LOADING

Type to search

Islamabad National

اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) یہ الفاظ آپ کو مین اسٹریم میڈیا سے لیکر سوشل میڈیا پر سنائی دینگے۔ دراصل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ۸۰ ویں اجلاس کے دوران جب اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن ناتن یاہو تقریر کے لئے پہنچا تو ہال میں موجود متعدد مسلمان ممالک کے نمائندے احتجاج کے طور پر ہال سے باہر نکلنا شروع ہو گئے

Share

اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) یہ الفاظ آپ کو مین اسٹریم میڈیا سے لیکر سوشل میڈیا پر سنائی دینگے۔ دراصل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ۸۰ ویں اجلاس کے دوران جب اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن ناتن یاہو تقریر کے لئے پہنچا تو ہال میں موجود متعدد مسلمان ممالک کے نمائندے احتجاج کے طور پر ہال سے باہر نکلنا شروع ہو گئے تو اسرائیلی وزیراعظم نے اپنی تقریر شروع کرنے سے پہلے کہا کہ “ہال میں اگر کوئی اخلاقی بزدل رہ گیا ہے تو وہ بھی نکل جائے”

پیشتر اس کے کہ میں اس کی تقریر کے حوالے سے کچھ کہوں میں اقوام متحدہ اور واک اؤٹ پر بات کرونگا۔ لہذا میری درخواست ہے کہ میرے بارے میں کوئی بھی رائے قائم کرنے سے پہلے اسے غیر جانبدرانہ انداز میں دیکھیے گا۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں جو کچھ اس روز مسلمان نمائندوں نے کیا اسے واک اؤٹ کہا جاتا ہے اور یہ سفارتکاری کا بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ اور قدیم طریقہ کار ہے۔ جس کا مقصد کسی کی پالیسیوں کے خلاف بغیر کسی تشدد کے اپنا سخت احتجاج ریکارڈ کروانا ہوتا ہے۔ لہذا کسی حد تک اسے ایک مۂذب طریقے کا احتجاج مانا جاتا ہے۔ جب کہ اس کا دوسرا رُخ یہ ہے کہ اس طرح کے بائیکاٹ سے سفارتکاری یعنی بات چیت کے ذریعے معاملات کو حل کرنے کا اصل مقصد فوت ہوجاتا ہے۔ کیونکہ دونوں فریقین ایک دوسرے کو سننے سے انکاری ہوں تو مفاہمت کے راستے بند ہوجاتے ہیں۔

دراصل یہ پورا ماحول عالمی سطح پر جنگ سے متعلق اپنے اپنے بیانیے کو سچا ثابت کرنے کے لئے رچایا گیا ہے۔ اسرائیل کا یہ ماننا ہے کہ مخالفین کے پاس کوئی ٹھوس دلائل نہیں لہذا وہ بات چیت گھبراتے ہیں اور چونکہ اسرائیل خطے میں دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے اور ان کے پاس ٹھوس دلائل نہیں لہذا وہ معاملے کو حل کرنے کے لئے بات چیت کرنے سے بھاکتے ہیں۔ دوسری جانب کا یہ کہنا ہے کہ غزہ اور لبنان میں جاری جنگ اور عام شہریوں کی ہلاکت بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

اب یہ فیصلہ کرنا قدرے مشکل ہے اور ناتین یاہو کی بات سے اتفاق کرنا آپ پر منحصر ہے کیونکہ اخلاقی بزدل کے طور واک اؤٹ کرنا مناسب ہے یعنی اپنی عوام کو بیوقوف بنانے کے لئے علامتی واک اؤٹ کرلیا جبکہ اس بات سے وہ بھی واقف ہیں کیونکہ عملی طور پر کچھ کرنے کی ہمت نہیں۔ اور یہی کام ترکی کا صدر طیب اردگان کئی سالوں سے کر رہا ہے۔ ہال میں کھڑے ہوکر دوسروں کو بُرا بھلا بول لیا مگر زمینی حقائق بہت مختلف ہیں۔

یہاں یہ بات واضع نظر آتی ہے کہ دونوں فریقین اپنے اپنے موقف کو سچ ثابت کرنے کی بات کرتے ہیں تاہم اس منظر نامے سے یہ بات واضع نظر آتی ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا ہال اب تعمیری بحث کی بجائے سیاسی بیانات اور تھیٹر کا میدان بن چکا ہے۔ دنیا کے بڑے بڑے مسائل مشرق وسطیٰ سے لیکر یوکرائن ، روس جنگ، چین اور تائیوان کا تنازعہ اور مسئلہ کشمیر سمیت دیگر بین الاقوامی تنازعات بات چیت کی بجائے زمین پر جاری جنگ اور فوجی طاقت کے بل بوتے پر حل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم کی تقریر کے بائیکاٹ کے تناظر میں یہ بات واضع نظر آتی ہے کہ مسلم ممالک کے ردعمل میں یکجہتی اور اندرونی کمزوریاں موجود ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ اگرچہ متعدد مسلم ممالک کے نمائندوں نے علامتی واک اؤٹ کیا لیکن بعض مسلم ممالک کے نمائندے ہال میں موجود رہے۔ جو مسلم امہ کے درمیان واضع تفریق کو ظاہر کرتا ہے۔ دوسری جانب ناقدین یہ بھی کہتے ہیں کہ واک اؤٹ بھی محض علامتی تھا جو عوام دباؤ کے لئے کیا گیا کیونکہ بیرونی ممالک کے دباؤ کے پیش نظر ٹھوس اقدامات نہیں کیے جاتے۔

حقیقت حال اقوام متحدہ کے قواعد و ضوابط یا قراردادوں کا جائزہ لیا جائے تو اجلاس کے دوران تمام ممبر ممالک کو بلاتفریق سخت سے سخت الفاظ میں بات کرنے کا حق حاصل ہے اس لئے کسی راہنما کی تقریر کو بلا روک ٹوک جاری کیا جاتا ہے تاہم عملی طور پر بحران واضع ہے۔ اگرچہ بعض قراردادیں سیاسی یا اخلاقی دباؤ تو رکھتی ہیں تاہم قانونی طور پر نافذ العمل نہیں ہوتیں کیونکہ اصل طاقت سلامتی کونسل کے پاس ہے اور بڑے ممالک اسے ویٹو کر دیتے ہیں اور یوں وہ بے اثر ہوجاتی ہیں۔

جس کی لاٹھی اس کی بھینس

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »