LOADING

Type to search

Islamabad National

اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) معاہدۂ مکہ پاکستان کا مزید ممالک کی شمولیت کا خیرمقدم

Share

اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) پاکستان نے میثاقِ میں دیگر برادر اور علاقائی مسلم ممالک کی شمولیت کے امکان کا کھل کر خیرمقدم کیا ہے۔
پاکستان نے معاہدۂ مکہ میں مزید ممالک کی شمولیت کا خیرمقدم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنانا ہے۔دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا کہ مکہ معاہدے کے تحت ایک ملک پر حملہ تمام ممالک پر حملہ تصور ہوگا۔مزید کہا کہ 7 اگست کو ہونے والا مکہ سمٹ انتہائی اہمیت کا حامل تھا، جبکہ مکہ معاہدہ برادرانہ تعلقات میں اہم پیش رفت اور امن و استحکام کے عزم کا عکاس ہے۔ پاکستان نے مکہ معاہدے کے لیے اہم ترین کردار ادا کیا ہے۔ معاہدہ تینوں ممالک کی سیکیورٹی کے لیے اہم ہے اور کسی بھی جارحیت کی صورت میں مشترکہ دفاع کے لیے ہے۔ پاکستان اس میں مزید ممالک کی شمولیت کا خیرمقدم کرے گا,پاکستان چیلنجز کے باوجود خطے میں امن کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سعودی عرب، ایران اور کویت کے وزرائے خارجہ سے رابطہ کیا، جبکہ 11 اگست کو بحرین کے وزیر خارجہ سے بھی گفتگو ہوئی۔ بحرینی وزیر خارجہ نے مکہ معاہدے پر پاکستان کو مبارکباد دی۔پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے بطور ثالث پرامید ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان اسلام آباد مفاہمت کے حوالے سے پاکستان اپنا موقف پہلے ہی واضح کرچکا ہے۔ان کے مطابق جب فریقین کشیدگی اور تنازع سے تھک جائیں گے تو امن کا جو فریم ورک اسلام آباد مفاہمت پیش کرتا ہے، وہی مذاکرات کی بنیاد بن سکتا ہے۔ اسلام آباد مفاہمت پر عملدرآمد کی مدت ختم ہونے میں 5 روز باقی ہیں۔ترجمان نے بتایا کہ وفاقی وزیر داخلہ ایران کے دورے پر ہیں اور ایرانی قیادت سے ان کی ملاقاتیں ہوئی ہیں، جن میں امن اور دوطرفہ تعلقات پر بات چیت کی گئی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ان ملاقاتوں میں ہونے والی بات چیت یا پیغامات کی تفصیلات جاری نہیں کی جاسکتیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی گئی ہے۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ عمان اور ایران کے درمیان مذاکرات کو پاکستان اور دوست ممالک کی حمایت حاصل ہے۔ آبنائے ہرمز کے حوالے سے کسی بھی معاہدے کی بڑی اہمیت ہوگی اور توقع ہے کہ مشکلات کے باوجود ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست مذاکرات جلد شروع ہوں گے۔ ایران میں فوجی قیادت کی تبدیلی اس کا اندرونی معاملہ ہے اور پاکستان اس حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کرے گا۔طاہر اندرابی نے باب المندب میں تجارتی جہاز پر حوثیوں کے حملے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ بحیرہ احمر میں جہاز رانی کے لیے خطرات بڑھ گئے ہیں اور پاکستان صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ پاکستان بین الاقوامی پانیوں میں آزادانہ اور محفوظ جہاز رانی کی حمایت کرتا ہے اور اس حوالے سے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان آزاد کشمیر کے عوام سمیت تمام کشمیریوں کے مکمل حقوق پر یقین رکھتا ہے۔
انہوں نے پاک ایران سرحد کے حوالے سے کہا کہ پاکستان مؤثر بارڈر کنٹرول یقینی بناتا ہے اور ایران کے ساتھ بھی یہی پالیسی ہے۔ ایرانی صدر کی جانب سے ایران امریکا جنگ کے دوران پاک ایران سرحد سے کسی شرپسند کو داخل نہ ہونے دینے کے بیان کا خیرمقدم کرتے ہیں اور اس پر ایرانی صدر کے مشکور ہیں۔
پاکستان سعودی عرب کی سلامتی کے لیے قائم اتحاد کا حصہ ہے۔ پاکستان بین الاقوامی پانیوں میں محفوظ جہاز رانی یقینی بنانے کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کو تیار ہے۔
مکہ معاہدہ واضح ہے اور اس کا مقصد کسی جارحیت کی صورت میں مشترکہ دفاع ہے۔ پاکستان معاہدے سے متعلق کسی بھی منفی تاثر یا منفی معاہدے کو مسترد کرتا ہے۔
پاکستان امریکا اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدے کا جائزہ لے رہا ہے۔ پاکستان سعودی عرب کے سول جوہری توانائی کے حق کا احترام اور حمایت کرتا ہے، تاہم اس حوالے سے تفصیلی بیان معاہدے کی مکمل تفصیلات سامنے آنے کے بعد جاری کیا جائے گا۔امریکی محکمہ خارجہ کی ٹرانسپیرنسی رپورٹ سے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا کہ پاکستان آئی ایم ایف پروگرام میں شامل ہے اور اس حوالے سے اصلاحاتی ایجنڈا پہلے ہی جاری کیا جاچکا ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام کے 3 جائزے مکمل ہوچکے ہیں۔
حکومت پاکستان کے طریقہ کار میں معاہدوں پر دستخط کے لیے باقاعدہ قانونی طریقہ کار موجود ہے۔ وزیراعظم نے معاہدے پر دستخط کیے جو قائدِ ایوان ہیں۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے 10 اگست کو واضح کیا تھا کہ مکہ معاہدہ وزیراعظم، چیف آف ڈیفنس فورسز اور دفتر خارجہ کی حمایت سے کیا گیا۔ترجمان دفتر خارجہ نے یقین دلایا کہ معاہدے سے قبل، اس کے بعد اور فی الوقت تمام قانونی مراحل پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔ حکومتِ پاکستان کے مطابق، اس تاریخی دفاعی اور سیکیورٹی بلاک کا مقصد خطے میں فوجی توازن برقرار رکھنا اور امن و سلامتی کو فروغ دینا ہے، نہ کہ کسی مخصوص ملک کے خلاف جارحیت کرنا۔مکہ مکرمہ کی سرزمیں پر طے پانے والا سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کا مشترکہ دفاعی معاہدہ مسلم امہ کا ایک ابدی اور ناقابلِ تسخیر سیکیورٹی بلاک بننے جا رہا ہے۔ اس تاریخی بلاک کی گونج بیجنگ تک جا پہنچی ہے جہاں چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے نہ صرف اس کی تائید کی بلکہ ایک نئے عالمی “سیکیورٹی چارٹر” کی تجویز بھی پیش کر دی ہے۔دوسری جانب، اس سال 14 اگست کو یومِ آزادی کے موقع پر اسلام آباد کے پریڈ گراؤنڈ میں ملکی تاریخ کا سب سے بڑا عسکری سرپرائز تیار ہے۔ “میثاقِ مکہ” کے تحت پہلی بار سعودی اور ترک افواج کے دستے پاکستانی دھرتی پر قدم ملا کر مارچ کریں گے، جبکہ پاکستان کا نیا تھرڈ جنریشن “حیدر ٹینک”، “شاہپر-2” ڈرونز اور تباہ کن “ابابیل” میزائل سسٹم دنیا کے سامنے ملکی عسکری خودمختاری کا لوہا منوائیں گے۔ترکیہ اور سعودی عرب کی جانب سے دیگر ممالک کو دی جانے والی پیشکش اور پاکستان کے تزویراتی موقف کی اہم تفصیلات درج ذیل ہیں:
1۔ مصر کی ممکنہ شمولیت : مکہ معاہدے کے فوری بعد ترک دفاعی اور سفارتی حکام کی جانب سے یہ اشارے دیے گئے ہیں کہ اس سیکیورٹی اتحاد کو مزید وسعت دینے کے لیے مصر کو سب سے بنیادی اور مضبوط امیدوار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ مصر کی شمولیت سے اس دفاعی بلاک کو نہ صرف افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ کے سنگم پر ایک زبردست تزویراتی پوزیشن حاصل ہو جائے گی بلکہ مصری فوج کا وسیع جنگی تجربہ اس اتحاد کو مزید مضبوط بنائے گا۔ پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے واضح کیا ہے کہ یہ اتحاد کسی بھی تیسرے ملک کے خلاف کوئی جارحانہ عزائم نہیں رکھتا، بلکہ یہ خالصتاً ایک اجتماعی دفاعی معاہدہ ہے پاکستان کا ماننا ہے کہ دیگر مسلم ممالک کی شمولیت سے او آئی سی (OIC) کے ممالک کے پاس ایک ایسا عملی اور مضبوط سیکیورٹی فریم ورک موجود ہوگا جو مسلم اقلیتوں کے تحفظ اور علاقائی خودمختاری کی جنگ لڑنے میں مددگار ثابت ہو سکے گا۔ اگرچہ ماضی کے علاقائی تنازعات کی وجہ سے قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں، لیکن پاکستان اور ترکیہ کی سفارتی کوششوں کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ اس بلاک کو کسی بھی برادر مسلم ملک (جیسے ایران) کے خلاف صف بندی کے طور پر نہ دیکھا جائے، بلکہ اسے خطے میں اسرائیل اور دیگر بیرونی خطرات کے خلاف ایک مضبوط دفاعی ڈھال بنایا جائے۔مکہ معاہدے کی تزویراتی وسعت اور افادیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان نے اس سیکیورٹی بلاک میں دیگر برادر اور علاقائی مسلم ممالک کی ممکنہ شمولیت کا کھل کر خیرمقدم کیا ہے۔ اندر کی بات یہ ہے کہ ترکیہ اور سعودی عرب کے سفارتی حلقوں میں اس تاریخی اتحاد کا دائرہ کار بڑھانے کے لیے پسِ چلمن تیاریاں تیز ہو چکی ہیں، جہاں ترک حکام کی جانب سے مصر کو اس سیکیورٹی بلاک کا اگلا سب سے اہم اور مضبوط ترین امیدوار قرار دیا جا رہا ہے۔ مصر کی ممکنہ شمولیت سے نہ صرف اس اتحاد کو افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ کے سنگم پر ایک ناگزیر جغرافیائی پوزیشن حاصل ہو جائے گی، بلکہ مصری افواج کا روایتی عسکری وزن اس بلاک کو دنیا کے طاقتور ترین دفاعی اتحادوں کے مقابل لا کھڑا کرے گا۔ پاکستان کا یہ واشگاف موقف کہ وہ مزید ممالک کی آمد کا خیرمقدم کرتا ہے، دراصل وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کے اس بیانیے کی تائید ہے کہ یہ معاہدہ کسی تیسرے ملک (جیسے ایران) کے خلاف جارحانہ صف بندی نہیں، بلکہ مسلم امہ کی اجتماعی سلامتی، علاقائی خودمختاری اور بیرونی خطرات کے خلاف ایک مشترکہ اور ابدی دفاعی ڈھال ہے جو مستقبل میں خطے کا جیو پولیٹیکل نقشہ بدلنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ دوسری جانب، برادر ملک سعودی عرب کے پاس نہ صرف بڑے پیمانے پر دفاعی پیداوار کو مقامی بنانے کے لیے درکار بے پناہ مالی وسائل موجود ہیں، بلکہ وہ پہلے ہی پاکستان کے ساتھ مشترکہ فوجی تعاون کے متعدد اہم اسٹرٹیجک معاہدے کر چکا ہے۔ لہٰذا یہ کہنا بالکل بے جا نہیں ہوگا کہ یہ تینوں ممالک اس سہ فریقی معاہدے کے ذریعے ایک دوسرے کی متبادل صلاحیتوں سے خاطر خواہ فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔ قومی سطح پر یہ امید کی جانی چاہیے کہ اس تاریخی اتحاد کے نتیجے میں پاکستان کی اپنی دفاعی صنعت بھی جدید خطوط پر استوار اور مضبوط ہوگی، جس سے ملک کو مستقبل میں مہنگی غیر ملکی دفاعی درآمدات پر انحصار کم کرنے اور قیمتی زرمبادلہ بچانے میں نمایاں مدد ملے گی۔تاہم، ان تمام مثبت پہلوؤں کے باوجود موجودہ معاشی حقائق کے مطابق تینوں رکن ممالک میں سے پاکستان کی معیشت اب بھی شدید کمزوری کا شکار ہے، جو کہ ایک گہرا تشویش ناک امر ہے۔ معاشی صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ ماہ وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے باضابطہ طور پر امریکہ سے 10 ارب ڈالر کی دوطرفہ زرمبادلہ کے استحکام کی معاونت (Foreign Exchange Stabilization Facility) کی درخواست کی ہے۔ یہ پانچ سالہ سہولت زرمبادلہ کے ذخائر کو عارضی سہارا دینے یا ملکی کرنسی کو مستحکم کرنے کے لیے ڈالر، کرنسی سواپس یا ضمانتیں فراہم کرتی ہے، جس کا بظاہر مقصد ملکی ذخائر کو بڑھانا، روپے کو گرنے سے روکنا اور آئی ایم ایف (IMF) پر حد سے زیادہ انحصار کم کرنا ہے۔اگرچہ معاشی ماہرین کی نظر میں اسے محض ایک پرانا قرض اتارنے کے لیے دوسرا نیا قرض لینے کے مترادف ہی قرار دیا جا سکتا ہے، جس سے وزیراعظم شہباز شریف کے اس عوامی عزم کی روح بھی شدید متاثر ہوتی ہے کہ موجودہ آئی ایم ایف پروگرام پاکستان کی تاریخ کا آخری قرض ہوگا؛ لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہماری معیشت بدستور مشرقِ وسطیٰ کے جاری تنازع سے جڑے منفی جغرافیائی سیاسی عوامل (Geopolitical Risks) کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ ملک اس وقت اپنے موجودہ اخراجات پورے کرنے کے لیے بیرونی اور داخلی قرضوں پر حد سے زیادہ انحصار کا اسیر ہو چکا ہے، جس کا ملکی شرح نمو (GDP Growth) یا بے روزگاری کی سطح کو کم کرنے پر کوئی نمایاں یا مثبت اثر نہیں پڑ رہا۔اندر کی بات یہ ہے کہ اگر ہم نے مکہ معاہدے کے تزویراتی فوائد کو حاصل کرنا ہے، تو ہمیں اپنے موجودہ غیر ترقیاتی اخراجات میں کم از کم 2 سے 3 کھرب روپے کی فوری اور بڑی کٹوتی لانا ہوگی۔ اخراجات میں یہ کمی ملک میں نسبتاً نرم اور کاروبار دوست مالیاتی پالیسی اختیار کرنے کی گنجائش پیدا کرے گی، جس کے نتیجے میں جمود کا شکار صنعتی ترقی کو دوبارہ فروغ ملے گا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اس معاشی اصلاح کے بعد ہی مکہ معاہدے کے نتیجے میں برادر ممالک سے ممکنہ طور پر آنے والی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کو محض مقامی ضروریات پوری کرنے کے بجائے، زیادہ قدر پیدا کرنے والی (High Value-Added) اور برآمدی صلاحیت رکھنے والی جدید صنعتوں میں منتقل کیا جا سکے گا، تاکہ پاکستان مستقل بنیادوں پر اپنے پاؤں پر کھڑا ہو اس وقت بین الاقوامی سفارتی اور دفاعی حلقوں میں قیاس آرائیوں کا بازار گرم ہو چکا ہے۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ یہ معاہدہ ایران کے خلاف ایک تزویراتی دیوار ہے، بالخصوص امریکہ اور اسرائیل کے خلاف ایران کے ان جوابی حملوں کے بعد جن میں خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کے ساتھ ساتھ شہری بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصانات پہنچے تھے۔ دوسری جانب، تجزیہ کاروں کا ایک دھڑا براہِ راست اسرائیل کی طرف اشارہ کرتا ہے، جس کی وجہ خطے میں تل ابیب کے غیر قانونی اور جارحانہ اقدامات کے لیے واشنگٹن کی غیر مشروط اور اندھی حمایت ہے۔ ان اقدامات میں امریکی اتحادیوں کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کا طویل سلسلہ شامل ہے، جس کی ایک بڑی مثال 9 ستمبر 2025ء کو قطر کے دارالحکومت دوحہ پر کیا جانے والا حملہ تھا۔ اس سنگین اور پیچیدہ جیو پولیٹیکل صورتحال کے پیشِ نظر، پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے فوری طور پر موقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ خالصتاً ایک “دفاعی معاہدہ” ہے اور یہ کسی بھی مخصوص ملک کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتا۔اس پورے منظر نامے میں دو بنیادی نکات نہایت کلیدی اور دور رس اہمیت کے حامل ہیں۔ اولاً، مکہ معاہدہ 1980ء کی دہائی میں امریکی تھنک ٹینکس کی اس سٹرٹیجک سوچ کی یاد دلاتا ہے جس کے تحت ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ میں نیٹو کے طرز پر کثیرالجہتی اجتماعی دفاعی معاہدوں کی کھل کر حمایت کی جاتی تھی۔ یہ معاہدے دراصل 1970ء کی دہائی میں تحلیل ہونے والے سیٹو (SEATO) اور سینٹو (CENTO) کے متبادل کے طور پر سوچے گئے تھے، لیکن بعد میں امریکہ نے اس کثیرالجہتی پالیسی کو ترک کر کے مسلم ممالک کے ساتھ براہِ راست دوطرفہ عسکری روابط، اسلحے کی فروخت اور خصوصی فوجی اڈوں تک رسائی کے یکطرفہ معاہدوں کو ترجیح دی۔ تاہم، حالیہ 28 فروری کے بعد ایرانی میزائل حملوں کے باعث امریکہ کا یہ سیکیورٹی ڈھانچہ شدید متاثر ہوا، جس نے مسلم دنیا کو اپنے تحفظ کے لیے نئے راستے تلاش کرنے پر مجبور کیا۔دوم، ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے خطے کے دیگر مسلم ممالک کو بھی اس تزویراتی معاہدے میں شمولیت کی باضابطہ پیشکش کی ہے، جس کا بنیادی مقصد مسلم امہ کے درمیان سیکیورٹی اور بھائی چارے کے تعلقات کو مستقل بنیادوں پر مضبوط بنانا ہے۔ کچھ ماہرین کے مطابق، اس تزویراتی اقدام کا ایک اور بڑا مقصد غیر مسلم ممالک کی جانب سے مسلم اقلیتوں کو درپیش سنگین مسائل اور مظالم کو ایک مضبوط مذہبی و سفارتی تناظر فراہم کرنا ہے۔ یہاں یہ بات بھی انتہائی قابلِ ذکر ہے کہ 5 اگست 2026ء کو اسلامی تعاون تنظیم (OIC)—جو ماضی میں بھارت کے خلاف جرات مندانہ اور عملی فیصلے کرنے میں ہمیشہ ہچکچاہٹ کا شکار رہی ہے—نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی جیو پولیٹیکل حیثیت ختم کیے جانے کے سات سال مکمل ہونے پر ایک غیر معمولی اور سخت بیان جاری کیا ہے۔ او آئی سی نے نہ صرف بھارت سے اپنے تمام یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے بلکہ کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کا احترام کرنے پر بھی زور دیا ہے۔اس نئے ابھرتے ہوئے سیکیورٹی بلاک کے تینوں بانی ممالک غیر معمولی دفاعی صلاحیتیں اور وسائل رکھتے ہیں۔ پاکستان اس معاہدے میں دہائیوں کا طویل جنگی تجربہ رکھنے والی دنیا کی بہترین پیشہ ور فوج کے ساتھ ساتھ اپنا ناقابلِ تسخیر جوہری ہتھیاروں کا ذخیرہ (Nuclear Deterrence) بھی لے کر آتا ہے۔ پاکستان تاحال مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طاقت ہے، جس کا تاریخی سہرا بلاشبہ قائدِ عوام ذوالفقار علی بھٹو شہید کی دور اندیشی کو جاتا ہے جنہوں نے کٹھن حالات میں اس نیوکلیئر پروگرام کی بنیاد رکھی، اور بعد ازاں میاں محمد نواز شریف کے اس تاریخی اور دلیرانہ فیصلے کو جاتا ہے جنہوں نے مئی 1998ء میں عالمی طاقتوں اور امریکہ کے شدید ترین معاشی و سیاسی دباؤ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے چاغی کے پہاڑوں میں دھماکے کر کے پاکستان کے دفاع کو ہمیشہ کے لیے ناقابلِ تسخیر بنا دیا۔ مکہ معاہدہ اسی جوہری اور عسکری طاقت کو مسلم امہ کے تحفظ کی نئی ڈھال فراہم کرتا ہے۔معاہدے کے دیگر شراکت داروں کا جائزہ لیا جائے تو ترکیہ، جو خود نیٹو (NATO) کا ایک اہم اور سرگرم رکن ہے، اس وقت دنیا کی مضبوط ترین دفاعی صنعتی بنیادوں میں سے ایک کا حامل ہے۔ ان کی دفاعی صنعت میں بالخصوص “بائیکار” (Baykar) کا عالمی شہرت یافتہ جدید ترین ڈرون نظام اور ففتھ جنریشن لڑاکا طیارے “کان” (KAAN) کا انقلابی پروگرام شامل ہیں، جو فضائی جنگ کے مروجہ اصول بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ دوسری جانب، برادر ملک سعودی عرب کے پاس نہ صرف بڑے پیمانے پر دفاعی پیداوار کو مقامی بنانے کے لیے درکار بے پناہ مالی وسائل موجود ہیں، بلکہ وہ پہلے ہی پاکستان کے ساتھ مشترکہ فوجی تعاون کے متعدد اہم اسٹرٹیجک معاہدے کر چکا ہے۔ لہٰذا یہ کہنا بالکل بے جا نہیں ہوگا کہ یہ تینوں ممالک اس سہ فریقی معاہدے کے ذریعے ایک دوسرے کی متبادل صلاحیتوں سے خاطر خواہ فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔ قومی سطح پر یہ امید کی جانی چاہیے کہ اس تاریخی اتحاد کے نتیجے میں پاکستان کی اپنی دفاعی صنعت بھی جدید خطوط پر استوار اور مضبوط ہوگی، جس سے ملک کو مستقبل میں مہنگی غیر ملکی دفاعی درآمدات پر انحصار کم کرنے اور قیمتی زرمبادلہ بچانے میں نمایاں مدد ملے گی۔تاہم، ان تمام مثبت پہلوؤں کے باوجود موجودہ معاشی حقائق کے مطابق تینوں رکن ممالک میں سے پاکستان کی معیشت اب بھی شدید کمزوری کا شکار ہے، جو کہ ایک گہرا تشویش ناک امر ہے۔ معاشی صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ ماہ وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے باضابطہ طور پر امریکہ سے 10 ارب ڈالر کی دوطرفہ زرمبادلہ کے استحکام کی معاونت (Foreign Exchange Stabilization Facility) کی درخواست کی ہے۔ یہ پانچ سالہ سہولت زرمبادلہ کے ذخائر کو عارضی سہارا دینے یا ملکی کرنسی کو مستحکم کرنے کے لیے ڈالر، کرنسی سواپس یا ضمانتیں فراہم کرتی ہے، جس کا بظاہر مقصد ملکی ذخائر کو بڑھانا، روپے کو گرنے سے روکنا اور آئی ایم ایف (IMF) پر حد سے زیادہ انحصار کم کرنا ہے۔اگرچہ معاشی ماہرین کی نظر میں اسے محض ایک پرانا قرض اتارنے کے لیے دوسرا نیا قرض لینے کے مترادف ہی قرار دیا جا سکتا ہے، جس سے وزیراعظم شہباز شریف کے اس عوامی عزم کی روح بھی شدید متاثر ہوتی ہے کہ موجودہ آئی ایم ایف پروگرام پاکستان کی تاریخ کا آخری قرض ہوگا؛ لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہماری معیشت بدستور مشرقِ وسطیٰ کے جاری تنازع سے جڑے منفی جغرافیائی سیاسی عوامل (Geopolitical Risks) کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ ملک اس وقت اپنے موجودہ اخراجات پورے کرنے کے لیے بیرونی اور داخلی قرضوں پر حد سے زیادہ انحصار کا اسیر ہو چکا ہے، جس کا ملکی شرح نمو (GDP Growth) یا بے روزگاری کی سطح کو کم کرنے پر کوئی نمایاں یا مثبت اثر نہیں پڑ رہا۔اندر کی بات یہ ہے کہ اگر ہم نے مکہ معاہدے کے تزویراتی فوائد کو حاصل کرنا ہے، تو ہمیں اپنے موجودہ غیر ترقیاتی اخراجات میں کم از کم 2 سے 3 کھرب روپے کی فوری اور بڑی کٹوتی لانا ہوگی۔ اخراجات میں یہ کمی ملک میں نسبتاً نرم اور کاروبار دوست مالیاتی پالیسی اختیار کرنے کی گنجائش پیدا کرے گی، جس کے نتیجے میں جمود کا شکار صنعتی ترقی کو دوبارہ فروغ ملے گا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اس معاشی اصلاح کے بعد ہی مکہ معاہدے کے نتیجے میں برادر ممالک سے ممکنہ طور پر آنے والی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کو محض مقامی ضروریات پوری کرنے کے بجائے، زیادہ قدر پیدا کرنے والی (High Value-Added) اور برآمدی صلاحیت رکھنے والی جدید صنعتوں میں منتقل کیا جا سکے گا، تاکہ پاکستان مستقل بنیادوں پر اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکے

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »