LOADING

Type to search

National

فتح جنگ (ڈیجیٹل پوسٹ) فتح جنگ کی کھلی کچہری: یہ خالص آدمی کہاں سے آگیا؟

Share

فتح جنگ (ڈیجیٹل پوسٹ) اسلام آباد پریس کلب میں بیٹھا تھا۔ سامنے دوستوں کی محفل تھی، گفتگو حسبِ معمول شہر کی سیاست، صحافت اور ان دونوں کے بیچ جنم لینے والی نئی مخلوق، یعنی سوشل میڈیا، کے گرد گھوم رہی تھی۔ میز پر موبائل فون خاموش پڑے تھے، مگر ہر چند لمحوں بعد کسی نہ کسی اسکرین کا روشن ہونا اس خاموشی کو توڑ دیتا۔

اسی دوران میرے فون کی گھنٹی بجی۔

دوسری طرف ملتان سے ایک دوست تھا۔ اس نے بتایا کہ اس کے خلاف ایک شکایت سامنے آئی ہے اور اسے ڈی پی او اٹک کی کھلی کچہری میں پیش ہونا ہے۔

میں نے کہا، ’’ٹھیک ہے، میں پک اینڈ ڈراپ دے دوں گا۔‘‘

پھر ایک لمحے کو رکا اور صاف کہہ دیا، ’’لیکن کھلی کچہری میں بیٹھنا میرے مزاج کا حصہ نہیں۔‘‘

سچ یہ ہے کہ میں نے کھلی کچہریوں سے ہمیشہ ایک محتاط فاصلہ رکھا ہے۔ شاید اس لیے کہ گزشتہ چند برسوں میں کھلی کچہری کا مفہوم بھی ہمارے ہاں بدل گیا ہے۔ کبھی یہ عوام اور افسر کے درمیان براہِ راست رابطے کا دروازہ ہوتی تھی، اب کئی جگہ یہ ایک ایسا اسٹیج بن چکی ہے جہاں عوام کم اور کیمرے زیادہ اہم ہوتے ہیں۔

افسر کرسی پر۔

کیمرے سامنے۔

روشنی درست زاویے پر۔

ماتحت عملہ ترتیب سے کھڑا۔

چند رسمی تالیاں۔

کچھ تصویریں۔

پھر سوشل میڈیا پر ویڈیو۔

اور اگلے دن سرخی:

’’افسر کی شاندار عوامی کھلی کچہری‘‘۔

ہم ایسے زمانے میں داخل ہو چکے ہیں جہاں بعض اوقات کام سے زیادہ کام کی ویڈیو اہم ہو جاتی ہے۔ کارکردگی سے زیادہ اس کی نمائش دیکھی جاتی ہے، اور فیصلے سے زیادہ فیصلہ سنانے کا انداز زیرِ بحث آتا ہے۔

صحافت بھی اس وبا سے محفوظ نہیں رہی۔

ایک طرف ریٹنگ کی دوڑ ہے، دوسری طرف ویوز کی۔ کہیں لائکس طے کرتے ہیں کہ کون سچا ہے اور کہیں ٹرینڈنگ ہیش ٹیگ فیصلہ کرتا ہے کہ کون اہم ہے۔ بعض صحافی صبح سے شام تک اپنے ہی اداروں کے خلاف ایسی کہانیاں تراشتے رہتے ہیں جن میں خبر کم اور سنسنی زیادہ ہوتی ہے۔ عمران ریاض خان جیسے مقبول چہروں کے نام اور انداز نے بھی صحافت کے ایک ایسے ماڈل کو مقبول بنایا ہے جہاں الزام کی رفتار تحقیق سے کہیں آگے نکل جاتی ہے۔

پولیس میں بھی ایک دوسرا ماڈل مقبول ہوا ہے۔

تالیاں بجواؤ۔

کیمرے لگواؤ۔

روشنی درست کرو۔

افسر کو مرکز میں رکھو۔

ماتحتوں کو مناسب فاصلے پر کھڑا کرو۔

اور اگر کسی ماتحت کی سرزنش کرنی ہو تو وہ بھی کیمرے کے سامنے کرو، تاکہ عوام کو معلوم ہو کہ افسر کتنا سخت ہے۔

شاید اسی لیے میں اپنے دوست کے ساتھ جانے پر تو آمادہ تھا، مگر کھلی کچہری میں بیٹھنے کے لیے تیار نہیں تھا۔

میرے دوست نے کہا:

’’آپ چلیں۔ یہ افسر مختلف ہے۔‘‘

میں نے زیادہ توجہ نہیں دی۔

ہم صحافیوں کو ’’یہ افسر مختلف ہے‘‘ جیسے جملے اکثر سننے کو ملتے ہیں۔ ہر دوسرے افسر کے بارے میں کوئی نہ کوئی دوست بتاتا ہے کہ بڑا دبنگ ہے، بڑا ایماندار ہے، بڑا اصول پسند ہے، بڑا سخت ہے۔

میں نے بھی اسے ایک روایتی جملہ سمجھ کر نظرانداز کر دیا۔

پھر سوچا، چلو دیکھتے ہیں۔

مجھے کیا معلوم تھا کہ یہی معمولی سا فیصلہ میرے ذہن میں ایک افسر کے بارے میں ایک نیا باب کھولنے والا ہے۔

ہم ڈی پی او اٹک کیپٹن (ر) علی بن طارق کی کھلی کچہری میں پہنچے۔

اور پہلا منظر ہی میرے لیے غیر متوقع تھا۔

وہاں روایتی ’’ظلِ الٰہی‘‘ والا ماحول نہیں تھا۔

وہ کسی بلند تخت پر بیٹھے ہوئے بادشاہ نہیں لگ رہے تھے۔

انہوں نے اپنی کرسی اور اسٹیج کی وہ نفسیاتی بلندی ہی ختم کر دی تھی جو ہمارے سرکاری کلچر میں افسر اور عوام کے درمیان ایک خاموش دیوار کھڑی کر دیتی ہے۔

وہ عوام کے قریب بیٹھے تھے۔

بظاہر یہ ایک معمولی انتظامی فیصلہ تھا، مگر حقیقت میں یہ ایک گہرا نفسیاتی پیغام تھا۔

اچھے افسر کی پہچان یہی ہوتی ہے کہ وہ کبھی کبھی ایسے فیصلے کر دیتا ہے جن کا اندراج کسی فائل میں نہیں ہوتا، مگر ان کا اثر لوگوں کے دل پر ضرور پڑتا ہے۔

افسر جب بلند اسٹیج پر بیٹھتا ہے تو سائل لاشعوری طور پر خود کو کمزور محسوس کرتا ہے۔ وہ اپنی بات کہنے سے پہلے کئی بار سوچتا ہے، الفاظ ناپتا ہے، افسر کے چہرے کے تاثرات پڑھتا ہے، اور کبھی کبھی اپنی اصل شکایت بھی پوری طرح بیان نہیں کر پاتا۔

لیکن جب افسر خود کو اس بلندی سے نیچے لے آتا ہے تو ایک نفسیاتی دیوار ٹوٹتی ہے۔

پیغام یہ ہوتا ہے:

’’میں سننے آیا ہوں، حکومت کرنے نہیں۔‘‘

یہ فرق معمولی نہیں۔

کھلی کچہری کا اصل مقصد ہی عوام کو سننا ہے۔ اگر افسر سننے کے لیے بھی اسٹیج، پروٹوکول اور فاصلے کا محتاج ہو جائے تو پھر کھلی کچہری اور عام دفتر میں فرق ہی کیا رہ جاتا ہے؟

مجھے دوسرا جھٹکا اس وقت لگا جب ایک سائل نے اپنی درخواست پیش کرتے ہوئے مظلومیت کو دلیل بنانے کی کوشش کی۔

علی بن طارق نے اسے فوراً روک دیا۔

اسی لمحے مجھے اندازہ ہوا کہ یہ شخص شکایت سننے اور مظلومیت کی اداکاری سننے میں فرق رکھتا ہے۔

یہ معمولی بات نہیں۔

ہر شکایت سچی نہیں ہوتی۔

اور ہر رونے والا مظلوم نہیں ہوتا۔

ہمارے سرکاری دفاتر میں ایک عجیب نفسیاتی مسئلہ پیدا ہو چکا ہے۔ جو شخص زیادہ بلند آواز میں بولے، زیادہ جذباتی ہو، زیادہ روئے یا زیادہ لوگوں کو اپنے گرد جمع کر لے، اسے اکثر زیادہ مظلوم سمجھ لیا جاتا ہے۔

علی بن طارق نے اس کھیل کو جگہ نہیں دی۔

وہ جذبات سن رہے تھے، مگر فیصلے جذبات کے حوالے نہیں کر رہے تھے۔

ایک موقع پر کسی شخص نے کہا کہ وہ ’’سید‘‘ ہے۔

علی بن طارق نے فوراً جواب دیا:

’’میں سید نہیں ہوں، لیکن انصاف کے معاملے میں سید اور غیر سید کا فرق نہیں کرتا۔‘‘

بس، ایک جملہ۔

مگر اس ایک جملے میں پورا انتظامی فلسفہ سمٹ آیا تھا۔

ریاستی عہدہ نسب نہیں دیکھتا۔

قانون خون نہیں پوچھتا۔

انصاف خاندان نہیں دیکھتا۔

شکایت کنندہ کس برادری سے ہے، کس خاندان سے تعلق رکھتا ہے یا کس سیاسی گروہ کے قریب ہے، اس سے فیصلہ تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔

یہی ریاستی افسر اور مقامی بااثر شخص میں بنیادی فرق ہے۔

مقامی بااثر شخص تعلق دیکھتا ہے۔

ریاستی افسر اصول دیکھتا ہے۔

اور اگر افسر اصول چھوڑ دے تو اس کے پاس وردی تو رہ جاتی ہے، ریاست نہیں رہتی۔

میں اس کھلی کچہری میں ایک اور چیز بھی غور سے دیکھ رہا تھا۔

علی بن طارق جذباتی نہیں ہو رہے تھے۔

وہ کسی شکایت پر فوراً غصے میں نہیں آتے تھے۔

نہ ہی ہر درخواست پر ’’سخت ایکشن‘‘ کی اداکاری ہو رہی تھی۔

ہمارے ہاں ’’سخت ایکشن‘‘ بھی اب ایک قسم کی پبلک ریلیشنز بن چکا ہے۔

مائیک سامنے آیا۔

افسر نے آنکھیں سرخ کیں۔

کسی کو ڈانٹا۔

کسی کو معطل کیا۔

تالیاں بجیں۔

ویڈیو بنی۔

افسر کامیاب۔

لیکن اصل سوال یہ ہے کہ انصاف بھی ہوا یا نہیں؟

علی بن طارق نے ایک ایس ایچ او کو معطل کیا، مگر جس انداز سے کیا، اس میں غصے سے زیادہ تحمل تھا۔

یہاں مجھے محسوس ہوا کہ میرے سامنے سختی اور غصے کا فرق سمجھنے والا افسر بیٹھا ہے۔

سخت فیصلہ ہمیشہ غصے سے نہیں ہوتا۔

کبھی سب سے سخت فیصلہ وہ ہوتا ہے جو انتہائی پرسکون ذہن سے کیا جائے۔

غصہ آدمی کو فوراً فیصلہ کرنے پر اکساتا ہے۔

تحمل آدمی کو فیصلہ سمجھنے کا موقع دیتا ہے۔

پولیسنگ میں یہ فرق بہت اہم ہے، کیونکہ پولیس افسر کے ایک حکم سے کسی کی عزت، ملازمت، آزادی اور مستقبل متاثر ہو سکتا ہے۔

جس افسر کے پاس اختیار زیادہ ہو، اس کے لیے ضبطِ نفس بھی اتنا ہی ضروری ہے۔

علی بن طارق کی کھلی کچہری میں مجھے یہی چیز نظر آئی۔

وہ شکایت اور الزام کے درمیان فرق کر رہے تھے۔

درد اور ڈرامے میں فرق کر رہے تھے۔

جذبات اور حقیقت میں فرق کر رہے تھے۔

اور شاید سب سے بڑھ کر، وہ سننے اور مان لینے کے درمیان فرق سمجھ رہے تھے۔

یہ فرق بہت کم افسر سمجھتے ہیں۔

کسی کی بات سن لینا انصاف نہیں۔

کسی کی بات مان لینا بھی انصاف نہیں۔

انصاف یہ ہے کہ دونوں طرف کی بات سنی جائے، پھر جو درست ہو اسے تسلیم کیا جائے۔

وہاں ایک اور دلچسپ منظر بھی تھا۔

لوگ بہت تھے۔

سائلین بھی۔

تماشائی بھی۔

شخصیات بھی۔

اور یہی وہ مقام تھا جہاں ایک افسر کی نفسیاتی سمجھ بوجھ سامنے آئی۔

انہوں نے محسوس کیا کہ اگر ہر شخص کو صرف اس لیے اندر رکھا جائے کہ وہ ’’شخصیت‘‘ ہے تو اصل سائل پیچھے رہ جائیں گے۔

انہوں نے غیر ضروری رش کم کیا اور ان شخصیات سے معذرت کی جو سائل نہیں تھیں۔

بظاہر یہ پروٹوکول کے خلاف فیصلہ لگ سکتا تھا، مگر دراصل یہی عوامی خدمت کا اصل پروٹوکول تھا۔

کیونکہ کھلی کچہری کسی افسر کی نجی محفل نہیں ہوتی۔

یہ سائل کا وقت ہوتا ہے۔

وہ شخص جو صبح سے بیٹھا اپنی باری کا انتظار کر رہا ہو، اس کے سامنے کسی اہم شخصیت کو صرف تعلق یا عہدے کی بنیاد پر ترجیح دینا اس کے اعتماد کو توڑ دیتا ہے۔

علی بن طارق نے اس نفسیاتی ناانصافی سے گریز کیا۔

اور میں سوچنے لگا کہ شاید اچھا افسر وہ نہیں جو ہر شخص کو خوش کر دے۔

اچھا افسر وہ ہے جو صحیح آدمی کو صحیح وقت دے۔

میرا دوست بھی اسی کھلی کچہری میں ایک شکایت کے جواب کے لیے بیٹھا تھا۔

اس کی درخواست سب سے آخر میں پیش ہوئی۔

انتظار طویل تھا۔

اور سچ یہ ہے کہ ایک صحافی کے لیے دوسروں کی شکایات سنتے بیٹھنا کبھی کبھی اپنے آپ میں ایک عجیب تجربہ ہوتا ہے۔

کسی کا زمین کا مسئلہ۔

کسی کا خاندانی تنازع۔

کسی کا پولیس سے گلہ۔

کسی کا افسر کے خلاف الزام۔

کسی کی دہائی۔

کسی کی فریاد۔

کسی کا غصہ۔

کسی کی خاموشی۔

اور ان سب کے درمیان ایک افسر بیٹھا تھا جو مسلسل لوگوں کو پڑھ رہا تھا۔

یہ وہ مقام تھا جہاں مجھے پہلی بار محسوس ہوا کہ پولیسنگ صرف قانون کی کتاب پڑھنے کا نام نہیں۔

یہ انسان کو پڑھنے کا ہنر بھی ہے۔

ایک افسر اگر انسان کے چہرے، لہجے، الفاظ اور خاموشی میں فرق نہ کر سکے تو وہ صرف کاغذی پولیس افسر رہ جاتا ہے۔

سچا پولیس افسر وہ ہے جو یہ جاننے کی کوشش کرے کہ شکایت کے پیچھے اصل مسئلہ کیا ہے۔

کون واقعی تکلیف میں ہے؟

کون غصے میں ہے؟

کون کسی کے ہاتھوں استعمال ہو رہا ہے؟

کون اپنا حق مانگ رہا ہے؟

اور کون اپنے ذاتی مفاد کو مظلومیت کا لباس پہنا کر ریاست کو استعمال کرنا چاہتا ہے؟

یہ کام کسی SOP میں مکمل طور پر نہیں لکھا جا سکتا۔

اس کے لیے تجربہ، مشاہدہ، مزاج اور سب سے بڑھ کر انصاف کی نیت چاہیے۔

مجھے علی بن طارق میں یہی چیز نظر آئی۔

وہ کیمرے کے لیے نہیں بیٹھے تھے، کم از کم اس دن مجھے ایسا نہیں لگا۔

وہ تالیاں حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہے تھے۔

وہ اپنے ماتحتوں کی تذلیل کر کے اپنی طاقت ثابت نہیں کر رہے تھے۔

وہ اپنی کرسی کی بلندی سے متاثر نہیں لگ رہے تھے۔

اور شاید یہی وجہ تھی کہ ان کے پاس بیٹھ کر مجھے پہلی بار محسوس ہوا کہ اختیار کی اصل خوبصورتی اختیار دکھانے میں نہیں، اسے قابو میں رکھنے میں ہے۔

ہم نے اپنے معاشرے میں طاقت کی ایک عجیب تعریف بنا لی ہے۔

جو زیادہ ڈانٹے، وہ طاقتور۔

جو زیادہ شور کرے، وہ دبنگ۔

جو ماتحت کو سب کے سامنے ذلیل کرے، وہ سخت افسر۔

جو کیمرے کے سامنے میز پر ہاتھ مارے، وہ بڑا کمانڈر۔

لیکن یہ طاقت نہیں۔

یہ طاقت کا مظاہرہ ہے۔

اصل طاقت اس شخص کے پاس ہوتی ہے جو چاہے تو آواز بلند کر سکتا ہو، مگر ضرورت نہ ہو تو خاموش رہے۔

جو چاہے تو کسی کو سب کے سامنے ذلیل کر سکتا ہو، مگر اصلاح کے لیے عزت کا راستہ اختیار کرے۔

جو چاہے تو ہر شکایت پر سخت ترین حکم جاری کر سکتا ہو، مگر پہلے حقیقت معلوم کرے۔

علی بن طارق کی کھلی کچہری میں مجھے اسی طاقت کی جھلک نظر آئی۔

واپسی پر میں نے اپنے دوست کی طرف دیکھا۔

اس نے شاید میری آنکھوں میں سوال پڑھ لیا تھا۔

میں نے کہا:

’’یہ خالص آدمی کہاں سے آگیا؟‘‘

وہ مسکرایا۔

میں بھی مسکرا دیا۔

لیکن یہ سوال میرے ذہن میں واپسی کے پورے سفر کے دوران میرے ساتھ رہا۔

خالص آدمی۔

ہم نے یہ لفظ بھی عجیب طرح سے کھو دیا ہے۔

ہم نے ہر شخص کو کسی نہ کسی خانے میں ڈال رکھا ہے۔

یہ سیاسی ہے۔

یہ صحافی ہے۔

یہ پولیس والا ہے۔

یہ بیوروکریٹ ہے۔

یہ فلاں کا آدمی ہے۔

یہ فلاں گروپ سے ہے۔

یہاں تک کہ ہم نے ایمانداری کو بھی گروپ بندی کا مسئلہ بنا دیا ہے۔

اگر کوئی ہمارے پسندیدہ کیمپ میں ہے تو ایماندار۔

اگر دوسری طرف ہے تو کرپٹ۔

اگر ہماری تعریف کرے تو اچھا افسر۔

اگر سوال کرے تو برا افسر۔

ایسے ماحول میں کسی افسر کا صرف قانون اور انصاف کے پیمانے پر کھڑے رہنے کی کوشش کرنا بھی غیر معمولی بات بن جاتا ہے۔

علی بن طارق کے بارے میں یہ فیصلہ ایک کھلی کچہری کی بنیاد پر حتمی طور پر نہیں دیا جا سکتا۔

ایک دن کسی انسان کی پوری شخصیت نہیں بتاتا۔

ایک کھلی کچہری کسی افسر کی پوری کارکردگی کا مکمل پیمانہ نہیں ہوتی۔

لیکن بعض اوقات ایک دن آدمی کے مزاج کی ایک کھڑکی ضرور کھول دیتا ہے۔

اور اس کھڑکی سے جو منظر مجھے نظر آیا، وہ قابلِ ذکر تھا۔

ایک ایسا افسر جو اسٹیج سے نیچے اتر سکتا ہے۔

ایک ایسا افسر جو عوام کے قریب بیٹھ سکتا ہے۔

ایک ایسا افسر جو مظلومیت اور حقیقت میں فرق کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

ایک ایسا افسر جو نسب کو انصاف کا معیار نہیں بناتا۔

ایک ایسا افسر جو جذباتی شور کے بجائے تحمل سے فیصلہ کرتا ہے۔

ایک ایسا افسر جو ماتحت کے خلاف کارروائی بھی غصے کے بجائے ادارہ جاتی انداز میں کرتا ہے۔

ایک ایسا افسر جو غیر ضروری رش کو عوامی حق پر ترجیح نہیں دیتا۔

اور ایک ایسا افسر جو کیمرے کے سامنے اپنی طاقت ثابت کرنے کے بجائے اپنے فیصلے کی طاقت پر بھروسہ کرتا ہے۔

یہ سب کچھ ہمارے معمول کے سرکاری منظرنامے میں غیر معمولی کیوں محسوس ہوتا ہے؟

یہی اصل سوال ہے۔

شاید اس لیے کہ ہم نے اچھے انتظامی رویے کو اتنا نایاب کر دیا ہے کہ جب کوئی افسر معمول کا درست کام بھی کر دے تو وہ غیر معمولی لگنے لگتا ہے۔

شاید ہمیں تالیاں بجوانے والے افسر نہیں، سننے والے افسر چاہییں۔

ہمیں کیمروں کے سامنے سخت نظر آنے والے افسر نہیں، فیصلوں میں مضبوط افسر چاہییں۔

ہمیں وہ افسر نہیں چاہیے جو ہر شکایت کنندہ کو سچا سمجھ لے۔

ہمیں وہ افسر چاہیے جو ہر شکایت کو سنجیدگی سے لے، مگر سچ کی تصدیق کے بغیر فیصلہ نہ کرے۔

ہمیں ایسا پولیس افسر چاہیے جو قانون کی طاقت استعمال کرے، مگر قانون کو اپنی طاقت نہ بنائے۔

اور اگر کوئی افسر اس سمت میں چل رہا ہے تو اسے سراہنا چاہیے۔

تنقید کرنے والے بہت ہیں۔

تالیاں بجانے والے بھی بہت ہیں۔

لیکن کسی افسر کے اچھے انتظامی رویے کو دلیل کے ساتھ تسلیم کرنا بھی صحافت کا حصہ ہے۔

اسی لیے آج یہ کالم تعریف کے لیے نہیں، ایک مشاہدے کے اعتراف کے طور پر لکھ رہا ہوں۔

مجھے ایک کھلی کچہری میں ایک مختلف پولیس افسر نظر آیا۔

شاید وہ مکمل نہ ہو۔

شاید اس کے ہر فیصلے سے ہر شخص متفق نہ ہو۔

شاید اس کے سامنے بھی مشکلات ہوں گی، غلطیاں بھی ممکن ہیں اور نظام کی اپنی مجبوریاں بھی۔

لیکن اگر ایک افسر اختیار کے ساتھ تحمل، قانون کے ساتھ انصاف اور عوام کے ساتھ فاصلہ کم کرنے کی کوشش کرے تو اس کوشش کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔

کیونکہ پولیس صرف وردی کا نام نہیں۔

پولیس ریاست کا وہ چہرہ ہے جسے عام آدمی سب سے پہلے دیکھتا ہے۔

اگر یہ چہرہ غصے والا ہو تو ریاست خوف بن جاتی ہے۔

اگر یہ چہرہ تماشائی ہو تو ریاست مذاق بن جاتی ہے۔

اگر یہ چہرہ صرف کیمرے کے لیے ہو تو ریاست تشہیر بن جاتی ہے۔

لیکن اگر یہ چہرہ پرسکون، سننے والا اور انصاف پسند ہو تو ریاست اعتماد بن جاتی ہے۔

فتح جنگ کی اس کھلی کچہری میں مجھے کم از کم ایک دن کے لیے ریاست کا وہی چہرہ دکھائی دیا جسے دیکھ کر عام آدمی یہ سوچ سکتا ہے کہ شاید اس کی بات واقعی سنی جا سکتی ہے۔

اسی کھلی کچہری میں ایس ایچ او باہتر کے خلاف شکایت بھی سامنے آئی۔ ڈی پی او علی بن طارق نے معاملے کو محض ایک شکایت سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا بلکہ کارروائی کرتے ہوئے ایس ایچ او باہتر کو کلوز لائن کر دیا۔

یہ فیصلہ اپنے اندر ایک واضح پیغام رکھتا تھا کہ احتساب صرف تقریروں کا لفظ نہیں، ادارے کے اندر بھی نافذ ہونے والی ذمہ داری ہے۔

فیصلہ ہوا، مگر شور نہیں ہوا۔

کارروائی ہوئی، مگر اسے تماشہ نہیں بنایا گیا۔

ماتحت کے خلاف ایکشن لیا گیا، مگر کیمرے کے سامنے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔

اور شاید یہی وہ مقام تھا جہاں مجھے اس افسر کے مزاج کو سمجھنے میں مزید مدد ملی۔

اختیار اگر واقعی اختیار ہو تو اسے بار بار دکھانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔

واپسی پر میرے ذہن میں پھر وہی سوال تھا:

یہ خالص آدمی کہاں سے آگیا؟

شاید اس لیے کہ ہم ایسے ماحول کے عادی ہو چکے ہیں جہاں افسر کی سختی کیمرے سے، مقبولیت سوشل میڈیا سے اور کارکردگی نعروں سے ناپی جاتی ہے۔

مگر اس دن ایک مختلف منظر دیکھا۔

ایک افسر جو اسٹیج سے نیچے بیٹھا تھا۔

جو سائل کی بات سن رہا تھا۔

جو مظلومیت اور حقیقت میں فرق کر رہا تھا۔

جو نسب کے بجائے انصاف کو معیار بنا رہا تھا۔

جو ماتحت کے خلاف کارروائی بھی کر رہا تھا۔

اور جو یہ سب کچھ کرتے ہوئے اپنی طاقت کا شور نہیں مچا رہا تھا۔

شاید یہی وجہ ہے کہ یہ سوال بار بار ذہن میں آتا رہا:

یہ خالص آدمی کہاں سے آگیا؟

کاش ایسے افسر ہمارے نظام میں ’’مختلف‘‘ نہ کہلائیں۔

کاش یہ معمول بن جائیں۔

کاش کیمروں کی روشنی سے زیادہ کردار کی روشنی دیکھی جائے۔

کاش تالیاں بجوانے سے زیادہ لوگوں کا اعتماد حاصل کرنا کامیابی سمجھا جائے۔

اور کاش ایک دن ہمیں یہ پوچھنے کی ضرورت ہی نہ پڑے کہ:

’’یہ خالص آدمی کہاں سے آگیا؟‘‘

کیونکہ تب شاید خالص آدمی کہیں سے نہیں آئے گا۔

وہ اسی نظام کا حصہ ہوگا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »