LOADING

Type to search

Karachi National

کراچی (ڈیجیٹل پوسٹ) ماربل صنعت شدید بحران کا شکار، بیروزگاری میں اضافے کا خدشہ؛ متعلقہ عہدیداران کا ملک بھر میں ماربل اور اسٹون انڈسٹری کو درپیش مسائل پر گہری تشویش کا اظہار

Share

کراچی (ڈیجیٹل پوسٹ) کراچی پاکستان کی ماربل اور اسٹون انڈسٹری شدید کاروباری بحران کا شکار ہو گئی ہے۔ بھاری ٹیکسز، مہنگی بجلی، خام مال کی بڑھتی قیمتوں اور مسلسل کاروباری سست روی کے باعث صنعت کاروں اور تاجروں کے لیے کاروبار جاری رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔ آل پاکستان ماربل انڈسٹری ایسوسی ایشن نے حکومت سے فوری ریلیف پیکیج اور صنعت کی بحالی کے لیے عملی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے چیئرمین آل پاکستان ماربل انڈسٹری ایسوسی ایشن محمد بلال خان، زونل وائس چیئرمین سندھ بلوچستان راحت شاہ، سابق زونل وائس چیئرمین جمشید خان امازئی، ممبر منرل کمیٹی ایف پی سی سی آئی اسد اللہ خان اور دیگر عہدیداران نے ملک بھر میں ماربل اور اسٹون انڈسٹری کو درپیش مسائل پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہےایسوسی ایشن کے مطابق مائننگ کے پیچیدہ طریقہ کار، خام مال کی بڑھتی قیمتوں، بھاری ٹیکسز، مہنگی بجلی، کاروباری اخراجات میں اضافے اور مارکیٹ میں مسلسل سست روی نے صنعت کو شدید متاثر کیا ہے۔ موجودہ صورتحال کے باعث فیکٹریوں کی پیداواری صلاحیت متاثر ہو رہی ہے جبکہ روزگار کے مواقع میں کمی کا خدشہ بھی بڑھ رہا ہے ایسوسی ایشن نے کراچی کے منگھوپیر ماربل انڈسٹریل ایریا میں بجلی چوری اور طویل لوڈشیڈنگ کو صنعت کے لیے اہم مسئلہ قرار دیا۔ عہدیداران کے مطابق بجلی کی مسلسل بندش سے فیکٹریوں میں مشینری گھنٹوں بند رہتی ہے، جس سے پیداوار متاثر اور کاروباری نقصانات میں اضافہ ہو رہا ہےایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ بجلی چوری کی روک تھام کے لیے مؤثر کارروائی کی جائے اور اس کا بوجھ باقاعدگی سے بجلی کے بل ادا کرنے والے صنعتی صارفین پر نہ ڈالا جائے۔ متعلقہ بجلی ادارے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بجلی چوری میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کریں تاکہ صنعتی سرگرمیاں معمول پر آ سکیں۔طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے باعث صنعت کار ملکی اور بین الاقوامی آرڈرز مقررہ وقت پر مکمل نہیں کر پا رہے، جس سے پاکستانی ماربل اور اسٹون کی برآمدات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق آرڈرز میں تاخیر سے عالمی خریداروں کے اعتماد اور ملکی زر مبادلہ کے حصول پر بھی منفی اثر پڑ سکتا ہے آل پاکستان ماربل انڈسٹری ایسوسی ایشن سندھ بلوچستان زون کے مطابق ماربل صنعت ملک میں ہزاروں خاندانوں کے روزگار کا اہم ذریعہ ہے۔ مہمند، بونیر، مردان، خضدار، بلوچستان اور دیگر ماربل و پتھر پیدا کرنے والے علاقوں سے کراچی کی فیکٹریوں اور مارکیٹوں تک لاکھوں افراد براہ راست اور بالواسطہ اس شعبے سے وابستہ ہیں ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ماربل اور اسٹون انڈسٹری کے لیے خصوصی ریلیف پیکیج کا اعلان کیا جائے، مائننگ کے طریقہ کار کو آسان، شفاف اور کاروبار دوست بنایا جائے، غیر ضروری ٹیکسز اور اضافی اخراجات کم کیے جائیں اور صنعتی صارفین کے لیے بجلی کے نرخوں میں خصوصی رعایت دی جائے۔عہدیداران نے مطالبہ کیا کہ مہمند، بونیر، مردان، خضدار، بلوچستان اور دیگر مائننگ علاقوں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں۔ جدید مائننگ اور پروسیسنگ ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی، صنعت کاروں کو آسان شرائط پر قرضوں کی فراہمی اور کاروباری سہولیات میں اضافہ کیا جائےایسوسی ایشن نے پاکستانی ماربل اور اسٹون کی برآمدات بڑھانے کے لیے جامع پالیسی تشکیل دینے اور حکومت، مائن مالکان، صنعت کاروں، تاجروں اور متعلقہ اداروں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع کرنے کا مطالبہ بھی کیاایسوسی ایشن کے مطابق ماربل صنعت کی بحالی سے روزگار کے تحفظ، کاروباری سرگرمیوں کے فروغ، برآمدات میں اضافے اور ملکی معیشت کو مضبوط بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کو صنعت کو مزید بحران سے بچانے کے لیے فوری اور عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »