اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) اوچھے ہتھکنڈے سینیٹر ناصر بٹ کے خلاف سیاسی چال؟
Share
اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) سینیٹر ناصر بٹ کے بھتیجے حمزہ بٹ کے خلاف ایف آئی اے کی حالیہ کارروائی نے کئی سنجیدہ سوالات کو جنم دیا ہے۔ کسی بھی شہری کے خلاف اگر کوئی قانونی معاملہ ہے تو اس کی شفاف، غیر جانب دار اور قانون کے مطابق تحقیقات ہونی چاہئیں لیکن کسی سیاسی شخصیت یا اس کے خاندان کو دباؤ میں لانے کے لیے ریاستی اداروں کے استعمال کا تاثر بھی انتہائی قابلِ مذمت تشویش ناک اور ہے۔
ناصر بٹ ایک طویل عرصے سے مسلم لیگ (ن) کی سیاست میں فعال کردار ادا کرتے آئے ہیں اور مشکل سیاسی حالات میں بھی اپنی جماعت اور قیادت کے ساتھ کھڑے رہے ہیں ان کے خلاف وہ لوگ جو مسلم لیگ (ن) کی سیاست میں آئے ابھی جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں، مگر وہ آج خود کو راولپنڈی شہر کی سیاست کا ٹھیکیدار سمجھنے ہیں وہ سیاسی اختلافات یا ذاتی رنجشوں کی بنیاد پر کوئی بھی ایسی اوچھے ہتھکنڈے جس سے ان کی سیاسی ساکھ یا خاندان کو نقصان پہنچانے کی کوشش محسوس ہو یقیناً قابلِ مذمت ہے
اگر حمزہ بٹ کے خلاف کوئی مقدمہ یا الزام ہے تو اسے عدالت اور قانون کے سامنے پیش کیا جائے۔ شواہد کی بنیاد پر فیصلہ ہونا چاہیے، نہ کہ سیاسی وابستگیوں ذاتی اختلافات یا بااثر عناصر کے دباؤ پر آج کا دور ایسا ہے کہ کسی بھی کارروائی کی حقیقت بالآخر عوام کے سامنے آ جاتی ہے۔
اسی طرح سیاسی مخالفین اور اندرونی اختلاف رکھنے والے عناصر کو بھی یہ بات سمجھنی چاہیے کہ سیاست میں اختلاف اپنی جگہ لیکن کسی کے خاندان کو نشانہ بنانا اداروں کو استعمال کرنے کی کوشش کرنا یا الزامات کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کرنا کسی کے مفاد میں نہیں ہم کسی غیر قانونی اقدام کا دفاع نہیں کرتے، لیکن بے گناہی یا جرم کا فیصلہ عدالت نے کرنا ہے، سیاسی مخالفین نے نہیں اگر حمزہ بٹ بے قصور ہیں تو انہیں قانونی تحفظ اور انصاف ملنا چاہیے، اور اگر کوئی الزام ثابت ہوتا ہے تو قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔
اختلافِ رائے کو دشمنی اور سیاست کو ذاتی انتقام میں تبدیل کرنے کے بجائے معاملات کو باہمی طور پر سلجھانا ہی سیاسی بلوغت ہے کیونکہ اگر الزامات، مقدمات اور کردارکشی کی سیاست کو معمول بنا دیا جائے تو کل یہی طریقہ ُان عناصر کے خلاف بھی استعمال ہو سکتا ہےبہتر یہی ہے کہ معاملات کو قانون دلیل اور شواہد تک محدود رکھا جائے کہ دوسروں کے خلاف محاذ آرائی اور ایسے اوچھے ہتھکنڈوں سے گریز کیا جائے
اپنے طرزِ عمل پر نظرِ ثانی کریں سینیٹر ناصر بٹ سے بھی کھلے دل سے معافی مانگے ناصر بٹ کے بارے میں جو لوگ انہیں جانتے ہیں، وہ ان کے اعلیٰ ظرف اور درگزر کے جذبے سے واقف ہیں میرا یقین ہے کہ وہ ذاتی رنجش کو دل میں رکھنے کے بجائے وسیع القلبی کا مظاہرہ کریں گے
یا د رکھے دوسروں کے لیے گڑھا کھودنے سے پہلے یہ ضرور دیکھ لینا چاہیے کہ کہیں وہ گڑھا خود اپنے سیاسی مستقبل کے لیے تو نہیں کھودا جا رہا ہے

