اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) سپاہی مقبول حسین ستارہِ جرات
Share
اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) فوجی نمبر 335139 کے حامل سپاہی مقبول حسین 1965 کی جنگ میں لائن آف کنٹرول پر دشمن کی گولی کا نشانہ بنے’ انہیں بھارتی فوج نے گرفتار کر لیا لیکن جنگی قیدی کا درجہ دینے سے انکار کر دیا’ پاک فوج کی روایات کے مطابق تربیت یافتہ مقبول حسین نے تمام تکالیف کا مردانہ وار سامنا کیا اور اپنے ملک کے بارے میں کوئی بھی معلومات فراہم کرنے سے انکار کر دیا’ بھارتی فوج نے ان پر شدید تشدد کیا اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نشانہ بنایا گیا اپنے ملک سے غداری کرنے سے انکار کرنے پر انہیں چار بائی چار فٹ کی کوٹھری میں رکھا گیا اور ان کی زبان کاٹ دی گئی، اس کے باوجود انہوں نے کبھی ”پاکستان زندہ باد“ کا نعرہ لگانا نہیں چھوڑا جب ان کی زبان کاٹ دی گئی تو انہوں نے جیل کی دیواروں پر اپنے ہی خون سے ‘پاکستان زندہ باد’ لکھا’ چار دہائیوں پر محیط اسیری کے دوران حسین ذہنی بیماری کا بھی شکار ہو گئے نے انہیں 2005 میں ایک شہری قیدی کے طور پر رہا کیا گیا’ سرحد عبور کرنے کے بعد سپاہی مقبول حسین نے آزاد کشمیر رجمنٹ کے سینٹر کمانڈنٹ کو رپورٹ کی’ وہ بول نہیں سکتے تھے، لیکن انہوں نے اپنا نمبر، عہدہ اور نام لکھ کر بتایا’ کمانڈنٹ اپنا سامنا 40 سال سے لاپتہ سپاہی کو دیکھ کر حیران رہ گئے’ آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی نے بہادر سپاہی کی صحت کا خیال رکھنے اور تمام ضروری سہولیات فراہم کرنے کا حکم دیا’ اور ان کی غیر معمولی بہادری پر ‘ستارۂ جرات’ کا اعلان کیا ‘ انہیں فوجی ہسپتال لے جایا گیا جہاں انہیں برسوں تک خصوصی طبی امداد فراہم کی گئی’ 23 مارچ 2009 کو، 4 آزاد کشمیر رجمنٹ کے سپاہی مقبول حسین کو جنگ کے دوران ان کی بہادری پر ‘ستارہِ جرات’ سے نوازا گیا’ سپاہی مقبول حسین کا انتقال 28 اگست 2018 کو پنجاب کے شہر اٹک میں ہوا۔ وہ کشمیر کے ضلع سدھنوتی کے علاقے ‘ترار کھل’ آزاد کشمیر کے رہائشی تھے’ ان کی والدہ اپنی زندگی بھر ان کی واپسی کی منتظر رہیں؛ انہوں نے اپنی وصیت میں لکھا تھا کہ انہیں گاؤں کے داخلی راستے پر دفن کیا جائے تاکہ جب ان کا بیٹا گھر واپس آئے تو وہ سب سے پہلے اس کا استقبال کر سکیں’ ان کے آبائی علاقے ترار کھل، آزاد کشمیر میں سپردِ خاک کیا گیا’ وطن کے بیٹے کو سلام
فوجی نمبر 335139 کے حامل سپاہی مقبول حسین 1965 کی جنگ میں لائن آف کنٹرول پر دشمن کی گولی کا نشانہ بنے’ انہیں بھارتی فوج نے گرفتار کر لیا لیکن جنگی قیدی کا درجہ دینے سے انکار کر دیا’ پاک فوج کی روایات کے مطابق تربیت یافتہ مقبول حسین نے تمام تکالیف کا مردانہ وار سامنا کیا اور اپنے ملک کے بارے میں کوئی بھی معلومات فراہم کرنے سے انکار کر دیا’ بھارتی فوج نے ان پر شدید تشدد کیا اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نشانہ بنایا گیا اپنے ملک سے غداری کرنے سے انکار کرنے پر انہیں چار بائی چار فٹ کی کوٹھری میں رکھا گیا اور ان کی زبان کاٹ دی گئی، اس کے باوجود انہوں نے کبھی ”پاکستان زندہ باد“ کا نعرہ لگانا نہیں چھوڑا جب ان کی زبان کاٹ دی گئی تو انہوں نے جیل کی دیواروں پر اپنے ہی خون سے ‘پاکستان زندہ باد’ لکھا’ چار دہائیوں پر محیط اسیری کے دوران حسین ذہنی بیماری کا بھی شکار ہو گئے نے انہیں 2005 میں ایک شہری قیدی کے طور پر رہا کیا گیا’ سرحد عبور کرنے کے بعد سپاہی مقبول حسین نے آزاد کشمیر رجمنٹ کے سینٹر کمانڈنٹ کو رپورٹ کی’ وہ بول نہیں سکتے تھے، لیکن انہوں نے اپنا نمبر، عہدہ اور نام لکھ کر بتایا’ کمانڈنٹ اپنا سامنا 40 سال سے لاپتہ سپاہی کو دیکھ کر حیران رہ گئے’ آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی نے بہادر سپاہی کی صحت کا خیال رکھنے اور تمام ضروری سہولیات فراہم کرنے کا حکم دیا’ اور ان کی غیر معمولی بہادری پر ‘ستارۂ جرات’ کا اعلان کیا ‘ انہیں فوجی ہسپتال لے جایا گیا جہاں انہیں برسوں تک خصوصی طبی امداد فراہم کی گئی’ 23 مارچ 2009 کو، 4 آزاد کشمیر رجمنٹ کے سپاہی مقبول حسین کو جنگ کے دوران ان کی بہادری پر ‘ستارہِ جرات’ سے نوازا گیا’ سپاہی مقبول حسین کا انتقال 28 اگست 2018 کو پنجاب کے شہر اٹک میں ہوا۔ وہ کشمیر کے ضلع سدھنوتی کے علاقے ‘ترار کھل’ آزاد کشمیر کے رہائشی تھے’ ان کی والدہ اپنی زندگی بھر ان کی واپسی کی منتظر رہیں؛ انہوں نے اپنی وصیت میں لکھا تھا کہ انہیں گاؤں کے داخلی راستے پر دفن کیا جائے تاکہ جب ان کا بیٹا گھر واپس آئے تو وہ سب سے پہلے اس کا استقبال کر سکیں’ ان کے آبائی علاقے ترار کھل، آزاد کشمیر میں سپردِ خاک کیا گیا’ وطن کے بیٹے کو سلام

