اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم 2026، 12 اور 13 نومبر کو اسلام آباد میں منعقد ہوگا وزیراعظم محمد شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر فورم کے اہم مقررین میں شامل
Share
اسلام آباد، 28 اکتوبر 2026 (ڈیجیٹل پوسٹ): پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم 2026 (پی ایم آئی ایف 26) 12 اور 13 نومبر کو اسلام آباد کے جناح کنونشن سینٹر میں منعقد ہوگا۔ فورم میں پالیسی سازوں، ملکی و بین الاقوامی کان کنی کمپنیوں کے اعلیٰ حکام، سرمایہ کاروں، مالیاتی اداروں اور تکنیکی ماہرین کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے، جہاں پاکستان کے معدنی شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع کا جائزہ لیا جائے گا۔
حکومت پاکستان کے زیرِ اہتمام اور خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کی سرپرستی میں منعقد ہونے والا یہ فورم پاکستان کے معدنی وسائل کو عالمی سرمایہ کاری، مہارت اور جدید ٹیکنالوجی سے منسلک کرنے کے لیے ملک کا اہم ترین پلیٹ فارم ہے۔ آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی) فورم کا بانی شراکت دار ہے۔ پی ایم آئی ایف 26 میں معدنی وسائل کی تلاش، پراسیسنگ اور پائیدار کان کنی کے شعبوں میں بات چیت کو عملی سرمایہ کاری، شراکت داریوں اور منصوبوں میں تبدیل کرنے پر توجہ دی جائے گی۔
پی ایم آئی ایف 26 کے اسٹریٹجک شراکت داروں میں پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل)، ماری انرجیز، گورنمنٹ ہولڈنگز پرائیویٹ لمیٹڈ (جی ایچ پی ایل)، ریکوڈک مائننگ کمپنی، پاکستان منرلز پرائیویٹ لمیٹڈ (پی ایم پی ایل) اور فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) شامل ہیں۔ ووڈ میکینزی کانفرنس کا مرکزی منتظم ہے، جبکہ مل بینک، وائٹ اینڈ کیس اور لازارڈ علمی معاون شراکت دار ہیں۔ تعلیمی شراکت داروں میں نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن (نیوٹیک)، نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ)، یونیورسٹی آف پشاور اور پشاور و لاہور کی انجینئرنگ یونیورسٹیاں سمیت دیگر ادارے شامل ہیں۔
او جی ڈی سی کے منیجنگ ڈائریکٹر و چیف ایگزیکٹو آفیسر اور پی ایم آئی ایف کے صدر احمد حیات لک نے کہا کہ ”پی ایم آئی ایف 26 پاکستان کے معدنی وسائل کو عالمی سرمایہ کاری، مہارت اور جدید ٹیکنالوجی سے منسلک کرنے کا ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔ پاکستان کے پاس معدنی وسائل کا وسیع ذخیرہ موجود ہے، جبکہ ہم آہنگ ریگولیٹری نظام اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار پالیسیاں بھی دستیاب ہیں۔ او جی ڈی سی پہلے ہی ریکوڈک منصوبے میں مشترکہ منصوبے کے شراکت دار کی حیثیت سے شامل ہے اور ہم عالمی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کے ذریعے معدنیات اور کان کنی کے شعبے میں اپنی سرگرمیوں کو مزید وسعت دینا چاہتے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ دنیا بھر سے پالیسی ساز اور صنعتی رہنما اسلام آباد آئیں گے، خیالات کا تبادلہ کریں گے، شراکت داریاں قائم کریں گے اور نئے منصوبوں کے امکانات تلاش کریں گے۔“
یہ فورم ایسے وقت میں منعقد ہو رہا ہے جب توانائی کی عالمی منتقلی، جدید صنعتوں اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے لیے اہم معدنیات کی اسٹریٹجک اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ فورم میں پاکستان کے معدنی وسائل کو اجاگر کرنے، پالیسی اصلاحات پر روشنی ڈالنے اور معدنیات کی پوری ویلیو چین میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے پر توجہ دی جائے گی۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر فورم کے اہم مقررین میں شامل ہیں۔ وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک پی ایم آئی ایف 26 کے افتتاحی روز استقبالیہ خطاب کریں گے۔ بین الاقوامی مقررین میں بیرک مائننگ کارپوریشن کے چیئرمین جان ایل تھارنٹن، آئیونہو مائنز کے بانی اور ایگزیکٹو شریک چیئرمین رابرٹ فریڈلینڈ، ووڈ میکینزی کے پیٹرک بارنز اور وائل جابر، ایشیائی ترقیاتی بینک کی ازابیل چیٹرٹن اور کلیئر الیڈینز، جبکہ چالک گروپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مصطفیٰ اک سوئے شامل ہیں۔
دیگر مقررین میں عالمی بینک گروپ، ریکوڈک مائننگ کمپنی، لازارڈ، وئیر، مل بینک اور وفاقی ادارہ برائے جیو سائنسز و قدرتی وسائل کے نمائندوں کے علاوہ پاکستانی حکام اور صنعتی شعبے کے رہنما بھی شامل ہوں گے۔ فورم ملکی و غیر ملکی شرکا کو سرمایہ کاری، تکنیکی تعاون، پالیسی سازی اور کان کنی کی صنعت کے مستقبل پر تبادلہ خیال کا موقع فراہم کرے گا۔
دو روزہ اسٹریٹجک کانفرنس میں سرمایہ کاری کے لیے تیار کان کنی کے ماحول، اہم معدنیات اور توانائی کی عالمی منتقلی میں پاکستان کے کردار، ابتدائی مرحلے میں معدنیات کی تلاش کے لیے مالی وسائل کی فراہمی، افرادی قوت کی ترقی، کان کنی میں خواتین کی شمولیت اور جدید کان کنی کے منصوبوں کی تیاری جیسے موضوعات زیرِ بحث آئیں گے۔ سیشنز میں ارضیاتی سروے کے شعبے میں تعاون، بنیادی ڈھانچے، برآمدی راہداریوں، ماحولیاتی و سماجی پہلوؤں اور ملکی صلاحیتوں میں اضافے پر بھی گفتگو ہوگی۔ او جی ڈی سی ایل کے منیجنگ ڈائریکٹر و چیف ایگزیکٹو آفیسر اور پی ایم آئی ایف کے صدر احمد حیات لک اختتامی کلمات ادا کریں گے۔
فورم کے تحت ہونے والی تکنیکی کانفرنس میں ماہرین کے جائزے سے منظور شدہ 50 سے زائد تحقیقی مقالے پیش کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ ارضیاتی سروے کے اعداد و شمار، ٹیکنالوجی کے تقابلی جائزے اور اہم معدنیات کی کان کنی میں پاکستان کی جدت طرازی کی صلاحیت پر ایک خصوصی ورکشاپ بھی منعقد ہوگی۔ اسی طرح بین الاقوامی نمائش میں منصوبوں کے ڈویلپرز، سرمایہ کاروں، آلات تیار کرنے والی کمپنیوں، ٹیکنالوجی فراہم کرنے والوں اور صنعت کے دیگر متعلقہ فریقوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا جائے گا۔ نمائش میں جدید حل پیش کرنے، شراکت داریاں قائم کرنے اور کاروباری مواقع تلاش کرنے کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ اس میں نایاب معدنی نمونوں کی نمائش، مختلف منصوبوں کے تعارف اور خریداری سے متعلق بریفنگز پر مشتمل منرل ایکسپو بھی شامل ہوگی۔
پی ایم آئی ایف 26 کی نمائش معدنیاتی شعبے سے وابستہ اداروں کے لیے ایک کاروباری مرکز کا کردار ادا کرے گی، جہاں ملکی و بین الاقوامی کمپنیاں اپنی صلاحیتیں اجاگر کرنے اور تعاون، سرمایہ کاری اور جدت کے مواقع تلاش کرنے کے لیے جمع ہوں گی۔ نمائش میں پاکستان منرل ڈیولپمنٹ کارپوریشن (پی ایم ڈی سی)، الائیڈ انجینئرنگ اینڈ سروسز پرائیویٹ لمیٹڈ، نیشنل ریسورسز پرائیویٹ لمیٹڈ (این آر ایل)، بور اینڈ بور پرائیویٹ لمیٹڈ، گلوباکور منرلز لمیٹڈ، فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او)، ماری انرجیز، بیرک مائننگ کارپوریشن، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل)، گورنمنٹ ہولڈنگز پرائیویٹ لمیٹڈ (جی ایچ پی ایل)، ریکوڈک مائننگ کمپنی اور پاکستان منرلز پرائیویٹ لمیٹڈ (پی ایم پی ایل) سمیت دیگر ادارے شرکت کریں گے۔ نمائش میں یورپی پویلین بھی قائم کیا جائے گا، جہاں بین الاقوامی شراکت داریوں اور سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کیے جا سکیں گے۔
پی ایم آئی ایف کے 2025 کے ایڈیشن میں 50 سے زائد ممالک کے 5 ہزار مندوبین نے شرکت کی تھی۔ اس موقع پر 16 مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر پیش رفت ہوئی، جبکہ 18 پینل مباحثے بھی منعقد کیے گئے۔ پی ایم آئی ایف 26 کا مقصد عالمی کان کنی اور سرمایہ کاری کے نیٹ ورکس کے ساتھ پاکستان کے روابط کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

