اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) ممکنہ احتجاج کے پیشِ نظرعوام کو شدید مشکلات
Share
اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) ممکنہ احتجاجی مظاہروں اور لانگ مارچ کے اعلانات کے باعث جڑواں شہروں کے عوام کو شدید سفری مشکلات اور ذہنی
کو فت کاسامنا ہے۔
حکومت کی رٹ نظر آنی چاہیےاورشہروں کو لاک ڈاؤن کرنے اور شاہراہوں کو بلاک کرنے پر سخت قانونی پابندیاں عائد کرنا ہی اس دیرینہ مسئلے کا واحد مستقل حل نظر آتا ہے۔
حکومت کی رٹ (Writ of the State) قائم ہونا اور قانون کی حکمرانی نظر آنا کسی بھی منظم معاشرے کے لیے سب سے بنیادی ضرورت ہے۔ جب ریاست اپنی رٹ کھو دیتی ہے، تو پورا نظامِ زندگی مفلوج ہو جاتا ہے اور عوام کا تحفظ خطرے میں پڑ جاتا ہے۔تاہم، موجودہ جمہوری اور قانونی نظام میں “سخت کارروائی” اور “رٹ قائم کرنے” کے لیے درج ذیل اصولوں کو مدنظر رکھنا بے حد ضروری ہے
حکومتی رٹ کے بنیادی تقاضےبلاتفریق کارروائی: حکومت کی رٹ تب ہی مضبوط مانی جاتی ہے جب قانون کا نفاذ سب پر برابر ہو۔ اگر سخت کارروائی صرف ایک مخصوص گروہ یا سیاسی حریفوں کے خلاف ہو اور دوسرے گروہ کو کھلی چھٹی دی جائے، تو اسے رٹ نہیں بلکہ سیاسی انتقام کہا جاتا ہے۔
آئینی حدود میں طاقت کا استعمال: ریاست کو امن و امان قائم کرنے اور راستے کھلوانے کے لیے طاقت کے استعمال کا پورا حق حاصل ہے، لیکن یہ کارروائی قانون اور انسانی حقوق کے دائرے کے اندر ہونی چاہیے۔ اندھا دھند لاٹھی چارج، آنسو گیس کا بے دریغ استعمال یا پرامن شہریوں کی گرفتاریاں الٹا عوامی غصے کو بڑھاتی ہیں۔
انتظامیہ کی اپنی رٹ: حکومت کی رٹ کا مطلب یہ بھی ہے کہ وہ شہریوں کو تحفظ فراہم کرے۔ جب انتظامیہ خود پورے شہر کو کنٹینرز لگا کر بلاک کر دیتی ہے، تو وہ لاشعوری طور پر خود اپنی رٹ کی کمزوری کا اعتراف کر رہی ہوتی ہے۔ اصل رٹ یہ ہے کہ راستے کھلے رکھے جائیں اور قانون توڑنے والوں سے سڑکوں پر نمٹنے کے بجائے انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
موجودہ حالات میں، اعلیٰ عدالتوں نے بھی حکومت کو یہی واضح گائیڈ لائنز دی ہیں جو بھی عناصر احتجاج کی آڑ میں جلاؤ گھیراؤ کریں، املاک کو نقصان پہنچائیں یا زبردستی کاروبار بند کروائیں، ان کے خلاف دہشت گردی اور نقصِ امن کے قوانین کے تحت سخت ترین کارروائی ہونی چاہیے۔
حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ مظاہرین کو مخصوص جگہ پبلک آرڈر ایکٹ 2024 کے تحت محدود رکھے اور شہر کی مرکزی شاہراہوں کو ہر صورت کھلا رکھے۔جب تک حکومت سیاسی مصلحتوں کو چھوڑ کر قانون شکنوں کے خلاف سخت اور غیر جانبدارانہ قانونی کارروائی نہیں کرے گی، تب تک نہ تو ریاست کی رٹ قائم ہو سکے گی اور نہ ہی عام شہریوں کو اس روز روز کے عذاب سے نجات ملے گی۔
انتظامیہ کی جانب سے سیکیورٹی کے نام پر سڑکوں کو بند کرنے کے روایتی طریقوں نے شہریوں کی روزمرہ زندگی کو مفلوج کر دیا ہے۔
عوام کو درپیش اہم ترین مشکلات اور زمینی صورتحال درج ذیل ہے
کنٹینرز کی بھرمار اور راستوں کی بندش
ریڈ زون اور ڈی چوک سیل: اسلام آباد کے ڈی چوک اور ایمبیسی روڈ کو مکمل طور پر سیل کرنے کے لیے سینکڑوں کنٹینرز پہنچا دیے گئے )داخلی و خارجی راستے بلاک: فیض آباد، ترنول، سنگجانی اور موٹروے (M-1) سمیت راولپنڈی اور اسلام آباد کو ملانے والے تمام بڑے راستوں پر کنٹینرز کھڑے کر کے پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔
متبادل راستوں کا فقدان: مری روڈ اور ایکسپریس وے کی بندش کی وجہ سے لنک روڈز پر بدترین ٹریفک جام ہے، جس سے راجہ بازار، صدر اور ملحقہ علاقوں کے رہائشی گلیوں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں,
پبلک ٹرانسپورٹ کی معطلی;جڑواں شہروں کے درمیان چلنے والی میٹرو بس سروس اور شہر کے اندر چلنے والی گرین الیکٹرک بس سروس کو سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر جزوی یا مکمل طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔
نجی ٹرانسپورٹ کے من مانے کرائے: پبلک بسیں نہ ہونے کی وجہ سے سوزوکی، ویگنوں اور آن لائن بائیک سروسز نے کرائے دگنے تگنے کر دیے ہیں، جس سے دیہاڑی دار طبقہ اور غریب شہری شدید مالی بوجھ تلے آ گئے ہیں,
تعلیمی اور کاروباری سرگرمیوں کی بندش: راستوں کی بندش اور غیریقینی صورتحال کے باعث جڑواں شہروں میں نجی اسکولوں کو عارضی طور پر بند کرنا پڑا ہے۔
کاروبار کی تباہی: گڈز ٹرانسپورٹرز کے مطابق سڑکیں بلاک کرنے کے لیے زبردستی کنٹینرز قبضے میں لینے سے اربوں روپے کا تجارتی سامان خراب ہو رہا ہے اور کاروباری مراکز سنسان پڑے ہیں,
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں مسئلہ نئے قوانین کی کمی کا نہیں، بلکہ موجودہ قوانین پر سیاسی وابستگیوں سے بالا تر ہو کر “بلاتفریق اور سخت عملدستی” کا ہے۔پارلیمنٹ نے حال ہی میں وفاقی دارالحکومت کے لیے ایک خصوصی قانون
Peaceful Assembly and Public Order Act 2024 پاس کیا ہے۔ اس قانون کا بنیادی مقصد ہی یہی ہے کہ احتجاج کو شہر مفلوج کرنے کے بجائے مخصوص مقامات (جیسے سنگجانی) تک محدود رکھا جائے۔ لیکن اس کے باوجود زمینی صورتحال تبدیل نہیں ہوئی,
جب کوئی سیاسی جماعت حکومت میں ہوتی ہے، تو وہ احتجاج روکنے کے لیے پورے شہر میں خود کنٹینرز لگا کر راستے بلاک کر دیتی ہے۔جب وہی جماعت اپوزیشن میں آتی ہے، تو وہ احتجاج کے نام پر شاہراہیں بلاک کرنے کو اپنا آئینی حق قرار دیتی ہے۔
انتظامیہ اور پولیس قانون کے مطابق ایک آزاد ادارے کے طور پر کام کرنے کے بجائے سیاسی حکومتوں کے احکامات کے تحت کام کرتی ہے، جس سے قانون بے اثر ہو جاتا ہے
اسلام آباد ہائی کورٹ نے حالیہ کیسز میں واضح کیا ہے کہ کسی بھی جماعت یا عوامی عہدے دار کو سڑکیں بلاک کرنے کا کوئی حق نہیں عدالت نے انتظامیہ کو حکم دیا کہ احتجاج کے دوران شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔
ادارے آزاد نہ ہونے کی وجہ سے نظام کو درج ذیل تین بڑے نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے
“سیاسی ہتھیار” کے طور پر استعمال ;
جب پولیس آزاد نہیں ہوتی، تو اسے اپوزیشن کو کچلنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے افسران خود سڑکیں بلاک کرنے، کنٹینرز لگانے اور انٹرنیٹ معطل کرنے جیسے عوامی دشمن اقدامات کرنے پر مجبور ہوتے ہیں کیونکہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں انہیں فوری طور پر تبدیل یا معطل کر دیا جاتا ہے۔
میرٹ اور تحفظِ ملازمت کا فقدان;
بیوروکریسی اور پولیس میں اچھے اور ایماندار افسران کی کمی نہیں ہے، لیکن مسئلہ تحفظِ ملازمت کا ہے۔ اگر کوئی آئی جی یا ڈپٹی کمشنر قانون کے مطابق مظاہرین کو پرامن احتجاج کے لیے مخصوص جگہ دینے اور شہر کو کھلا رکھنے کا فیصلہ کرے، تو سیاسی مالکان اسے اپنی “کمزوری” سمجھ کر عہدے سے ہٹا دیتے ہیں۔ جب تک افسران کا تبادلہ سیاسی اثر و رسوخ کے بجائے ایک آزاد بورڈ کے تحت نہیں ہوگا، وہ کھل کر قانون کا نفاذ نہیں کر سکیں گے۔۔ملکی بیوروکریسی اور پولیس کو سیاسی دباؤ سے مکمل آزاد کیے بغیر قوانین پر شفاف اور غیر جانبدارانہ عمل درآمد بالکل ناممکن ہے۔
جب تک قانون نافذ کرنے والے ادارے سیاسی حکومتوں کے تابع رہیں گے، وہ عوامی تحفظ کے بجائے حکمران وقت کے سیاسی مفادات کے تحفظ کے لیے کام کرتے رہیں گے۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں جب بھی احتجاج کی کال آتی ہے، تو پولیس اور بیوروکریسی قانون کی کتاب دیکھنے کے بجائے حکومتِ وقت کے سیاسی اشاروں پر چلتی ہے، جس کا نقصان عام عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے ممکنہ احتجاج کے اعلان کے پیشِ نظر حکام نے راولپنڈی میں میٹرو بس اور گرین لائن بس سروسز کو عارضی طور پر معطل کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ امن و امان برقرار رکھنے اور عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے احتیاطی تدبیر کے طور پر کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق، دن کے آغاز میں ہی بسوں کی آمدورفت روک دی گئی جس سے روزانہ سفر کرنے والے ہزاروں افراد متاثر ہوئے۔ شہر کے اہم علاقوں کو ملانے والے بڑے راستے بند رہے، جبکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی روک تھام کے لیے حساس مقامات پر اضافی پولیس نفری تعینات کی گئی۔
ٹریفک پولیس نے شہریوں کو متبادل راستے اختیار کرنے اور اسی کے مطابق اپنے سفر کا منصوبہ بنانے کا مشورہ دیا ہے۔ شہر بھر میں، بالخصوص اہم چوراہوں اور عوامی اجتماعات کے مقامات کے قریب سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے
حکام کا کہنا ہے کہ یہ معطلی عارضی ہے اور صورتحال معمول پر آتے ہی سروسز بحال کر دی جائیں گی۔ دریں اثنا، مسافروں نے اچانک پیدا ہونے والی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکام سے بروقت معلومات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے
جب تک قانون کے ذریعے حدود کا تعین نہیں ہوگا، تب تک سیاسی طاقت کا مظاہرہ معصوم شہریوں کی زندگیوں پر بھاری پڑتا رہے گا۔ موجودہ صورتحال پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی وزارتِ داخلہ کو احکامات جاری کیے ہیں کہ احتجاج کے حق اور عوامی تحفظ کے درمیان توازن برقرار رکھا جائے تاکہ پورا شہر مفلوج نہ ہو اور شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر نہ ہوں۔
عالمی جمہوری ممالک اور اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کی روشنی میں اس پابندی کو درج ذیل طریقوں سے لاگو کیا جا سکتا ہے:
مخصوص مقامات کا قانون (Red Zone Protection): عدالتوں کے احکامات کے مطابق، احتجاج کے لیے شہر کے کاروباری مراکز اور اہم شاہراہوں کے بجائے ایک مخصوص جگہ (جیسے پریڈ گراؤنڈ یا پارک) قانوناً لازمی قرار دی جائے۔
نقصان کا ازالہ : اگر کوئی جماعت قانون ہاتھ میں لے کر سرکاری یا نجی املاک کو نقصان پہنچاتی ہے یا کاروبار بند کرواتی ہے، تو اس کا جرمانہ اور مالی نقصان اسی سیاسی جماعت سے وصول کیا جائے۔
انتظامیہ کے اختیارات پر نظرِ ثانی: قانون صرف سیاسی جماعتوں پر ہی نہیں، بلکہ ضلعی انتظامیہ پر بھی لاگو ہونا چاہیے تاکہ وہ بھی احتجاج روکنے کے بہانے پورے شہر میں کنٹینرز لگا کر راستے بلاک کرنے کی روش ترک کریں۔
جب تک ریاست قانون کی بالادستی قائم کر کے عام شہری کے حقِ زندگی اور حقِ روزگار کو ہر چیز پر مقدم نہیں رکھے گی، یہ دائرہ اسی طرح چلتا رہے گا۔
پاکستان کا آئین کسی ایک شہری یا گروہ کے حق کو دوسرے شہری کے حق پر ترجیح نہیں دیتا، بلکہ یہ دونوں حقوق کا ایک ساتھ تحفظ کرتا ہے۔
یہی وہ آئینی اور اخلاقی توازن ہے جہاں ریاست، عدلیہ اور سیاسی جماعتیں اکثر ناکام نظر آتی ہیں۔
اہم ترین نقطہ یہ ہے جب بھی احتجاج اور راستوں کی بندش ہوتی ہے، تو آئین کے دو بنیادی اصولوں کے درمیان ایک شدید تصادم جنم لیتا ہے: ایک طرف پرامن احتجاج کا حق (Right to Protest) ہے اور دوسری طرف عام شہریوں کے بنیادی حقوق (Fundamental Rights) جیسے کہ نقل و حرکت کی آزادی، روزگار اور تعلیم کا حق ہے
آئینِ پاکستان کے تحت اس تصادم کی قانونی اور سماجی صورتحال کچھ یوں ہے:
آئین کے تحت حقوق کی حدود
(Reasonable Restrictions)پاکستان کا آئین بنیادی حقوق تو دیتا ہے، لیکن ان کے ساتھ کچھ منطقی پابندیاں (Reasonable Restrictions) بھی عائد کرتا ہے:
آرٹیکل 16 (پرامن اجتماع کا حق): ہر شہری کو پرامن طریقے سے جمع ہونے اور احتجاج کرنے کا حق حاصل ہے، لیکن یہ حق عوامی امن و امان (Public Order) اور قانون کے دائرے کے تابع ہے۔ یعنی احتجاج کا حق تب تک قائم رہتا ہے جب تک وہ دوسروں کی زندگیوں میں خلل نہ ڈالے۔
آرٹیکل 15 (نقل و حرکت کی آزادی): ہر شہری کو پورے ملک میں آزادانہ سفر کرنے کا حق ہے۔ جب راستے بند کیے جاتے ہیں، تو احتجاج کرنے والے (یا کنٹینرز لگانے والی انتظامیہ) براہِ راست لاکھوں شہریوں کے اس آئینی حق پر ڈاکا ڈالتے ہیں۔ عوامی ردعمل اور سماجی المیہ ;
جب یہ توازن بگڑتا ہے تو پورا معاشرہ اس کی قیمت چکاتا ہے:
بیماروں اور بزرگوں کی بے بسی:
ٹریفک بلاک ہونے کی وجہ سے ایمبولینسوں کا پھنس جانا اور بروقت علاج نہ ملنے سے اموات ہونا ایک ایسا سنگین جرم ہے جس کا کوئی سیاسی جواز نہیں ہو سکتا۔
معاشی قتل: دیہاڑی دار مزدور، ریڑھی بان اور چھوٹے تاجر، جن کا چولہا روز کی کمائی سے جلتا ہے، شہر بند ہونے سے فاقہ کشی پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس نے بارہا اپنے فیصلوں میں واضح کیا ہے کہ احتجاج کے لیے شہر کے اندر ایک مخصوص جگہ (جیسے پارک یا پریڈ گراؤنڈ) مختص ہونی چاہیے، جہاں سیاسی جماعتیں اپنا ریکارڈ کروائیں لیکن عام شہریوں کی زندگی، اسکول، اور کاروبار معطل نہ ہوں۔ جب تک اس قانون پر سختی سے عمل نہیں ہوگا، معصوم شہری اسی طرح سیاسی کھینچا تانی کی قربانی بنتے رہیں گے۔

