اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) سیاسی کشیدگی کا حل بامقصد مذاکرات میں ہے
Share
اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) سیاست میں اختلافات کے تصفیے کیلئے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ جمہوری ملکوں میں سیاسی عناصر میں شدید اختلافات کے باوجود قومی سطح پر انتشار اور افراتفری کی کیفیت رونما نہیں ہوتی ملکی سلامتی معیشت کی بحالی اور سیکورٹی ایسا معاملہ ہے جسے سیاست سے بالاتر ہوکر دیکھنے کی ضرورت ہے اگر یہ معاملہ بھی سیاسی اختلافات کی نذر ہوتا رہے تو اس کا نتیجہ سیکورٹی خدشات میں اضافے کی صورت میں برآمد ہوتا ہے اور اس وقت ہمیں اسی صورت حال کا سامنا ہے سیاسی قیادت یہ سمجھنے سے مسلسل گریزاں ہے کہ دہشت گردی کا مقابلہ ہو یا معیشت کو سہارا دینا قومی اتفاق رائے اور اتفاق واتحاد سے ہی معاملات کو بہتر سمت میں گامزن کیا جا سکتا ہے اگرچہ ہمارے ہاں کا یہ معروف سیاسی محاورہ بن چکا ہے کہ ملک ایک نازک موڑ پر ہے تاہم اس وقت جو سیاسی حالات بنے ہوئے ہیں یہ کہنا یقینا مبالغہ آرائی نہیں کہ ملک واقعی ایک نازک موڑ پر ہے یہ حقیقت سب پر عیاں ہے کہ پاکستان اس وقت ایک پیچیدہ معاشی بحران سے نبرد آزما ہے عالمی اور علاقائی حالات اس کی سنگینی میں مزید اضافہ کر رہے ہیں قومی سلامتی کا براہ راست تعلق معاشی سلامتی سے ہے برآمدات اور صنعتوں میں اضافہ ہو رہا ہو پیداواری ملازمتوں کے مواقع مل رہے ہوں بیورو کریسی فعال کارگردگی کا مظاہرہ کر رہی ہو تو معاشی سلامتی خود بخود مضبوط ہوتی ہے کوئی بھی ذی شعور پاکستانی انکار نہیں کرسکتا دنیا میں وہی ملک پائیدار ترقی اور قومی سلامتی کو یقینی بنا سکے جو معاشی اعتبار سے مضبوط تھے پاکستان میں مہنگی ترین توانائی کے باعث صنعتی ترقی جمود کا شکار جبکہ پہلے سے موجود صنعتیں بھی آہستہ آہستہ دم توڑتی جارہی ہیں اور حکومت توانائی کے سستے ترین ذرائع سے فائدھ اٹھانے کے لئے کوئی بھی ٹھوس حکمت عملی بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکی معاشیات کا یہ بنیادی اصول ہے کہ سرمایہ پر امن علاقوں کی جانب پرواز کرتا ہے جن ممالک میں بد امنی ہوگی جرائم کی شرح زیادہ ہوگی دہشت گردی ہوگی اور ایسے قوانین موجود ہوں گے جن کی وجہ سے سرمایہ کاروں کی سرمایہ کاری ڈوبنے کا خدشہ ہوگا تو ایسے ممالک میں غیر ملکی سرمایہ کاری تو دور کی بات مقامی سرمایہ دار بھی وہاں سرمایہ کاری کرنے سے گھبراتے اور پر امن ملکوں کی طرف چلے جاتے ہیں پاکستان کے ساتھ اس وقت یہی کچھ ہو رہا ہے دہشت گردی انتہاء پسندی جرائم نے ملک کو شدید طور پر متاثر کیا ہے اور رہی سہی کسر سیاسی عدم استحکام نے پوری کر رکھی ہے اس لئے جب تک ملک میں سیاسی استحکام نہیں آتا غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کی کوئی بھی کوشش اور معاشی بحالی کا کوئی بھی منصوبہ کامیاب نہیں ہو سکتا کیونکہ سیاست اور معیشت کا چولی دامن کا ساتھ ہے ملک میں اگر سیاسی استحکام اور پالیسیوں میں تسلسل ہو تو سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھتا ہے اور معیشت ترقی کرتی ہے لیکن اگر ملک سیاسی انتشار کا شکار ہو تو غیر ملکی سرمایہ کار ی دور کی بات ملکی سرمایہ کار بھی سرمایہ کاری سے ہاتھ کھینچ لیتے ہیں اور صنعتوں کی پیدواری صلاحیت برآمدات میں کمی اور بیروز گاری میں اضافہ ہوتا ہے سیاسی دھینگا مشتی کے ماحول میں معاشی سرگرمیوں کا تسلسل ممکن نہیں رہتا اور نہ ہی جاری پالیسیوں کو دوام نصیب ہوتا ہے اور یہ صورتیں ہمارے ہاں اپنی شدید صورت میں موجود چلی آرہی ہیں ملکی وقومی مفادات کو سیاسی مقاصد کی بھینٹ چڑھایا جارہا ہے قومی مقاصد کے لئے مل بیٹھنے اور تعاون کرنے سے مسلسل انکار کا سلسلہ جاری ہے سیاست میں انتقام اور ذاتی عناد کا تاثر اس بری طرح سرایت کرچکا ہے کہ ہر معاملہ اب اسی عینک سے دیکھا جاتا ہے سیاسی کردار ایک دوسرے کو گنجائش دینے پر آمادہ دکھائی نہیں دیتے جمہوری شعور سے ناواقفیت اور سیاسی آداب سے دوری یہ موجودہ رویہ تبدیل کئے بغیر سیاسی جماعتوں میں وہ اعتماد پروان نہیں چڑھایا جاسکتا جس کی ملک کو اس وقت اشد ضرورت ہے سیاسی بے چینی اور احتجاجی کلچر کا دائرہ وسیع ہونے کے باوجود اسے سمیٹنے کی کوئی سنجیدہ کوشش ہوتی نظر نہیں آرہی اگرچہ اس بحران کے خاتمے کے راہ سب کو معلوم ہے کہ حکومت اور اپوزیشن نیک نیتی سے مذاکرات کی میز پر بیٹھیں مگر دونوں فریق مذاکرات سے راہ فرار اختیار نظر آتے ہیں مسلسل سیاسی کشیدگی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان طویل فاصلے اور ملک کو درپیش اہم سیاسی و انتظامی معاملات کے تناظر میں وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے ایک بار پھر اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت بلاشبہ ایک اہم پیشرفت ہے پارلیمنٹ کے بعد کابینہ کے ذریعے سامنے آنے والی اس پیشکش کو موجودہ حالات میں بروقت اور سنجیدہ اقدام قرار دیا جا سکتا ہے تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ اس بار معاملہ صرف مذاکرات کی پیش کش تک محدود نہ رہے بلکہ عملی اقدامات بھی نظر آنے چاہئیں گزشتہ تین سال کے دوران فریقین کی جانب سے کئی بار مذاکرات کی پیش کی گئی چند اجلاسوں کا انعقاد بھی ہوا مگر ہر بار تان مزید تلخی پر آکر ٹوٹی سیاسی قیادت میں لچک کی کمی نے بات چیت کے راستے مسدود کر دیئے حالانکہ کسی بھی جمہوری معاشرے میں بات چیت مذاکرات اور مکالمہ ہی وہ واحد راستہ ہوتا ہے جو تعطل کو ختم کرنے پالیسیوں میں تسلسل لانے اور قومی یکجہتی پیدا کرنے کا باعث بنتا ہے حکومت اور اپوزیشن دونوں جب اس بات کو تسلیم کرتی ہیں کہ سیاسی مذاکرات وقت کا تقاضا ہیں مگر دونوں جانب سے مفاہمت اور آگے بڑھنے کے لئے خیر سگالی کے جذبات کا فقدان ہے اب تک کے بیانات سے جو چیز واضح نظر آتی ہے وہ باہمی اعتماد کی کمی ہے جس کے ساتھ کوئی بھی دوسرے پر بھروسہ کرنے کو تیار نظر نہیں آتا سیاسی فریقین کو اس صورت حال سے نکلنے کی کوشش کرنی چاہیے ماضی کی غلطیوں کوتاہیوں ناکامیوں سازشوں کا ذکر کرنا سعی لاحصل ہے البتہ ماضی سے عبرت حاصل کرکے اور آئندہ ان غلطیوں کا نہ دھرانا کا عہد کرکے اس کا کچھ نہ کچھ مداوا ضرور کیا جا سکتا ہے سیاسی اختلافات کو ختم کرنا اس وقت کا اولین تقاضا ہے سیاسی رہنماؤں کو چاہیے کہ معاملات کو بگاڑنے کے بجائے مفاہمت کی موجودہ موہوم سی کوشش کو کار آمد امکان میں تبدیل کر کے اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں داخلی علاقائی اور عالمی حالات پاکستان کی سیاسی قیادت کی ہمہ وقتی توجہ چاہتے ہیں سیاسی تصادم کے ماحول میں یہ ذمہ داری مشکلات سے دو چار ہو گی ملک کے داخلی مسائل کا حل دہشت گردی کے سدباب اور معاشی بحران سے نکل کر استحکام کی جانب پیش رفت میں ہے سیاسی قیادت وقتی مفادات سے بالاتر ہوکر ملکی حالات اور واقعات کا باریک بینی سے جائزہ لے اور یہ سمجھنے کی کوشش کرے کہ سیاسی نا چاقی عناد اور تناؤ نے ہمیں قومی سطح پر کس قدر نقصان پہنچایا ہیبہتر یہی ہے کہ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر الزامات لگانے یا شکوک وبشہات کا اظہار کرنے کے بجائے فاصلوں کو کو کم کرنے ایک دوسرے کو سمجھنے اور مذاکراتی عمل کو کامیابی سے ہم کنار کرنے کے لئے سنجیدگی کے ساتھ کوششیں کریں اور اپنے سیاسی مفادات سے بالاتر ہوکر قومی آہنگی کا فروغ دیںاور ملک میں استحکام پیدا کرنے کیلئے اپنی اناؤں کو پس پشت ڈال کر صرف اور صرف ملک و قوم کے مفاد بارے سوچیں ملک کو اس وقت جن مختلف بحرانوں مسائل و مشکلات اور غیر معمولی حالات کا سامنا ہے ان کا مقابلہ غیر معمولی عمل اور قومی آہنگی سے ہی کیا جاسکتا ہے**

