LOADING

Type to search

National

خانیوال (ڈیجیٹل پوسٹ) سیلاب زدہ ذخائر فلور ملوں تک پہنچ گئے، کروڑوں کی ریکوری کے خوف میں مبینہ گٹھ جوڑ بے نقاب

Share

خانیوال (ڈیجیٹل پوسٹ)— پنجاب کے ضلع خانیوال سے ایک ہولناک انکشاف نے شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق ایک لاکھ کلو سے زائد سیلاب زدہ اور مبینہ طور پر مضر صحت گندم سردار پور فوڈ سنٹر سے فلور ملوں کے ذریعے مارکیٹ میں پہنچا دی گئی، جبکہ کوٹ اسلام اور دیگر سنٹروں پر پڑی تقریباً 18 ہزار بوریاں بھی مختلف اضلاع کو سپلائی کیے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔
یہ معاملہ اس وقت مزید سنگین ہو گیا جب ماضی میں انہی سنٹروں کی نشاندہی پر محکمہ فوڈ پنجاب کے اعلیٰ حکام کے تبادلے، مقدمات اور اینٹی کرپشن میں کروڑوں روپے کی ریکوری کے کیسز سامنے آئے تھے۔ ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر اور متعلقہ انسپکٹر کے خلاف مقدمات درج ہونے کے باوجود، سوال یہ ہے کہ کیا اصل ذمہ داران تک ہاتھ نہیں پہنچ سکا؟
سیلاب، انکوائری اور مبینہ “کھیل”
ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال میڈیا رپورٹ کے بعد محکمانہ انکوائری شروع ہوئی۔ اسی دوران سیلاب آیا اور الزام ہے کہ متاثرہ گندم کو محفوظ مقام پر منتقل نہ کیا گیا، جس سے نقصان بڑھا۔ ناقدین کے مطابق یہ غفلت نہیں بلکہ مبینہ حکمتِ عملی تھی تاکہ پہلے سے جاری انکوائری کا رخ بدل جائے۔
فلور ملوں پر دباؤ؟
خانیوال کی بعض فلور ملوں نے مبینہ طور پر خراب گندم اٹھانے سے انکار کیا۔ تاہم اطلاعات ہیں کہ بعد ازاں لاہور، شیخوپورہ، گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور فیصل آباد کی ملوں کو مخصوص کوٹہ جاری کیا گیا۔ فی مل سینکڑوں بوریاں فراہم کیے جانے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔
صحت عامہ کا خطرہ؟
مقامی طبی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر فنگس زدہ یا خراب گندم آٹے میں شامل ہو تو فوڈ پوائزننگ، ڈائریا، جگر اور گردوں کے امراض میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ بعض علاقوں میں فوڈ پوائزننگ کے کیسز بڑھنے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں، تاہم سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں کی گئی۔
لیبارٹری رپورٹ اور پالیسی سوالات
ذرائع کے مطابق بہاولپور لیبارٹری میں کچھ ذخائر کے ٹیسٹ میں انہیں غیر معیاری قرار دیا گیا۔ پنجاب حکومت کی پالیسی کے تحت ایسی گندم کی نیلامی تو ممکن ہے، مگر اسے انسانی استعمال کے لیے فلور ملوں کو سپلائی نہیں کیا جا سکتا۔ سوال یہ ہے کہ اگر رپورٹس منفی تھیں تو سپلائی کیسے اور کس کے حکم پر ہوئی؟
سرکاری مؤقف؟
ڈپٹی کمشنر خانیوال سے متعدد بار رابطے کی کوشش کی گئی مگر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر خانیوال کا کہنا ہے کہ گندم مختلف شہروں کو سپلائی کی جا رہی ہے۔
اہم سوالات:
کیا کروڑوں کی ریکوری سے بچنے کے لیے عوامی صحت کو داؤ پر لگایا گیا؟
کیا فلور ملوں کو دباؤ میں لا کر خراب گندم مکس کروائی گئی؟
اصل ماسٹر مائنڈ کون ہے، اور کیا وہ اب بھی عہدے پر موجود ہے؟
عوامی و سماجی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے فوری، شفاف اور اعلیٰ سطحی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کیا ہے تاکہ حقائق سامنے آئیں اور اگر کوئی بھی ذمہ دار پایا جائے تو اسے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
یہ معاملہ صرف بدعنوانی نہیں، بلکہ ممکنہ طور پر عوام کی صحت اور جانوں کا سوال ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »