LOADING

Type to search

Islamabad National

اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) بھیڑ میں گمشدہ آواز: شناخت اور اجنبیت کے مابین مہاجر کا وجودی خلا

Share

اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ)تقسیمِ ہند کے تاریخی اور سیاسی اثرات پر جب بھی بات ہوتی ہے، تو عام طور پر اعداد و شمار، زمینوں کی الاٹمنٹ، اور سیاسی تحریکوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔ لیکن اس پورے عمل کا سب سے پیچیدہ اور دردناک پہلو وہ نفسیاتی اور جذباتی بحران ہے، جسے “مہاجر شناخت کا وجودی خلا” کہا جا سکتا ہے۔ ہجرت محض ایک جغرافیائی فاصلہ طے کرنے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ اپنے ماضی، اپنی تہذیبی جڑوں اور اپنی اس آواز کو پیچھے چھوڑ دینے کا نام ہے جس سے انسان کی پہچان وابستہ ہوتی ہے۔ نئے وطن کی رنگا رنگی اور لاکھوں کی بھیڑ میں، مہاجر کی وہ اصل، غیر سیاسی اور معصوم آواز کہیں کھو کر رہ گئی، جسے سننے والا کوئی نہ تھا۔

جب 1947ء میں لاکھوں لوگ اپنا سب کچھ چھوڑ کر سندھ کے شہری علاقوں، بالخصوص کراچی اور حیدرآباد پہنچے، تو ابتدائی دور ایک نئی امید اور تعمیرِ نو کا دور تھا۔ لیکن جیسے ہی ہجرت کی دھول بیٹھی، ایک عجیب سا شناختی بحران پیدا ہوا۔ یو پی، سی پی، دہلی اور بہار کے گلی کوچوں سے آنے والے ان لوگوں کے پاس یادوں کا ایک بھاری سرمایہ تھا، لیکن ان یادوں کو سانجھے کرنے کے لیے کوئی پائیدار زمین میسر نہ تھی۔ وہ ایک ایسی بھیڑ کا حصہ بن چکے تھے جہاں ہر شخص اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا تھا، اور اس ہنگامے میں ایک عام مہاجر کا وہ دکھ، جو اپنی مٹی سے بچھڑنے کا تھا، بالکل ان دیکھا رہ گیا۔

اس بحران کا سب سے المیہ رخ یہ تھا کہ مہاجر کی آواز کو وقت کے ساتھ ساتھ صرف سیاسی نعروں اور گروہی مفادات کے سانچے میں ڈھال دیا گیا۔ ایک عام، پڑھا لکھا اور مڈل کلاس مہاجر، جو شاعری، ادب، اور دھیمے لہجے کی گفتگو کا خوگر تھا، وہ آہستہ آہستہ اس جارحانہ سیاسی ماحول میں خاموش ہو گیا۔ شہروں کی گہما گہمی، ہجرت کے بعد ملنے والی نئی مصروفیات اور بدلتے ہوئے معاشی حالات نے ایک ایسا منظرنامہ پیدا کیا جہاں وہ سب کے درمیان موجود تو تھا، لیکن اس کی اپنی اندرونی آواز “کوئی بھی نہیں” (No One) کے خلا میں گم ہو چکی تھی۔ وہ نہ تو پوری طرح اپنے ماضی سے ناتا توڑ سکا اور نہ ہی نئے ماحول میں اس نوعیت کی جذباتی جڑیں بنا پایا جو اسے ایک پُرکون شناخت دے پاتیں۔

یہ خاموشی اور اکیلا پن اس وقت مزید گہرا ہو گیا جب نئی نسلیں پروان چڑھیں، جنہوں نے پرانی مٹی کو دیکھا ہی نہیں تھا، لیکن وہ اس نادیدہ مٹی کی خوشبو اور اس کے سحر کو اپنے بزرگوں کی آنکھوں میں ڈھونڈتی تھیں۔ یوں یہ شناخت ایک نسل سے دوسری نسل میں ایک مبہم اداسی کی شکل میں منتقل ہوتی رہی۔

آج جب ہم پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں، تو معلوم ہوتا ہے کہ تقسیم کے بعد کا اصل المیہ صرف زمینوں یا حقوق کی جنگ نہیں تھا، بلکہ وہ گہرا نفسیاتی اکیلا پن تھا جس نے لاکھوں انسانوں کو اپنے ہی گھر میں اجنبی بنا دیا۔ بھیڑ میں گمشدہ مہاجر کی یہ آواز آج بھی ہم سے یہ تقاضا کرتی ہے کہ ہم تاریخ کو صرف سیاسی عینک سے نہ دیکھیں، بلکہ اس انسانی کرب کو بھی سمجھیں جو اپنی مٹی سے اکھڑنے کے بعد، ہر جگہ ہو کر بھی کہیں کا نہیں رہتا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »