LOADING

Type to search

Islamabad National

اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) بروقت انصاف: پاکستان میں احتساب کا اصل امتحان

Share

اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) وزیراعظم آفس نے پی آئی ایم ایس واقعے میں فوری ردِعمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے عبوری تحقیقاتی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ذمہ دار قرار دیے جانے والے افراد کے خلاف محکمانہ اور فوجداری کارروائی کی ہدایات جاری کیں۔ یہ ایک مثبت اور قابلِ تحسین اقدام ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اگر ریاستی سطح پر عزم اور ارادہ موجود ہو تو سنگین واقعات پر بروقت کارروائی ممکن ہے۔ اب اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ ان ہدایات پر مؤثر، شفاف اور بلاامتیاز عملدرآمد ہو اور ذمہ دار افراد کو قانون کے مطابق جواب دہ بنایا جائے۔

وزیراعظم آفس کی یہ فوری کارروائی اس لیے بھی اہم ہے کہ ہمارے ہاں عام طور پر کسی سنگین واقعے کے بعد تحقیقات، انکوائری اور کارروائی کا عمل طویل عرصے تک جاری رہتا ہے۔ نتیجتاً متاثرین انصاف کے انتظار میں رہتے ہیں، جبکہ ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی میں تاخیر نہ صرف احتساب کے مقصد کو کمزور کرتی ہے بلکہ عوام کے ریاستی اداروں پر اعتماد کو بھی متاثر کرتی ہے۔

یہی صورتحال ہمیں پاکستان کے ایک بنیادی اور دیرینہ مسئلے کی طرف متوجہ کرتی ہے: ہمارا اصل مسئلہ صرف احتساب کا نہ ہونا نہیں، بلکہ انصاف کا بروقت فراہم نہ ہونا ہے۔

میرے نزدیک پاکستان میں بے چینی، بداعتمادی، قانون شکنی، قواعد کی خلاف ورزی اور مختلف نوعیت کی ناانصافیوں کے پھیلاؤ کی ایک بڑی وجہ یہی ہے کہ لوگوں کو یقین نہیں کہ انہیں بروقت انصاف ملے گا۔ جب کسی شہری کے ساتھ زیادتی ہو اور اسے اپنے حق کے حصول کے لیے برسوں انتظار کرنا پڑے تو قانون کی عمل داری کا تصور کمزور پڑ جاتا ہے۔

اس مسئلے کا اثر صرف عام شہری تک محدود نہیں۔ عدالتوں سے رجوع کرنے والے افراد بھی طویل عدالتی تاخیر سے شدید مایوسی کا شکار ہوتے ہیں۔ میری اپنی مثال اس حقیقت کو واضح کرتی ہے۔ میرا ایک مقدمہ معزز سپریم کورٹ آف پاکستان میں زیرِ التوا ہے، جو آخری مرتبہ 23 اکتوبر 2025 کو مقرر ہوا تھا۔ اس روز کے عدالتی حکم میں واضح طور پر درج تھا کہ مقدمہ تین ہفتے بعد دوبارہ مقرر کیا جائے۔ لیکن اس کے باوجود وہ تین ہفتے آج تک نہیں آئے۔ اسی طرح اسلام آباد ہائی کورٹ میں میرا ایک مقدمہ آخری مرتبہ جون 2025 میں مقرر ہوا تھا، جبکہ اب اسے ستمبر 2026 میں مقرر کیا گیا ہے۔

یہ مثالیں کسی عدالت پر تنقید کے لیے نہیں بلکہ اس وسیع تر مسئلے کی نشاندہی کے لیے ہیں کہ جب ایک شخص انصاف کے حصول کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے اور پھر سماعت یا فیصلے کے لیے طویل عرصے تک انتظار کرتا رہتا ہے تو اس کی امید، اعتماد اور حوصلہ متاثر ہوتا ہے۔ اگر ایک مقدمہ مقررہ وقت پر دوبارہ مقرر نہ ہو یا ایک سماعت کے بعد اگلی مؤثر پیش رفت کے لیے کئی ماہ گزر جائیں تو انصاف کے نظام سے وابستہ عام شہری کے ذہن میں لازماً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر اسے انصاف کب ملے گا؟

انصاف میں تاخیر دراصل انصاف سے انکار کے مترادف بن جاتی ہے۔

اگر کسی شکایت، جرم، بدعنوانی یا انتظامی غفلت کی تحقیقات برسوں تک مکمل نہ ہوں، انکوائریاں غیر معمولی تاخیر کا شکار رہیں، یا عدالتی مقدمات میں مؤثر پیش رفت کے لیے طویل انتظار کرنا پڑے تو انصاف کا بنیادی مقصد متاثر ہوتا ہے۔ متاثرہ شخص کا قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے، ذہنی اذیت بڑھتی ہے اور بالآخر ریاستی اداروں پر اعتماد کمزور ہونے لگتا ہے۔

اسی لیے بروقت انصاف کو محض عدالتی نظام کا معاملہ سمجھنے کے بجائے اسے ریاستی نظم و نسق اور قانون کی حکمرانی کا بنیادی ستون سمجھنا ہوگا۔ انصاف کی فراہمی صرف عدالتوں کی ذمہ داری نہیں؛ انتظامیہ، پولیس، تحقیقاتی ادارے اور محکمانہ فورمز بھی اس پورے نظام کا حصہ ہیں۔ اگر کسی ادارے میں ایک شکایت یا انکوائری برسوں تک زیرِ التوا رہے تو یہ بھی بروقت انصاف کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

حقیقی احتساب کا معیار یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کتنی انکوائریاں شروع ہوئیں، کتنے نوٹس جاری ہوئے یا کتنی کمیٹیاں تشکیل دی گئیں۔ اصل معیار یہ ہونا چاہیے کہ کتنے معاملات کا فیصلہ بروقت ہوا، کتنے ذمہ دار افراد کو قانون کے مطابق سزا ملی اور کتنے متاثرین کو حقیقی انصاف فراہم کیا گیا۔

پاکستان کو آج سب سے زیادہ ضرورت قانون کی یکساں عمل داری اور بروقت انصاف کی ہے۔ جب شہری کو یقین ہوگا کہ اس کی شکایت پر مقررہ مدت میں کارروائی ہوگی، اس کے مقدمے میں مناسب وقت کے اندر پیش رفت ہوگی اور طاقتور و کمزور دونوں قانون کے سامنے برابر ہوں گے، تو ریاستی اداروں پر اعتماد بڑھے گا اور معاشرے میں قانون کا احترام مضبوط ہوگا۔PIMS واقعے میں وزیراعظم آفس کی فوری کارروائی ہمارے لیے ایک اہم موقع بھی ہے اور ایک امتحان بھی۔ وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری کردہ ہدایات ایک مثبت آغاز ہیں، لیکن اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب ان ہدایات پر بروقت، شفاف اور بلاامتیاز عملدرآمد ہو، ذمہ دار افراد کو قانون کے مطابق جواب دہ بنایا جائے اور متاثرین کو حقیقی انصاف فراہم کیا جائے۔

آخرکار، کسی بھی ریاست کی مضبوطی کا اندازہ اس بات سے نہیں لگایا جاتا کہ اس کے قوانین کتنے سخت ہیں، بلکہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ ان قوانین پر کتنی تیزی، غیر جانب داری اور مساوات کے ساتھ عمل ہوتا ہے۔ ریاستی اداروں کی اصل طاقت عوام کے اعتماد سے پیدا ہوتی ہے، اور عوام کا اعتماد اسی وقت قائم رہتا ہے جب انہیں یقین ہو کہ ان کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا ازالہ بروقت اور منصفانہ طور پر ہوگا۔

بروقت انصاف ہی حقیقی احتساب کا اصل امتحان ہے۔

ڈاکٹر علمدار حسین ملک
مشیر برائے اکیڈمکس، یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز، سوات
سابق مالی مشیر، فنانس ڈویژن، حکومتِ پاکستان

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »