LOADING

Type to search

Islamabad National

اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) یہ ملک عجائب گھر ہے۔ یہاں عیب ہی عیب ہیں اور ان عیوب کو ہم نے اپنی خوبیوں کی طرح گلے سے لگایا ہوا ہے۔

Share

اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) یہ ملک عجائب گھر ہے۔ یہاں عیب ہی عیب ہیں اور ان عیوب کو ہم نے اپنی خوبیوں کی طرح گلے سے لگایا ہوا ہے۔ یہ وہ سرزمین ہے جہاں کرپٹ ہونا معمول ہے اور ایماندار ہونا خبر۔ جہاں جھوٹ قومی زبان اور مکاری قومی تہذیب بن چکی ہے۔ جہاں چوروں، لٹیروں اور بددیانتوں کی بھیڑ میں اگر کوئی ایماندار نکل آئے تو لوگ اسے دیکھ کر ایسے حیران ہوتے ہیں جیسے ریگستان میں یکایک چشمہ پھوٹ پڑے۔
یہی وجہ ہے کہ جب میں خانیوال کے اسسٹنٹ کمشنر روہت کمار گپتا کا ذکر کرتا ہوں تو دل خوش بھی ہوتا ہے اور دکھ سے بھر بھی جاتا ہے۔ خوشی اس بات کی کہ اس اندھیر نگری میں بھی ایک ایسی مشعل جل رہی ہے جو نایاب ہے۔ دکھ اس بات کا کہ ہم نے ایمانداری کو اس قدر نایاب بنا دیا ہے کہ اب وہ ایک استثنا بن گئی ہے۔

یہ ملک ایک المیہ ہے۔ ہم نمازی ہیں مگر جھوٹے بھی ہیں۔ ہم روزے دار ہیں مگر دو نمبری سے باز نہیں آتے۔ ہم حج کر کے آتے ہیں مگر ذخیرہ اندوزی چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔ ہم دین کی آڑ میں دنیا داری کرتے ہیں، مگر دنیا داری کی خاطر دین بیچنے سے بھی نہیں ہچکچاتے۔ ایسے ماحول میں اگر کوئی افسر صاف دل سے اعلان کرے کہ “میں اپنی تنخواہ کے علاوہ ایک پیسے کا بھی روادار نہیں”، تو یہ اعلان بجلی کی گرج کی طرح سنائی دیتا ہے۔ لوگ کانوں پر ہاتھ رکھ کر چونک جاتے ہیں، جیسے کسی دیوانے نے ہوا سے بات کر لی ہو۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ کوئی دیوانگی نہیں، یہ اصل ہے۔ اور یہ اصل اس ملک میں اب “نایاب” ہو گئی ہے۔ روہت کمار گپتا اسی نایاب قبیلے کے فرد ہیں۔

یہ افسر صرف ایماندار ہی نہیں، فرض شناس بھی ہیں۔ دفتر کے اے سی والے کمرے میں بیٹھنے کے بجائے یہ فیلڈ میں پائے جاتے ہیں۔ کبھی سکولوں میں اساتذہ کی حاضری چیک کرتے ہیں، کبھی ہسپتالوں میں غائب ڈاکٹر ڈھونڈتے ہیں، کبھی بازاروں میں جا کر گراں فروشوں کو پکڑتے ہیں۔ یہ وہ سب کام ہیں جو اکثر افسران کے نزدیک “چپڑاسی” کے ہوتے ہیں۔ لیکن یہی کام اگر ایمانداری اور فرض شناسی سے ہو تو عوام کا اعتماد بحال ہوتا ہے۔

قابلیت کی بات کریں تو یہاں بھی روہت کمار گپتا اپنی مثال آپ ہیں۔ قبضہ مافیا کے خلاف آپریشن ہو یا تجاوزات کا خاتمہ، انہوں نے ریونیو عملے، پولیس، ضلع کونسل اور پیرافورس کو ایک صفحے پر جمع کر کے دکھا دیا۔ یہ کوئی معمولی کارنامہ نہیں۔ ہمارے ہاں تو اکثر ادارے ایک دوسرے کے حریف بنے رہتے ہیں، ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف رہتے ہیں۔ لیکن اگر نیت صاف ہو تو دشمن بھی ساتھ چلنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ روہت کمار گپتا نے یہ سچ ثابت کر دیا۔

لیکن ذرا معاشرتی تلخی بھی دیکھ لیجیے۔ عوام اس افسر کو دعائیں دیتے ہیں، ان کے حق میں تعریفی جملے کہتے ہیں، لیکن دل ہی دل میں افسوس بھی کرتے ہیں کہ “یہ زیادہ دن نہیں ٹکیں گے”۔ یہ جملہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ ہے۔ یہاں سچ زیادہ دیر نہیں جیتا، دیانت زیادہ دیر نہیں چلتی۔ یہاں جو ایماندار ہے وہ یا تو جلد ٹرانسفر کر دیا جاتا ہے یا سائیڈ لائن کر دیا جاتا ہے۔ ایمانداری کو یہاں عیب سمجھا جاتا ہے، اور بددیانتی کو قابلیت۔

میں اکثر سوچتا ہوں کہ آخر اس ملک کا مستقبل کس کے ہاتھ میں ہے؟ وہ افسر جو قبضہ مافیا کے ساتھ بیٹھ کر کماتے ہیں یا وہ جو مافیا کے سامنے ڈٹ جاتے ہیں؟ وہ لوگ جو غریب کی جھونپڑی گرا کر امیروں کے بنگلوں کو چھوڑ دیتے ہیں یا وہ جو امیر و غریب میں فرق کیے بغیر قانون پر عمل کرواتے ہیں؟ جواب ڈھونڈنے بیٹھو تو شرمندگی کے سوا کچھ نہیں ملتا۔

روہت کمار گپتا کی کہانی ہمیں امید بھی دیتی ہے اور شرمندگی بھی۔ امید اس لیے کہ آج بھی کچھ لوگ باقی ہیں جنہوں نے حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھ رکھا ہے۔ شرمندگی اس لیے کہ وہ “چند” رہ گئے ہیں۔ اگر یہ ملک اپنی اصل پہچان پر قائم ہوتا تو روہت کمار گپتا جیسے لوگ ہر تحصیل، ہر ضلع اور ہر دفتر میں ہوتے۔ لیکن یہاں تو حال یہ ہے کہ وہ استثنا بن گئے ہیں۔

ہمارا معاشرہ بڑا عجیب ہے۔ ہم کرپٹ کو ہیرو بنا لیتے ہیں، اور ایماندار کو پاگل کہتے ہیں۔ ہم طاقتور کے قدموں میں بیٹھ جاتے ہیں، اور اصول پر چلنے والے کو تنہا چھوڑ دیتے ہیں۔ ہم تالیاں نعرے بازوں کے لیے بجاتے ہیں لیکن سچ بولنے والے کے ساتھ کھڑے نہیں ہوتے۔ ہم نے اپنے ہیروز کا تعین الٹا کر رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہم تباہی کے کنارے پر کھڑے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا ہم روہت کمار گپتا جیسے کرداروں کو محفوظ رکھ سکیں گے؟ کیا ہم انہیں سپورٹ کر سکیں گے؟ یا یہ بھی باقی مثالوں کی طرح چند دنوں میں تاریخ کا قصہ بن جائیں گے؟ اگر ہم نے ان جیسے لوگوں کو نہ سنبھالا تو یقین جانیے یہ ملک اسی دلدل میں دھنستا جائے گا جس میں پہلے ہی گردن تک دھنسا ہوا ہے۔

یاد رکھیے، روہت کمار گپتا کوئی عام افسر نہیں۔ یہ وہ نایاب مشعل ہیں جو اندھیروں میں روشنی کرتے ہیں۔ یہ وہ یاد دہانی ہیں کہ دیانتداری اب بھی زندہ ہے۔ یہ وہ سبق ہیں کہ اگر چاہو تو نظام بدل سکتے ہو۔ لیکن یہ مشعل کب تک جلتی رہے گی؟ یہ سوال ہم سب سے جواب مانگ رہا ہے۔

آخر میں بس اتنا کہوں گا: اگر ہم نے اس ملک کو بچانا ہے تو ہمیں روہت کمار گپتا جیسے نایاب کرداروں کو کثرت سے پیدا کرنا ہوگا۔ ورنہ ایک دن یہ ملک ایسا ہو جائے گا جہاں “ایماندار افسر” ایک نایاب کہانی نہیں، بلکہ معدوم مخلوق بن جائے گا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »