LOADING

Type to search

Islamabad National

اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) وزیر اعظم پاکستان کا ترقی و خوشحالی کا ویژن

Share

اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) موجودہ حکومت کی پالیسیوں کی بدولت ملک کے معاشی حالات میں نمایاں بہتری نظر آرہی ہے ،شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان نے بین الاقوامی سطح پر اپنے تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کئی ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کیے ہیں، جس میں سعودی عرب، چین، اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔ ان تعلقات کا مقصد اقتصادی، سیاسی، اور سماجی تعاون کو بڑھانا ہے۔شہباز شریف نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے کئی ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کیے ہیں شہباز شریف نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے کئی ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کیے ہیں وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اقتصادی تعاون کا فریم ورک شروع کرنے پر اتفاق کر لیا۔وزیراعظم شہبازشریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی ملاقات میں دوطرفہ تعلقات، سرمایہ کاری اور معاشی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے پاکستان سے تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا، دونوں رہنماؤں کا توانائی، تجارت اور نئے منصوبوں پر بھی غور کیا گیا ملاقات میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اعلیٰ سطح رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ ملاقات میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر اطلاعات عطا تارڑ، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب بھی وزیراعظم کے ساتھ تھے۔ وزیرِاعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے مابین ملاقات کے مشترکہ اعلامیہ کے مطابق یہ پیش رفت مملکت سعودی عرب اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے درمیان تقریباً آٹھ دہائیوں پر محیط تاریخی شراکت کی مضبوطی اور دونوں ممالک کی قیادت کو متحد کرنے والے بھائی چارے و اسلامی یکجہتی کے مضبوط رشتے کی عکاسی ہے۔ یہ فریم ورک دونوں ممالک کے مشترکہ اقتصادی مفادات پر مبنی ہے اور ان کی تکمیل کے لیے تجارت و سرمایہ کاری کے تعلقات کو مضبوط بنانے کیلئے دونوں ممالک کی باہمی خواہش کا اعادہ ہے۔
فریم ورک کے تحت اقتصادی، تجارتی، سرمایہ کاری اور ترقیاتی شعبوں میں کئی اسٹریٹجک اور اعلیٰ اثرات کے حامل منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا جو دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے، نجی شعبے کے اہم کردار کو بڑھانے اور تجارتی تبادلے کو بڑھانے میں معاون ثابت ہوں گے۔ اقتصادی فریم ورک کے ترجیحی شعبوں میں توانائی، صنعت، کان کنی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاحت، زراعت، اور غذائی تحفظ شامل ہیں، پاکستان اور سعودی عرب اس وقت کئی مشترکہ اقتصادی منصوبوں کے حوالے سے تعاون پر کام کر رہے ہیں۔ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان بجلی کی ترسیل کے منصوبے کے لیے مفاہمتی یادداشت اور دونوں ممالک کے مابین توانائی کے شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یاداشت پر دستخط بھی مشترکہ منصوبوں میں شامل ہیں۔ یہ فریم ورک باہمی برادرانہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے دونوں ممالک کے اقدامات کی عکاسی کرتا ہے اور اقتصادی، تجارتی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں پائیدار شراکت داری کی تعمیر کے لیے ان کے مشترکہ وژن کی توثیق کرتا ہے۔ فریم ورک دونوں ممالک کی قیادت اور برادر عوام کی امنگوں کی ترجمانی اور باہمی مفادات کے حصول کی تکمیل کی خواہش کی عکاسی کرتا ہے، دونوں ممالک کے رہنما سعودی پاکستانی سپریم کوآرڈینیشن کونسل کے اجلاس کے انعقاد کے بھی منتظر ہیں۔ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے انسانی ترقی اور فلاح و بہبود کیلئے عالمی اشتراک کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ امن ،خوشحالی اور ترقی ہماری ترجیح ہے، جدید ٹیکنالوجی، علم و تجربے کو بروئے کار لانا ہوگا، ماحولیاتی تبدیلیوں سے ہونے والی تباہی سے نمٹنے کیلئے قرضے فراہم کرنا مسئلے کا حل نہیں، عالمی برادری کو اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہوگی، پاکستان نے بڑے چیلنجز پر قابو پا لیا، نوجوانوں کی بڑی آبادی کو مواقع فراہم کریں گے۔ وہ منگل کو یہاں فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹیو کانفرنس کے تحت “کیا انسانیت صحیح سمت کی طرف گامزن ہے؟” موضوع پر منعقدہ اعلی سطح کے گول میز مباحثے سے خطاب کر رہے تھے۔ مباحثے میں مختلف ممالک کے رہنماؤں اور نمائندوں نے شرکت کی اور انسانیت کو درپیش بڑے مسائل کی نشاندہی کی۔ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے مباحثے میں اظہار خیال کرتے ہوئے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ترقی کے وژن کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی طرح وہ دنیا میں بہتری لانے کیلئے جو اقدامات کر رہے ہیں اس پر انہیں مبارکباد دیتا ہوں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے، ہم نے بہتری کیلئے بڑی تبدیلیاں اور اصلاحات کیلئے بڑے اقدامات کیے ہیں، مختلف شعبوں میں اصلاحات کا عمل جاری ہے، وزیر اعظم نے انسانیت کو صحیح سمت لے جانے کیلئے مختلف شعبوں میں برابری کے تعاون پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایک دوسرے کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون سے آگے بڑھا جا سکتا ہے، ترقی پذیر ممالک کیلئے مواقع بڑھانا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اے آئی سمیت جدید ٹیکنالوجی کے حصول کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے، اپنے نوجوانوں اور وسائل کو ترقی کیلئے بروئے کار لائیں گے۔ وزیر اعظم نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ مصنوعی ذہانت سے فائدہ اٹھانے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لا رہے ہیں، زرعی شعبہ اور صنعتوں میں جدت کیلئے اے آئی سے استفادہ کر رہے ہیں، زرعی شعبہ کی ترقی کیلئے نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی سے روشناس کرا رہے ہیں۔ انہوں نے گلوبل نارتھ کے گلوبل ساؤتھ کے ساتھ ترقی کیلئے اشتراک کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اپنے علم اور تجربات کو انسانیت کی ترقی اور بہبود کیلئے استعمال کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے کی ترقی کے لیے پاکستانی نوجوان چین سے تربیت حاصل کر رہے ہیں
شہباز شریف کی سفارتی کوششوں سے پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنے اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا مقام بہتر کرنے میں مدد ملی ہے۔ وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان ترقی کی طرف گامزن ہے، وزیر اعظم پاکستان ترقی و خوشحالی کیلئے زیادہ سے زیادہ بین الا قوامی سرمایہ کاری لانے کیلئے سر گرم ہیں وزیر اعظم کی کوششوں سے ملک میں کی قیمتوں میں بھی کمی آرہی ہے وزیراعظم شہباز شریف کی قائدانہ صلاحیتوں اور ترقی و خوشحالی کے وژن کو دیکھتے ہوئے، ان کی کاوشیں اور پالیسیاں پاکستان کی معیشت، تعلیم، صحت اور دفاعی محاذوں پر مثبت تبدیلی لا رہی ہیں۔ شہباز شریف نے اقتدار سنبھالتے ہی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے اقدامات کیے، جس کے نتیجے میں شرح سود 22 فیصد سے کم ہو کر 11 فیصد پر آ گئی اور مہنگائی کی شرح 30 فیصد سے گھٹ کر 5 فیصد رہ گئی. انہوں نے قومی اتحاد اور یکجہتی کی اہمیت پر زور دیا، جس کی بدولت پاکستان نے بھارت کے ساتھ مسلح تنازع میں نمایاں کامیابی حاصل کی. شہباز شریف نے صوبوں کے درمیان اتحاد اور محبت کے جذبے کو فروغ دینے پر زور دیا تاکہ ترقیاتی منصوبے کامیاب ہو سکیں. نوجوانوں کو تعلیم اور ہنر فراہم کرنے کے لیے پروگرامز شروع کیے ہیں تاکہ وہ ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں.وزیرِاعظم شہباز شریف کی بصیرت افروز قیادت اور معاشی استحکام کے لیے اٹھائے گئے انقلابی اقدامات نے عالمی سطح پر پاکستان کی اہمیت میں اضافہ کیا ہے شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان نے عالمی سطح پر اپنی اقتصادی استحکام اور سیاسی اہمیت کو بڑھانے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ شہباز شریف کی حکومت نے اقتصادی استحکام کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں، جیسے کہ IMF کے ساتھ معاہدہ کرنا اور قرضوں کی ادائیگی کے لیے اقدامات کرنا,ان کی حکومت نے انفراسٹرکچر کی ترقی کے لیے کئی منصوبوں کا آغاز کیا ہے، جیسے کہ چین پاکستان اکانومک کریدور کے تحت مختلف منصوبے شامل ہیں: شہباز شریف نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے کئی ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کیے ہیں پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی کوششوں کو تیز کیا ہے اور ان اقدامات کو عالمی سطح پر سراہا گیا ہے۔ ان اقدامات نے پاکستان کی عالمی سطح پر اہمیت میں اضافہ کیا ہے اور ملک کی معاشی استحکام کو بہتر بنانے میں مدد کی ہے تاہم، کچھ لوگ ان اقدامات کے اثرات کے بارے میں مختلف رائے رکھتے ہیں۔ کچھ کا ماننا ہے کہ ان اقدامات نے معاشی استحکام میں بہتری لائی ہے، جبکہ دوسروں کا کہنا ہے کہ ان کے اثرات محدود رہے ہیں۔ عالمی بینک نے پاکستان سے متعلق رپورٹ جاری کی ہے رپورٹ میں رواں ساہ معاشی شرح نمو 3 فیصد رہنے جبکہ اگلے سال معاشی ترقی بڑھ کر 3.4 فیصد تک جانے کا امکان ہے۔ عالمی بینک نے معاشی ترقی کی موجودہ رفتار کو غربت میں کمی کیلئے ناکافی قرار دے دیا۔ پاکستان میں ہر سال 16 لاکھ نوجوان روزگار کیلئے مارکیٹ میں آرہے ہیں۔ اس سال پاکستان میں غربت کی شرح 21.5 فیصد رہنے کا امکان ہے، غربت میں کمی اور معیار زندگی میں بہتری کیلئے معاشی ترقی میں بہتری پر زور دیا گیا ہے۔ عالمی بینک کے مطابق پاکستان میں رواں مالی سال مہنگائی 7.2 فیصد رہنے کا امکان ہے، اگلے سال پاکستان میں مہنگائی کم ہوکر 6.8 فیصد تک رہنے کا تخمینہ ہے۔ عالمی بینک نے اپنی رپورٹ میں پاکستان کے مختلف شعبوں میں جامع اصلاحات پر زور دیا ہے۔ شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان نے بین الاقوامی تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کی ہے، خاص طور پر سعودی عرب، چین اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ۔ ان کے دور میں اقتصادی، سیاسی اور سماجی تعاون کو بڑھانے پر توجہ دی گئی ہے، جس سے پاکستان کی معیشت مستحکم ہوئی اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا مقام بہتر ہوا۔وزارت خزانہ نے موجودہ مالی سال کی پہلی سہہ ماہی میں ٹیکس آمدن اور اخراجات کی تفصیلات جاری کردیے۔ رپورٹ کے مطابق جولائی تا ستمبر ٹیکس ریونیو 12.5 فیصد اضافے سے 2884 ارب ہوگئے جبکہ مجموعی اخراجات 7.6 فیصد اضافے سے 1760 ارب روپے رہے۔ پہلی سہہ ماہی میں مالی سرپلس 1509 ارب روپے سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔ گزشتہ سال اسی مدت میں 648 ارب روپے سے زائد کا مالی خسارہ ہوا تھا۔ وزارت خزانہ کے مطابق بہتر فسکل منیجمنٹ کے باعث مالی اشاریوں میں بہتری آئی ہے، رواں مالی سال پرائمری بیلنس میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے، جولائی تا ستمبر 2939 ارب روپے کا پرائمری سرپلس ریکارڈ کیا گیا۔ پچھلے سال اسی مدت میں 49.4 ارب کا پرائمری سرپلس تھا۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ ستمبر میں 110 ملین ڈالر سرپلس رہا، اگست میں ملکی کرنٹ اکاؤنٹ 32 کروڑ 50 لاکھ ڈالر خسارے میں تھا، ماہرین کے مطابق برآمدت نہ بڑھنے کے باجود کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ہونا بڑی بات ہے۔ترسیلات زر میں اضافے سے کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ہوا۔ پاکستان نے بین الاقوامی سطح پر کئی ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کیے ہیں، جس میں سعودی عرب، چین، اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔ ان تعلقات کا مقصد اقتصادی، سیاسی، اور سماجی تعاون کو بڑھانا ہے۔سعودی عرب رواں مالی سال پاکستان کو ایک ارب ڈالر کی آئل فیسیلٹی دے گا جبکہ 5 ارب ڈالر کے ڈیپازٹس بھی رول اوور کرے گا وزارت خزانہ حکام کے مطابق سعودی عرب رواں مالی سال پاکستان کو ایک ارب ڈالر کی آئل فیسیلٹی دے گا۔ سعودی آئل فیسیلٹی 290 ارب روپے کے مساوی ہوگی حکام کے مطابق سعودی عرب 5 ارب ڈالر کے ڈیپازٹس بھی رول اوور کرے گا۔ دو ارب ڈالر دسمبر جبکہ 3 ارب ڈالر قرض جون 2026 میں واجب الادا ہے۔دستاویز کے مطابق رواں مالی سال پہلے 3 ماہ میں 85 ارب روپے سے زائد کی آئل فیسیلٹی دی گئی، سعودی عرب کی طرف سے فراہم کردہ سہولت 30 کروڑ ڈالر کے مساوی ہے، سعودی عرب ماہانہ بنیاد پر 10 کروڑ ڈالر کی آئل فیسیلٹی فراہم کر رہا ہے، پاکستانی کرنسی میں یہ سہولت 28 ارب 37 کروڑ روپے ماہانہ ہے۔ حکام وزارت خزانہ کے مطابق سعودی عرب نے پاکستان کو 5 ارب ڈالر ٹائم ڈیپازٹس 4 فیصد شرح سود پر دے رکھے ہیں، سعودی عرب ان فنڈز کی ادائیگی ہر سال رول اوور کرتا ہے، قرض کی مد میں سعودی ڈیپازٹس 1450 ارب روپے کے مساوی ہیں۔ سعودی عرب نے پاکستان کو یہ قرض بجٹ سپورٹ کی مد میں فراہم کر رکھا ہے۔ شہباز شریف کی سفارتی کوششوں سے پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنے اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا مقام بہتر کرنے میں مدد ملی ہے۔شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان نے معاشی استحکام کی طرف اہم پیش رفت کی ہے، جس میں ان کی سفارتی کوششیں اور داخلی اصلاحات اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ ان اقدامات سے نہ صرف سرمایہ کاری میں بہتری آئی بلکہ بین الاقوامی تعلقات بھی مضبوط ہوئے ہیں۔وزارت خزانہ نے موجودہ مالی سال کی پہلی سہہ ماہی میں ٹیکس آمدن اور اخراجات کی تفصیلات جاری کردیے۔ رپورٹ کے مطابق جولائی تا ستمبر ٹیکس ریونیو 12.5 فیصد اضافے سے 2884 ارب ہوگئے جبکہ مجموعی اخراجات 7.6 فیصد اضافے سے 1760 ارب روپے رہے۔ پہلی سہہ ماہی میں مالی سرپلس 1509 ارب روپے سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔ گزشتہ سال اسی مدت میں 648 ارب روپے سے زائد کا مالی خسارہ ہوا تھا۔ وزارت خزانہ کے مطابق بہتر فسکل منیجمنٹ کے باعث مالی اشاریوں میں بہتری آئی ہے، رواں مالی سال پرائمری بیلنس میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے، جولائی تا ستمبر 2939 ارب روپے کا پرائمری سرپلس ریکارڈ کیا گیا۔ پچھلے سال اسی مدت میں 49.4 ارب کا پرائمری سرپلس تھا۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ ستمبر میں 110 ملین ڈالر سرپلس رہا، اگست میں ملکی کرنٹ اکاؤنٹ 32 کروڑ 50 لاکھ ڈالر خسارے میں تھا، ماہرین کے مطابق برآمدت نہ بڑھنے کے باجود کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ہونا بڑی بات ہے۔ترسیلات زر میں اضافے سے کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ہوا۔ پاکستان نے ترسیلات زر میں خاطر خواہ اضافہ دیکھا ہے، جو کہ ملک کی معیشت کے لیے ایک مثبت علامت ہے۔ اس سے نہ صرف ممالت کے ذخائر میں بہتری آئی ہے بلکہ روپے کی قدر میں بھی استحکام آیا ہے۔سٹیٹ بینک کے مطابق ایک ہفتے میں ملکی مجموعی زرمبادلہ ذخائر بڑھ کر 19 ارب 85 کروڑ 40 لاکھ ڈالر ہوگئے ۔ اسٹیٹ بینک کےڈالرریزرو 1.4 کروڑڈالراضافے سے 14 ارب 45 کروڑ 50 لاکھ ڈالرہوگئے ۔ جبکہ ایک ہفتے میں بینکوں کےڈالرڈپازٹس 2 کروڑ90 لاکھ ڈالر اضافے سے 5 ارب 40 کروڑ ڈالر ہو گئے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »