اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) سیاست مکالمے کا نام ہے، انتشار کا نہیں
Share
اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) اختلافِ رائے جمہوریت کا بنیادی حق ہے مگر سیاسی اختلاف کو تشدد، تصادم اور قومی انتشار میں تبدیل کرنا معاشرے کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتا ہے پاکستان کو آج محاذ آرائی کے بجائے برداشت مکالمے، آئین کی پاسداری اور قومی یکجہتی کی ضرورت ہے اپریل 2022 میں تحریک انصاف حکومت کی اقتدار سے رخصتی کے بعد ارض پاک کے خلاف ففتھ جنریشن وار مسلط کردی گئی ہے جسے ہائبرڈ وارفیئر بھی کہا جاتا ہے اس جنگ میں کسی قسم کا ہتھیار استعمال کئے بغیر سوشل میڈیا اسٹریم میڈیا اور دیگر ٹولز کے ذریعے کسی بھی ملک کے تمام سٹیک ہولڈرز کو ایک دوسرے کے خلاف کرکے ملک میں انتشار’ افراتفری انارکی اور عدم استحکام پیدا کردیا جاتا ہے اس وقت ہائبرڈ وار فیئر کے ذریعے بھرپور کوشش کی جارہی ہے کہ پاکستان میں کبھی استحکام پیدا نہ ہوسکے تحریک انصاف نے جس خطرناک راستے کا انتخاب کر رکھا ہے اس کے نتیجے میں سیاسی محاذ آرائی میں کمی کے بجائے اضافہ ہوتا جارہا ہے پی ٹی آئی بھر پور سازشوں کے باوجود ملک کو معاشی اور سفارتی محاذ پر حاصل ہونے والی کامیابیاں ہضم نہیں کر پا رہی اور وہ انتہائی اقدام کرتے ہوئے ایک بار پھر بھر پور احتجاج پر اتر آئی ہے ایک ایسا صوبہ جسے امن وامان کے شدید خطرات کا سامنا ہے اس کی حکومتی مشینری سارے کام چھوڑ کر ملک کو انتشار افراتفری لاقانونیت اور مزید عدم استحکام کا شکار بنانے اور وفاق پر حملہ آور ہونے کے لئے وقف ہو چکی ہے وزیر اعلی خیبر پختونخواہ آئین پاکستان اور اپنے حلف کی پاسداری کرنے کے بجائے ایک مجرم کے اشاروں پر پورے لاؤ لشکر کے ساتھ اسلام آباد پر حملہ آور ہونے کی دھمکیاں دے رہے ہیں سیاسی رہنمائوں بالخصوص وزیر اعلی خیبر پختونخواہ کی اشتعال انگیزی اپنی مثال آپ ہے اور اس کے عوامی ذہنوں پر بڑے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں عوام کو علاقائی صوبائی نسلی اور لسانی بنیادو ںپر تقسیم کیا جارہا ہے سیاست دانوں کے بیانات تو کسی وقت بھی بدل سکتے ہیں مگر عوام کے ذہنوں میں انڈیلی جانے والی نفرت دیریا ہوگی وطن عزیز میں عوام کی ذہنی پریشانیوں کے اسباب پہلے ہی کم نہیں اوپر سے آئے روز کے احتجاجی جلسوں اور ان سے حاصل ہونے والی اذیت ایک نیا ذہنی صدمہ بنتی جارہی ہے جمہوری نظام کی سب سے بڑی خوبی صبر وتحمل اور برداشت ہے آئین پاکستان جہاں اپنے نکتہ نظر کی وضاحت’ مطالبات حقوق کے حصول کے لئے پر امن مظاہروں جلسوں اظہار رائے کی مکمل آزادی دیتا ہے وہاں تشدد بد امنی افراتفری پھیلانے اور قانون شکنی کرنے سے روکتا ہے آئین میں آزادی اظہار رائے اور مفادِ امن عامہ دونوں پہلوؤں کے حوالے سے قوانین، روایات اور آداب موجود ہیں جنہیں ملحوظ خاطر رکھا جانا چاہئے تحریک انصاف نے ایک بار پھر بھائی کو بھائی سے لڑانے ملک وقوم کو نئے امتحان اور بحرانوں سے دوچار کرنے اور بزور طاقت اپنے مطالبات منوانے کے27 ستمبر کو اسلام آباد پر یلغار کی جو جارہانہ حکمت عملی اختیار کر رکھی ہے اس میں خیر کا کوئی پہلو نہیں تحریک انصاف کے 2022 کے احتجاج میں سرکاری مشینری استعمال کی گئی انتظامیہ کی رکاوٹیں کرین کے ذریعے ہٹائی گئیں، ڈی چوک میں آگ لگا کر املاک کو نقصان پہنچایا گیا اور پولیس اہلکار کمال کو شہید کیا گیا 2024 میں بھی یہی صورتحال پیدا ہوئی اسلام آباد میں توڑ پھوڑ کی گئی، رینجرز اہلکاروں کو گاڑی کے نیچے کچلنے کی کوشش کی گئی جبکہ ایف نائن پارک کے سامنے گاڑیوں کو آگ لگائی گئی ماضی کے دونوں مارچوں کے تجربے کو مدنظر رکھتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا یہ دعوی کرنا کہ انصاف مارچ پرامن ہو گا اللہ نہ کرے مارچ کے دوران کوئی گولی چلے عدالت سیاسی معاملات میں مداخلت نہ کرے ، سیاسی مسائل کا سیاسی حل نکالا جائے 70 فیصد عوام عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے بانی پی ٹی آئی کے ساتھ دہشت گردوں جیسا سلوک جمہوری سوچ نہیں ہم نے ہمیشہ پر امن رہنے کی یقین دہانی کرائی ہے اب بھی کہتے ہیں کہ انصاف مارچ پرامن ہوگا حقیقت بر مبنی نہیں احتجاج کے حق سے انکار نہیں مگر اس کا کوئی جواز بھی ہونا چاہیے سیاسی جماعتوں کی جانب سے اپنے معمولی سے سیاسی مفاد کے لئے کارکنوں کے ذہنوں کو پراگندہ کر کے ہر چند ماہ بعد وفاقی دارلحکومت پر چڑھائی کرنا احتجاج کی کونسی قسم ہے اور ریاست پاکستان کا کونسا قانون اس قسم کے احتجاج کی اجازت دیتا ہے سیاسی مطالبات کو منوانے کے لئے دبائو ڈالنا یا عوامی طاقت کا مظاہرہ کرکے اپنے مذموم مقاصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانا احتجاج کے حق کا ناجائز استعمال ہے دنیا کا کوئی بھی ملک یا معاشرہ اس قسم کے احتجاج کی اجازت نہیں دیتا سابق وزیر اعظم اور ان کی جماعت مکافات عمل کا شکار ہے اپنے پونے چار سال کے دور اقتدار کے دوران انہوں نے جو فصل بوئی تھی اسے کاٹتے ہوئے ان کے ہاتھ و پاؤں شل اور اعصاب جواب دے رہے ہیں مگر اس کے باوجود وہ سوشل میڈیا کی طلسماتی دنیا سے باہر نکل کر حقیقت کا ادراک کرنے اور زمینی حقائق کے مطابق سیاسی فیصلے کرنے کی بصیرت سے محروم نظر آتی ہے جس کے باعث وہ دن بدن مشکلات اور مسائل کا شکار ہوتی جارہی ہے اللہ تبارک تعالی کی یہ شان ہے کہ وہ اپنے بندے کو اقتدار مال ودولت عزت وشہرت سے کر بھی آزماتا ہے اور اس سے یہ سب کچھ چھین کر بھی آزماتا ہے پاکستان میں ایسی بہت سی شخصیات موجود ہیں جنہیں اللہ تبارک تعالی نے عزت’ دولت شہرت حتی کہ اقتدار تک بخشا تو ان کی گردن میں تکبر کا سریا آگیا اور اللہ تعالی نے جب اقتدار سے محروم کردیا تو اللہ تعالی سے اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کی معافی طلب کرنے کے بجائے میں نہیں مانتا کہ گردان شروع کر دی ایوب خان سے لے کر عمران خان تک سب حکمرانوں کی مثال قوم کے سامنے ہے کہتے ہیں جب آپ دوسروں کے گھر میں لگنے والی آگ کا مذاق اڑاؤ گے تو وہی آگ جب آپ کے گھر پہنچے گی تو پھر اس پر آنسو نہیں بہائے جاتے آج یہی بانی پی ٹی آئی اور ان کی جماعت کے ساتھ ہورہا ہے انہوں نے جو کچھ بویا وہی کاٹ رہے ہیں تحریک انصاف کا 27 ستمبر کو انصاف مارچ ملک میں فتنہ و فساد پھیلانے کی مذموم منصوبہ بندی کا حصہ ہے اور وزیر اعلی کے پی کے اس میں مہرے کا کردار ادا کر رہے ہیں تحریک انصاف یہ ثابت کرنا چاہتی ہے کہ وہ صوبائی حکو مت کی مدد سے وفاقی حکومت پر چڑھائی کا حق رکھتی ہے؟ کیا صوبائی حکومت وفاق کے محاصرے اور چڑھائی پر سہولت کاری کا کردار ادا کرسکتی ہیں جیسا کہ نظر آرہا ہے؟ کیا صوبائی حکومت اور تحریک انصاف کی قیادت کا یہ طرز عمل پاکستان کا مثبت چہرہ دنیا کے سامنے رکھے گا خیبر پختونخواہ حکومت کو اپنا طرز عمل کو درست کرنے کی ضرورت ہے وزیر اعلی کے پی کے وفاقی حکومت کو اتنا کمزور نہ سمجھیں اگر اس نے اپنے اداروں کو استعمال کرنا شروع کردیا تو صوبائی حکومت کے لئے اپنی رٹ بر قرار رکھنا مشکل ہوجائے گا سیاست مکالمے اور لچک کا دوسرا نام ہے ملک کو اس وقت مختلف بحرانوں’ مسائل ومشکلات اور غیر معمولی حالات کا سامنا ان حالات کا مقابلہ غیر معمولی عمل اور قومی آہنگی سے ہی کیا جاسکتا ہے بلا شبہ پی ٹی آئی کی اپنی مقبولیت او رحلقہ اثر ہے وہ اپنے اس حلقہ اثر اور مقبولیت کو قومی گلدستے کی رنگا رنگی کو پارہ پارہ کرنے کے لئے استعمال کرنے کی بجائے مثبت سرگرمیوں اور ملک وقوم کی ترقی وحدت اور یکجہتی کو مزید بڑھانے کے لئے استعمال کرے’جمہوریت حوصلہ برداشت اور عوام کی رائے عامہ کے احترام کا نام ہے، تحریک انصاف کی قیادت عدم برداشت او رمیں نہ مانوں کے روئیے کو ترک’سیاست اور انتشار میں فرق کو ملحوظ خاطر رکھے سیاسی طور پر آگے بڑھنے کا یہی بہترین آپشن ہے**

