اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) یوم آزادی کے موقع پر یادگار فتح کی تقریب,روشن مستقبل کی نوید
Share
اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) یوم آزادی قومی عزم اور بے پناہ صلاحیتوں کی یاد دلاتا ہے۔ آج کے دن نوجوان نسل اور وطنِ عزیز کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کا عہد کرتے ہیں۔
یومِ آزادی؛ عزم، قربانی، اتحاد اور روشن مستقبل کا جشن ہے،یومِ آزادی اپنے بزرگوں کی قربانیوں، جدوجہد اور آزادی کے عظیم سفر کو یاد کرنے کا دن ہے۔
پاکستان کے 79ویں یومِ آزادی (14 اگست 2026) کے یادگار موقع پر وفاقی دارالحکومت میں نو تعمیر شدہ یادگارِ فتح (معرکہ حق Monument of Victory) اسلام آباد پر پہلی بار ملکی تاریخ کی سب سے عظیم الشان اور مرکزی تقریبِ آزادی کا انعقاد کیا گیا جس کا باقاعدہ افتتاح وزیرِ اعظم میاں محمد شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے مشترکہ طور پر کیا ۔آزادی کا یہ شاندار شو 13 اور 14 اگست کی درمیانی رات کو یادگارِ فتح کے مقام پر پیش کیا گیا جہاں رات 12 بجتے ہی وزیرِ اعظم شہباز شریف روایتی جوش و خروش سے باقاعدہ پرچم کشائی کی اور قوم سے اہم خطاب فرمایا جبکہ تقریب کا سب سے منفرد حصہ یہاں کی مستقل الیومینیشن ٹیکنالوجی تھی پاکستان کی دفاعی تاریخ اور معرکہِ حق کی لازوال داستان کو روشنیوں کی مدد سے زندہ کیا گیا۔ تاریخ میں پہلی بار منعقد ہونے والی اس مرکزی تقریب میں پاکستان کی دفاعی و عسکری قوت اور جدید ترین آلات کا شاندار ڈسپلے بھی پیش کیاکیا گیا جس میں مسلح افواج کی عسکری قیادت، چیئرمین سینیٹ، سپیکر قومی اسمبلی، تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور کثیر تعداد میں غیر ملکی سفارت کار شریک تھے۔ اس تاریخی شبِ آزادی کو یادگار بنانے کے لیے ایک خصوصی پرومو بھی جاری کیا گیا ہے جو شہریوں کو اس جشن میں شرکت کی دعوت دیتا ہے پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے دستے اپنے روایتی رنگوں کے ساتھ اس جشن کا حصہ تھےتقریب میں پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز کے چاک و چوبند دستے شریک تھے پاکستان کے 79ویں جشن آزادی اور معرکہ حق میں کامیابی کی مناسبت سے پروقار تقریب میں صدر، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل سمیت اعلیٰ سول و عسکری قیادت شریک تھے
تقریب کے دوران پاک فضائیہ کے طیاروں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا، کرتب دکھائے جبکہ ترکیہ اور آذربائیجان کے دستوں کا مارچ پاسٹ کیا دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کرنے والی ہیروز کو خصوصی انکلوژر میں بیٹھایا گیا، ان افراد کا تعلق مختلف شعبوں اور صوبوں و قومیتوں سے تھا۔ ملک کے معروف ڈھولچی اور بین الاقوامی شہرت یافتہ ڈرمر گمبی نے اپنے فن کا مظاہرہ کر کے تقریب کو چار چاند لگائے۔
یومِ آزادی پر پوری قوم اپنے اسلاف کی قربانیوں کو سلام اور تجدیدِ عہد پیش کر رہی ہے۔پاکستان کے 79ویں یومِ آزادی کے موقع پر نوجوانوں نےاپنےجذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہہر سال یومِ آزادی پر ہمارے چہرے بے مقصد نہیں چمکتے،ہم آزاد زمین کی آزاد فضاؤں میں پاکستان کا پرچم فخر سے لہراتے ہیں،ہم سلام پیش کرتے ہیں اپنے اسلاف کوجن کی لازوال قربانیوں نے ہمیں آزاد اور روشن پاکستان عطا کیا۔ نوجوانوں نے کہا کہ ہمیں پاکستان ملا، ہم اسی عظیم جذبہ کے وارث ہیں ،اسی لیے ہم صرف آزادی نہیں مناتے بلکہ اسے آگے بھی بڑھاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشکل جتنی بھی بڑی ہو، ہر جیت کے سر کا تاج ہیں ہم،ہم پاکستان کا کل بھی ہیں اور اس دھرتی کا آج بھی ہیں۔قربانیوں کی یہ میراث سنبھالے، نوجوان نسل پاکستان کو مزید مضبوط اور روشن بنانے کیلیے پُرعزم ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کے نقشے پر قومیں جنم تو لیتی ہیں، لیکن نظریہ پاکستان جیسی سچی اور گہری بنیادیں تاریخِ عالم میں شاذ و نادر ہی کسی ریاست کے حصے میں آئی ہوں۔ 14 اگست محض کیلنڈر کی ایک تاریخ یا سرکاری تعطیل کا دن نہیں ہے، بلکہ یہ برصغیر کے کروڑوں مسلمانوں کے اس پاکیزہ خون کی سرخی ہے جو انہوں نے ایک آزاد وطن کے خواب کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے بہایا تھا۔ آزادی کا یہ سفر کسی عیش و عشرت یا اقتدار کی ہوس کا سفر نہیں تھا، یہ ایک کٹھن، پرپیچ اور خون آلود راستہ تھا جس پر ہمارے اسلاف صرف اور صرف اپنے ایمان کی دولت اور پختہ عزم کے سہارے گامزن رہے۔
یہ سفر ایک ایسے نظریے پر استوار تھا جہاں مسلمانوں کو اپنی مذہبی, ثقافتی اور معاشی بقا خطرے میں نظر آ رہی تھی، اور انہوں نے وقت کی سب سے بڑی نوآبادیاتی طاقت اور اکثریتی عصبیت کے گٹھ جوڑ کے خلاف بغاوت کا علم بلند کیا۔
جب ہم قربانی کے اس سفر کا ورق ورق الٹتے ہیں، تو روح کانپ اٹھتی ہے اور آنکھیں اشکبار ہو جاتی ہیں۔ تحریکِ پاکستان کا کوئی ایک دن بھی ایسا نہیں تھا جو کسی قربانی سے خالی ہو۔ وہ مائیں جنہوں نے اپنے جگر گوشوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے کٹتے دیکھا، وہ بہنیں جن کی عصمتیں لٹ گئیں، اور وہ بوڑھے باپ جو اپنے جوان بیٹوں کے لاشے چھوڑ کر ہجرت کی راہ پر نکل کھڑے ہوئے—ان سب کی قربانیاں اس مٹی کا قرض ہیں۔
تاریخِ انسانی نے ہجرت کا اتنا بڑا اور دردناک منظر پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا، جب لاکھوں خاندان اپنا سب کچھ، اپنے آباء و اجداد کی قبریں، اپنے بھرے پرے گھر اور جائیدادیں چھوڑ کر صرف ایک نام “پاکستان” کی آس میں نکل پڑے۔ خون سے لت پت ریل گاڑیاں جب لاہور کے اسٹیشن پر پہنچتی تھیں، تو وہ کسی المیے کی داستان نہیں بلکہ ایک نئی سحر کی نوید ہوتی تھیں، جس کے لیے مسلمانوں نے ہنس کر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔
اس بے مثال اور لازوال قربانی کے سفر میں جس قوت نے معجزے کا کام کیا، وہ مسلمانوں کا “بے لوث اتحاد” تھا، جس نے تمام تر تفریق کو مٹا کر انہیں ایک ناقابلِ تسخیر قوت میں تبدیل کر دیا۔آج اگر ہم اپنے موجودہ حالات پر نظر ڈالیں تو تمام تر اندرونی و بیرونی چیلنجز کے باوجود، پاکستانی قوم دنیا کی باصلاحیت ترین اقوام میں شمار ہوتی ہے۔
پاکستان دنیا کی پہلی مسلم اور مجموعی طور پر ساتویں ایٹمی طاقت ہے، جس کا دفاع ہماری غیور اور بہادر افواج کے مضبوط ہاتھوں میں ہے۔ لیکن اس ملک کا سب سے بڑا سرمایہ اس کے مٹی سے جڑے باصلاحیت انسان ہیں۔
ہماری کل آبادی کا ساٹھ فیصد سے زائد حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، جو دنیا کی سب سے بڑی اور متحرک افرادی قوت میں سے ایک ہے۔
طبی میدان ہو یا انفارمیشن ٹیکنالوجی، کھیل کا میدان ہو یا سائنسی تحقیق، ہر جگہ پاکستانیوں نے اپنی خداداد ذہانت کا لوہا منوایا ہے۔ دنیا بھر میں اپنی مہارت کا ڈنکا بجانے والے ہمارے ڈاکٹرز، انجینئرز، اور دنیا کی ڈیجیٹل مارکیٹ میں نمایاں مقام رکھنے والے ہمارے فری لانسرز اس بات کا واشگاف ثبوت ہیں کہ اس قوم کی مٹی بے حد زرخیز ہے۔کسی بھی معاشرے کی حقیقی ترقی اس وقت تک ناممکن ہے جب تک اس کی نصف آبادی، یعنی خواتین، مردوں کے شانہ بشانہ قومی دھارے میں شامل نہ ہوں۔
تحریکِ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح، بیگم رانا لیاقت علی خان اور لیڈی نصرت ہارون جیسی عظیم خواتین نے بانیِ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے شانے سے شانہ ملا کر کام کیا۔ آج کا جدید پاکستان اپنی بیٹیوں کی کامیابیوں پر فخر کرتا ہے۔ زندگی کا کوئی ایسا شعبہ نہیں ہے جہاں پاکستانی خواتین نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا نہ منوایا ہو۔ مسلح افواج، پولیس اور ایوی ایشن سے لے کر کارپوریٹ سیکٹر تک، خواتین ملکی معیشت اور دفاع میں اپنا بھرپور حصہ ڈال رہی ہیں۔ ارفع کریم سے لے کر ثمینہ بیگ تک، ان سب خواتین نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا مثبت اور روشن چہرہ متعارف کروایا ہے۔ روشن مستقبل کی نوید اس وقت تک ادھوری ہے جب تک ہم اپنی خواتین کو تعلیم، صحت، روزگار اور تحفظ کے یکساں حقوق فراہم نہیں کرتے۔
تعمیرِ وطن کا عمل کسی بھی ریاست کے لیے ایک مسلسل اور تھکا دینے والا سفر ہوتا ہے، اور اس سفر کو تیز تر کرنے کا اکیلا سہرا نوجوانوں کے سر سجاتا ہے۔ موجودہ دور میں، جہاں دنیا روایتی معیشت سے نکل کر علم پر مبنی معیشت (Knowledge Economy) کی طرف گامزن ہے، وہاں پاکستان کے نوجوانوں پر تعمیرِ وطن کی دگنی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔اب جنگیں سرحدوں پر ہتھیاروں سے زیادہ، تعلیمی اداروں اور ڈیجیٹل اسکرینوں پر فکری صلاحیتوں سے لڑی جا رہی ہیں۔ ہمارے نوجوانوں کو صرف ڈگریوں کے حصول تک محدود نہیں رہنا، بلکہ تحقیق، ایجادات اور تخلیقی صلاحیتوں کو اپنا شعار بنانا ہوگا۔ معاشی استحکام کے ساتھ ساتھ، تعمیرِ وطن کا ایک اہم ترین پہلو معاشرتی اور اخلاقی تعمیر بھی ہے۔ نوجوانوں کو سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے مایوسی اور تقسیم کے پروپیگنڈے کو مسترد کر کے تعمیری تنقید اور مثبت سرگرمیوں کو اپنا شعار بنانا ہوگا۔
یہ سچ ہے کہ اپنے 79ویں سال میں داخل ہوتے ہوئے ہمیں معاشی, سیاسی اور سماجی سطح پر کئی سنگین نوعیت کے چیلنجز کا سامنا ہے، لیکن مایوسی اور ناامیدی مسلمان کا شیوہ نہیں ہوسکتی۔ تاریخ گواہ ہے کہ زندہ قومیں چیلنجز سے گھبرا کر پیچھے نہیں ہٹتیں بلکہ انہیں مواقع میں تبدیل کرتی ہیں۔
روشن مستقبل کی نوید اس وقت تک سچی اور تعبیر آشنا نہیں ہو سکتی جب تک ہم بانیِ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے سنہری اصولوں “ایمان، اتحاد اور نظم و ضبط” کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں کا محور نہ بنا لیں۔
ہمیں لسانیت، صوبائیت، اور فرقہ واریت کی تمام تر فصیلوں کو گرا کر صرف اور صرف “ایک پاکستانی” کے طور پر سوچنا ہوگا۔ آئیے آج کے اس پرمسرت اور تاریخی دن پر ہم سب مل کر یہ پختہ عہد کریں کہ ہم اپنی تمام تر انفرادی اور اجتماعی صلاحیتوں کو اس پاک دھرتی کی تعمیر و ترقی کے لیے وقف کر دیں گے۔ ہم اپنے اسلاف کی قربانیوں کی لاج رکھیں گے اور ایک ایسا پرامن، خوشحال اور مضبوط پاکستان آنے والی نسلوں کو سونپیں گے جس کا خواب علامہ اقبال نے دیکھا تھا اور جس کی تعبیر قائد اعظم نے حاصل کی تھی,
79واں یومِ آزادی: قربانی کا سفر، صلاحیتوں کا ادراک اور روشن مستقبل کی نویدپاکستان کا 79واں یومِ آزادی محض ایک تاریخی دن کا جشن نہیں، بلکہ یہ ایک عظیم جدوجہد کی یاد، اپنی اندرونی صلاحیتوں کو پہچاننے کا لمحہ اور ایک درخشاں مستقبل کی طرف قدم بڑھانے کا عزم ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ برصغیر کے مسلمانوں نے ایک آزاد وطن کے حصول کے لیے مال، جان اور عزتوں کی وہ لازوال قربانیاں دیں جن کی مثال تاریخِ انسانی میں کم ہی ملتی ہے۔ اس بے لوث قربانی کے سفر کا مقصد ایک ایسی ریاست کا قیام تھا جہاں عدل، انصاف اور آزادی کا راج ہو۔آج، آزادی کے اس طویل سفر کے بعد، یہ وقت ماضی کی قربانیوں کو یاد کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی قومی اور انفرادی صلاحیتوں کے ادراک کا بھی ہے۔ پاکستان ایک ایسا خوش قسمت ملک ہے جسے قدرت نے بے پناہ قدرتی وسائل، سدا بہار موسموں اور سب سے بڑھ کر ایک انتہائی باصلاحیت اور نوجوان افرادی قوت سے نوازا ہے۔ ہماری نوجوان نسل دنیا بھر میں سائنس، ٹیکنالوجی، کھیل اور فنونِ لطیفہ کے میدانوں میں اپنی قابلیت کا لوہا منوا رہی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم مایوسی کے اندھیروں کو چیر کر اپنی ان صلاحیتوں کو پہچانیے، انہیں درست سمت میں استعمال کریں اور ملک کی ترقی کے لیے یکجا ہو جائیں۔79واں سالِ آزادی ہمارے لیے ایک روشن مستقبل کی نوید بن کر ابھر سکتا ہے، بشرطیکہ ہم بحیثیت قوم قائدِ اعظم محمد علی جناح کے سنہری اصولوں “ایمان، اتحاد اور تنظیم” پر کاربند ہو جائیں۔ موجودہ دور کے چیلنجز خواہ وہ اقتصادی ہوں یا سماجی، ہمیں ایک مضبوط اور مستحکم قوم بننے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ اگر ہم تعلیم کے فروغ، میرٹ کی بالادستی، اور دیانت داری کو اپنا شعار بنا لیں، تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک معاشی اور سماجی قوت بن کر ابھرے گا۔ آئیے اس یومِ آزادی پر عہد کریں کہ ہم اپنی تلخیوں کو بھلا کر، امید کا دامن تھامے، ایک پرامن، خوشحال اور روشن پاکستان کی تعمیر میں اپنا مثبت کردار ادا کریں گے۔

