LOADING

Type to search

Islamabad National

اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) پولیس عوام کی محافظ ہے یا عوام پولیس سے محفوظ رہیں؟

Share

اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) پولیس عوام کی محافظ ہے یا عوام پولیس سے محفوظ رہیں؟
اسلام آباد راولپنڈی کے متعدد تھانوں میں کرپشن، رشوت ستانی،دو نمبری اور اختیارات کے ناجائز استعمال نے پولیس کے نظام کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ بعض ایس ایچ اوز اور ماتحت عملے نے تھانوں کو عوام کی داد رسی کے مراکز کے بجائے مال بنانے کے اڈوں میں تبدیل کر دیا ہے۔ غریب اور بے بس شہری انصاف کے لیے دروازے کھٹکھٹاتے ہیں، مگر انہیں اکثر قانون کے بجائے سفارش، رشوت اور طاقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
پنجاب حکومت کو چاہیے کہ راولپنڈی پولیس میں فوری اور بے رحم احتسابی آپریشن کرے صرف تبادلے کافی نہیں؛ جو افسر یا اہلکار کرپشن میں ملوث ثابت ہو، اس کے خلاف معطلی محکمانہ کارروائی مقدمہ اور ملازمت سے برطرفی تک سخت ترین کارروائی کی جائےجس طرح دیگر اداروں میں بدعنوان اہلکاروں کے خلاف کارروائی ممکن ہے، پولیس میں بھی کوئی ایس ایچ او، افسر یا اہلکار قانون سے بالاتر نہیں ہونا چاہیے پولیس عوام کی محافظ ہے، عوام کی جیب اور عزت پر ڈاکہ ڈالنے والی قوت نہیں راولپنڈی کے تھانوں کی صفائی اب اصلاحات سے نہیں، سخت اور بلا امتیاز احتساب سے ہونی چاہیے راولپنڈی اور اسلام آباد کے شہریوں میں ایک عرصے سے پولیس کے رویے، مقدمات کے اندراج، تفتیش سفارش سیاسی اثرورسوخ مبینہ رشوت اور بااثر افراد کے لیے نرم گوشے سے متعلق شکایات سننے کو ملتی رہی ہیں۔ یقیناً اس محکمے میں دیانت دار، فرض شناس اور جان ہتھیلی پر رکھ کر کام کرنے والے افسر اور جوان بھی موجود ہیں۔ مگر چند اہلکاروں اور افسران کی مبینہ بدعنوانی بھی پورے ادارے کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچاتی ہے۔اگر ایک عام شہری کو انصاف لینے کے لیے بھی سفارش، تعلق، پیسہ یا کسی بااثر شخص کا نام درکار ہو تو پھر قانون کی حکمرانی کہاں رہ جاتی ہے؟ کسی شخص کو تھانے میں داخل ہوتے ہی اگر یہ احساس ہو کہ سامنے بیٹھا افسر اس کی بات سننے کے بجائے پہلے یہ دیکھے گا کہ دوسرا فریق کتنا بااثر ہے کس کا فون آئے گا اور کس کی سفارش پہنچے گی، تو انصاف کا پورا تصور ہی مذاق بن جاتا ہےیہ رویہ قانون نہیں، قانون کی بے توقیری ہے رشوت ایک شخص کی جیب نہیں، ریاست کی عزت لٹتی ہے رشوت صرف چند ہزار یا چند لاکھ روپے کا لین دین نہیں جب کسی پولیس اہلکار پر کسی شہری سے ناجائز رقم طلب کرنے کا الزام ثابت ہوتا ہے تو دراصل ریاست کا وہ اختیار فروخت ہوتا ہے جو اسے عوام کی حفاظت کے لیے دیا گیا تھا حال ہی میں راولپنڈی کے دھمیال پولیس اسٹیشن سے متعلق ایک کیس میں شہری کی شکایت کے بعد تین پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی، گرفتاری اور مقدمہ درج کیے جانے کی رپورٹ سامنے آئیرپورٹ کے مطابق ایک ویڈیو میں دو نوجوانوں سے 150,000 روپے لینے کا معاملہ بھی سامنے آیا، جبکہ SHO کو معطل اور چارج شیٹ کیا گیا یہ واقعہ اس لیے اہم ہے کہ اس سے ایک بنیادی بات سامنے آتی ہے اصل بیماری صرف SHO نہیں، پورا کلچر ہے اگر ایک SHO رشوت لیتا ہے تو سوال صرف اس SHO کا نہیں ہونا چاہیے اس کی تعیناتی کیسے ہوئی اس کی کارکردگی کون دیکھتا ہے اس کے خلاف کتنی شکایات آئیں اس کے علاقے میں FIR کے اندراج کا تناسب کیا ہےتفتیشوں کے خلاف کتنی شکایات ہوئیں کتنی بار شہریوں نے اعلیٰ افسران سے رجوع کیا اور اگر شکایات مسلسل آ رہی تھیں تو پھر اس افسر کو وہاں رکھا کیوں گیا احتساب فرد سے بڑھ جاۓ نظام کا مسئلہ بن جاتا ہے
عوام میں یہ تاثر عام ہے کہ بعض پولیس تعیناتیوں کے پیچھے سیاسی یا بااثر حلقوں کی سفارش ہوتی ہے اگر یہ تاثر غلط ہے تو حکومت اور پولیس قیادت کو اسے شفاف طریقے سے ختم کرنا چاہیے اور اگر کہیں یہ حقیقت ہے تو پھر یہ سوال اور بھی سنگین ہے جس افسر کی کرسی کسی طاقتور شخص کی سفارش سے آئے گی، وہ کل اسی طاقتور شخص کے خلاف قانون کیسے نافذ کرے گا پولیس کو کسی سیاسی، کاروباری یا سماجی شخصیت کاملازم نہیں ہونا چاہیے جس کے پاس زیادہ پیسہ، زیادہ تعلق یا زیادہ سفارش ہو، اسے قانون کے سامنے زیادہ طاقتور نہیں ہونا چاہیے اگر ایک کمزور شہری اور ایک بااثر شخص کے درمیان تنازع ہو تو پولیس کا فرض یہ نہیں کہ وہ طاقتور فریق کے ساتھ کھڑی ہو پولیس کا فرض ہے کہ وہ ثبوت کے ساتھ کھڑی ہو ایک اور اہم سوال پولیس افسران کے اثاثوں کے بارے میں ہے اگر کسی سرکاری افسر کا طرزِ زندگی، جائیدادیں، کاروباری مفادات، گاڑیاں یا خاندان کے نام پر موجود اثاثے اس کی معلوم آمدن سے واضح طور پر مطابقت نہیں رکھتے تو اس معاملے کی باقاعدہ قانونی اور مالی جانچ ہونی چاہیے ہر پولیس افسر کو صرف اس لیے مجرم نہیں کہا جا سکتا کہ وہ خوشحال ہے، اور ہر افسر کو صرف اس لیے بے گناہ بھی نہیں سمجھا جا سکتا کہ اس نے اپنی جائیداد کسی اور کے نام کر رکھی ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ اثاثہ جات کی مؤثر scrutiny ہو، آمدن اور اخراجات کا تقابل ہو اور جہاں قانونی طور پر سوال پیدا ہو وہاں غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں اسی اصول کو ان الزامات پر بھی لاگو کیا جانا چاہیے جو راولپنڈی اسلام آباد کے گردونواح کی ہاؤسنگ سوسائٹیوں، زمینوں اور مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کے حوالے سے عوام میں گردش کرتے ہیں پولیس کی تعیناتی کو کسی علاقے کی مالی یا سیاسی طاقت کے حساب سے پرکشش عہدہ بنانے کے بجائے میرٹ اور کارکردگی سے جوڑا جائے رشوت کی شکایت پر خفیہ اور فوری تحقیقات اگر کوئی شہری رشوت مانگنے کی شکایت کرتا ہے تو اسے دوبارہ اسی افسر کے سامنے بھیجنے کے بجائے آزادانہ نگرانی میں تحقیقات ہونی چاہئیں شکایت کنندہ کو تحفظ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ عام آدمی شکایت کرنے سے ڈرتا ہے کہ کہیں اسی کے خلاف مقدمہ نہ بنا دیا جائے اس خوف کو ختم کرنا ہوگا جس افسر کا مفاد مقدمے کے انتظامی پہلو میں ہو، اسے اسی مقدمے کی تفتیش میں مکمل اختیار دینا تنازعات پیدا کر سکتا ہے تفتیشی نظام کو زیادہ آزاد اور پیشہ ورانہ بنایا جائے افسر کی کارکردگی کا پیمانہ کتنے لوگ پکڑے نہیں کتنے مقدمات میرٹ پر حل کیے ہو پولیس کی کامیابی صرف چھاپوں، گرفتاریوں اور پریس ریلیزوں سے نہیں ناپی جانی چاہیے کتنے شہری مطمئن ہوئے؟ کتنی تفتیشیں میرٹ پر ہوئیں کتنی شکایات ختم ہوئیں؟ کتنے بے گناہ لوگوں کو غیر ضروری مقدمات سے بچایا گیا اور آخر میں ذمہ دار کون ہے یہ نہیں کہ SHO ذمہ دار ہےذمہ داری کئی سطحوں پر ہے کرپٹ افسر ذمہ دار ہے اسے تحفظ دینے والا افسر ذمہ دار ہے
غلط تعیناتی کرانے والا سیاسی یا بااثر شخص ذمہ دار ہے خاموش رہنے والا انتظامی نظام بھی ذمہ دار ہے اور جہاں کسی جرم یا کرپشن کا علم ہونے کے باوجود کارروائی نہ ہو، وہاں خاموشی بھی ایک طرح کی شراکت بن جاتی ہے سب سے بڑی ذمہ داری ریاست کی ہے ریاست نے پولیس کو اختیار دیا ہے اختیار کے ساتھ جواب دہی بھی لازم ہے پولیس کو دشمن نہیں، دوبارہ محافظ بنانا ہوگا ہمیں کرپٹ پولیس کلچر کے خلاف جنگ لڑنی ہے ایک ایماندار SHO کو عزت ملنی چاہیے ایک فرض شناس DSP کو اختیار ملنا چاہیے ایک دیانت دار سپاہی کو تحفظ ملنا چاہیے اور جو شخص وردی کو عوام کو دبانے، پیسہ بنانے سفارش چلانے یا طاقتور لوگوں کی خدمت کا ذریعہ بنائے، اسے یہ واضح پیغام ملنا چاہیے کہ وردی عزت ہے لائسنس نہیں جس دن ایک غریب آدمی تھانے میں داخل ہو کر یہ سوچے گا کہ مجھے کسی سفارش کی ضرورت نہیں میرے پاس صرف سچ ہے اور قانون میرے ساتھ ہے ہم ایسا معاشرہ کب بنائیں گے جہاں شہری چور سے نہ ڈرے، پولیس سے نہ ڈرے، بااثر آدمی سے نہ ڈرے بلکہ صرف قانون توڑنے سے ڈرے یہی اصل انصاف ہے
اور یہی وہ امتحان ہے جس میں راولپنڈی، اسلام آباد اور پورا معاشرہ آج کھڑا ہے اب وقت بیانات کا نہیں، احتساب کا ہے اب وقت سفارش کا نہیں، میرٹ کا ہے اب وقت خوف کا نہیں، قانون کی حکمرانی کاہے

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »