LOADING

Type to search

Islamabad National

اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) پٹریاں بے وارث، شوگر ڈیڈی بااختیار

Share

اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) آج کل دنیا میں رشتوں کی بھی بڑی عجیب عجیب اقسام نکل آئی ہیں شوگر ممی، شوگر ڈیڈی اسپانسر سرپرست اور گاڈ فادر کنگ میکر جیسے۔محسن۔ راولپنڈی کی سیاست بھی آج کل کچھ ایسی ہی دلچسپ کیفیت سے گزر رہی ہے یہاں کچھ سیاسی شعبدہ باز ایسے بھی ہیں جو خود کو شوگر ڈیڈی سمجھ بیٹھے ہیں وزارت ریلوے یتیم، اور جناب شوگر ڈیڈی بننے ہیں مسئلہ صرف یہ ہے کہ شوگر ڈیڈی بننے کے لیے پہلے خود کسی کا محتاج نہ ہونا ضروری ہے۔

اور پنڈی کی سیاست کا المیہ یہ ہے کہ بعض حضرات کی اپنی سیاسی حیثیت ہی کسی نہ کسی سہارے، سرپرستی اور اقتداری چھتری کی مرہونِ منت دکھائی دیتی ہے، مگر گفتگو ایسی جیسے پورے شہر کی سیاست کے واحد مالک یہی ہوں۔ یہ عجیب قسم کا شوگر ڈیڈی ہے جو خود کسی کے سائے کا محتاج اور دوسروں کو سایہ دینے کا دعوے دار ہے

اس کی مصروفیات دیکھ کر لگتا ہے کہ سیاست کے ساتھ ساتھ لائف اسٹائل مینجمنٹ بھی وزارت کے دائرۂ کار میں شامل ہو چکی ہے موصوف کو دیکھ کر تو یوں لگتا ہے جیسے Louis Vuitton (LV) کے برانڈ ایمبیسیڈر بن چکے ہیں۔ LV کی تشہیر اور بھرپور مارکیٹنگ کرتے ہوئے قومی اسمبلی سے لے کر ہر جگہ نظر آتے ہیں۔ اوپر سے وہ چیک والی بسکٹیں بھی پہن رکھی ہوتی ہیں، اب یہ معلوم نہیں کہ وہ کس برانڈ کی مارکیٹنگ ہے یوں محسوس ہوتا ہے کہ سیاست کی پٹری بھی دو طرفہ ہو گئی ہے۔ ایک پٹری پر عوام کا پاکستان چل رہا ہے، اور دوسری پٹری پر VIP لائف اسٹائل ایکسپریس عوام پوچھتے ہیں جناب، ٹرین وقت پر آئے گی یا نہیں اور جواب میں سیاسی مصروفیات، پروٹوکول اور آنیاں جانیاں اپنی جگہ جاری رہتی ہیں۔

ریلوے کی پٹریاں اپنی جگہ، مگر سوال یہ ہے کہ ریلوے چل بھی رہی ہے یا نہیں؟ اور اگر چل رہی ہے تو عوام کی زندگی میں اس کی روانی کہاں ہے؟
نہ اپنے حلقے کے عوام آپ کی کارکردگی سے خوش دکھائی دیتے ہیں، نہ شہر کے عوام آپ کی سیاسی آنیوں جانیوں سے متاثر ہیں البتہ ایک چیز قابلِ داد ضرور ہے آپ کی آنیاں جانیاں اس شعبے میں آمدورفت مسلسل جاری ہے

رہی بات راولپنڈی کی، تو یہ شہر کسی ایک فرد کی ذاتی جاگیر نہیں یہ وہ شہر ہے جس نے میاں محمد نواز شریف سے محبت کی ہے، ان کے ساتھ سیاسی وفاداری نبھائی ہے اور کئی مشکل وقتوں میں ان کا ساتھ دیا ہے۔ اس لیے نواز شریف سے پنڈی والوں کی محبت کو اپنی ذاتی سیاسی کارکردگی کا کریڈٹ نہ سمجھیں یہ محبت ایک الگ امانت ہے اور عوام لیڈر سے محبت اور مقامی سیاسی کردار کی کارکردگی دونوں کو الگ الگ دیکھنا جانتے ہیں۔

خود سہارا لے کر کھڑا ہے اور دوسروں کو سہارا دینے کے دعوے کر رہا ہے؛ خود سیاسی سیڑھی ڈھونڈتا ہے اور پھر اعلان کرتا ہے کہ میں نے لوگوں کو اوپر پہنچایا؛ خود کسی کے دروازے پر حاضری لگاتا ہے اور پھر باہر نکل کر ایسے سینہ پھلاتا ہے جیسے دروازہ اسی نے بنوایا ہو یہ شوگر ڈیڈی نہیں، شوگر ڈیڈی بننے کا سیاسی شوقین ہے۔

اسی لیے راولپنڈی کی سیاست میں ایک نئی اصطلاح شامل ہونی چاہیے شوگر ڈیڈی نہیں شوگر ڈیڈی کا محتاج! یعنی ایسا سیاسی کردار جو اپنی سیاسی دکان چلانے کے لیے کسی طاقتور سہارے کا محتاج ہو مگر پھر اسی سائے کو اپنا قد سمجھ بیٹھے سایہ کسی اور کا، قد اپنا؛ سہارا کسی اور کا، دعویٰ اپنا یہی تو سیاست کا دلچسپ کمال ہے

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »