موجود پناہ گاہیں اب بھی موجود اورفعال ہیں, پاکستان کی حالیہ کارروائی دراصل اسی نامکمل مشن کا حصہ ہے جس کا مقصد دہشت گردی کی جڑوں کو ہمیشہ کیلئے ختم کرنا ہے۔ پاکستانی سکیورٹی فورسز نے ثابت کیا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے تحفظ کیلئے سرحد کے اُس پار بھی دشمن کو ڈھونڈ نکالنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ پاکستان کی یہ کارروائیاں افغان قیادت کیلئے واضح پیغام ہیں۔ افغانستان کو یہ سمجھنا ہو گا کہ دہشت گرد,فتنۃ الخوارج کی پشت پناہی کر کے وہ نہ صرف پاکستان کی دشمنی مول لے رہے ہیں بلکہ خود کو عالمی تنہائی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ پاکستان کی پالیسی اب ہے خطرہ جہاں سے بھی اٹھے گا‘ اسے وہیں کچلا جائے گا۔جھوٹے وعدوں پر یقین کرنے کے بجائے عملی اقدامات کے منتظر ہیں۔ افغان طالبان کو یاد رکھنا چاہیے کہ اگر انہوں نے ان فتنۃ الخوارج کی خاطر پاکستان پر کسی جوابی مہم جوئی کی کوشش کی تو اس کے نتائج ان کیلئے انتہائی بھیانک ہوں گے اور خطے میں ہونے والی کسی بھی ابتری کی تمام تر ذمہ داری ان کی قیادت پر عائد ہو گی۔یاد رہے کہ پاکستان کی جانب سے ان اقدامات کی وجہ افغان قیادت کا مسلسل عدم تعاون پر مبنی رویہ ہے, اگست 2021ء میں کابل میں حکومت کی تبدیلی کے بعد پاکستان نے عالمی سطح پر افغان طالبان کیلئے آواز اٹھائی لیکن پاکستان کو بدلے میں دہشت گردی ملی۔ پاکستان نے گزشتہ ساڑھے چار برسوں میں درجنوں بار افغان طالبان کو فتنۃ الخوارج دہشت گردوں کی موجودگی کے ٹھوس شواہد‘ ان کے تربیتی مراکز کی لوکیشنز اور ان کے سرغنوں کی تفصیلات فراہم کیں۔ تاہم ہر بار افغان حکام کی جانب سے ان حقائق کو یکسر جھٹلایا گیا اور یہ دعویٰ کیا گیا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی۔ جب ایک ملک مسلسل شواہد کو نظر انداز کرے اور دہشت گردوں کو پناہ گاہیں فراہم کرے تو متاثرہ ملک کے پاس اپنے دفاع کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں رہتا۔ ان فضائی حملوں کی کامیابی کا سب سے بڑا ثبوت خود کالعدم ٹی ٹی پی کا وہ مذمتی مراسلہ ہے جو سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے۔ اس خط میں فتنۃ الخوارج/ ٹی ٹی پی نے نادانستہ طور پر یہ تسلیم کیا ہے کہ پاکستان نے اس کے ان مراکز کو نشانہ بنایا ہے جہاں مجاہدین عسکری تربیت حاصل کرتے تھے۔ یہ اعتراف اس جھوٹ کو بین الاقوامی سطح پر بے نقاب کرنے کیلئے کافی ہے کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانے موجود نہیں ہیں۔ جب کہ دہشت گرد تنظیم خود مان رہی ہے کہ اس کے عسکری تربیتی مراکز تباہ ہوئے ہیں تو افغان طالبان کی جانب سے دہشت گردوں کی عدم موجودگی کا دعویٰ محض ایک سیاسی بیان بازی اور عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔ اس مراسلے نے ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان کا مؤقف سو فیصد درست ہے اور افغانستان میں فتنۃ الخوارج کو باقاعدہ سرپرستی حاصل ہے۔ پاکستان میں فتنۃ الخوارج سے مراد کالعدم تحریک طالبان پاکستان (TTP) ہے۔ حکومتِ پاکستان نے جولائی 2024 میں ایک باقاعدہ نوٹیفکیشن کے ذریعے اس تنظیم کو اس لقب سے منسوب کیا تاکہ اس کے نظریات کو اسلام کی حقیقی تعلیمات کے منافی ثابت کیا جا سکے
وزارتِ داخلہ کے مطابق، تمام سرکاری خط و کتابت میں TTP کے لیے “فتنۃ الخوارج” اور اس کے ارکان کے ناموں کے ساتھ “خارجی” کا سابقہ استعمال کیا جاتا ہے۔ دہشت گردوں کے لیے استعمال ہونے والے مذہبی القابات جیسے ‘مفتی’ یا ‘حافظ’ کے سرکاری استعمال پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ “خوارج” کی اصطلاح اسلامی تاریخ کے اس گروہ کے لیے استعمال کی جاتی ہے جو انتہا پسندانہ نظریات کی بنا پر مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے کے لیے مشہور تھا۔ فروری 2026 میں پاکستان نے افغانستان میں فتنۃ الخوارج کے ٹھکانوں پر انٹیلی جنس کی بنیاد پر فضائی حملے کیے، جس میں 100 سے زائد دہشت گرد ہلاک ہوئے, حکومتِ پاکستان کا مؤقف ہے کہ اس گروہ کو افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں اور سرپرستی حاصل ہے، جہاں سے یہ پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرتے ہیں
عسکری حکام کے مطابق، فتنۃ الخوارج کے حملوں کا مقصد ملک میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے پاکستان نے اس عزم کا اعادہ کیاہے کہ فتنہ الخوارج اور ان جیسے ان کے پیروکاروں سے ڈٹ کر لڑیں گے اور انہیں ہر محاذ پر شکست دیں گے۔فتنہ الخوارج افغانستان کی سب سے بڑی شدت سے تنظیم ہہ فتنہ الخوارج افغان عبوری حکومت کی حمایت سے دہشت گرد حملے کر رہا ہے۔ افغان حکومت اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں پرعمل کرے،بین الاقوامی برادری افغانستان میں اپنے مقاصد کو نظر انداز نہ کرے، پاکستان قومی سطح پر فتنہ الخوارج کے خلاف کارروائیاں کرتا رہے گا، پاکستان علاقائی اور بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ تعاون کرنے کیلئے تیار ہے تاکہ ٹی ٹی پی کے خطرے کو ختم کیا جا سکے پاکستان کو افغان طالبان، فتنہ خوارج اور فتنہ ہند کی طرف سے بلاجواز جارحیت پر گہری تشویش ہے۔ اس طرح کی بلا اشتعال کارروائیوں کا مقصد پاک افغان دو طرفہ ہمسائیگی اور پرامن ہمسائیگی کے تعلقات کو غیر مستحکم کرنا ہے۔ پاکستان نے اپنے دفاع کے حق کا استعمال کرتے ہوئے نہ صرف سرحد پر حملوں کو مؤثر طریقے سے پسپا کیا بلکہ طالبان فورسز اور اس سے منسلک خوارجیوں کو بھی بھاری نقصان پہنچایا۔ یہ انفراسٹرکچر پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری کے لیے استعمال کیے گئے تھے۔ یہ ٹارگٹڈ کسی بھی قسم کے نقصان کو روکنے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے گئے۔ پاکستان مذاکرات اور سفارت کاری اور افغانستان کے ساتھ باہمی طور پر فائدہ مند تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ ایک مشترکہ مقصد ہے۔ طالبان حکومت کو ذمہ داریاں بدلنے کی بجائے اپنی سرزمین کو دوسرے ممالک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دینے کے اپنے عزم کا احترام کرنا چاہیے اور ساتھ ہی خطے اور اس سے باہر امن و استحکام کے حصول کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔ پاکستان نے افغان سرزمین سے فتنہ خوارج اور فتنہ ہند کی موجودگی سے متعلق اپنے تحفظات کا بارہا اظہار کیا ہے۔ پاکستان طالبان کی حکومت سے ان دہشت گرد عناصر کے خلاف ٹھوس اور قابل تصدیق کارروائیوں کی توقع کرتا ہے۔ اچھی ہمسائیگی، اسلامی بھائی چارے اور انسانیت کے جذبے کے تحت پاکستان نے چار دہائیوں سے زائد عرصے سے تقریباً 40 لاکھ افغانوں کی فراخدلی سے میزبانی کی پاکستان اپنی سرزمین پر افغان شہریوں کی موجودگی کو بین الاقوامی اصولوں اور قوانین کے مطابق منظم کرنے کے لیے تمام اقدامات کرے گا۔ پاکستان ایک پرامن، مستحکم، اور خوشحال افغانستان کا خواہاں ہے۔ پاکستان توقع کرتا ہے کہ طالبان کی حکومت ذمہ داری سے کام کرے گی، اپنے وعدوں کا احترام کرے گی اور اپنی سرزمین سے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے مشترکہ مقصد کے حصول میں تعمیری کردار ادا کرے گی۔, یہ بھی امیدہے کہ ایک دن افغان عوام آزاد ہو جائیں گے اور ان پر ایک حقیقی نمائندہ حکومت ہو گی۔پاکستان میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خاتمے کیلئے پوری قوم کو متحد ہےدہشت گردی کیخلاف جنگ صرف سکیورٹی فورسز، فوج، پولیس یا ایف سی کی جنگ نہیں بلکہ پوری قوم کی جنگ ہے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں کامیابی نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد سے مشروط ہے، پاکستان کے اندر تمام سپانسرڈ دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے حالیہ ترلائی امام بارگاہ کے حملہ آور کو دہشتگردانہ حملے کی ٹریننگ افغانستان نے دی، بیرونی اور اندرونی سازشی عناصر کیخلاف سخت کارروائیاں ناگزیر ہیں۔ہمیں قومیت، لسانیت یا صوبائیت کی بنیاد پر ہر گز تقسیم نہیں ہونا بلکہ متحد رہ کر تمام فتنوں کا خاتمہ کرنا ہے، فتنہ الہندوستان درحقیقت بلوچ عوام اور بلوچستان کی ترقی کا دشمن ہے سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ آپ کی کوئی بھی سیاسی یا مذہبی سوچ ہو ، اس سے فرق نہیں پڑتا، البتہ دہشت گردی کیخلاف ہمیں متحد ہونا ہے گُڈ گورننس ہی ایک واحد ذریعہ ہے جو دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرسکتی ہے، احساس محرومی کے نعرے کی آڑ میں دہشت گردی کرنیوالے دہشت گردوں کو بلوچستان کی عوام پہچان چکی ہے۔ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی پر قابو پانے کیلئے بھی نیشنل ایکشن پلان ہی کنجی ہے، اس سلسلے میں خیبرپختونخوا میں کی جانیوالی حالیہ میٹنگز خوش آئند ہیں۔ جس طرح ہم نے معرکہ حق میں متحد ہو کر بھارت کو شکست دی اسی طرح ہم دہشت گردوں کو بھی شکست دیں گے۔ پاکستان کی عوام خصوصاً نوجوان نسل پاک فوج کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہے کوئی بیانیہ فوج اور عوام کے رشتے کو کمزور نہیں کر سکتا، ہمارا بیانیہ صرف پاکستان ہے

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »