LOADING

Type to search

Islamabad National

اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) جناب چیئرمین سی ڈی اے ۔۔۔۔ایک فائل کی فریاد

Share

اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) چند روز پہلے اسلام آباد کے ایک سرکاری دفتر کے باہر کھڑا تھا تو اچانک خیال آیا کہ اس شہر میں عمارتیں بدل جاتی ہیں، چیئرمین بدل جاتے ہیں، حکومتیں بدل جاتی ہیں، لیکن فائلوں کی قسمت شاید ہی کبھی بدلتی ہو۔

یہ خیال اس وقت آیا جب اپنی ایک فائل کے سلسلے میں کئی ہفتوں کی دوڑ دھوپ کے بعد مجھے سی ڈی اے کے پٹواری مدثر نے بتایا کہ اصل معاملہ تو تحصیلدار صاحب کے پاس ہے۔

میں مسکرا دیا۔

اس لیے نہیں کہ مسئلہ حل ہو گیا تھا بلکہ اس لیے کہ مجھے پاکستان کی بیوروکریسی کی وہ پرانی کہانی یاد آ گئی جو گزشتہ بیس برس سے بطور صحافی سنتا اور لکھتا آیا ہوں۔

فرق صرف اتنا تھا کہ اس بار خبر کا کردار کوئی اور نہیں، خود میں تھا۔

بطور سی ڈی اے بیٹ رپورٹر مجھے کامران لاشاری سے لے کر موجودہ چیئرمین لیفٹیننٹ (ر) سہیل اشرف تک تقریباً ہر دور دیکھنے کا موقع ملا۔ کامران لاشاری کا دور اپنی جگہ ایک داستان تھا۔ اس کے بعد کئی افسر آئے۔ ہر ایک نے اسلام آباد کو اپنی سوچ کے مطابق بہتر بنانے کی کوشش کی۔ کسی نے سڑکیں بنائیں، کسی نے سیکٹر آباد کیے، کسی نے تجاوزات ہٹائیں اور کسی نے ڈیجیٹلائزیشن کا نعرہ لگایا۔

لیکن ایک چیز ہر دور میں زندہ رہی۔

فائل۔

پاکستان کے سرکاری نظام کا شاید سب سے طاقتور کردار۔

ایک ایسی خاموش مخلوق جو بولتی نہیں مگر شہریوں کو رُلا دیتی ہے۔

ہمارے خاندان کی سی ڈی اے سے متعلق چند فائلیں ہیں۔ 2023 کی بیلٹنگ میں پلاٹ نمبر الاٹ ہو چکے ہیں۔ اب الاٹمنٹ لیٹرز کا مرحلہ باقی ہے۔ بظاہر معاملہ سیدھا تھا، لیکن پاکستان میں سیدھے معاملات ہی سب سے زیادہ پیچیدہ ثابت ہوتے ہیں۔

کئی ہفتوں تک متعلقہ دفتر کے چکر لگتے رہے۔ پٹواری مدثر سے ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ ہر ملاقات میں امید بندھتی کہ شاید آج کوئی واضح جواب مل جائے گا۔ کبھی فائل تلاش ہو رہی تھی، کبھی ریکارڈ چیک ہو رہا تھا اور کبھی مزید انتظار کا مشورہ مل جاتا تھا۔

پھر ایک دن معلوم ہوا کہ اصل راستہ تو تحصیلدار صاحب کے دفتر کی طرف جاتا ہے۔

اس لمحے مجھے اپنی فائل سے زیادہ ان تین ماہ کا خیال آیا جو اس ایک معلومات تک پہنچنے میں گزر گئے۔

پاکستان میں شاید وقت کی سب سے کم قیمت سرکاری دفاتر میں لگائی جاتی ہے۔

شہری کا ایک دن، ایک ہفتہ یا ایک مہینہ اکثر کسی سرکاری رجسٹر میں درج نہیں ہوتا۔ لیکن جس شخص کے لیے وہ وقت گزرتا ہے، وہ جانتا ہے کہ اس دوران کتنی امیدیں ٹوٹتی اور بنتی ہیں۔

یہ کالم پٹواری مدثر کے خلاف نہیں۔

ممکن ہے وہ ایک محنتی اہلکار ہوں۔

ممکن ہے ان کے پاس بے شمار فائلیں ہوں۔

ممکن ہے ان کے سامنے روزانہ درجنوں لوگ آتے ہوں۔

لیکن ایک سوال پھر بھی باقی رہتا ہے۔

اگر شہری کو یہ بتانے میں تین ماہ لگ جائیں کہ اسے جانا کہاں ہے تو پھر نظام میں کہیں نہ کہیں بہتری کی گنجائش ضرور موجود ہے۔

میں نے ہمیشہ یہ دیکھا ہے کہ پاکستان میں عوام کی اکثریت قانون سے نہیں ہارتی، وہ معلومات کے فقدان سے ہارتی ہے۔

لوگوں کو اکثر یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ان کا کام کس دفتر میں ہے، کس افسر کے پاس ہے اور کس مرحلے میں ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ایک معمولی سا معاملہ بھی مہینوں پر محیط سفر بن جاتا ہے۔

یہاں مجھے موجودہ چیئرمین لیفٹیننٹ (ر) سہیل اشرف کی تعریف بھی کرنا ہوگی۔

اسلام آباد میں حالیہ مہینوں کے دوران جو انتظامی سرگرمی دکھائی دی ہے، وہ کئی برسوں بعد نظر آئی ہے۔ یہ تاثر موجود ہے کہ وہ فائلوں کے بجائے نتائج دیکھنا چاہتے ہیں۔ شہر کے مختلف حصوں میں جاری کام اور انتظامی فیصلے اسی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔

لیکن پاکستان کے سرکاری اداروں کا المیہ یہ ہے کہ اچھے چیئرمین اور اچھے افسر بھی بعض اوقات ایک ایسے نظام کے اندر کام کر رہے ہوتے ہیں جس کی رفتار اب بھی پرانی فائلوں کے زمانے والی ہے۔

اوپر اصلاحات ہوتی ہیں، نیچے روایتیں چلتی رہتی ہیں۔

اوپر ڈیجیٹلائزیشن کی بات ہوتی ہے، نیچے شہری اب بھی فائل ڈھونڈ رہا ہوتا ہے۔

اوپر شفافیت کے نعرے لگتے ہیں، نیچے ایک درخواست گزار یہ جاننے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے کہ اس کا کام کس میز پر پڑا ہے۔

جناب چیئرمین!

یہ کالم میری فائل کے بارے میں کم اور اس سوچ کے بارے میں زیادہ ہے جسے بدلنے کی ضرورت ہے۔

اگر ایک شہری کو پہلے دن ہی درست رہنمائی مل جائے تو شاید آدھے مسائل پیدا ہی نہ ہوں۔

اگر فائل کی نقل و حرکت آن لائن نظر آ جائے تو شاید آدھے چکر ختم ہو جائیں۔

اگر ہر درخواست گزار کو معلوم ہو کہ اس کا معاملہ کہاں زیرِ غور ہے تو شاید آدھی شکایات دم توڑ دیں۔

میری فائل آج حل ہو جائے گی، کل کسی اور کی ہو جائے گی۔

لیکن اصل سوال فائل کا نہیں۔

اصل سوال ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کا ہے۔

کیونکہ آخر میں ایک فائل صرف کاغذ نہیں ہوتی۔

وہ کسی کی زندگی بھر کی کمائی ہوتی ہے۔

کسی کے بچوں کا مستقبل ہوتی ہے۔

اور کبھی کبھی ایک صحافی کے صبر کا امتحان بھی۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »