اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) ایکسائز ٹیکسیشن افسرانِ بالا کے لمبے ہاتھ
Share
اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ کا بنیادیمقصد عوام کو سہولت فراہم کرنا، گاڑیوں کی رجسٹریشن، ٹوکن ٹیکس، نمبر پلیٹس اور دیگر متعلقہ معاملات کو شفاف اور آسان بنانا ہے۔ مگر بدقسمتی سے عوام کے ایک طبقے کی جانب سے اس ادارے کے بعض افسران اور اہلکاروں کے بارے میں مسلسل ایسے الزامات اور شکایات سامنے آتی رہی ہیں جنہیں
نظرانداز کرنا اب شاید ممکن نہیں رہا۔
سرکاری کرسی پر بیٹھ کر اگر کوئی افسر یہ دعویٰ کرے کہ “ہمارے رابطے بہت اوپر تک ہیں، ہمارے ہاتھ بہت لمبے ہیں، ہمارا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا، پہلے بھی لوگوں نے کوشش کر کے دیکھ لی ہے” تو یہ محض ایک جملہ نہیں، بلکہ پورے نظامِ احتساب کے منہ پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ عوام کے ٹیکس سے تنخواہ لینے والا کوئی افسر اگر خود کو قانون اور احتساب سے بالاتر سمجھنے لگے تو پھر اس کے اختیارات، اثاثوں، طرزِ زندگی، اخراجات اور راتو ں کے اخراجات مبینہ مالی ذرائع کی آزادانہ تحقیقات کیوں نہ ہوں؟
گاڑی کی رجسٹریشن ہو، نمبر پلیٹ کا معاملہ ہو، ٹرانسفر ہو، ٹوکن ٹیکس ہو یا کسی دوسری دستاویزی کارروائی کی ضرورت ہو، عام شہری کا واسطہ اسی سرکاری نظام سے پڑتا ہے۔ وہی نظام شہری کے لیے پریشانی، تاخیر، خواری اور مبینہ ناجائز مالی مطالبات کا ذریعہ بن جائے تو پھر سوال صرف ایک دفتر یا چند اہلکاروں کا نہیں رہتا بلکہ پورے انتظامی نظام کی کارکردگی پر اٹھتا ہے۔
الزامات سنگین ہیں، مگر فیصلہ تحقیقات کا حق ہے
اگر کسی سرکاری افسر کے خلاف مسلسل شکایات سامنے آ رہی ہوں، عوام بار بار ایک ہی نوعیت کے الزامات لگا رہے ہوں اور اس کے طرزِ زندگی، مالی معاملات یا اثاثوں کے بارے میں سنجیدہ سوالات پیدا ہو رہے ہوں تو متعلقہ حکام کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ان سوالات کا جواب تلاش کریں۔
اگر کسی افسر کے ظاہر شدہ ذرائع آمدن اور اس کے نامعلوم اثاثوں، طرزِ زندگی یا مالی معاملات میں واضح فرق نظر آتا ہے تو اس معاملے کی قانونی اور غیر جانب دارانہ جانچ ہونی چاہیے۔ بینک اکاؤنٹس، اثاثہ جات، آمدن، اخراجات اور قانونی ذرائعِ آمدن کا تقابلی جائزہ لیا جائے
ہمارے ہاتھ بہت لمبے ہیں یہ جملہ کس اعتماد کی علامت ہے؟
کسی سرکاری افسر یا اہلکار کی جانب سے یہ تاثردیا جاتا ہے کہ “ہمارے ہاتھ بہت لمبے ہیں” اور ہمارا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا، تو یہ صرف ایک جملہ نہیں بلکہ پورے نظامِ احتساب کے لیے ایک خطرناک سوال ہے۔
سرکاری عہدہ کسی شخص کو قانون سے بالاتر نہیں کرتا۔ اختیار عوام کی خدمت کے لیے دیا جاتا ہے، ذاتی اثر و رسوخ قائم کرنے کے لیے نہیں۔
کسی افسر کو یہ یقین ہو جائے کہ اس سے کوئی پوچھ گچھ نہیں کر سکتا، اس کے خلاف شکایت کہیں نہیں افسر کے ہاتھ لمبے نہیں ہونے چاہئیں، قانون کے ہاتھ لمبے ہونے چاہئیں۔
اور اگر کسی افسر کے بارے میں یہ تاثر موجود ہے کہ وہ اپنے اثر و رسوخ کے ذریعے شکایات، تحقیقات یا کارروائیوں کو متاثر کر سکتا ہے تو متعلقہ حکام کو اسی معاملے کی سب سے پہلے چھان بین کرنی چاہیے۔
عوام چند ٹکوں کے لیے کیوں خوار ہوں؟
ایک عام شہری اپنی گاڑی خریدنے کے بعد اس امید کے ساتھ سرکاری دفتر کا رخ کرتا ہے کہ ریاستی ادارہ اس کے قانونی کام کو آسان بنائے گا۔ وہ ٹیکس دیتا ہے، فیس ادا کرتا ہے، مطلوبہ دستاویزات فراہم کرتا ہے اور قانون کے مطابق کارروائی مکمل کرنا چاہتا ہے۔
لیکن اگر اسے بار بار چکر لگوائے جائیں، غیر ضروری رکاوٹیں کھڑی کی جائیں، کام میں تاخیر ہو یا اسے یہ احساس دلایا جائے کہ قانونی کام بھی کسی “اضافی خرچ” کے بغیر نہیں ہوگا، تو اس سے ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کا رشتہ کمزور ہوتا ہے۔
سرکاری دفتر میں آنے والا ہر شخص کسی افسر کا ماتحت نہیں ہوتا وہ ریاست کا شہری اور ٹیکس دینے والا فرد ہوتا ہے۔ سرکاری ملازم عوام کا خادم ہوتا ہے، حاکم نہیں۔
اعلیٰ حکام سے چند بنیادی سوالات
حکومت اور متعلقہ اعلیٰ حکام کو چاہیے کہ وہ محض شکایات وصول کرنے تک محدود نہ رہیں بلکہ ان کی باقاعدہ جانچ کا نظام قائم کریں۔
اگر ایک مخصوص دفتر یا شعبے کے خلاف مسلسل شکایات موصول ہوتی ہیں تو یہ دیکھا جائے کہ
شکایات کی تعداد کتنی ہے اور ان کی نوعیت کیا ہے؟ کن افسران اور اہلکاروں کے خلاف بار بار شکایات آ رہی ہیں؟ گاڑیوں کی رجسٹریشن، ٹرانسفر، نمبر پلیٹ اور ٹوکن ٹیکس کے معاملات میں غیر معمولی تاخیر کہاں ہو رہی ہے؟ کیا کسی افسر یا اہلکار کے اثاثے اس کی معلوم آمدن سے غیر متناسب ہیں؟کیا سرکاری اختیار کو ذاتی فائدے کے لیے استعمال کرنے کے شواہد موجود ہیں کیا شہریوں سے غیر قانونی مالی مطالبات کی شکایات کی آزادانہ تصدیق کی گئی؟اور سب سے اہم، کیا شکایت کنندگان کو بلا خوف و خطر اپنی شکایت درج کرانے اور اس کی پیروی کرنے کا موقع ملتا ہے؟
ان سوالات کے جواب صرف کاغذی کارروائی سےنہیں بلکہ شفاف، آزاد اور قابلِ اعتماد تحقیقات سے ملنے چاہئیں۔
احتساب سب کے لیے ہونا چاہیے احتساب کا مطلب یہ نہیں کہ ہر افسر کو مجرم سمجھ لیاجائے۔ احتساب کا مطلب یہ ہے کہ کسی کو بھی محض عہدے، تعلقات یا اثر و رسوخ کی بنیاد پر احتساب سے بالاتر نہ سمجھا جائے۔
اگر تحقیقات کے بعد کسی افسر کے خلاف کوئی جرم ثابت ہوتا ہے تو بے ضابطگی، بدعنوانی یا اختیارات کا ناجائز استعمال ثابت ہو تو پھر قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔
حکومت سے مطالبہ تحقیقات ہوں، مگر شفاف ہوں
حکومتِ اسلام آباد اور متعلقہ اعلیٰ حکام سے مطالبہ ہے کہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے متعلق سامنے آنے والی سنگین شکایات کو سنجیدگی سے لیا جائے۔ اگر الزامات بے بنیاد ہیں تو تحقیقات کے ذریعے یہ حقیقت عوام کے سامنے لائی جائے، اور اگر کسی قسم کی بدعنوانی یا اختیارات کے ناجائز استعمال کے شواہد ملتے ہیں تو بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے۔
تحقیقات ایسی ہونی چاہئیں جن پر شکایت کنندہ بھی اعتماد کرے

