اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) پاکستان کا پانی، قومی بقا کی ریڈ لائن
Share
اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) معرکہ حق میں پاکستان کی شاندار کامیابی کی یاد میں اسلام آباد میں قائم یادگار فتح کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان کے پانی کی ایک ایک بوند ہماری ریڈ لائن ہے بھارت راہ راست پر نہ آیا تو اسے براہ راست جواب دیا جائے گا ہم جنگ نہیں امن چاہتے ہیں، لیکن امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے پاکستان خطے میں استحکام کی علامت بن چکا ہے چاہتے ہیں دنیا نئے تنازعات سے محفوظ رہے کشمیریوں کے لیے ہمارا مقف دو ٹوک ہے قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے قدرت نے پاکستان اور بھارت کوبے مثال آبی نظام دیا ہے جس کا درست استعمال کرکے جنوبی ایشیاء کی پوری آبادی کی غذائی ضروریات کو پورا کیا جا سکتا ہے لیکن بھارت خطے میں اپنے توسیع پسندانہ عزائم کو جلا بخشنے کے لئے جنگی حکمت عملی کے تحت اس لازوال قدرتی آبی نظام کو تباہ کرنے کیلئے دن رات کوشاں ہے پاکستان کے چوبیس کروڑ لوگوں کیلئے لائف لائن کی حیثیت رکھنے والے دریائے سندھ اور معاون دریاوں کے پانی میں کسی بھی رکاوٹ کے سنگین نتائج سے مسلسل خبردار کیا جا رہا ہے مگر بھارتی حکومت کے حالیہ اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ نہ صرف وقتی طور پر بلکہ طویل مدتی بنیادوں پر بھی پانی کے تنازع کو بھڑکانے کی نیت رکھتی ہے سندھ طاس معاہدہ کسی ایک ملک کی صوابدید نہیں عالمی ضمانتوں کے تحت طے شدہ دستاویز ہے پاکستان کے دریائوں پر کسی قسم کی اجارہ داری قائم کرنے کی کوشش سخت نتائج کو جنم دے سکتی ہے پانی پاکستان کی ریڈلائن ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا سندھ طاس معاہدے کے تحت چناب،ل جہلم اور سندھ کے پانی پر پاکستان کا حق ہے اور راوی بیاس اور ستلج کے پانی پر بھارت کا اختیار ہے مگر بھارت کی جانب سے دریائے چناب اور جہلم کے پانی کے بہاؤ پر اثر انداز ہونے کی کوششیں ایک عرصے سے کسی نہ کسی صورت میں جاری ہیں تاہم اس سال معرہ حق میں پاکستان کی ہاتھوں بد ترین شکست کے بعد بھارتی ہندو توا حکومت کی آبی جارحیت اور پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے اقدامات کھل کر سامنے آرہے ہیں پاکستان اور بھارت کے درمیان دریاؤں کے پانی کی تقسیم کا عالمی معاہدہ 1960 میں ہوا تھا اس معاہدے کے تحت آبی تنازعات کو متفقہ طور پر حل کرنے کے لئے فورمز تشکیل دیئے گئے ہیں یہ معاہدہ دریائی پانی کی تقسیم کے حوالے سے اس حد تک مثالی قرار دیا جا سکتا ہے کہ اس سے دونوں ملکوں میں پانی کی تقسیم کا ایک فارمولا طے پایا جس کی پاسداری ہر قسم کے حالات میں کی جاتی رہی تاہم اب مودی سرکار ایک منظم سازش کے تحت سندھ طاس معاہدے کو کمزور اور غیر موثر کرنے کی سازشوں میں مصروف ہے بھارت کے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے اقدامات علاقائی امن اور استحکام کے لئے دن بدن غیر معمولی خطرہ بنتے جا رہے ہیں سندھ طاس معاہدے کی رو سے پاکستان کے لئے طے شدہ حصے میں کمی پانی کے بہاؤ پر اثر انداز ہونے اور اچانک اتار چڑھاؤ کے ہتھکنڈے اور دریائی پانی کو متعصبانہ سیاست کا آلہ کار بنانے کی کوششیں بلا شبہ علاقائی خطرات میں اضافے کی ایک قابل غور اور تشویش ناک وجہ ہیں بھارت کی آبی جارحیت ہر دو صورتوں میں پاکستان میں بحران کا سبب بننے کی صلاحیت رکھتی ہے پاکستان کے چوبیس کروڑ لوگوں کیلئے لائف لائن کی حیثیت رکھنے والے دریائے سندھ اور معاون دریاوں کے پانی میں کسی بھی رکاوٹ کے سنگین نتائج سے مسلسل خبردار کیا جارہا ہے مگر بھارتی حکومت کے حالیہ اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ نہ صرف وقتی طور پر بلکہ طویل مدتی بنیادوں پر بھی پانی کے تنازع کو بھڑکانے کی نیت رکھتی ہے آبی ماہرین بار بار انتباہ کر رہے ہیں کہ بھارت کی آبی جارحانہ کارروائیاں نہ صرف ماحولیاتی تباہی کا سبب بن سکتی ہیں بلکہ پاک بھارت تعلقات مزید خراب ہو سکتے ہیں جس کی تمام تر ذمہ داری مودی سرکار پر عائد ہوگی جو پاکستان دشمنی میں برصغیر کے 2 ارب انسانوں کے مستقبل داؤ پر لگا ری ہے پانی کا مسئلہ صرف ایک زرعی یا معاشی مسئلہ نہیں بلکہ یہ براہ راست انسانی زندگی سے جڑا ہوا ہے اگر تمام تر پر امن کوششوں کے باوجود بھارت آبی جارحیت سے باز نہیں آتا تو عسکری سطح پر رد عمل دینا بھی خارج از امکان نہیں اگرچہ یہ آپشن انتہائی خطرناک اور آخری درجے پر ہے لیکن جب بات قومی بقا اور زندگی کے وسائل کی ہو تو کوئی بھی ریاست خاموش نہیں رہ سکتی بھارتی حکمرانوں کو سمجھنا چاہیے کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا کسی ایٹم بم سے کم نہیں اگر پانی کے مسئلے پر جنوبی ایشیا میں کوئی جنگ چھڑ ی تو یہ دنیا کی مہلک ترین جنگ ثابت ہو سکتی ہے اب بھی وقت ہے بھارت ہوش کے ناخن لے سندھ طاس معاہدے کی پاسداری کرے، اور پانی کو ہتھیار نہ بنائے و گرنہ یہ آبی کشمکش ایک آگ کے شعلوںں میں تبدیل ہوکر پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی اقوامِ متحدہ ورلڈ بینک اور دیگر بین الاقوامی ادارے ثالثی کا کردار ادا کریں اور بھارت کو سندھ طاس معاہدے کی پاسداری پر مجبور کریں اگر اب بھی بھارت کو کھلی چھوٹ دے دی گئی تو یہ ایک خطرناک نظیر قائم ہو گیاور دیگر ممالک بھی بین الاقوامی معاہدوں کو نظر انداز کرنے لگیں گے سندھ طاس معاہدہ ایک تاریخی معاہدہ ہے جس نے گزشتہ چھ دہائیوں سے دونوں ممالک کو پانی کے معاملے میں ایک دوسرے پر حملہ کرنے سے روکے رکھا اگر بھارت آج اس معاہدے کو توڑتا ہے تو کل کو کوئی اور ملک کسی اور معاہدے کو توڑ سکتا ہے اس لیے عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر اس مسئلے پر توجہ دے اور مسئلہ حل کرے پاکستان کو بھی چاہیے کہ وہ صرف ردِعمل پر اکتفا نہ کرے بلکہ پیش بندی کرے۔حکومت پانی کے معاملات پر قومی اتفاق رائے پیدا پانی کی بچت کے لئے عوامی شعور بیدار اور ملکی سطح پر پانی کے انتظامی ڈھانچے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرے یہ وقت قومی یکجہتی، بصیرت اور دور اندیشی کا ہے۔ اگر ہم نے وقت پر اقدامات نہ کئے تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی**

