LOADING

Type to search

Islamabad National

اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) عبیداللہ بیگ ایک دانش ور ایک ادیب

Share

اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ)عبیداللہ بیگ یکم اکتوبر 1936ء کو ہندوستان کے شہر رام پور میں پیدا ہوئے بعد ازاں اپنے خاندان کے ساتھ ہجرت کر کے کراچی میں مقیم ہوئے۔وہ معروف ٹی وی پروڈیوسر، کمپیئر، ادیب اور دانش ور تھے۔ رسمی تعلیم کم ہونے کے باوجود بھی انھیں اپنے عمیق مطالعے کی وجہ سے تاریخ، جغرافیہ، ادب اور ماحولیات جیسے موضوعات پر کافی دسترس تھی۔ وہ مختلف شعبوں میں علم کی دسترس کی وجہ سے بھی مشہور ہوئے۔ ان کی وجہ شہرت پی ٹی وی سے نشر ہونے والا مشہور ترین کوئز پروگرام کسوٹی ہے۔ وہ 1970 ء اور 1990ء کی دہائیوں میں اسی پروگرام کے ذریعے اہل علم و دانش کے دلوں پر راج کرتے رہے۔ یہ پروگرام دل چسپ ہونے کے ساتھ ساتھ ناظرین کے لیے معلوماتی بھی تھا۔

عبید اللہ بیگ سیلانی کے ساتھ کے عنوان سے دستاویزی فلمیں بنانے کی وجہ سے بھی مشہور ہوئے ۔ بچپن سے انھیں سیر و سفر کا شوق تھا جو جوانی تک قائم رہا۔ وہ کتابوں میں درج حوالوں کی مدد سے مشہور مقامات کو تلاش کر کے ان پر دستاویزی فلم بناتے تھے۔ ان کی دستاویزی فلموں نے بین الاقوامی شہرت حاصل کی اور انھیں کئی ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔ موصوف کو جنگلی حیات اور موحولیات سے گہری دل چھی تھی۔ ٹیلی ویژن سے علیحدہ ہونے کے بعد وہ ماحولیات کے تحفظ کی غیر سرکاری تنظیم آئی یوسی این سے منسلک ہو گئے اور ماحولیات کی رپورٹنگ کے بارے میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کی تربیت کا کام کرتے تھے۔

عبید اللہ بیگ حاضر دماغ ، بے غرض، رجائیت پسند،انسان دوست ،خوددار اور کتاب کلچر کے نمائندہ تھے۔ وہ تین ناول لکھنے کے خواہش مند تھے۔”اور انسان زندہ ہے” اور “راجپوت” کے علاوہ انھوں نے تیسرا ناول “کاوا” لکھنا تھا، جس میں انھوں نے پاکستان اور ہندوستان کے مسائل کا جائزہ لینا تھا، مگر وہ یہ ناول نہ لکھ پائے اور 22 جون 2012ء کو خالق حقیقی کو پیارے ہو گئے۔

1958ء میں وہ کراچی سے شائع ہونے والے ادبی رسالے الشجاع سے اسٹاف رائٹر کی حیثیت سے وابستہ ہوئے ۔ اسی رسالے میں انھوں نے اپنا پہلا ناول “اور انسان زندہ ہے” لکھا۔اس ناول کا موضوع ہندو مسلم تعلقات کا اتار چڑھاؤ ہے ۔ یہ ناول ہندو اور مسلم قوموں کے درمیان محبت اور نفرت کے رشتوں کا جائزہ پیش کرتا ہے۔ عبید اللہ بیگ نے اس ناول کو دنیا کی سب سے بڑی محبت اور سب سے بڑی نفرت کی کہانی قرار دیا۔ ان کے نزدیک یہ ایسی قربتوں اور دوریوں کی کہانی ہے جس کی کوئی مثال نہیں ملتی ۔ جب ہندو اور مسلم دونوں اقوام میں قربت کا احساس جاگتا ہے تو یہ آپس میں جسم و جان کی طرح نظر آتی ہیں اور جب یہ ٹکراؤ پہ آتی ہیں تو خون کی ندیاں بہتی ہیں۔یہ ناول اپنے موضوع کے اعتبار سے دل چسپ ہے۔ اس میں ہندو اور مسلم قوموں کی لو اینڈ ہیٹ رلیشن شپ کی کہانی بیان ہوئی ہے۔ یہ ایک ایسا انوکھا رشتہ ہے جس میں بیک وقت ایک دوسرے سے محبت اور نفرت کا جذبہ پایا جاتا ہے۔ جب محبت ابھرتی ہے تو نفرت دب جاتی ہے اور جب نفرت ابھرتی ہے تو محبت دب جاتی ہے۔

اس ناول کا بنیادی موضوع کانگریسی وزارتوں کے دوران ہونے والے فرقہ ورانہ فسادات ہیں۔ 1937ء میں وزارتیں قائم ہوتے ہی ہندو مسلم فسادات یکا یک بڑھ گئے ۔ جب کانگریس عملاً

بر صغیر کے بیشتر حصے پر برسر اقتدار تھی، تو ہندوؤں نے سمجھا کہ وہ رام راج آگیا، جس کا انھیں انتظار تھا۔ انھوں نے اپنی قوم پرستی کی صحیح تعبیر قوم کے سامنے رکھ دی تو مسلم عوام اس بات کے قائل ہو گئے کہ رام راج کا مطلب ہندوؤں کی بدترین متعصبانہ، آمرانہ اور تنگ نظرانہ حکومت ہے۔

اس ناول میں نیپال اور یو۔پی کی سرحد پر واقع گاؤں بسنت پور میں قتل عام دکھایا گیا ہے۔ اس گاؤں کے ہندو اور مسلمان آپس میں محبت اور رواداری کے رشتے سے منسلک تھے کہ خاندانی انتقام کی خاطر ہندوؤں نے حملہ کر دیا اور گاؤں میں موجود مسلمانوں اور ہندوؤں دونوں کا قتل عام کیا۔

فنی نقطہ نظر سے یہ ناول کردار نگاری اور کہانی کی وجہ سے دل چسپ ہے۔ عبید اللہ بیگ نے اس ناول کا مرکزی کردار انسانیت کو قرار دیا ہے۔ یہ کہانی ناہر سنگھ ڈاکو کی دل چسپ داستان ہے۔ اس ناول میں بائیس انسانوں کے قاتل کا اندوہ ناک انجام اور قدرت کا انتظام کہانی میں دل چسپی کا باعث ہے۔ جب اس سفاک ڈاکو کی داستان حیات کے پرت در پرت کھلتے گئے تو حیرت ، تجسس اور دل چسپی بڑھتی گئی۔ یہ ناول دو قومی نظریے کا جیتا جاگتا ثبوت ہے اور اپنے موضوع کے اعتبار سے ہندو مسلم فسادات پر لکھے جانے والے ناولوں میں اہم ناول ہے۔

عبید اللہ بیگ کا دوسرا ناول”راجپوت”ہے جو 2010ء میں نیشنل بک فاونڈیشن اسلام آباد سے شائع ہوا۔ اس ناول کا پس منظر دوسری جنگ عظیم کے بعد کا ہندوستان ہے۔ جب ملک بھر میں آزادی کی تحریک زوروں پر تھی،ہندو اور مسلمانوں دونوں مل کر انگریزوں کو بر صغیر سے نکالنا چاہتے تھے۔ 1945ء میں دوسری عالمگیر جنگ کا خاتمہ بر صغیر کی آزادی کا پیغام لایا اور مسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل پاکستان کے قائم ہو جانے کے امکانات بھی واضح ہونے لگے۔ برصغیر کے چالیس کروڑ عوام آنے والے دور کے منتظر تھے اور بہت خوش تھے لیکن برصغیر میں ایک ایسا طبقہ بھی موجود تھا جو آزادی ملنے کے بعد اپنے مستقبل کے بارے میں پریشان تھا۔ یہ طبقہ برصغیر کی پانچ سو سے زیادہ ریاستوں کے حکمرانوں کا تھا، جن میں راجپوتوں کی تعداد سب سے زیادہ تھی۔ آزاد ہندوستان میں راجپوتوں کی حکومت قائم کرنے کے لیے ایک خفیہ تحریک شروع ہوئی، جس کو کچھ برطانوی امرا اور بعض ایسے برطانوی فوجی افسروں کی بھی مدد حاصل تھی جو کئی نسلوں سے ہندوستان میں آباد تھے ۔یہ ناول اسی خفیہ تحریک اور اس کی کارروائیوں کے بعض اہم واقعات کی روداد پر مشتمل ہے اور بعض اہم سوالوں کے جوابات بھی فراہم کرتی ہے۔

اس خفیہ فوجی و غیر فوجی تنظیم کا نام آر آر آر تھا۔ جس کا مطلب راجپوت راج رائے تھا یعنی راجپوت ہی حکومت کرے۔ اس تنظیم کا دائرہ کار بہت وسیع تھا۔ اس میں بہت سے سرکردہ لوگوں کے نام تھے جن میں برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا، نیوزی لینڈ ، جنوبی افریقہ، مشرقی افریقہ کی برطانوی نوآبادیات اور خود ہندوستان کی ریاستوں سے تھا جن میں بعض ہندو، مسلمان اور سکھ ریاستیں بھی شامل تھیں ۔ آر آر آر میں برٹش انڈین آرمی کے حاضر سروس اور ریٹائرڈ افسران بھی شامل تھے۔ ان افسران میں زیادہ تر تو وہ تھے جنھوں نے زندگی کا زیادہ تر عرصہ ہندوستان میں گزارا یا ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ برطانیہ میں ہندوستانی ریاستوں کے لیے کٹر رجعت پسند اس تنظیم کے لیے وسائل مہیا کر رہے تھے۔

دوسری عالمی جنگ کی فتح کا جشن منانے کی غرض سے ہندوستان کی متعدد ریاستوں کے راجے اور مہاراجے اورینٹ ہوٹل لکھنو میں ٹھہرے تھے۔ دراصل وہ سب اپنی ریاستوں کے مستقبل کے

بارے میں فکر مند تھے۔ برصغیر کی پانچ سو سے زائد موروثی ریاستوں کا مسلم لیگ اور کانگریس سے نظریاتی اختلاف تو تھا لیکن انھیں اپنا مستقبل تاریک لگ رہا تھا ۔ انھیں فکر تھی کہ ان کی تہذیب، تمدن،تاریخ اور مذہب سب ختم ہو جائیں گے اور وہ کروڑوں ہندوستانی گم نام چہروں کے مہیب سیلاب میں بدل جائیں گے، جن کی نہ کوئی شناخت ہوگی نہ تہذیب اور وہ اس کوے کی طرح ہو جائیں گے جو ہنس کی چال چلنے کی کوشش میں اپنی چال بھی بھول جاتا ہے۔

آر آر آر کے بارے میں وہ تمام شواہد جو ناول کے مرکزی کردار کرنل کیانی اور دوسرے محکموں سے حاصل ہوئے تھے،ان سب کو گورنر کے سامنے پیش کیا گیا۔ گورنر نے تمام واقعات کی روداد سن کر تمام فائلوں کو نذر آتش کر دیا اور کرنل کیانی سے ان سب واقعات کو بھول جانے کو کہا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ یہ موضوع مؤرخ کے قلم کی زد میں نہیں آیا۔ اس ناول نے نہ صرف تاریخ کے اس خلا کو پر کیا ہے بلکہ یہ ناول اردو تاریخی ناول نگاری کی روایت میں اپنے موضوع کے اعتبار سے ایک اہم اضافہ ہے۔

ان دونوں ناولوں کا ایک ضمنی موضوع شکاریات ہے۔ عبید اللہ بیگ کو شکار سے گہری رغبت تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان ناولوں میں شکار، شکار کے طریقوں، شکار میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں اور جنگلی حیات کے بارے میں کثرت سے معلومات ہیں۔ ان دونوں ناولوں کے واقعات اور کردار حقیقی ہیں لیکن انھوں نے مقامات اور کرداروں کے نام تبدیل کر کے انھیں ناول کا رنگ دیا۔ عبید اللہ بیگ کے دونوں ناولوں کی اشاعت کے درمیان پچاس سال کا وقفہ ہے۔ اگر اس درمیانی عرصے میں وہ ناول نگاری پر توجہ دیتے تو یقیناً اردو کو ایک یا دو اور اعلیٰ معیار کے ناول مل جانے تھے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »