اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) وزیر ریلوے کی بونگیاں اور ریلوے کی بوگیاں
Share
اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) وزیر ریلوے کی بونگیاں اور ریلوے کی بوگیاں
پاکستان ریلوےکسی کی ذاتی جاگیر نہیں ہے یہ پاکستان کے عوام کا قومی اثاثہ ہے اس کی پٹریاں، اسٹیشن، ورکشاپس، انجن، کوچز اور وسیع رقبے پر پھیلی ہوئی زمینیں ریاست کی ملکیت اور عوام کی امانت ہیں۔
لیکن افسوس کہ آج پاکستان ریلوے کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے یہ ایک قومی ادارہ کم اور انتظامی بے حسی، سیاسی مداخلت، ناقص منصوبہ بندی اور ٹھیکہ داری کے تجربات کی تجربہ گاہ زیادہ بن چکا ہے۔
حنیف عباسی صاحب اب دعووں کا نہیں، حساب کا وقت ہے وزیر موصوف سے عوام کا سوال بالکل واضح آپ کو پاکستان ریلوے کا قلمدان دیا گیا ہے تواب اپنی مدتِ وزارت کی مکمل کارکردگی رپورٹ عوام کے سامنے پیش کریں۔
دوسری طرف آپ اپنے حلقے میں پانی، نکاسیٔ آب اور بنیادی عوامی مسائل کے حوالے سے بھی آپ کے کارکردگی کے دعوے عوام کی توقعات پر پورے اترتے دکھائی نہیں دیتے۔ جن لوگوں نے ووٹ دے کر امیدیں باندھی تھیں، وہ آج سوال کر رہے ہیں کہ وہ وعدے کہاں گئے اور عملی کام کہاں ہے؟ یہی نہیں پارٹی کے اپنے کارکنوں میں بھی اس طرزِ کارکردگی پر بے چینی اورشدید ناراضی کی آوازیں سنائی دیتی ہیں
آپ نے کتنی ریلوے زمین واگزار ہوئی کتنے قبضے ختم ہوئے
کتنے ٹھیکے cancel کیے گئے کتنے نئے ٹھیکے دیے گئے
کس competitive process کے تحت دیے گئے ریلوے کے commercial assets سے کتنی آمدن ہوئی کتنی زمین lease ہوئی اور کس rate پراور کسے ہوئی انجنوں اور کوچز پر کتنا خرچ ہوا اور نتیجہ کیا نکلا ٹرینوں کی punctuality کتنی بہتر ہوئی
حادثات کتنے کم ہوئےمسافر سہولت میں حقیقی بہتری آئی کیا اگر یہ سب اعداد و شمار موجود ہیں تو انہیں چھپانے کی بجائے عوام کے سامنے رکھنے میں کیا رکاوٹ ہے
کیونکہ عوام اب صرف یہ سننے کے لیے تیار نہیں کے
ہم بہت کچھ کر رہے ہیں
کیا کیا ہے کتنے میں کیا ہے؟ کس کے ذریعے کیا ہے اور عوام کو کیا ملا ہے یہی اصل احتساب ہے
پاکستان ریلوے کو سیاسی تجربہ گاہ نہیں جو ریلوے کو ریلوے کی طرح چلانا جانتے ہوں، محض وزارت چلانا نہیں اور اگر کسی وزیر، افسر، ٹھیکیدار یا بااثر شخص کے مفادات قومی ادارے کے مفاد سے ٹکراتے ہیں تو فیصلہ بالکل واضح ہونا چاہیے
ادارہ رہے گا، عوام کا پیسہ رہے گا شخص نہیں
پاکستان ریلوے کی پٹریاں آج بھی موجود ہیں
انجن بھی موجود ہیں۔
زمین بھی موجود ہےاسٹیشن بھی موجود ہیں مسافر بھی موجود ہیں صرف ایک چیز کی شدید کمی محسوس ہوتی ہے
ایسی مضبوط، شفاف اور بے رحم احتسابی انتظامیہ کی،جو یہ طے کرے کہ ریلوے عوام کے لیے ہے
حنیف عباسی صاحب جب وزارتِ ریلوے میں آئے تو بڑے بڑے دعوے کیے گئے۔
حنیف عباسی صاحب کو ریلوے کی وزارت دی گئی تھی ریلوے چلانے کے لیے، یا صرف وزارت چلانے کے لیے وزارت صرف کرسی کا نام نہیں، کارکردگی کا امتحان بھی ہے اگر وزیرِ موصوف کے پاس ان سوالات کے تسلی بخش جواب موجود نہیں تو پھر پارٹی قیادت کو بھی سوچنا ہوگا کہ کیا محض سیاسی وابستگی اور عہدہ کسی ناکام کارکردگی کا متبادل نہیں بن سکتے ہیں
اب وزیر موصوف سے ایک سیدھا سا سوال بنتا ہے
جناب آپ کو ایک قلمدان سونپا گیا تھا، پریس کانفرنس کا مائیک نہیں تھا عوام کو تقریروں نہیں اعداد و شمار اور عملی نتائج چاہئیں آپ نے وزارت سنبھالنے کے بعد
کتنے انجن مکمل طور پر operational کیے کتنی نئی یا refurbished کوچز میدان میں اتاریں کتنی ٹرینوں کی punctuality بہتر ہوئی کتنے اسٹیشنوں کی حالت واقعی تبدیل ہوئی مسافروں کی شکایات میں کتنی کمی آئی
حادثات میں کتنا فرق پڑا ریلوے کی آمدن میں اضافہ ہوا تو operating cost اور net financial position کیاہے
کتنی زمین واگزار کرائی کتنی زمین lease یا license کی کتنے ٹھیکے دیے کس کو دیے کس قیمت پر دیےعوام کو اس کا فائدہ کہاں ملا
کیونکہ صرف یہ کہنا کہ ریلوے نے ریکارڈ آمدن حاصل کی، کافی نہیں۔ 2025-26 میں ریلوے کی سالانہ آمدن تقریباً 115.157 ارب روپے رپورٹ ہوئی، لیکن اسی رپورٹ میں یہ بھی واضح تھا کہ ادارہ اب بھی خسارے میں تھا لہٰذا عوام کو مکمل حساب چاہیے
اب وقت آ گیا ہے کہ ریلوے کی پٹریوں پر صرف ٹرینیں نہ چلیں قانون بھی چلےاحتساب بھی چلے اور شفافیت بھی چلے
ورنہ خدشہ یہ ہے کہ ایک دن ریلوے کی پٹریاں تو باقی رہ جائیں گی، مگر عوام کے اعتماد کی آخری بوگی بھی اسٹیشن سے روانہ ہو چکی ہوگی۔
عوام کو ریلوے چاہیے، ریلوے کی پریس ریلیز نہیں
پاکستان کے عام آدمی کو یہ نہیں ریلوے ترقی کر رہی ہےعوام خود فیصلہ کرے گا کہ ترقی ہوئی یا نہیں
جب ٹرین وقت پر پہنچے گی، تب ترقی ہوگی
جب انجن راستے میں جواب نہیں دے گا، تب ترقی ہوگی
جب اسٹیشن پر بنیادی سہولت ملے گی، تب ترقی ہوگی
جب حادثات کم ہوں گے، تب ترقی ہوگی
اور جب ریلوے کی ایک ایک زمین، ایک ایک ٹھیکہ اور ایک ایک روپے کا حساب دستیاب ہوگا، تب شفافیت ہوگی پاکستان ریلوے کے اسٹیشن، زمینیں، ٹھیکے، انجن، کوچز اور اربوں روپے کے معاملات مسلسل سوالات کی زد میں ہیں۔ کرپشن اور بے ضابطگیوں کے الزامات پر سوال اٹھ رہے ہیں عوام آج بھی پوچھ رہے ہیں
وزیرِ موصوف سے سیدھا سا مطالبہ ہے کےاگزشتہ تین برس کے تمام پارکنگ، اسٹالز، دکانوں اور کمرشل ٹھیکوں کی مکمل فہرست، ٹینڈر کا طریقۂ کار، بولیوں کی تفصیلات، منظور شدہ قیمتیں اور ریلوے کو حاصل ہونے والی آمدن عوام کے سامنے رکھی جائے۔ شفافیت ہوگی تو سوال ختم ہوں گے، ورنہ سوالات اور نتائج مزید سنگین ہوتے جائیں گے

