اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) وفاقی دارالحکومت میں امن و امان کی صورتحال ابتر، ایوانِ صدر میں تعینات سی ڈی اے کے سینیئر افسر محمد طارق سے دن دہاڑے ایک لاکھ روپے لوٹ لیے گئے۔
Share
اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) وفاقی دارالحکومت میں امن و امان کی صورتحال ابتر، ایوانِ صدر میں تعینات سی ڈی اے کے سینیئر افسر محمد طارق سے دن دہاڑے ایک لاکھ روپے لوٹ لیے گئے۔ متاثرہ شہری نے پولیس کے رویے اور سست روی پر آئی جی اسلام آباد سے فوری انصاف کی اپیل کر دی۔ تفصیلات کے مطابق، 23 جنوری کو محمد طارق ملوڈی نیشنل بینک سے 2 لاکھ روپے نکلوا کر میٹرو بس کے انتظار میں کھڑے تھے کہ سفید مہران کار سواروں نے “غوری ٹاؤن” چھوڑنے کا جھانسہ دے کر انہیں گاڑی میں بٹھا لیا۔ فیض آباد پہنچنے پر ملزمان نے ان کی جیب سے ایک لاکھ روپے نکال لیے اور مزاحمت پر انہیں چلتی گاڑی سے دھکا دے کر نیچے گرا دیا۔
متاثرہ شہری کا کہنا ہے کہ واردات کے فوری بعد انہوں نے موقع پر موجود ٹریفک پولیس اہلکاروں سے مدد مانگی، لیکن انہوں نے یہ کہہ کر مدد سے انکار کر دیا کہ “یہ ہمارا مسئلہ نہیں، تھانے کا معاملہ ہے” 15 پر اطلاع کے بعد ایس پی آفس اور تھانہ آبپارہ و کھنہ پل کے ایس ایچ اوز نے کارروائی کا آغاز کیا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے گاڑی اور ملزمان کو ٹریس کر لیا گیا۔ 29 جنوری کو پولیس نے مدعی کو ملزمان کی گرفتاری کی اطلاع تو دی، لیکن تاحال لوٹی گئی رقم برآمد نہیں ہو سکی۔
محمد طارق نے آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی سے مطالبہ کیا ہے کہ ایک سینیئر سٹیزن کے ساتھ ہونے والی اس ناانصافی کا نوٹس لیا جائے اور انہیں ان کی محنت کی کمائی واپس دلائی جائے۔ انہوں نے ہائی وے پر شہریوں کے تحفظ کے لیے گشت بڑھانے کا بھی مطالبہ کیا۔


