LOADING

Type to search

Islamabad National

اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کا پاکستان اور جنوبی کوریا کے درمیان شراکت داری مزید مضبوط بنانے پر زور پاکستان اور جنوبی کوریا کے تعلقات دوستی اور باہمی اعتماد کی علامت ہیں، کوریائی سفیر

Share

اسلام آباد، 21 اکتوبر 2026 (ڈیجیٹل پوسٹ): پاکستان اور جنوبی کوریا نے دفاع، تجارت، ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور ثقافتی تبادلوں سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں جنوبی کوریا کے سفارت خانے کی جانب سے اسلام آباد میں قومی دن اور یومِ افواج کے موقع پر ایک پروقار استقبالیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ دوستی اور بڑھتے ہوئے تعاون کو اجاگر کیا گیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میں جنوبی کوریا کے سفیر ہان سنگ ہو نے دونوں ممالک کے درمیان 43 سالہ سفارتی تعلقات کو باہمی اعتماد، دوستی اور تعاون کی مضبوط بنیاد قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور جنوبی کوریا کے تعلقات کی نمایاں خصوصیت باہمی احترام اور دوستی ہے، جس کی عکاسی اردو کے لفظ ’’دوستی‘‘ سے بھی ہوتی ہے۔

کوریائی سفیر نے جنوبی کوریا کے لیے پاکستان کی ابتدائی حمایت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک پاکستان کے ساتھ اقتصادی تعاون، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی روابط کو مزید مستحکم بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے نئے مواقع تلاش کرکے باہمی تعلقات کو مزید وسعت دی جا سکتی ہے۔

سفیر ہان سنگ ہو نے پاکستان میں مختلف کوریائی اداروں کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کوریا ٹریڈ انویسٹمنٹ پروموشن ایجنسی (کوٹرا)، کوریا انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی (کوئیکا)، کوریا پروگرام آن انٹرنیشنل ایگریکلچر (کوپیا)، کورین ہیلتھ انڈسٹری سے وابستہ اداروں اور ایچ آر ڈی کوریا سمیت دیگر ادارے تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، صحت، غذائی تحفظ، ثقافتی ورثے کے تحفظ اور ہنرمند افرادی قوت کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

انہوں نے دونوں ممالک کے اداروں اور متعلقہ فریقین کے درمیان رابطوں کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ’’کوریا ون ٹیم‘‘ کے تصور کی اہمیت پر بھی زور دیا، تاکہ مشترکہ کوششوں کے ذریعے مستقبل پر مبنی شراکت داری کو فروغ دیا جا سکے۔

ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کا ذکر کرتے ہوئے کوریائی سفیر نے اسلام آباد آئی ٹی پارک کا افتتاح اور اس کا نام تبدیل کرکے ’’دانش آئی ٹی پارک‘‘ رکھے جانے کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے اس منصوبے کو پاکستان کے نوجوان آئی ٹی ماہرین کے لیے اہم موقع قرار دیا، جس سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں ترقی اور آئی ٹی برآمدات میں اضافے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

انہوں نے پاکستانی طلبہ، بالخصوص نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (نمل) میں کوریائی زبان اور ثقافت سے بڑھتی ہوئی دلچسپی کو بھی سراہا اور اسے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان مضبوط ہوتے ہوئے روابط کی مثبت علامت قرار دیا۔

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے اپنے خطاب میں پاکستان اور جنوبی کوریا کے درمیان اقتصادی اور سرمایہ کاری کے تعاون کو مزید وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے جنوبی کوریا کی غیر معمولی معاشی ترقی کو قابلِ تحسین قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی کوریا نے جنگ کے بعد کے مشکل حالات سے نکل کر عالمی اقتصادی اور تکنیکی قوت بننے تک کا سفر محنت، جدت، انسانی وسائل کی ترقی اور مؤثر پالیسی سازی کے ذریعے طے کیا، جو دنیا بھر کے لیے ایک قابلِ مطالعہ مثال ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان صنعتی ترقی، جدید ٹیکنالوجی، اختراع، بنیادی ڈھانچے، تعلیم، فنی تربیت اور انسانی وسائل کی ترقی سمیت مختلف شعبوں میں جنوبی کوریا کے تجربات اور مہارت سے استفادہ کرنے میں گہری دلچسپی رکھتا ہے۔ ان کے مطابق ان شعبوں میں معلومات اور تجربات کا تبادلہ دونوں ممالک کے لیے ترقی کے نئے امکانات پیدا کر سکتا ہے۔

ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ پاکستان اور جنوبی کوریا کے تعلقات وقت کے ساتھ ساتھ سیاسی، اقتصادی، تجارتی، سرمایہ کاری، انسانی وسائل کی ترقی اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں وسعت اختیار کر چکے ہیں۔ پاکستان اس شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جانے کا خواہاں ہے، جس کے لیے کاروباری روابط مضبوط بنانے، سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے اور انسانی وسائل کی ترقی پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے دوطرفہ اقتصادی تعاون کے دائرہ کار کو وسعت دینے کے لیے جاری کوششوں، بالخصوص جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے (سیپا) سے متعلق بات چیت کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے بہتر اقتصادی فریم ورک دونوں ممالک کے کاروباری اداروں کے لیے نئے مواقع پیدا کر سکتا ہے اور باہمی مفاد میں پائیدار اقتصادی ترقی کو فروغ دے سکتا ہے۔

وفاقی وزیر نے جنوبی کوریا کی جانب سے کوریا انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی (کوئیکا) کے ذریعے پاکستان کو فراہم کیے جانے والے ترقیاتی تعاون کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ استعداد کار میں اضافے، ادارہ جاتی استحکام اور ترقیاتی شعبوں میں جنوبی کوریا کے تجربات پاکستان کی ترقیاتی کوششوں کے لیے اہمیت کے حامل ہیں۔

تقریب کے دوران جنوبی کوریا کی جدید دفاعی ٹیکنالوجی کی نمائش بھی کی گئی، جبکہ پاکستانی نوجوانوں نے کوریائی پاپ موسیقی (کے پاپ) پر پرفارمنس پیش کی۔ نمل کے طلبہ نے روایتی کوریائی پنکھے کے رقص کا مظاہرہ کیا، جبکہ پاکستان کے قومی تائیکوانڈو کھلاڑیوں نے اپنی مہارت کا مظاہرہ کرکے حاضرین سے داد وصول کی۔

شرکاء کو روایتی کوریائی کھانوں سے بھی لطف اندوز ہونے کا موقع ملا، جبکہ مہمانوں کو یادگاری تحائف کے طور پر کوریائی بیوٹی مصنوعات بھی پیش کی گئیں۔

تقریب میں سفارت کاروں، حکومتی اور عسکری حکام، طلبہ، کھلاڑیوں اور کاروباری برادری کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر پاکستان میں کوریائی ثقافت سے بڑھتی ہوئی دلچسپی اور دوطرفہ تعلقات کے فروغ میں ثقافتی سفارت کاری کی اہمیت بھی نمایاں رہی۔

دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ دوستی اور باہمی اعتماد کو مستقبل میں وسیع تر شراکت داری اور مشترکہ ترقی کے لیے ایک اہم بنیاد قرار دیا گیا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »