LOADING

Type to search

Islamabad National

اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) محض انتخابات کا انعقاد کسی ملک کو حقیقی جمہوری ریاست بنا دیتا ہے، یا جمہوریت کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہاں کے شہری حکمرانوں اور ریاستی اداروں سے سوال کرنے کی کتنی آزادی رکھتے ہیں۔

Share

اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) محض انتخابات کا انعقاد کسی ملک کو حقیقی جمہوری ریاست بنا دیتا ہے، یا جمہوریت کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہاں کے شہری حکمرانوں اور ریاستی اداروں سے سوال کرنے کی کتنی آزادی رکھتے ہیں۔

جمہوریت محض ووٹ ڈالنے، حکومت منتخب کرنے یا پارلیمنٹ قائم کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا نظامِ حکومت ہے جس میں عوام کو حکمرانوں کے انتخاب کے ساتھ ساتھ ان کے فیصلوں پر تنقید کرنے، ان سے جواب طلب کرنے اور ان کی پالیسیوں سے اختلاف کرنے کا حق بھی حاصل ہوتا ہے۔ کسی بھی جمہوری معاشرے میں شہریوں کی تنقید محض ایک اضافی سہولت نہیں، بلکہ حکمرانوں کو جواب دہ بنانے کا بنیادی ذریعہ ہوتی ہے۔

ایک حقیقی جمہوری نظام میں شہری ملکی معیشت، خارجہ پالیسی، قومی سلامتی، حکومتی فیصلوں، عدالتی معاملات اور ریاستی اداروں کی کارکردگی پر سوال اٹھا سکتے ہیں۔ وہ حکومت کی پالیسیوں سے اختلاف کر سکتے ہیں، اس کی غلطیوں کی نشاندہی کر سکتے ہیں اور بہتر طرزِ حکمرانی کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔ یہی وہ بنیادی حقوق ہیں جو عوام کو رعایا کے بجائے ریاست کا بااختیار شہری بناتے ہیں۔

دورِ جدید میں سوشل میڈیا نے عام آدمی کو اپنی آواز بلند کرنے کا ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کیا ہے۔ اب کسی شخص کے لیے ضروری نہیں کہ وہ کسی بڑے اخبار کا کالم نگار ہو، کسی ٹیلی ویژن چینل کا تجزیہ کار ہو یا کسی سیاسی جماعت کا عہدیدار ہو۔ ایک عام شہری بھی اپنے خیالات کا اظہار کر سکتا ہے، حکومتی پالیسیوں پر تنقید کر سکتا ہے اور عوامی مسائل کو قومی بحث کا حصہ بنا سکتا ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں عام شہری کو یہ آزادی حقیقتاً حاصل ہے؟ کیا یہاں ایک شخص حکومت، ریاستی اداروں اور بااختیار حلقوں کی پالیسیوں پر بلاخوف تنقید کر سکتا ہے؟ اور اگر وہ ایسا کرتا ہے تو کیا اسے اپنے مؤقف کے اظہار کا حق حاصل رہتا ہے، یا اسے مختلف قانونی، سیاسی اور سماجی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

یہ سوالات محض سیاسی بحث کا حصہ نہیں، بلکہ پاکستان میں جمہوریت کی حقیقی صورتِ حال کو سمجھنے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان۔ (اسلامی بھی، جمہوری بھی) دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جنہوں نے اپنے آئینی تشخص میں اسلام اور جمہوریت، دونوں کو بنیادی حیثیت دی ہے۔ ملک کا سرکاری نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔ اس نام میں دو اہم تصورات موجود ہیں: اسلام اور جمہوریت۔

پاکستان کے آئین کے مطابق اسلام ریاستی مذہب ہے، جبکہ جمہوری اصولوں کے تحت ریاستی اقتدار عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے استعمال ہونا چاہیے۔ اس اعتبار سے پاکستان کا آئینی تصور یہ ہے کہ اسلامی اقدار اور جمہوری طرزِ حکمرانی ایک دوسرے کے ساتھ چل سکتے ہیں۔ (بظاہر ایسا ممکن نہیں)

تاہم یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے۔ اگر پاکستان ایک جمہوری ریاست ہے تو کیا یہاں عوام کو اپنے حکمرانوں سے سوال کرنے، حکومتی فیصلوں پر تنقید کرنے اور ریاستی اداروں کی کارکردگی پر بحث کرنے کی حقیقی آزادی حاصل ہے۔

جمہوریت کا مطلب صرف یہ نہیں کہ ہر چند سال بعد انتخابات منعقد ہوں اور عوام اپنے نمائندے منتخب کر لیں۔ انتخابات جمہوریت کا اہم حصہ ضرور ہیں، لیکن ایک مکمل جمہوری نظام کے لیے آزاد صحافت، خودمختار عدلیہ، مؤثر پارلیمان، قانون کی حکمرانی، سیاسی اختلاف کی آزادی اور شہری حقوق کا تحفظ بھی ضروری ہے۔

اگرچہ انتخابات تو ہوں، لیکن شہریوں کو حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے خوف محسوس ہو، صحافی حساس معاملات پر آزادانہ رپورٹنگ نہ کر سکیں، سیاسی مخالفین کو یکساں مواقع میسر نہ ہوں اور ریاستی اداروں کو عوامی احتساب سے بالاتر سمجھا جائے، تو ایسے نظام کی جمہوری حیثیت پر سوال اٹھنا فطری ہے۔

یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ اسلامی ممالک میں بادشاہت کا نظام تمام مسلمان ممالک میں رائج نہیں۔ بعض مسلم ممالک بادشاہت کے تحت چلتے ہیں، جبکہ بعض میں جمہوری یا دیگر طرزِ حکومت موجود ہیں۔ لہٰذا اسلام اور جمہوریت کو لازماً ایک دوسرے کی ضد سمجھنا درست نہیں۔ اصل بحث یہ ہے کہ پاکستان اپنے اسلامی اور جمہوری تشخص کے تقاضوں کو عملی طور پر کس حد تک پورا کر رہا ہے۔

آئینِ پاکستان شہریوں کو بنیادی حقوق فراہم کرتا ہے۔ ان میں آزادیِ اظہار اور معلومات تک رسائی کے حقوق خاص اہمیت رکھتے ہیں۔

آئین کا آرٹیکل 19 شہریوں کو آزادیِ اظہار اور آزادیِ صحافت کا حق دیتا ہے۔ تاہم یہ حق مطلق نہیں، بلکہ آئین میں بیان کردہ مخصوص بنیادوں پر قانون کے تحت معقول پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔ ان میں اسلام کی عظمت، پاکستان کی سالمیت، سلامتی اور دفاع، غیر ملکی ریاستوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات، امنِ عامہ، شائستگی، اخلاقیات، توہینِ عدالت اور کسی جرم پر اکسانے جیسے معاملات شامل ہیں۔

اسی طرح آرٹیکل 19-A شہریوں کو عوامی اہمیت کے معاملات میں معلومات تک رسائی کا حق دیتا ہے، جو قانون کے تحت قابلِ اطلاق ہے۔

ان آئینی ضمانتوں کا مقصد یہ ہے کہ ریاستی امور مکمل طور پر عوام کی نظروں سے پوشیدہ نہ رہیں اور شہریوں کو ان معاملات کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کا موقع ملے جو ان کی زندگی، حقوق اور مستقبل پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

لیکن آئین میں کسی حق کی موجودگی اور اس حق سے عملی طور پر فائدہ اٹھانے کی آزادی دو الگ چیزیں ہیں۔

اگر ایک شہری کو اصولی طور پر تنقید کا حق حاصل ہو، لیکن اسے خدشہ ہو کہ اس کی بات کے نتیجے میں اسے قانونی کارروائی، گرفتاری، ہراسانی یا دیگر دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، تو محض آئینی ضمانت اس کے لیے کافی نہیں رہتی۔

اسی طرح اگر صحافیوں کو کاغذ پر آزاد قرار دیا جائے، لیکن وہ اہم قومی معاملات پر رپورٹنگ کرتے ہوئے دباؤ محسوس کریں، تو آزادیِ صحافت کے عملی معیار کا جائزہ لینا ضروری ہو جاتا ہے۔

اگرچہ آئین میں آزادیِ اظہار کا حق موجود ہے مگر شہری اس حق کو بلاامتیاز اور بلاخوف استعمال کر سکتے ہیں۔

آج سوشل میڈیا سیاسی اظہار، عوامی مباحثے اور حکومتی احتساب کا ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے۔ پاکستان میں بھی لاکھوں شہری مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں اور قومی معاملات پر بحث میں حصہ لیتے ہیں۔

لیکن سوشل میڈیا کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے ساتھ اس پر حکومتی نگرانی، مواد کی بندش اور قانونی کارروائیوں سے متعلق خدشات بھی سامنے آئے ہیں۔

الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کا قانون، جسے پیکا (PECA) کہا جاتا ہے، بنیادی طور پر الیکٹرانک جرائم سے نمٹنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ سائبر فراڈ، آن لائن ہراسانی، شناخت کے غیر قانونی استعمال اور دیگر قابلِ سزا ڈیجیٹل جرائم کے خلاف کارروائی کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

کسی بھی ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو آن لائن جرائم، دھوکا دہی، دھمکیوں اور نقصان دہ غیر قانونی سرگرمیوں سے تحفظ فراہم کرے۔تاہم مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب قانونی دفعات کی زبان مبہم ہو، جرم کی تعریف ضرورت سے زیادہ وسیع ہو یا قانون کا اطلاق اس انداز میں ہو کہ جائز سیاسی تنقید اور عوامی مفاد میں کیے گئے انکشافات بھی کارروائی کی زد میں آ سکتے ہوں۔

جنوری 2025 میں پیکا قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد آزادیِ اظہار، صحافتی آزادی اور ڈیجیٹل مواد کی نگرانی سے متعلق سنجیدہ تحفظات سامنے آئے۔ ناقدین کے مطابق ان ترامیم اور متعلقہ قانونی اختیارات کے غلط استعمال سے تنقیدی آوازوں کو محدود کرنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ غلط معلومات، دانستہ دھوکا دہی، تشدد پر اکسانے اور جائز سیاسی اختلاف میں فرق کیا جانا چاہیے۔ حکومت پر تنقید کرنا بذاتِ خود جرم نہیں ہونا چاہیے، اور کسی دعوے کے غلط ہونے کے تعین کے لیے بھی شفاف طریقۂ کار اور منصفانہ قانونی عمل ضروری ہیں۔

قانون کا مقصد شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا ہونا چاہیے، نہ کہ انہیں اپنے آئینی حقوق استعمال کرنے سے خوف زدہ کرنا۔ پاکستان میں آزادیِ اظہار کی صورتِ حال سے متعلق خدشات صرف سیاسی مخالفین یا صحافتی حلقوں تک محدود نہیں رہے، بلکہ بین الاقوامی اور ملکی انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اس حوالے سے اپنی رپورٹس میں تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ نے 4 فروری 2026 کو جاری ہونے والی اپنی رپورٹ میں کہا کہ پاکستانی حکام نے 2025 کے دوران ذرائع ابلاغ، سیاسی مخالفین اور سول سوسائٹی کے خلاف مبہم اور ضرورت سے زیادہ وسیع قوانین استعمال کیے۔ تنظیم کے مطابق صحافیوں کو ہراسانی، گرفتاریوں، جبری گمشدگیوں اور جسمانی حملوں جیسے خطرات کا سامنا رہا، جبکہ ان حالات نے خود سنسرشپ کے رجحان کو بھی تقویت دی۔

اسی طرح انسانی حقوق کمیشن پاکستان (HRCP) نے 4 مئی 2026 کو اپنی سالانہ رپورٹ State of Human Rights in 2025 جاری کرتے ہوئے شہری آزادیوں میں کمی، عدالتی آزادی کو درپیش مسائل اور آزادیِ اظہار پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے حوالے سے تشویش ظاہر کی۔

کمیشن کے مطابق حکام سے سوال کرنے اور جواب دہی کا مطالبہ کرنے کے حق کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ رپورٹ میں پیکا قانون میں ترامیم، بغاوت اور انسدادِ دہشت گردی سے متعلق قوانین کے استعمال اور صحافیوں، سیاسی کارکنوں، سماجی کارکنوں اور وکلا کو درپیش مشکلات کی بھی نشاندہی کی گئی۔

یہ رپورٹس اس بحث کو اہم بناتی ہیں کہ پاکستان میں آزادیِ اظہار کے تحفظ کے لیے موجود قانونی ضمانتیں عملی طور پر کس حد تک مؤثر ہیں۔

یقیناً کسی بھی رپورٹ میں بیان کیے گئے ہر الزام کو بغیر تحقیق کے حتمی عدالتی حقیقت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ مختلف واقعات کے حقائق، متعلقہ قوانین اور حکومتی مؤقف کا الگ الگ جائزہ لینا ضروری ہے۔ تاہم جب انسانی حقوق کی مختلف تنظیمیں مسلسل ایک جیسے مسائل کی نشاندہی کریں تو انہیں نظرانداز کرنے کے بجائے سنجیدہ عوامی اور ادارہ جاتی بحث کا حصہ بنانا چاہیے۔

جمہوری ریاست میں تنقیدی رپورٹ کو ریاست دشمنی سمجھنے کے بجائے اسے اپنی کارکردگی بہتر بنانے کے ایک موقع کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

اب یہاں بعض لوگ یہ مؤقف اختیار کریں گے کہ پاکستان کو دہشت گردی، انتہا پسندی، بیرونی خطرات اور داخلی عدم استحکام جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ ایسے حالات میں ریاست کو قومی سلامتی کے تحفظ اور امنِ عامہ برقرار رکھنے کے لیے قوانین بنانے اور ان پر عمل درآمد کرانے کا پورا حق حاصل ہے۔

کوئی بھی ذمہ دار ریاست اپنے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنانے، تشدد کی روک تھام کرنے اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف کارروائی کرنے کی پابند ہوتی ہے۔ آزادیِ اظہار کا مطلب یہ نہیں کہ کسی شخص کو دوسروں کو تشدد پر اکسانے، دھمکیاں دینے یا جرائم کی منصوبہ بندی کرنے کی کھلی چھوٹ دے دی جائے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ قومی سلامتی کے تحفظ اور جائز اختلافِ رائے کو دبانے کے درمیان حدِ فاصل کہاں قائم کی جائے گی؟

کیا حکومت کی کسی پالیسی سے اختلاف کرنا قومی سلامتی کے خلاف اقدام ہے؟ کیا کسی ریاستی ادارے کی کارکردگی پر سوال اٹھانا ریاست سے دشمنی کے مترادف ہے؟ کیا کسی صحافی کا حساس قومی معاملے پر تحقیقاتی رپورٹ شائع کرنا محض اس وجہ سے قابلِ سزا ہونا چاہیے کہ اس رپورٹ سے بااثر حلقوں کو اختلاف ہے؟ ان سوالات کا جواب جذبات کے بجائے قانون، شواہد اور اصولوں کی بنیاد پر دیا جانا چاہیے۔

قومی سلامتی یقیناً اہم ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس اصطلاح کو ہر قسم کی تنقید روکنے کے لیے استعمال کیا جائے۔ اسی طرح ریاستی اداروں کا احترام اپنی جگہ، مگر احترام کا تقاضا یہ نہیں کہ ان کی کارکردگی پر سوال اٹھانے کا حق ختم کر دیا جائے۔

ریاست کی سلامتی اور شہریوں کی آزادی ایک دوسرے کی دشمن نہیں۔ ایک مضبوط ریاست وہ ہوتی ہے جو اپنے شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرتے ہوئے حقیقی خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔

بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں کے مطابق آزادیِ اظہار پر عائد پابندیوں کی قانونی بنیاد واضح ہونی چاہیے۔ ان کا مقصد جائز ہونا چاہیے اور ان کا اطلاق ضرورت و تناسب کے اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ محض کسی بیان سے اختلاف یا اس کے ناگوار محسوس ہونے کی بنیاد پر پابندی کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ کسی بھی جمہوری معاشرے میں آزاد میڈیا کو بنیادی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ صحافت کا کام صرف حکومتی اعلانات نشر کرنا یا سرکاری مؤقف عوام تک پہنچانا نہیں، بلکہ حکومتی فیصلوں کی جانچ کرنا، عوامی مسائل اجاگر کرنا، بدعنوانی کی نشاندہی کرنا اور ان معاملات پر سوال اٹھانا بھی ہے جنہیں بااثر حلقے عوامی بحث سے باہر رکھنا چاہتے ہیں۔ اگر میڈیا صرف وہی خبریں نشر کر سکے جن کی اجازت دی جائے، اگر صحافی اہم معاملات پر تحقیق کرتے ہوئے دباؤ محسوس کریں اور اگر کسی خبر کو عوام تک پہنچانے سے پہلے اس کے ممکنہ سیاسی نتائج کو سامنے رکھنا پڑے، تو عوام کا حقِ معلومات متاثر ہوتا ہے۔

پاکستان میں مین اسٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا پر پابندیوں، مواد کی بندش اور صحافیوں کو درپیش دباؤ کے حوالے سے مختلف ادوار میں متعدد شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ ان شکایات کی نوعیت اور ذمہ داری کا تعین ہر معاملے کے شواہد کی بنیاد پر ہونا چاہیے، لیکن اس بنیادی اصول سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ میڈیا کی آزادی جمہوریت کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔

عوام کو یہ جاننے کا حق حاصل ہے کہ حکومت ان کے ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی رقم کہاں خرچ کر رہی ہے، ملکی معیشت کے بارے میں کیا فیصلے کیے جا رہے ہیں، خارجہ پالیسی کن بنیادوں پر تشکیل دی جا رہی ہے اور ریاستی ادارے اپنی ذمہ داریاں کس طرح ادا کر رہے ہیں۔

اگر شہریوں کو معلومات ہی دستیاب نہ ہوں تو وہ حکمرانوں کی کارکردگی کا جائزہ کیسے لیں گے؟ اور اگر وہ کارکردگی کا جائزہ نہیں لے سکتے تو اپنے ووٹ کے ذریعے باخبر فیصلہ کیسے کریں گے؟ لہذا آزاد صحافت صرف صحافیوں کا مسئلہ نہیں، بلکہ ہر شہری کے حقِ معلومات اور جمہوری مستقبل کا معاملہ ہے۔

جہاں ہر کسی شہری کو یہ محسوس ہو کہ اس کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے، اس کی آزادی محدود کی گئی ہے یا اس کے خلاف کارروائی قانونی تقاضوں کے مطابق نہیں ہوئی، تو اسے عدالت سے رجوع کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔

پاکستان میں سیاسی اختلاف اکثر اس انداز میں پیش کیا جاتا ہے جیسے مخالف رائے رکھنے والا شخص ملک، ریاست یا قومی مفاد کا مخالف ہو۔ حالانکہ جمہوریت کا بنیادی تصور ہی یہ ہے کہ شہریوں کو مختلف سیاسی نظریات رکھنے، حکومتی پالیسیوں سے اختلاف کرنے اور متبادل راستے تجویز کرنے کی آزادی حاصل ہو۔

حکومت پر تنقید کرنا حکومت کے خاتمے کی سازش نہیں، اور کسی ریاستی پالیسی سے اختلاف کرنا لازماً ریاست سے دشمنی نہیں ہوتا۔ایک شہری حکومت کی معاشی پالیسی کو ناکام سمجھ سکتا ہے۔ کوئی صحافی سرکاری اعداد و شمار پر سوال اٹھا سکتا ہے۔ کوئی سیاسی جماعت حکومتی فیصلوں کے خلاف احتجاج کر سکتی ہے۔ اسی طرح کوئی انسانی حقوق کا کارکن ریاستی اداروں سے کسی مبینہ خلاف ورزی کی تحقیقات کا مطالبہ کر سکتا ہے۔ یہ تمام سرگرمیاں، جب قانون کے دائرے میں اور پُرامن انداز میں انجام دی جائیں، جمہوری عمل کا حصہ ہیں۔البتہ اختلافِ رائے اور تشدد، دھمکی یا غیر قانونی سرگرمیوں کے درمیان فرق برقرار رکھنا بھی ضروری ہے۔ پُرامن سیاسی مخالفت کو تشدد پر مبنی کارروائیوں کے برابر قرار نہیں دیا جانا چاہیے، اور نہ ہی کسی سیاسی وابستگی کی بنیاد پر قانون کے اطلاق میں امتیاز برتا جانا چاہیے۔

جمہوریت کی مضبوطی اسی وقت ممکن ہے جب حکومتی جماعت، اپوزیشن، صحافیوں اور عام شہریوں کے لیے قانون کے بنیادی اصول یکساں ہوں۔

حکمرانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ تنقید برداشت کرنا کمزوری نہیں، بلکہ سیاسی اعتماد اور جمہوری بلوغت کی علامت ہے۔

اسی طرح حکومت اور ریاستی اداروں کے اقدامات کا عدالتی جائزہ بھی قانون کے مطابق ممکن ہونا چاہیے۔ کسی بھی ادارے کو محض اپنی طاقت، حیثیت یا اختیار کی بنیاد پر قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جا سکتا۔ عدلیہ کی آزادی کا مطلب یہ بھی ہے کہ مقدمات کا فیصلہ سیاسی دباؤ، ذاتی وابستگی یا کسی بیرونی اثر کے بجائے قانون اور شواہد کی بنیاد پر کیا جائے۔ ملزم کو منصفانہ سماعت کا حق ملے، اسے اپنے دفاع کا مناسب موقع فراہم کیا جائے اور اس کے مقدمے کا فیصلہ غیر جانب دارانہ انداز میں ہو۔

اگر شہریوں کو یہ یقین نہ ہو کہ ان کے حقوق کی خلاف ورزی ہونے پر انہیں انصاف مل سکتا ہے، تو آئینی حقوق کی عملی اہمیت کمزور پڑ جاتی ہے۔ اسی لیے عدالتی آزادی، شفاف قانونی کارروائی اور قانون کے یکساں اطلاق کو جمہوری نظام کی کامیابی کے بنیادی پیمانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

سیاسجمہوریت اور آزادیِ رائے

تحریر: شمیم محمود

محض انتخابات کا انعقاد کسی ملک کو حقیقی جمہوری ریاست بنا دیتا ہے، یا جمہوریت کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہاں کے شہری حکمرانوں اور ریاستی اداروں سے سوال کرنے کی کتنی آزادی رکھتے ہیں۔

جمہوریت محض ووٹ ڈالنے، حکومت منتخب کرنے یا پارلیمنٹ قائم کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا نظامِ حکومت ہے جس میں عوام کو حکمرانوں کے انتخاب کے ساتھ ساتھ ان کے فیصلوں پر تنقید کرنے، ان سے جواب طلب کرنے اور ان کی پالیسیوں سے اختلاف کرنے کا حق بھی حاصل ہوتا ہے۔ کسی بھی جمہوری معاشرے میں شہریوں کی تنقید محض ایک اضافی سہولت نہیں، بلکہ حکمرانوں کو جواب دہ بنانے کا بنیادی ذریعہ ہوتی ہے۔

ایک حقیقی جمہوری نظام میں شہری ملکی معیشت، خارجہ پالیسی، قومی سلامتی، حکومتی فیصلوں، عدالتی معاملات اور ریاستی اداروں کی کارکردگی پر سوال اٹھا سکتے ہیں۔ وہ حکومت کی پالیسیوں سے اختلاف کر سکتے ہیں، اس کی غلطیوں کی نشاندہی کر سکتے ہیں اور بہتر طرزِ حکمرانی کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔ یہی وہ بنیادی حقوق ہیں جو عوام کو رعایا کے بجائے ریاست کا بااختیار شہری بناتے ہیں۔

دورِ جدید میں سوشل میڈیا نے عام آدمی کو اپنی آواز بلند کرنے کا ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کیا ہے۔ اب کسی شخص کے لیے ضروری نہیں کہ وہ کسی بڑے اخبار کا کالم نگار ہو، کسی ٹیلی ویژن چینل کا تجزیہ کار ہو یا کسی سیاسی جماعت کا عہدیدار ہو۔ ایک عام شہری بھی اپنے خیالات کا اظہار کر سکتا ہے، حکومتی پالیسیوں پر تنقید کر سکتا ہے اور عوامی مسائل کو قومی بحث کا حصہ بنا سکتا ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں عام شہری کو یہ آزادی حقیقتاً حاصل ہے؟ کیا یہاں ایک شخص حکومت، ریاستی اداروں اور بااختیار حلقوں کی پالیسیوں پر بلاخوف تنقید کر سکتا ہے؟ اور اگر وہ ایسا کرتا ہے تو کیا اسے اپنے مؤقف کے اظہار کا حق حاصل رہتا ہے، یا اسے مختلف قانونی، سیاسی اور سماجی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

یہ سوالات محض سیاسی بحث کا حصہ نہیں، بلکہ پاکستان میں جمہوریت کی حقیقی صورتِ حال کو سمجھنے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان۔ (اسلامی بھی، جمہوری بھی) دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جنہوں نے اپنے آئینی تشخص میں اسلام اور جمہوریت، دونوں کو بنیادی حیثیت دی ہے۔ ملک کا سرکاری نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔ اس نام میں دو اہم تصورات موجود ہیں: اسلام اور جمہوریت۔

پاکستان کے آئین کے مطابق اسلام ریاستی مذہب ہے، جبکہ جمہوری اصولوں کے تحت ریاستی اقتدار عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے استعمال ہونا چاہیے۔ اس اعتبار سے پاکستان کا آئینی تصور یہ ہے کہ اسلامی اقدار اور جمہوری طرزِ حکمرانی ایک دوسرے کے ساتھ چل سکتے ہیں۔ (بظاہر ایسا ممکن نہیں)

تاہم یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے۔ اگر پاکستان ایک جمہوری ریاست ہے تو کیا یہاں عوام کو اپنے حکمرانوں سے سوال کرنے، حکومتی فیصلوں پر تنقید کرنے اور ریاستی اداروں کی کارکردگی پر بحث کرنے کی حقیقی آزادی حاصل ہے۔

جمہوریت کا مطلب صرف یہ نہیں کہ ہر چند سال بعد انتخابات منعقد ہوں اور عوام اپنے نمائندے منتخب کر لیں۔ انتخابات جمہوریت کا اہم حصہ ضرور ہیں، لیکن ایک مکمل جمہوری نظام کے لیے آزاد صحافت، خودمختار عدلیہ، مؤثر پارلیمان، قانون کی حکمرانی، سیاسی اختلاف کی آزادی اور شہری حقوق کا تحفظ بھی ضروری ہے۔

اگرچہ انتخابات تو ہوں، لیکن شہریوں کو حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے خوف محسوس ہو، صحافی حساس معاملات پر آزادانہ رپورٹنگ نہ کر سکیں، سیاسی مخالفین کو یکساں مواقع میسر نہ ہوں اور ریاستی اداروں کو عوامی احتساب سے بالاتر سمجھا جائے، تو ایسے نظام کی جمہوری حیثیت پر سوال اٹھنا فطری ہے۔

یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ اسلامی ممالک میں بادشاہت کا نظام ہر جگہ رائج نہیں۔ بعض مسلم ممالک بادشاہت کے تحت چلتے ہیں، جبکہ بعض میں جمہوری یا دیگر طرزِ حکومت موجود ہیں۔ لہٰذا اسلام اور جمہوریت کو لازماً ایک دوسرے کی ضد سمجھنا درست نہیں۔ اصل بحث یہ ہے کہ پاکستان اپنے اسلامی اور جمہوری تشخص کے تقاضوں کو عملی طور پر کس حد تک پورا کر رہا ہے۔

آئینِ پاکستان شہریوں کو بنیادی حقوق فراہم کرتا ہے۔ ان میں آزادیِ اظہار اور معلومات تک رسائی کے حقوق خاص اہمیت رکھتے ہیں۔

آئین کا آرٹیکل 19 شہریوں کو آزادیِ اظہار اور آزادیِ صحافت کا حق دیتا ہے۔ تاہم یہ حق مطلق نہیں، بلکہ آئین میں بیان کردہ مخصوص بنیادوں پر قانون کے تحت معقول پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔ ان میں اسلام کی عظمت، پاکستان کی سالمیت، سلامتی اور دفاع، غیر ملکی ریاستوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات، امنِ عامہ، شائستگی، اخلاقیات، توہینِ عدالت اور کسی جرم پر اکسانے جیسے معاملات شامل ہیں۔

اسی طرح آرٹیکل 19-A شہریوں کو عوامی اہمیت کے معاملات میں معلومات تک رسائی کا حق دیتا ہے، جو قانون کے تحت قابلِ اطلاق ہے۔

ان آئینی ضمانتوں کا مقصد یہ ہے کہ ریاستی امور مکمل طور پر عوام کی نظروں سے پوشیدہ نہ رہیں اور شہریوں کو ان معاملات کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کا موقع ملے جو ان کی زندگی، حقوق اور مستقبل پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

لیکن آئین میں کسی حق کی موجودگی اور اس حق سے عملی طور پر فائدہ اٹھانے کی آزادی دو الگ چیزیں ہیں۔

اگر ایک شہری کو اصولی طور پر تنقید کا حق حاصل ہو، لیکن اسے خدشہ ہو کہ اس کی بات کے نتیجے میں اسے قانونی کارروائی، گرفتاری، ہراسانی یا دیگر دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، تو محض آئینی ضمانت اس کے لیے کافی نہیں رہتی۔

اسی طرح اگر صحافیوں کو کاغذ پر آزاد قرار دیا جائے، لیکن وہ اہم قومی معاملات پر رپورٹنگ کرتے ہوئے دباؤ محسوس کریں، تو آزادیِ صحافت کے عملی معیار کا جائزہ لینا ضروری ہو جاتا ہے۔

اصل سوال یہ نہیں کہ آئین میں آزادیِ اظہار کا حق موجود ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا شہری اس حق کو بلاامتیاز اور بلاخوف استعمال کر سکتے ہیں؟

آج سوشل میڈیا سیاسی اظہار، عوامی مباحثے اور حکومتی احتساب کا ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے۔ پاکستان میں بھی لاکھوں شہری مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں اور قومی معاملات پر بحث میں حصہ لیتے ہیں۔

لیکن سوشل میڈیا کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے ساتھ اس پر حکومتی نگرانی، مواد کی بندش اور قانونی کارروائیوں سے متعلق خدشات بھی سامنے آئے ہیں۔

الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کا قانون، جسے پیکا (PECA) کہا جاتا ہے، بنیادی طور پر الیکٹرانک جرائم سے نمٹنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ سائبر فراڈ، آن لائن ہراسانی، شناخت کے غیر قانونی استعمال اور دیگر قابلِ سزا ڈیجیٹل جرائم کے خلاف کارروائی کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

کسی بھی ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو آن لائن جرائم، دھوکا دہی، دھمکیوں اور نقصان دہ غیر قانونی سرگرمیوں سے تحفظ فراہم کرے۔تاہم مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب قانونی دفعات کی زبان مبہم ہو، جرم کی تعریف ضرورت سے زیادہ وسیع ہو یا قانون کا اطلاق اس انداز میں ہو کہ جائز سیاسی تنقید اور عوامی مفاد میں کیے گئے انکشافات بھی کارروائی کی زد میں آ سکتے ہوں۔

جنوری 2025 میں پیکا قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد آزادیِ اظہار، صحافتی آزادی اور ڈیجیٹل مواد کی نگرانی سے متعلق سنجیدہ تحفظات سامنے آئے۔ ناقدین کے مطابق ان ترامیم اور متعلقہ قانونی اختیارات کے غلط استعمال سے تنقیدی آوازوں کو محدود کرنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ غلط معلومات، دانستہ دھوکا دہی، تشدد پر اکسانے اور جائز سیاسی اختلاف میں فرق کیا جانا چاہیے۔ حکومت پر تنقید کرنا بذاتِ خود جرم نہیں ہونا چاہیے، اور کسی دعوے کے غلط ہونے کے تعین کے لیے بھی شفاف طریقۂ کار اور منصفانہ قانونی عمل ضروری ہیں۔

قانون کا مقصد شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا ہونا چاہیے، نہ کہ انہیں اپنے آئینی حقوق استعمال کرنے سے خوف زدہ کرنا۔

پاکستان میں آزادیِ اظہار کی صورتِ حال سے متعلق خدشات صرف سیاسی مخالفین یا صحافتی حلقوں تک محدود نہیں رہے، بلکہ بین الاقوامی اور ملکی انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اس حوالے سے اپنی رپورٹس میں تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ نے 4 فروری 2026 کو جاری ہونے والی اپنی رپورٹ میں کہا کہ پاکستانی حکام نے 2025 کے دوران ذرائع ابلاغ، سیاسی مخالفین اور سول سوسائٹی کے خلاف مبہم اور ضرورت سے زیادہ وسیع قوانین استعمال کیے۔ تنظیم کے مطابق صحافیوں کو ہراسانی، گرفتاریوں، جبری گمشدگیوں اور جسمانی حملوں جیسے خطرات کا سامنا رہا، جبکہ ان حالات نے خود سنسرشپ کے رجحان کو بھی تقویت دی۔

اسی طرح انسانی حقوق کمیشن پاکستان (HRCP) نے 4 مئی 2026 کو اپنی سالانہ رپورٹ State of Human Rights in 2025 جاری کرتے ہوئے شہری آزادیوں میں کمی، عدالتی آزادی کو درپیش مسائل اور آزادیِ اظہار پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے حوالے سے تشویش ظاہر کی۔

کمیشن کے مطابق حکام سے سوال کرنے اور جواب دہی کا مطالبہ کرنے کے حق کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ رپورٹ میں پیکا قانون میں ترامیم، بغاوت اور انسدادِ دہشت گردی سے متعلق قوانین کے استعمال اور صحافیوں، سیاسی کارکنوں، سماجی کارکنوں اور وکلا کو درپیش مشکلات کی بھی نشاندہی کی گئی۔

یہ رپورٹس اس بحث کو اہم بناتی ہیں کہ پاکستان میں آزادیِ اظہار کے تحفظ کے لیے موجود قانونی ضمانتیں عملی طور پر کس حد تک مؤثر ہیں۔

یقیناً کسی بھی رپورٹ میں بیان کیے گئے ہر الزام کو بغیر تحقیق کے حتمی عدالتی حقیقت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ مختلف واقعات کے حقائق، متعلقہ قوانین اور حکومتی مؤقف کا الگ الگ جائزہ لینا ضروری ہے۔ تاہم جب انسانی حقوق کی مختلف تنظیمیں مسلسل ایک جیسے مسائل کی نشاندہی کریں تو انہیں نظرانداز کرنے کے بجائے سنجیدہ عوامی اور ادارہ جاتی بحث کا حصہ بنانا چاہیے۔

جمہوری ریاست میں تنقیدی رپورٹ کو ریاست دشمنی سمجھنے کے بجائے اسے اپنی کارکردگی بہتر بنانے کے ایک موقع کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

اب یہاں بعض لوگ یہ مؤقف اختیار کریں گے کہ پاکستان کو دہشت گردی، انتہا پسندی، بیرونی خطرات اور داخلی عدم استحکام جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ ایسے حالات میں ریاست کو قومی سلامتی کے تحفظ اور امنِ عامہ برقرار رکھنے کے لیے قوانین بنانے اور ان پر عمل درآمد کرانے کا پورا حق حاصل ہے۔

کوئی بھی ذمہ دار ریاست اپنے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنانے، تشدد کی روک تھام کرنے اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف کارروائی کرنے کی پابند ہوتی ہے۔ آزادیِ اظہار کا مطلب یہ نہیں کہ کسی شخص کو دوسروں کو تشدد پر اکسانے، دھمکیاں دینے یا جرائم کی منصوبہ بندی کرنے کی کھلی چھوٹ دے دی جائے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ قومی سلامتی کے تحفظ اور جائز اختلافِ رائے کو دبانے کے درمیان حدِ فاصل کہاں قائم کی جائے گی؟

کیا حکومت کی کسی پالیسی سے اختلاف کرنا قومی سلامتی کے خلاف اقدام ہے؟ کیا کسی ریاستی ادارے کی کارکردگی پر سوال اٹھانا ریاست سے دشمنی کے مترادف ہے؟ کیا کسی صحافی کا حساس قومی معاملے پر تحقیقاتی رپورٹ شائع کرنا محض اس وجہ سے قابلِ سزا ہونا چاہیے کہ اس رپورٹ سے بااثر حلقوں کو اختلاف ہے؟ ان سوالات کا جواب جذبات کے بجائے قانون، شواہد اور اصولوں کی بنیاد پر دیا جانا چاہیے۔

قومی سلامتی یقیناً اہم ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس اصطلاح کو ہر قسم کی تنقید روکنے کے لیے استعمال کیا جائے۔ اسی طرح ریاستی اداروں کا احترام اپنی جگہ، مگر احترام کا تقاضا یہ نہیں کہ ان کی کارکردگی پر سوال اٹھانے کا حق ختم کر دیا جائے۔

ریاست کی سلامتی اور شہریوں کی آزادی ایک دوسرے کی دشمن نہیں۔ ایک مضبوط ریاست وہ ہوتی ہے جو اپنے شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرتے ہوئے حقیقی خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔

بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں کے مطابق آزادیِ اظہار پر عائد پابندیوں کی قانونی بنیاد واضح ہونی چاہیے۔ ان کا مقصد جائز ہونا چاہیے اور ان کا اطلاق ضرورت و تناسب کے اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ محض کسی بیان سے اختلاف یا اس کے ناگوار محسوس ہونے کی بنیاد پر پابندی کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ کسی بھی جمہوری معاشرے میں آزاد میڈیا کو بنیادی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ صحافت کا کام صرف حکومتی اعلانات نشر کرنا یا سرکاری مؤقف عوام تک پہنچانا نہیں، بلکہ حکومتی فیصلوں کی جانچ کرنا، عوامی مسائل اجاگر کرنا، بدعنوانی کی نشاندہی کرنا اور ان معاملات پر سوال اٹھانا بھی ہے جنہیں بااثر حلقے عوامی بحث سے باہر رکھنا چاہتے ہیں۔ اگر میڈیا صرف وہی خبریں نشر کر سکے جن کی اجازت دی جائے، اگر صحافی اہم معاملات پر تحقیق کرتے ہوئے دباؤ محسوس کریں اور اگر کسی خبر کو عوام تک پہنچانے سے پہلے اس کے ممکنہ سیاسی نتائج کو سامنے رکھنا پڑے، تو عوام کا حقِ معلومات متاثر ہوتا ہے۔

پاکستان میں مین اسٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا پر پابندیوں، مواد کی بندش اور صحافیوں کو درپیش دباؤ کے حوالے سے مختلف ادوار میں متعدد شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ ان شکایات کی نوعیت اور ذمہ داری کا تعین ہر معاملے کے شواہد کی بنیاد پر ہونا چاہیے، لیکن اس بنیادی اصول سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ میڈیا کی آزادی جمہوریت کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔

عوام کو یہ جاننے کا حق حاصل ہے کہ حکومت ان کے ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی رقم کہاں خرچ کر رہی ہے، ملکی معیشت کے بارے میں کیا فیصلے کیے جا رہے ہیں، خارجہ پالیسی کن بنیادوں پر تشکیل دی جا رہی ہے اور ریاستی ادارے اپنی ذمہ داریاں کس طرح ادا کر رہے ہیں۔

اگر شہریوں کو معلومات ہی دستیاب نہ ہوں تو وہ حکمرانوں کی کارکردگی کا جائزہ کیسے لیں گے؟ اور اگر وہ کارکردگی کا جائزہ نہیں لے سکتے تو اپنے ووٹ کے ذریعے باخبر فیصلہ کیسے کریں گے؟ لہذا آزاد صحافت صرف صحافیوں کا مسئلہ نہیں، بلکہ ہر شہری کے حقِ معلومات اور جمہوری مستقبل کا معاملہ ہے۔

جہاں ہر کسی شہری کو یہ محسوس ہو کہ اس کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے، اس کی آزادی محدود کی گئی ہے یا اس کے خلاف کارروائی قانونی تقاضوں کے مطابق نہیں ہوئی، تو اسے عدالت سے رجوع کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔

پاکستان میں سیاسی اختلاف اکثر اس انداز میں پیش کیا جاتا ہے جیسے مخالف رائے رکھنے والا شخص ملک، ریاست یا قومی مفاد کا مخالف ہو۔ حالانکہ جمہوریت کا بنیادی تصور ہی یہ ہے کہ شہریوں کو مختلف سیاسی نظریات رکھنے، حکومتی پالیسیوں سے اختلاف کرنے اور متبادل راستے تجویز کرنے کی آزادی حاصل ہو۔

حکومت پر تنقید کرنا حکومت کے خاتمے کی سازش نہیں، اور کسی ریاستی پالیسی سے اختلاف کرنا لازماً ریاست سے دشمنی نہیں ہوتا۔ایک شہری حکومت کی معاشی پالیسی کو ناکام سمجھ سکتا ہے۔ کوئی صحافی سرکاری اعداد و شمار پر سوال اٹھا سکتا ہے۔ کوئی سیاسی جماعت حکومتی فیصلوں کے خلاف احتجاج کر سکتی ہے۔ اسی طرح کوئی انسانی حقوق کا کارکن ریاستی اداروں سے کسی مبینہ خلاف ورزی کی تحقیقات کا مطالبہ کر سکتا ہے۔ یہ تمام سرگرمیاں، جب قانون کے دائرے میں اور پُرامن انداز میں انجام دی جائیں، جمہوری عمل کا حصہ ہیں۔البتہ اختلافِ رائے اور تشدد، دھمکی یا غیر قانونی سرگرمیوں کے درمیان فرق برقرار رکھنا بھی ضروری ہے۔ پُرامن سیاسی مخالفت کو تشدد پر مبنی کارروائیوں کے برابر قرار نہیں دیا جانا چاہیے، اور نہ ہی کسی سیاسی وابستگی کی بنیاد پر قانون کے اطلاق میں امتیاز برتا جانا چاہیے۔

جمہوریت کی مضبوطی اسی وقت ممکن ہے جب حکومتی جماعت، اپوزیشن، صحافیوں اور عام شہریوں کے لیے قانون کے بنیادی اصول یکساں ہوں۔

حکمرانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ تنقید برداشت کرنا کمزوری نہیں، بلکہ سیاسی اعتماد اور جمہوری بلوغت کی علامت ہے۔

اسی طرح حکومت اور ریاستی اداروں کے اقدامات کا عدالتی جائزہ بھی قانون کے مطابق ممکن ہونا چاہیے۔ کسی بھی ادارے کو محض اپنی طاقت، حیثیت یا اختیار کی بنیاد پر قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جا سکتا۔ عدلیہ کی آزادی کا مطلب یہ بھی ہے کہ مقدمات کا فیصلہ سیاسی دباؤ، ذاتی وابستگی یا کسی بیرونی اثر کے بجائے قانون اور شواہد کی بنیاد پر کیا جائے۔ ملزم کو منصفانہ سماعت کا حق ملے، اسے اپنے دفاع کا مناسب موقع فراہم کیا جائے اور اس کے مقدمے کا فیصلہ غیر جانب دارانہ انداز میں ہو۔

اگر شہریوں کو یہ یقین نہ ہو کہ ان کے حقوق کی خلاف ورزی ہونے پر انہیں انصاف مل سکتا ہے، تو آئینی حقوق کی عملی اہمیت کمزور پڑ جاتی ہے۔

اسی لیے عدالتی آزادی، شفاف قانونی کارروائی اور قانون کے یکساں اطلاق کو جمہوری نظام کی کامیابی کے بنیادی پیمانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

اگر شہریوں کو یہ یقین نہ ہو کہ ان کے حقوق کی خلاف ورزی ہونے پر انہیں انصاف مل سکتا ہے، تو آئینی حقوق کی عملی اہمیت کمزور پڑ جاتی ہے۔

اسی لیے عدالتی آزادی، شفاف قانونی کارروائی اور قانون کے یکساں اطلاق کو جمہوری نظام کی کامیابی کے بنیادی پیمانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

انتخابات جمہوریت کی بنیاد ضرور ہیں، لیکن جمہوریت کی مکمل تصویر نہیں۔ ایک جمہوری نظام کا جائزہ لینے کے لیے یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ انتخابات کتنے آزادانہ اور منصفانہ ہیں، سیاسی جماعتوں کو کس حد تک یکساں مواقع حاصل ہیں، پارلیمان حکومت کا مؤثر احتساب کرتی ہے یا نہیں، عدلیہ آزادانہ فیصلے کر سکتی ہے یا نہیں اور شہری اپنے بنیادی حقوق استعمال کرنے میں کتنے آزاد ہیں۔

اسی طرح یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ کیا حکومت مخالف جماعتیں پُرامن سیاسی سرگرمیاں جاری رکھ سکتی ہیں؟ کیا صحافی حکومتی اور ریاستی پالیسیوں پر آزادانہ تنقید کر سکتے ہیں؟ کیا عوامی احتجاج کو قانون کے مطابق منظم کرنے کی گنجائش موجود ہے؟ کیا شہریوں کو سرکاری معلومات تک رسائی حاصل ہے؟ اور کیا ریاستی اداروں کی کارکردگی پر سوال اٹھانے والوں کے حقوق کا تحفظ کیا جاتا ہے۔

اگر ان سوالات کے جوابات تسلی بخش نہ ہوں تو محض انتخابات کی موجودگی کو جمہوریت کی مکمل کامیابی قرار نہیں دیا جا سکتا جمہوریت ایک مسلسل عمل ہے۔ اسے صرف انتخابی دن پر نہیں، بلکہ ہر روز شہری آزادیوں، ادارہ جاتی شفافیت، قانون کی حکمرانی اور حکمرانوں کی جواب دہی کے ذریعے زندہ رکھا جاتا ہے۔

پاکستان کے اسلامی تشخص پر بات کرتے ہوئے یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا آزادیِ اظہار، انصاف، جواب دہی اور حکمرانوں سے سوال کرنے کے اصول اسلامی تعلیمات سے متصادم ہیں۔

اسلامی سیاسی فکر میں عدل، امانت، مشاورت اور ذمہ داری کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ قرآنِ مجید میں عدل و انصاف اور امانتیں ان کے حق داروں تک پہنچانے کی تاکید کی گئی ہے۔ سورۃ النساء کی آیت 58 میں عدل کے ساتھ فیصلے کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جبکہ سورۃ الشوریٰ کی آیت 38 میں اہلِ ایمان کے معاملات باہمی مشاورت سے چلانے کا ذکر ہے۔

ان اصولوں کی روشنی میں حکمرانوں کی جواب دہی، عوامی مفاد اور انصاف کے تقاضوں پر بحث کی گنجائش موجود ہے۔ تاہم ان دینی اصولوں کی عملی تعبیر اور مختلف سیاسی نظاموں سے ان کے تعلق پر اہلِ علم کے درمیان اختلاف پایا جا سکتا ہے۔

یہ کہنا درست نہیں کہ ہر مسلم ملک میں بادشاہت ہے یا اسلام اور جمہوریت لازماً ایک دوسرے کے مخالف ہیں۔ مسلم معاشروں میں مختلف طرزِ حکومت موجود ہیں، اور سیاسی نظاموں کی نوعیت کو سمجھنے کے لیے ان کے آئینی ڈھانچے، اداروں اور عملی طرزِ حکمرانی کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

پاکستان نے اپنے نام اور آئین میں اسلامی اور جمہوری دونوں شناختوں کو شامل کیا ہے۔ اس لیے اس کے حکمرانوں اور اداروں سے یہ سوال کرنا بالکل فطری ہے کہ کیا وہ انصاف، مشاورت، جواب دہی اور عوامی حقوق کے تقاضوں کو پورا کر رہے ہیں۔

اگر کوئی ریاست اپنے آپ کو اسلامی بھی قرار دیتی ہے اور جمہوری بھی، تو اس کے لیے ان دونوں شناختوں سے وابستہ اصولوں کو عملی زندگی میں اہمیت دینا ضروری ہے۔اسلامی تشخص کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہیے کہ عوامی سوالات کی حوصلہ شکنی کی جائے، اور جمہوری تشخص کا مطلب بھی صرف انتخابات تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ بلکہ ایک بہتر ریاست وہ ہوگی جہاں قانون کی بالادستی ہو، شہریوں کو انصاف ملے، حکمران عوام کے سامنے جواب دہ ہوں اور اختلافِ رائے کو برداشت کیا جائے۔

اب ہم اصل سوال کی طرف واپس آتے ہیں۔ یہاں اگر شہریوں کو حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرنے میں مشکلات کا سامنا ہو، صحافی آزادی سے اپنے فرائض انجام نہ دے سکیں، سیاسی اختلاف کے حوالے سے امتیازی سلوک کی شکایات سامنے آئیں اور ریاستی اداروں کی جواب دہی پر سوالات اٹھتے رہیں، تو پاکستان کے جمہوری ہونے کا تعین کیسے کیا جائے۔

اس سوال کا جواب محض جذباتی نعروں سے نہیں دیا جا سکتا۔

پاکستان کا آئینی ڈھانچہ جمہوری اصولوں، منتخب نمائندوں اور بنیادی حقوق کو تسلیم کرتا ہے۔ لیکن کسی بھی نظام کی عملی کیفیت کا جائزہ اس کے آئینی دعووں کے ساتھ ساتھ اس کے حقیقی نتائج کی بنیاد پر بھی لیا جانا چاہیے۔اگر آئین آزادیِ اظہار کی ضمانت دیتا ہے تو اس ضمانت کا عملی احترام بھی ضروری ہے۔ اگر شہریوں کو معلومات تک رسائی کا حق حاصل ہے تو سرکاری اداروں کو شفافیت اور جواب دہی کے تقاضے پورے کرنے چاہییں۔ اگر قانون سب کے لیے برابر ہے تو اس کا اطلاق سیاسی وابستگی، سماجی حیثیت یا ادارہ جاتی طاقت سے متاثر نہیں ہونا چاہیے۔اگر عدالتیں انصاف فراہم کرنے کے لیے قائم کی گئی ہیں تو شہریوں کو ان کی آزادی اور غیر جانب داری پر اعتماد ہونا چاہیے۔ اگر پارلیمان عوام کی نمائندگی کرتی ہے تو اسے اہم قومی معاملات پر آزادانہ بحث اور حکومت کے مؤثر احتساب کا کردار ادا کرنا چاہیے۔جمہوریت کا حقیقی معیار یہی ہے کہ ریاست اپنے شہریوں کے حقوق کا کس حد تک احترام کرتی ہے اور اپنے اختیارات کو کس حد تک آئین و قانون کے تابع رکھتی ہے۔پاکستان کی جمہوری حیثیت پر سوال اٹھانے کا مقصد لازماً ریاست کی نفی کرنا نہیں۔ اس کے برعکس، یہ سوالات ریاستی نظام کو بہتر بنانے، شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرنے اور اداروں کو زیادہ جواب دہ بنانے میں مدد دے سکتے ہیں۔کسی ملک سے محبت کا تقاضا یہ نہیں کہ اس کی ہر پالیسی کی حمایت کی جائے۔ حقیقی شہری ذمہ داری کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ جہاں غلطی نظر آئے، وہاں دلیل، شواہد اور پُرامن طریقے سے اس کی نشاندہی کی جائے۔

جمہوریت کا ایک بنیادی امتحان یہ نہیں کہ ریاست اپنے حامیوں کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے ناقدین کے ساتھ کیسا سلوک کرتی ہے۔اگر کوئی شخص حکومت کی تعریف کرتا ہے تو اسے اپنے خیالات کے اظہار میں آسانی ہو، لیکن اگر وہی شخص حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرے تو اسے خوف محسوس ہونے لگے، تو یہ صورتِ حال آزادیِ اظہار کی عملی حیثیت پر سنجیدہ سوالات پیدا کرتی ہے۔اگر ریاستی ادارے اپنی تعریف سننے کے عادی ہو جائیں اور تنقیدی سوالات کو اپنی توہین سمجھنے لگیں، تو احتساب کا عمل کمزور پڑ سکتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر ادارے جائز تنقید کو قبول کریں، غلطیوں کی اصلاح کریں اور اپنے فیصلوں کی وضاحت فراہم کریں، تو عوام کا اعتماد مضبوط ہو سکتا ہے۔کسی بھی ریاست کی طاقت صرف اس کے قوانین، اداروں یا انتظامی اختیار میں نہیں ہوتی، بلکہ اس اعتماد میں بھی ہوتی ہے جو شہری اس کے نظام پر رکھتے ہیں۔یہ اعتماد اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب شہریوں کو یقین ہو کہ ان کی آواز سنی جائے گی، ان کے حقوق محفوظ رہیں گے اور ان کے ساتھ انصاف کیا جائے گا۔پاکستان کو مضبوط، مستحکم اور ترقی یافتہ بنانے کے لیے ضروری ہے کہ آزادیِ اظہار کو محض آئینی عبارت نہ سمجھا جائے، بلکہ اسے عملی طور پر یقینی بنایا جائے۔ قوانین واضح ہوں، ان کا استعمال منصفانہ ہو، صحافت کو اپنا کام کرنے کی آزادی حاصل ہو، عدلیہ قانون کے مطابق آزادانہ فیصلے کر سکے اور شہریوں کو پُرامن سیاسی اختلاف کا حق حاصل ہو۔قومی سلامتی اور عوامی آزادیوں کے درمیان توازن قائم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اسی طرح شہریوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے حقوق استعمال کرتے ہوئے قانون، دوسروں کی آزادیوں اور پُرامن مکالمے کے اصولوں کا احترام کریں۔

نتیجہ: سوال کرنا جرم نہیں، شہری حق ہے

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے جمہوری مستقبل کا فیصلہ صرف اس بات سے نہیں ہوگا کہ یہاں انتخابات منعقد ہوتے ہیں یا نہیں۔ اس کا تعین اس بات سے بھی ہوگا کہ یہاں عوام اپنے حکمرانوں سے کتنے آزادانہ انداز میں سوال کر سکتے ہیں، صحافی کتنی آزادی سے حقائق سامنے لا سکتے ہیں، سیاسی مخالفین کو کتنی منصفانہ گنجائش حاصل ہے اور ریاستی ادارے کس حد تک قانون کے تابع اور عوام کے سامنے جواب دہ ہیں۔

اگر شہریوں کو حکومتی پالیسیوں سے اختلاف کرنے، معلومات حاصل کرنے، سوال اٹھانے اور پُرامن احتجاج کرنے کی حقیقی آزادی حاصل ہے تو جمہوریت مضبوط ہوگی۔ لیکن اگر یہ حقوق صرف آئینی دستاویزات تک محدود رہ جائیں اور عملی زندگی میں ان کے استعمال پر خوف یا غیر ضروری پابندیاں غالب آ جائیں تو جمہوری نظام کی کارکردگی پر سوال اٹھنا فطری ہے۔پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ ہے، اور اس شناخت کا تقاضا ہے کہ اسلامی اصولوں سے وابستہ انصاف و امانت اور جمہوریت سے وابستہ آزادی و جواب دہی کو عملی اہمیت دی جائے۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ حکومت اور ریاست دو الگ تصورات ہیں۔ حکومتیں بدلتی رہتی ہیں، لیکن ریاست اور اس کے ادارے عوام کی خدمت اور آئین کے مطابق اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے قائم رہتے ہیں۔ کسی حکومت پر تنقید کرنا لازماً ملک کی مخالفت نہیں، اور کسی ادارے سے جواب طلب کرنا لازماً ریاست کو کمزور کرنا نہیں ہوتا۔

ایک حقیقی جمہوریت میں حکمران عوام سے ووٹ مانگتے ہیں، لیکن عوام کو بھی حکمرانوں سے جواب مانگنے کا حق حاصل ہوتا ہے۔

اگر پاکستان کو واقعی ایک مضبوط اسلامی جمہوری ریاست بنانا ہے تو یہاں تنقید کو دشمنی، سوال کو بغاوت اور اختلافِ رائے کو جرم سمجھنے کے رجحان سے آگے بڑھنا ہوگا۔

کیونکہ جمہوریت کی اصل خوب صورتی یہ نہیں کہ سب لوگ ایک ہی بات کہیں، بلکہ یہ ہے کہ مختلف رائے رکھنے والے لوگ بھی اپنے خیالات کا اظہار خوف کے بغیر کر سکیں۔

اور یہی وہ معیار ہے جس پر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے جمہوری نظام کی عملی کارکردگی کو پرکھا جانا چاہیے۔

آخر میں سوال صرف اتنا ہے: کیا ہم ایسا پاکستان چاہتے ہیں جہاں شہری صرف حکمرانوں کے فیصلے تسلیم کریں، یا ایسا پاکستان جہاں شہری ان فیصلوں پر سوال بھی اٹھا سکیں؟

اس سوال کا جواب ہی ہمارے جمہوری مستقبل کی سمت متعین کرے گا۔ی اختلاف: دشمنی نہیں، جمہوریت کا حسن

وریت کا ایک اور بنیادی ستون آزاد عدلیہ ہے۔ کسی بھی ریاست میں شہریوں کے حقوق اسی وقت مؤثر تحفظ حاصل کر سکتے ہیں جب ان کے پاس ایسے آزاد اور غیر جانب دار فورم تک رسائی ہو جہاں وہ ریاستی اقدامات کو قانون کی روشنی میں یہ کی آزادی کا مطلب یہ بھی ہے کہ مقدمات کا فیصلہ سیاسی دباؤ، ذاتی وابستگی یا کسی بیرونی اثر کے بجائے قانون اور شواہد کی بنیاد پر کیا جائے۔ ملزم کو منصفانہ سماعت کا حق مل

اگر شہریوں کو یہ یقین نہ ہو کہ ان کے حقوق کی خلاف ورزی ہونے پر انہیں انصاف مل سکتا ہے، تو آئینی حقوق کی عملی اہمیت کمزور پڑ جاتی ہے۔

اسی لیے عدالتی آزادی، شفاف قانونی کارروائی اور قانون کے یکساں اطلاق کو جمہوری نظام کی کامیابی کے بنیادی پیمانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

سیاسی اختلاف: دشمنی نہیں، جمہوریت کا حسن

وریت کا ایک اور بنیادی ستون آزاد عدلیہ ہے۔ کسی بھی ریاست میں شہریوں کے حقوق اسی وقت مؤثر تحفظ حاصل کر سکتے ہیں جب ان کے پاس ایسے آزاد اور غیر جانب دار فورم تک رسائی ہو جہاں وہ ریاستی اقدامات کو قانون کی روشنی میں ہم سوال پیدا ہوتا ہے: اگر کسی ملک میں انتخابات منعقد ہوتے ہوں، پارلیمان موجود ہو اور حکومت آئینی طریقے سے قائم ہوئی ہو تو کیا اسے مکمل جمہوری ریاست قرار دینے کے لیے یہی کافی ہے؟

اس کا جواب نفی میں ہے۔

انتخابات جمہوریت کی بنیاد ضرور ہیں، لیکن جمہوریت کی مکمل تصویر نہیں۔ ایک جمہوری نظام کا جائزہ لینے کے لیے یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ انتخابات کتنے آزادانہ اور منصفانہ ہیں، سیاسی جماعتوں کو کس حد تک یکساں مواقع حاصل ہیں، پارلیمان حکومت کا مؤثر احتساب کرتی ہے یا نہیں، عدلیہ آزادانہ فیصلے کر سکتی ہے یا نہیں اور شہری اپنے بنیادی حقوق استعمال کرنے میں کتنے آزاد ہیں۔

اسی طرح یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ کیا حکومت مخالف جماعتیں پُرامن سیاسی سرگرمیاں جاری رکھ سکتی ہیں؟ کیا صحافی حکومتی اور ریاستی پالیسیوں پر آزادانہ تنقید کر سکتے ہیں؟ کیا عوامی احتجاج کو قانون کے مطابق منظم کرنے کی گنجائش موجود ہے؟ کیا شہریوں کو سرکاری معلومات تک رسائی حاصل ہے؟ اور کیا ریاستی اداروں کی کارکردگی پر سوال اٹھانے والوں کے حقوق کا تحفظ کیا جاتا ہے؟

اگر ان سوالات کے جوابات تسلی بخش نہ ہوں تو محض انتخابات کی موجودگی کو جمہوریت کی مکمل کامیابی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

جمہوریت ایک مسلسل عمل ہے۔ اسے صرف انتخابی دن پر نہیں، بلکہ ہر روز شہری آزادیوں، ادارہ جاتی شفافیت، قانون کی حکمرانی اور حکمرانوں کی جواب دہی کے ذریعے زندہ رکھا جاتا ہے۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان اور اسلامی اصول

پاکستان کے اسلامی تشخص پر بات کرتے ہوئے یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا آزادیِ اظہار، انصاف، جواب دہی اور حکمرانوں سے سوال کرنے کے اصول اسلامی تعلیمات سے متصادم ہیں؟

اسلامی سیاسی فکر میں عدل، امانت، مشاورت اور ذمہ داری کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ قرآنِ مجید میں عدل و انصاف اور امانتیں ان کے حق داروں تک پہنچانے کی تاکید کی گئی ہے۔ سورۃ النساء کی آیت 58 میں عدل کے ساتھ فیصلے کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جبکہ سورۃ الشوریٰ کی آیت 38 میں اہلِ ایمان کے معاملات باہمی مشاورت سے چلانے کا ذکر ہے۔

ان اصولوں کی روشنی میں حکمرانوں کی جواب دہی، عوامی مفاد اور انصاف کے تقاضوں پر بحث کی گنجائش موجود ہے۔ تاہم ان دینی اصولوں کی عملی تعبیر اور مختلف سیاسی نظاموں سے ان کے تعلق پر اہلِ علم کے درمیان اختلاف پایا جا سکتا ہے۔

یہ کہنا درست نہیں کہ ہر مسلم ملک میں بادشاہت ہے یا اسلام اور جمہوریت لازماً ایک دوسرے کے مخالف ہیں۔ مسلم معاشروں میں مختلف طرزِ حکومت موجود ہیں، اور سیاسی نظاموں کی نوعیت کو سمجھنے کے لیے ان کے آئینی ڈھانچے، اداروں اور عملی طرزِ حکمرانی کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

پاکستان نے اپنے نام اور آئین میں اسلامی اور جمہوری دونوں شناختوں کو شامل کیا ہے۔ اس لیے اس کے حکمرانوں اور اداروں سے یہ سوال کرنا بالکل فطری ہے کہ کیا وہ انصاف، مشاورت، جواب دہی اور عوامی حقوق کے تقاضوں کو پورا کر رہے ہیں؟

اگر کوئی ریاست اپنے آپ کو اسلامی بھی قرار دیتی ہے اور جمہوری بھی، تو اس کے لیے ان دونوں شناختوں سے وابستہ اصولوں کو عملی زندگی میں اہمیت دینا ضروری ہے۔

اسلامی تشخص کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہیے کہ عوامی سوالات کی حوصلہ شکنی کی جائے، اور جمہوری تشخص کا مطلب بھی صرف انتخابات تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔

بلکہ ایک بہتر ریاست وہ ہوگی جہاں قانون کی بالادستی ہو، شہریوں کو انصاف ملے، حکمران عوام کے سامنے جواب دہ ہوں اور اختلافِ رائے کو برداشت کیا جائے۔

تو پھر پاکستان کو جمہوری ملک کیسے کہا جائے؟

اب ہم اصل سوال کی طرف واپس آتے ہیں: اگر شہریوں کو حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرنے میں مشکلات کا سامنا ہو، صحافی آزادی سے اپنے فرائض انجام نہ دے سکیں، سیاسی اختلاف کے حوالے سے امتیازی سلوک کی شکایات سامنے آئیں اور ریاستی اداروں کی جواب دہی پر سوالات اٹھتے رہیں، تو پاکستان کے جمہوری ہونے کا تعین کیسے کیا جائے؟

اس سوال کا جواب محض جذباتی نعروں سے نہیں دیا جا سکتا۔

پاکستان کا آئینی ڈھانچہ جمہوری اصولوں، منتخب نمائندوں اور بنیادی حقوق کو تسلیم کرتا ہے۔ لیکن کسی بھی نظام کی عملی کیفیت کا جائزہ اس کے آئینی دعووں کے ساتھ ساتھ اس کے حقیقی نتائج کی بنیاد پر بھی لیا جانا چاہیے۔

اگر آئین آزادیِ اظہار کی ضمانت دیتا ہے تو اس ضمانت کا عملی احترام بھی ضروری ہے۔ اگر شہریوں کو معلومات تک رسائی کا حق حاصل ہے تو سرکاری اداروں کو شفافیت اور جواب دہی کے تقاضے پورے کرنے چاہییں۔ اگر قانون سب کے لیے برابر ہے تو اس کا اطلاق سیاسی وابستگی، سماجی حیثیت یا ادارہ جاتی طاقت سے متاثر نہیں ہونا چاہیے۔

اگر عدالتیں انصاف فراہم کرنے کے لیے قائم کی گئی ہیں تو شہریوں کو ان کی آزادی اور غیر جانب داری پر اعتماد ہونا چاہیے۔ اگر پارلیمان عوام کی نمائندگی کرتی ہے تو اسے اہم قومی معاملات پر آزادانہ بحث اور حکومت کے مؤثر احتساب کا کردار ادا کرنا چاہیے۔

جمہوریت کا حقیقی معیار یہی ہے کہ ریاست اپنے شہریوں کے حقوق کا کس حد تک احترام کرتی ہے اور اپنے اختیارات کو کس حد تک آئین و قانون کے تابع رکھتی ہے۔

پاکستان کی جمہوری حیثیت پر سوال اٹھانے کا مقصد لازماً ریاست کی نفی کرنا نہیں۔ اس کے برعکس، یہ سوالات ریاستی نظام کو بہتر بنانے، شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرنے اور اداروں کو زیادہ جواب دہ بنانے میں مدد دے سکتے ہیں۔

کسی ملک سے محبت کا تقاضا یہ نہیں کہ اس کی ہر پالیسی کی حمایت کی جائے۔ حقیقی شہری ذمہ داری کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ جہاں غلطی نظر آئے، وہاں دلیل، شواہد اور پُرامن طریقے سے اس کی نشاندہی کی جائے۔

جمہوریت کا اصل امتحان

جمہوریت کا ایک بنیادی امتحان یہ نہیں کہ ریاست اپنے حامیوں کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے ناقدین کے ساتھ کیسا سلوک کرتی ہے۔

اگر کوئی شخص حکومت کی تعریف کرتا ہے تو اسے اپنے خیالات کے اظہار میں آسانی ہو، لیکن اگر وہی شخص حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرے تو اسے خوف محسوس ہونے لگے، تو یہ صورتِ حال آزادیِ اظہار کی عملی حیثیت پر سنجیدہ سوالات پیدا کرتی ہے۔

اگر ریاستی ادارے اپنی تعریف سننے کے عادی ہو جائیں اور تنقیدی سوالات کو اپنی توہین سمجھنے لگیں، تو احتساب کا عمل کمزور پڑ سکتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر ادارے جائز تنقید کو قبول کریں، غلطیوں کی اصلاح کریں اور اپنے فیصلوں کی وضاحت فراہم کریں، تو عوام کا اعتماد مضبوط ہو سکتا ہے۔

کسی بھی ریاست کی طاقت صرف اس کے قوانین، اداروں یا انتظامی اختیار میں نہیں ہوتی، بلکہ اس اعتماد میں بھی ہوتی ہے جو شہری اس کے نظام پر رکھتے ہیں۔

یہ اعتماد اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب شہریوں کو یقین ہو کہ ان کی آواز سنی جائے گی، ان کے حقوق محفوظ رہیں گے اور ان کے ساتھ انصاف کیا جائے گا۔

پاکستان کو مضبوط، مستحکم اور ترقی یافتہ بنانے کے لیے ضروری ہے کہ آزادیِ اظہار کو محض آئینی عبارت نہ سمجھا جائے، بلکہ اسے عملی طور پر یقینی بنایا جائے۔ قوانین واضح ہوں، ان کا استعمال منصفانہ ہو، صحافت کو اپنا کام کرنے کی آزادی حاصل ہو، عدلیہ قانون کے مطابق آزادانہ فیصلے کر سکے اور شہریوں کو پُرامن سیاسی اختلاف کا حق حاصل ہو۔

قومی سلامتی اور عوامی آزادیوں کے درمیان توازن قائم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اسی طرح شہریوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے حقوق استعمال کرتے ہوئے قانون، دوسروں کی آزادیوں اور پُرامن مکالمے کے اصولوں کا احترام کریں۔

نتیجہ: سوال کرنا جرم نہیں، شہری حق ہے

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے جمہوری مستقبل کا فیصلہ صرف اس بات سے نہیں ہوگا کہ یہاں انتخابات منعقد ہوتے ہیں یا نہیں۔ اس کا تعین اس بات سے بھی ہوگا کہ یہاں عوام اپنے حکمرانوں سے کتنے آزادانہ انداز میں سوال کر سکتے ہیں، صحافی کتنی آزادی سے حقائق سامنے لا سکتے ہیں، سیاسی مخالفین کو کتنی منصفانہ گنجائش حاصل ہے اور ریاستی ادارے کس حد تک قانون کے تابع اور عوام کے سامنے جواب دہ ہیں۔

اگر شہریوں کو حکومتی پالیسیوں سے اختلاف کرنے، معلومات حاصل کرنے، سوال اٹھانے اور پُرامن احتجاج کرنے کی حقیقی آزادی حاصل ہے تو جمہوریت مضبوط ہوگی۔ لیکن اگر یہ حقوق صرف آئینی دستاویزات تک محدود رہ جائیں اور عملی زندگی میں ان کے استعمال پر خوف یا غیر ضروری پابندیاں غالب آ جائیں تو جمہوری نظام کی کارکردگی پر سوال اٹھنا فطری ہے۔پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ ہے، اور اس شناخت کا تقاضا ہے کہ اسلامی اصولوں سے وابستہ انصاف و امانت اور جمہوریت سے وابستہ آزادی و جواب دہی کو عملی اہمیت دی جائے۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ حکومت اور ریاست دو الگ تصورات ہیں۔ حکومتیں بدلتی رہتی ہیں، لیکن ریاست اور اس کے ادارے عوام کی خدمت اور آئین کے مطابق اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے قائم رہتے ہیں۔ کسی حکومت پر تنقید کرنا لازماً ملک کی مخالفت نہیں، اور کسی ادارے سے جواب طلب کرنا لازماً ریاست کو کمزور کرنا نہیں ہوتا۔

ایک حقیقی جمہوریت میں حکمران عوام سے ووٹ مانگتے ہیں، لیکن عوام کو بھی حکمرانوں سے جواب مانگنے کا حق حاصل ہوتا ہے۔

اگر پاکستان کو واقعی ایک مضبوط اسلامی جمہوری ریاست بنانا ہے تو یہاں تنقید کو دشمنی، سوال کو بغاوت اور اختلافِ رائے کو جرم سمجھنے کے رجحان سے آگے بڑھنا ہوگا۔کیونکہ جمہوریت کی اصل خوب صورتی یہ نہیں کہ سب لوگ ایک ہی بات کہیں، بلکہ یہ ہے کہ مختلف رائے رکھنے والے لوگ بھی اپنے خیالات کا اظہار خوف کے بغیر کر سکیں۔ اور یہی وہ معیار ہے جس پر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے جمہوری نظام کی عملی کارکردگی کو پرکھا جانا چاہیے۔ آخر میں سوال صرف اتنا ہے۔ کیا ہم ایسا پاکستان چاہتے ہیں جہاں شہری صرف حکمرانوں کے فیصلے تسلیم کریں، یا ایسا پاکستان جہاں شہری ان فیصلوں پر سوال بھی اٹھا سکیں۔اس سوال کا جواب ہی ہمارے جمہوری مستقبل کی سمت متعین کرے گا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »