اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) مسلم دنیا کا نیا دفاعی بلاک مسلم دنیا کا نیا دفاعی بلاک اور بدلتے تزویراتی حقائق گزشتہ دنوں 7 اگست کو جب دنیا بھر کی نظریں مکہ مکرمہ پر مرکوز تھیں، مسلم دنیا کے تین بڑے ممالک—سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ—کے سربراہانِ حکومت نے باضابطہ طور پر ایک ایسے تاریخی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے جس نے عالمی جیو پولیٹکس کا رخ موڑ دیا ہے
Share
اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) مسلم دنیا کا نیا دفاعی بلاک مسلم دنیا کا نیا دفاعی بلاک اور بدلتے تزویراتی حقائق گزشتہ دنوں 7 اگست کو جب دنیا بھر کی نظریں مکہ مکرمہ پر مرکوز تھیں، مسلم دنیا کے تین بڑے ممالک—سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ—کے سربراہانِ حکومت نے باضابطہ طور پر ایک ایسے تاریخی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے جس نے عالمی جیو پولیٹکس کا رخ موڑ دیا ہے۔ اس معاہدے کی سب سے اہم خصوصیت اس میں شامل وہ شق ہے جو بعینہٖ مغربی دفاعی اتحاد “نیٹو” (NATO) کے آرٹیکل 5 سے مماثلت رکھتی ہے۔ اس تزویراتی شق کے تحت کسی بھی ایک رکن ملک پر بیرونی مسلح حملہ تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا، اور ہر رکن ملک پر یہ اخلاقی و دفاعی ذمہ داری عائد ہوگی کہ وہ حملے کا شکار ہونے والے برادر ملک کی امداد کے لیے وہ تمام اقدامات اٹھائے جنہیں وہ ناگزیر اور ضروری سمجھے۔ تاہم، نیٹو کی اس مروجہ شق کے تحت کسی بھی عسکری کارروائی کی نوعیت اور طریقہ کار کا حتمی اور خود مختار فیصلہ متعلقہ رکن ملک خود کرنے کا مجاز ہوتا ہے، جو عمل کرنے یا محض زبانی مشتمل مذمت کرنے کا حتمی فیصلہ ریاست پر چھوڑتا ہے۔ چونکہ “مکہ اکارڈ” کا اصل متن ابھی تک میڈیا کے ساتھ باضابطہ شیئر نہیں کیا گیا، اس لیے یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ کسی رکن پر جارحیت کی صورت میں ہر ملک کی اصل اور عملی ذمہ داری کی حدود کیا ہوں گی۔اس وقت بین الاقوامی سفارتی اور دفاعی حلقوں میں قیاس آرائیوں کا بازار گرم ہو چکا ہے۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ یہ معاہدہ ایران کے خلاف ایک تزویراتی دیوار ہے، بالخصوص امریکہ اور اسرائیل کے خلاف ایران کے ان جوابی حملوں کے بعد جن میں خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کے ساتھ ساتھ شہری بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصانات پہنچے تھے۔ دوسری جانب، تجزیہ کاروں کا ایک دھڑا براہِ راست اسرائیل کی طرف اشارہ کرتا ہے، جس کی وجہ خطے میں تل ابیب کے غیر قانونی اور جارحانہ اقدامات کے لیے واشنگٹن کی غیر مشروط اور اندھی حمایت ہے۔ ان اقدامات میں امریکی اتحادیوں کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کا طویل سلسلہ شامل ہے، جس کی ایک بڑی مثال 9 ستمبر 2025ء کو قطر کے دارالحکومت دوحہ پر کیا جانے والا حملہ تھا۔ اس سنگین اور پیچیدہ جیو پولیٹیکل صورتحال کے پیشِ نظر، پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے فوری طور پر موقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ خالصتاً ایک “دفاعی معاہدہ” ہے اور یہ کسی بھی مخصوص ملک کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتا۔اس پورے منظر نامے میں دو بنیادی نکات نہایت کلیدی اور دور رس اہمیت کے حامل ہیں۔ اولاً، مکہ معاہدہ 1980ء کی دہائی میں امریکی تھنک ٹینکس کی اس سٹرٹیجک سوچ کی یاد دلاتا ہے جس کے تحت ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ میں نیٹو کے طرز پر کثیرالجہتی اجتماعی دفاعی معاہدوں کی کھل کر حمایت کی جاتی تھی۔ یہ معاہدے دراصل 1970ء کی دہائی میں تحلیل ہونے والے سیٹو (SEATO) اور سینٹو (CENTO) کے متبادل کے طور پر سوچے گئے تھے، لیکن بعد میں امریکہ نے اس کثیرالجہتی پالیسی کو ترک کر کے مسلم ممالک کے ساتھ براہِ راست دوطرفہ عسکری روابط، اسلحے کی فروخت اور خصوصی فوجی اڈوں تک رسائی کے یکطرفہ معاہدوں کو ترجیح دی۔ تاہم، حالیہ 28 فروری کے بعد ایرانی میزائل حملوں کے باعث امریکہ کا یہ سیکیورٹی ڈھانچہ شدید متاثر ہوا، جس نے مسلم دنیا کو اپنے تحفظ کے لیے نئے راستے تلاش کرنے پر مجبور کیا۔دوم، ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے خطے کے دیگر مسلم ممالک کو بھی اس تزویراتی معاہدے میں شمولیت کی باضابطہ پیشکش کی ہے، جس کا بنیادی مقصد مسلم امہ کے درمیان سیکیورٹی اور بھائی چارے کے تعلقات کو مستقل بنیادوں پر مضبوط بنانا ہے۔ کچھ ماہرین کے مطابق، اس تزویراتی اقدام کا ایک اور بڑا مقصد غیر مسلم ممالک کی جانب سے مسلم اقلیتوں کو درپیش سنگین مسائل اور مظالم کو ایک مضبوط مذہبی و سفارتی تناظر فراہم کرنا ہے۔ یہاں یہ بات بھی انتہائی قابلِ ذکر ہے کہ 5 اگست 2026ء کو اسلامی تعاون تنظیم (OIC)—جو ماضی میں بھارت کے خلاف جرات مندانہ اور عملی فیصلے کرنے میں ہمیشہ ہچکچاہٹ کا شکار رہی ہے—نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی جیو پولیٹیکل حیثیت ختم کیے جانے کے سات سال مکمل ہونے پر ایک غیر معمولی اور سخت بیان جاری کیا ہے۔ او آئی سی نے نہ صرف بھارت سے اپنے تمام یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے بلکہ کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کا احترام کرنے پر بھی زور دیا ہے۔اس نئے ابھرتے ہوئے سیکیورٹی بلاک کے تینوں بانی ممالک غیر معمولی دفاعی صلاحیتیں اور وسائل رکھتے ہیں۔ پاکستان اس معاہدے میں دہائیوں کا طویل جنگی تجربہ رکھنے والی دنیا کی بہترین پیشہ ور فوج کے ساتھ ساتھ اپنا ناقابلِ تسخیر جوہری ہتھیاروں کا ذخیرہ (Nuclear Deterrence) بھی لے کر آتا ہے۔ پاکستان تاحال مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طاقت ہے، جس کا تاریخی سہرا بلاشبہ قائدِ عوام ذوالفقار علی بھٹو شہید کی دور اندیشی کو جاتا ہے جنہوں نے کٹھن حالات میں اس نیوکلیئر پروگرام کی بنیاد رکھی، اور بعد ازاں میاں محمد نواز شریف کے اس تاریخی اور دلیرانہ فیصلے کو جاتا ہے جنہوں نے مئی 1998ء میں عالمی طاقتوں اور امریکہ کے شدید ترین معاشی و سیاسی دباؤ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے چاغی کے پہاڑوں میں دھماکے کر کے پاکستان کے دفاع کو ہمیشہ کے لیے ناقابلِ تسخیر بنا دیا۔ مکہ معاہدہ اسی جوہری اور عسکری طاقت کو مسلم امہ کے تحفظ کی نئی ڈھال فراہم کرتا ہے۔معاہدے کے دیگر شراکت داروں کا جائزہ لیا جائے تو ترکیہ، جو خود نیٹو (NATO) کا ایک اہم اور سرگرم رکن ہے، اس وقت دنیا کی مضبوط ترین دفاعی صنعتی بنیادوں میں سے ایک کا حامل ہے۔ ان کی دفاعی صنعت میں بالخصوص “بائیکار” (Baykar) کا عالمی شہرت یافتہ جدید ترین ڈرون نظام اور ففتھ جنریشن لڑاکا طیارے “کان” (KAAN) کا انقلابی پروگرام شامل ہیں، جو فضائی جنگ کے مروجہ اصول بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ دوسری جانب، برادر ملک سعودی عرب کے پاس نہ صرف بڑے پیمانے پر دفاعی پیداوار کو مقامی بنانے کے لیے درکار بے پناہ مالی وسائل موجود ہیں، بلکہ وہ پہلے ہی پاکستان کے ساتھ مشترکہ فوجی تعاون کے متعدد اہم اسٹرٹیجک معاہدے کر چکا ہے۔ لہٰذا یہ کہنا بالکل بے جا نہیں ہوگا کہ یہ تینوں ممالک اس سہ فریقی معاہدے کے ذریعے ایک دوسرے کی متبادل صلاحیتوں سے خاطر خواہ فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔ قومی سطح پر یہ امید کی جانی چاہیے کہ اس تاریخی اتحاد کے نتیجے میں پاکستان کی اپنی دفاعی صنعت بھی جدید خطوط پر استوار اور مضبوط ہوگی، جس سے ملک کو مستقبل میں مہنگی غیر ملکی دفاعی درآمدات پر انحصار کم کرنے اور قیمتی زرمبادلہ بچانے میں نمایاں مدد ملے گی۔تاہم، ان تمام مثبت پہلوؤں کے باوجود موجودہ معاشی حقائق کے مطابق تینوں رکن ممالک میں سے پاکستان کی معیشت اب بھی شدید کمزوری کا شکار ہے، جو کہ ایک گہرا تشویش ناک امر ہے۔ معاشی صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ ماہ وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے باضابطہ طور پر امریکہ سے 10 ارب ڈالر کی دوطرفہ زرمبادلہ کے استحکام کی معاونت (Foreign Exchange Stabilization Facility) کی درخواست کی ہے۔ یہ پانچ سالہ سہولت زرمبادلہ کے ذخائر کو عارضی سہارا دینے یا ملکی کرنسی کو مستحکم کرنے کے لیے ڈالر، کرنسی سواپس یا ضمانتیں فراہم کرتی ہے، جس کا بظاہر مقصد ملکی ذخائر کو بڑھانا، روپے کو گرنے سے روکنا اور آئی ایم ایف (IMF) پر حد سے زیادہ انحصار کم کرنا ہے۔اگرچہ معاشی ماہرین کی نظر میں اسے محض ایک پرانا قرض اتارنے کے لیے دوسرا نیا قرض لینے کے مترادف ہی قرار دیا جا سکتا ہے، جس سے وزیراعظم شہباز شریف کے اس عوامی عزم کی روح بھی شدید متاثر ہوتی ہے کہ موجودہ آئی ایم ایف پروگرام پاکستان کی تاریخ کا آخری قرض ہوگا؛ لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہماری معیشت بدستور مشرقِ وسطیٰ کے جاری تنازع سے جڑے منفی جغرافیائی سیاسی عوامل (Geopolitical Risks) کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ ملک اس وقت اپنے موجودہ اخراجات پورے کرنے کے لیے بیرونی اور داخلی قرضوں پر حد سے زیادہ انحصار کا اسیر ہو چکا ہے، جس کا ملکی شرح نمو (GDP Growth) یا بے روزگاری کی سطح کو کم کرنے پر کوئی نمایاں یا مثبت اثر نہیں پڑ رہا۔اندر کی بات یہ ہے کہ اگر ہم نے مکہ معاہدے کے تزویراتی فوائد کو حاصل کرنا ہے، تو ہمیں اپنے موجودہ غیر ترقیاتی اخراجات میں کم از کم 2 سے 3 کھرب روپے کی فوری اور بڑی کٹوتی لانا ہوگی۔ اخراجات میں یہ کمی ملک میں نسبتاً نرم اور کاروبار دوست مالیاتی پالیسی اختیار کرنے کی گنجائش پیدا کرے گی، جس کے نتیجے میں جمود کا شکار صنعتی ترقی کو دوبارہ فروغ ملے گا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اس معاشی اصلاح کے بعد ہی مکہ معاہدے کے نتیجے میں برادر ممالک سے ممکنہ طور پر آنے والی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کو محض مقامی ضروریات پوری کرنے کے بجائے، زیادہ قدر پیدا کرنے والی (High Value-Added) اور برآمدی صلاحیت رکھنے والی جدید صنعتوں میں منتقل کیا جا سکے گا، تاکہ پاکستان مستقل بنیادوں پر اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکwww.asgharalimubarak.com)

