LOADING

Type to search

Islamabad National

اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) میثاقِ مکہ: امن، سلامتی، دفاع اور بھائی چارے کا ابدی اتحاد

Share

اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) میثاقِ مکہ محض ایک عارضی دفاعی یا سفارتی سمجھوتہ نہیں، بلکہ یہ مسلم امہ کی تین عظیم قوتوں—سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ—کے مابین امن، سلامتی، دفاع اور بھائی چارے کا ایک ابدی اور فولادی اتحاد ہےجیو پولیٹیکل منظرنامے میں اس میثاق نے خطے کے دفاعی توازن کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے
میثاق مکہ ,امن ,سلامتی، دفاع اور بھائی چارے کاابدی پیغام ہے,”لفظ ‘میثاق’ کا معنی محض معاہدہ نہیں بلکہ ایک پختہ اقرار اور تزویراتی پلان ہے اور جب یہ ‘میثاقِ مکہ’ بن جائے، تو یہ مکہ مکرمہ کی مقدس سرزمین سے دنیا کے لیے امن، اخوت اور ناقابلِ شکست دفاع کا اٹل پیغام بن جاتا ہے۔”
میثاق مکہ “یا ” مکہ کا معاہدہ” میثاق عربی لفظ کا معنی عہد، معاہدہ،پختہ اقرار یاپلان ہے۔ مکہ مکرمہ، جو مسلمانوں کا مقدس ترین شہر ہے۔ “مکہ کا معاہدہ” یا “میثاق مکہ ” امن و اخوت کا میثاق ہےجو مکہ میں طے پایا”میری رائے میں اس اتحاد کی گہرائی کو صحیح معنوں میں سمجھنے کے لیے، کسی کو میقات یا میثاق (میثاق) کی اصطلاح کے گہرے وزن کو سمجھنا چاہیے۔
عربی فلسفہ میں، ‘میثاق’ محض ایک غیر معمولی معاہدے کی طرف اشارہ نہیں کرتا؛ یہ ایک پختہ عہد، ایک اٹوٹ عہد، اور ایک پیچیدہ، غیر متزلزل اسٹریٹجک منصوبہ کی نشاندہی کرتا ہے۔
جب یہ حتمی عہد مکہ المکرمہ جو کہ اسلام کا مقدس ترین مقام اور امن کا عالمی گہوارہ ہے، کا پابند ہوتا ہے، یہ عام سفارت کاری سے بالاتر ہے۔
اس طرح ‘مکہ کا عہد’ (میثاقِ مکہ) مکمل سلامتی، امن اور بھائی چارے کے ایک مقدس خاکے کے طور پر ابھرتا ہے، جس نے سعودی عرب کے مالی وزن، پاکستان کی جوہری دفاعی گہرائی، اور ترکی کے ٹیکٹیکل تکنیکی کمال کو ایک ابدی، دفاعی اتحاد میں بدل دیا ہے۔
جیو پولیٹیکل منظرنامے میں میثاقِ مکہ نے خطے کے دفاعی توازن کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے اس اتحاد کے بنیادی تزویراتی ستون درج ذیل ہیں:
مقدس سرزمین کا تقدس: مکہ مکرمہ کی بابرکت سرزمین پر طے پانے کی وجہ سے اس میثاق کو ایک اعلیٰ اخلاقی اور روحانی تقدس حاصل ہے، جس کا مقصد مسلم دنیا کو جنگ اور انتشار سے بچا کر امن کا گہوارہ بنانا ہے
عالمی تجارتی راستوں کا تحفظ: بحیرہ احمر، خلیجِ عدن اور آبنائے باب المندب جیسے حساس ترین بین الاقوامی بحری راستوں کو محفوظ بنانا اس اتحاد کی اولین ترجیح ہے تاکہ عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی لائنز بلا تعطل جاری رہ سکیں
سہ فریقی عسکری حصار: یہ اتحاد نیٹو (NATO) کی طرز پر ایک مشترکہ دفاعی ڈھانچہ فراہم کرتا ہے، جہاں کسی ایک ملک پر جارحیت کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جاتا ہے
طاقت کا توازن: سعودی عرب کا مالیاتی سرمایہ، ترکیہ کی جدید ترین ڈرون و بحری ٹیکنالوجی، اور پاکستان کی اسٹریٹجک پوزیشن، افرادی قوت اور نیوکلیئر کمانڈ مل کر دنیا کا سب سے مضبوط عسکری بلاک تشکیل دیتے ہیں,
پراکسیز اور بیرونی خطرات کا مقابلہ: یہ میثاق خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب پر منڈلاتے بیرونی خطرات، ڈرون حملوں اور علاقائی کشیدگی کے خلاف مسلم امہ کے باہمی بھائی چارے کو ایک عملی عسکری کور فراہم کرتا ہے
مشترکہ معاشی بقا: دفاع کے ساتھ ساتھ یہ معاہدہ سعودی ویژن 2030، پاکستان کی خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) اور سی پیک (CPEC) کے مابین ایک مضبوط معاشی پل کا کام کرتا ہے تاکہ تینوں ممالک مل کر ترقی کی نئی منازل طے کر سکیں.میں سمجھتا ہوں کہ کسی بھی بڑے مقصد کے لیے “میثاق” کا ہونا لازم ہے ۔ عربی لغت میں لفظ ‘میثاق’ محض کسی وقتی سمجھوتے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک پختہ اٹل عہد، مضبوط اقرار اور طویل المیعاد تزویراتی پلان (Strategic Plan) کو ظاہر کرتا ہے سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے مابین ابھرتے ہوئے نئے سیکیورٹی بلاک کو “میثاقِ مکہ” کا نام دینا اسی پختہ عزم کی عکاسی ہے مکہ مکرمہ کی مقدس سرزمین سے منسوب یہ معاہدہ محض ایک عسکری گٹھ جوڑ نہیں، بلکہ مسلم امہ کی تین بڑی طاقتوں کے مابین امن، سلامتی، دفاع اور بھائی چارے کا ایک ابدی اتحاد ہےمیثاقِ مکہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین طے پانے والا ایک ایسا جامع اور تاریخی دفاعی اتحاد ہے جو مسلم امہ کی عسکری اور تزویراتی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کرتا ہے۔ اس معاہدے کی کلیدی دفاعی شقوں کا سب سے اہم نقطہ اجتماعی تحفظ کا اصول ہے جس کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک ریاست پر بھی ہونے والا عسکری حملہ سب پر حملہ تصور کیا جائے گا، اور اس جارحیت کے خلاف تینوں ممالک مشترکہ عسکری ردِعمل دینے کے ساتھ ساتھ انٹیلی جنس کا باقاعدہ تبادلہ بھی کریں گے۔ اس تزویراتی مقصد کو عملی جامہ پہنانے کے لیے تینوں ممالک کی بری، بحری اور فضائی افواج سالانہ بنیادوں پر مشترکہ جنگی مشقوں کا انعقاد کریں گی تاکہ روایتی خطرات اور انسدادِ دہشت گردی کے میدان میں باہمی آپریشنل صلاحیتوں کو مزید نکھارا جا سکے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ اتحاد دفاعی صنعت میں ایک مثالی شراکت داری قائم کرتا ہے جہاں سعودی عرب کے مالی وسائل، ترکیہ کی جدید ترین ڈرون اور ایرو اسپیس ٹیکنالوجی، اور پاکستان کی طویل المیعاد عسکری مہارت و میزائل پروگرام یکجا ہو رہے ہیں، جس کا مقصد ٹیکنالوجی کی منتقلی، ہتھیاروں کی مشترکہ تیاری اور دفاعی آلات کی مرمت کے مراکز قائم کر کے بیرونی دنیا پر عسکری انحصار کو مکمل طور پر ختم کرنا اور خطے میں پائیدار امن و خود انحانحصاری کو یقینی بنانا ہے۔یاد رہے کہ دفاعی معاہدہ ,میثاقِ مکہ عالمِ اسلام کے اجتماعی دفاع، باہمی سلامتی اور بھائی چارے کی جانب تاریخی قدم ہے,معاہدے کے اہم مقاصد میں اجتماعی دفاع, تینوں برادر اسلامی ممالک کی سلامتی اور دفاعی صلاحیتوں کو یکجا کرنا,امن و استحکام, خطے میں ممکنہ جارحیت کو روکنا اور مستقل امن کا قیام, دفاعی صنعت میں مشترکہ منصوبوں کا فروغ,اتحادِ امت, مسلم ممالک کے مابین بھائی چارے اور یکجہتی کے رشتے کو مزید استوار کرنا , خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینے، دہشت گردی کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل اپنانے اور دفاعی تعاون کو مضبوط کرنے کا عزم ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان دفاعی معاہدہ اس لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے کہ تینوں ممالک نےتسلیم کیا ہے کہ کسی رکن کے خلاف جارحیت کو صرف اس ملک کا مسئلہ نہیں سمجھا جائے گا بلکہ اسے مشترکہ سلامتی کے تناظر میں دیکھا جائے گا۔
اس معاہدے کو کسی ملک کے خلاف اعلان جنگ کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ جنگ کے امکانات کو کم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ تاریخ نے ہمیں سکھایا ہے کہ کمزور دفاع اکثر جارحیت کو دعوت دیتا ہے، جب کہ مضبوط اور قابل اعتماد دفاع حملہ آور کو دو بار سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ امن صرف خواہش سے ہی قائم نہیں ہوتا بلکہ اسے برقرار رکھنے کے لیے طاقت، عزم اور اجتماعی ذمہ داری کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔
سعودی عرب معیشت اور توانائی کے حوالے سے بڑی طاقت ہے۔ ترکی دفاعی صنعت، ٹیکنالوجی اور فوجی تجربے میں نمایاں مقام رکھتا ہے جب کہ پاکستان کے پاس ایک بڑی تربیت یافتہ فوج، وسیع دفاعی تجربہ اور ایٹمی صلاحیت ہے۔ اگر ان تینوں ممالک کی صلاحیتوں کو مشترکہ دفاعی منصوبہ بندی، فوجی تربیت، معلومات کے تبادلے، انسداد دہشت گردی تعاون اور میری ٹائم سیکورٹی کے لیے منظم طریقے سے استعمال کیا جائے تو اس شراکت داری کے اثرات صرف تینوں ممالک تک محدود نہیں رہیں گے۔ پاکستان کے لیے اس معاہدے کی اہمیت کثیر الجہتی ہے۔ سعودی عرب کے لیے یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ مسلسل کشیدگی کی زد میں ہے۔ میزائل اور ڈرون حملوں کے خطرات، توانائی کے مراکز کی حفاظت اور اہم سمندری راستوں کا تحفظ ریاض کی اہم ترجیحات بن چکے ہیں۔ پاکستان اور ترکی کا دفاعی تعاون سعودی عرب کو مزید اعتماد اور دفاعی گہرائی فراہم کر سکتا ہے۔ ترکی کے لیے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ یہ شراکت داری اس کے علاقائی کردار کو بھی مضبوط کرتی ہے۔ اگر تینوں ممالک اپنے دفاعی تعاون کو وسیع تر اقتصادی اور سفارتی تعاون کے ساتھ جوڑ دیں تو اس کا نتیجہ مسلم دنیا کے اندر تعاون کا ایک ایسا ماڈل بن سکتا ہے جو مشترکہ مفادات اور عملی صلاحیتوں پر مبنی ہو۔
مشرق وسطیٰ میں جنگ کا مطلب صرف چند ممالک کا نقصان نہیں ہے۔ اس کے اثرات عام آدمی کی زندگی تک پہنچتے ہیں۔ ایسے میں اگر مضبوط دفاعی شراکت داری ممکنہ جنگ کو روکنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اس سے نہ صرف پاکستان، سعودی عرب یا ترکی بلکہ عالمی معیشت کو بھی فائدہ ہوگا۔ پاکستان نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ جنگ کے درمیان امن کا راستہ تلاش کر سکتا ہے۔ پاکستان نے پیغام دیا ہے کہ امن برقرار رکھنے کے لیے مشترکہ طاقت بھی ضروری ہے۔ طاقت کی کامیابی جنگ جیتنے میں نہیں بلکہ جنگ کو روکنے میں ہے۔میثاقِ مکہ ایک خالصتاً دفاعی اور امن خواہ اتحاد ہے، جو کسی بھی تیسرے ملک کے خلاف جارحیت یا اعلانِ جنگ کے لیے قائم نہیں کیا گیا۔ اس کا بنیادی مقصد سلامتی کو یقینی بنانا اور خطے میں استحکام لانا ہے۔ اس کا مقصد جنگ چھیڑنا نہیں، بلکہ کسی بھی بیرونی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔ یہ اتحاد اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے مطابق صرف اپنے دفاع (Self-Defense) کے حق کو تسلیم کرتا ہے اس کا ہدف کسی خودمختار ریاست پر حملہ کرنا نہیں، بلکہ خطے کو دہشت گردی اور انتہا پسندی سے پاک کرنا ہے۔ اتحاد کا اصل محور دفاعی خود انحصاری، اقتصادی تعاون اور مسلم ممالک کے مابین امن و بھائی چارے کا فروغ ہے۔یاد رہے کہ پاکستان کی خارجہ اور عسکری پالیسی کا یہ اصول ہے کہ سعودی عرب کی علاقائی سالمیت اور مقدس مقامات (حرمین شریفین) کو خطرہ ہونے کی صورت میں پاکستان عملی فوجی مداخلت کرے گا۔پاکستان کے سینئر سیاسی اور سفارتی تجزیہ کار اصغر علی مبارک کے مطابق پاکستان نے اپنے باہمی دفاعی معاہدوں کے تحت ہزاروں فوجی اہلکار، جے ایف-17 جنگی طیاروں کا اسکواڈرن اور جدید فضائی دفاعی نظام (HQ-9 Air Defense) سعودی عرب میں تعینات کیے ہیں تاکہ خلیج پر منڈلاتے سیکیورٹی خطرات کا مقابلہ کیا جا سکے۔ کویت نے حال ہی میں پاکستان کے ساتھ ایک اہم دفاعی مینیفیڈ معاہدے کی توثیق کی ہے، جس کے تحت پاکستان کویت کی فوج کو ڈرون ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس شیئرنگ اور ایئر ڈیفنس کے شعبوں میں معاونت فراہم کر رہا ہے۔ بحیرہ احمر اور خلیجِ عدن میں تجارتی جہازوں پر بڑھتے ہوئے حملوں کے بعد، سعودی عرب کی قیادت میں قائم ہونے والے 14 ملکی بحری دفاعی اتحاد میں پاکستان بھی شامل ہے تاکہ خلیج کی تیل کی سپلائی لائنز کو محفوظ رکھا جا سکے۔سعودی عرب کی قیادت میں قائم ہونے والا ملٹی نیشنل میرین ڈیفنس الائنس جولائی 2026 کے آخر میں ریاض میں قائم کیا گیا جس کا بنیادی مقصد خلیجِ عدن، بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب میں عالمی تجارتی اور توانائی کی سپلائی لائنز کو سیکیورٹی فراہم کرنا ہے۔ اس 14 ملکی اتحاد کا مستقل ہیڈ کوارٹر سعودی عرب میں بنایا گیا ہے اور اگست 2026 کے آغاز میں سعودی ریئر ایڈمرل عبداللہ بن سالم الشہری کو اس فورس کا پہلا کمانڈر مقرر کیا گیا ہے۔ اس اتحاد کے بانی ارکان میں سعودی عرب، پاکستان، ترکیہ، کویت، بحرین، قطر، مصر، اردن، یمن، بنگلہ دیش، نائیجیریا، سوڈان، جبوتی اور صومالیہ شامل ہیں جبکہ عمان اور متحدہ عرب امارات اس کا حصہ نہیں ہیں۔ یہ فورس انٹیلی جنس شیئرنگ، مشترکہ بحری گشت اور آپریشنل پلاننگ کے ذریعے کام کرتی ہے جس کا ڈھانچہ فائنل کرنے کے لیے اگست 2026 کے وسط میں ایک اور اہم اجلاس طے پایا ہے۔ اس اتحاد میں پاکستان کی تجربہ کار بحری فوج اور ترکیہ کی جدید بحری ٹیکنالوجی مل کر خلیج کی سیکیورٹی کو مضبوط ترین دفاعی کور فراہم کرتی ہیں۔ خلیج میں کشیدگی کی صورت میں پاکستان نے ہمیشہ ایک ذمہ دار ایٹمی طاقت کے طور پر سعودی عرب، ایران اور دیگر خلیجی ممالک کے درمیان خلیج کو جنگ سے بچانے کے لیے سفارتی مصالحت کار کا کردار ادا کیا ہے۔ ۔ملٹی نیشنل میرین ڈیفنس الائنس کے تحت پہلی باضابطہ مشترکہ بحری گشت کی تیاریاں تیزی سے مکمل کی جا رہی ہیں، کیونکہ جولائی 2026 کے آخر میں اس اتحاد کے قیام کے بعد اگست کے آغاز میں سعودی ریئر ایڈمرل عبداللہ بن سالم الشہری کو اس فورس کا پہلا کمانڈر مقرر کیا گیا ہے۔ یہ پہلی گشت بحیرہ احمر، آبنائے باب المندب اور خلیجِ عدن کے انتہائی حساس بحری راستوں پر مرکوز ہوگی جس کا بنیادی مقصد تجارتی گزرگاہوں پر ہونے والے حملوں کو روکنا اور بین الاقوامی توانائی کی سپلائی لائنز کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کرنا ہے۔ اس گشت کے تمام تر آپریشنز کو سعودی عرب میں قائم مستقل ہیڈ کوارٹرز اور کمبائنڈ میرین آپریشنز سینٹر سے مانیٹر کیا جائے گا جہاں تمام 14 رکن ممالک کے درمیان ریئل ٹائم انٹیلی جنس اور سیٹلائٹ معلومات شیئر کی جائیں گی۔ اس پہلی گشت میں پاکستان نیوی کے جدید گشتی جہاز (طغرل کلاس فریگیٹس) اور ترکیہ کے تیار کردہ ملجم (MILGEM) کلاس کارویٹس اہم ترین دفاعی کور فراہم کریں گے جن کے پاس جدید ترین اینٹی شپ اور ایئر ڈیفنس سسٹمز موجود ہیں۔ اس بحری مشن کو ترکیہ کے بائرکتار اکینجی ڈرونز اور سعودی عرب کے فضائی نگرانی کے نظام کا تعاون بھی حاصل ہوگا جو فضا سے سمندری راستوں کی چوبیس گھنٹے مانیٹرنگ کریں گے۔ اگست کے وسط میں ہونے والے اگل اجلاس میں پہلی مشترکہ گشت کے ابتدائی نتائج کا جائزہ لے کر بحری راستوں کی نگرانی کا ایک مستقل ہفتہ وار شیڈول فائنل کیا جائے گااس بحری اتحاد میں شامل پاکستان نیوی کے جدید ترین جہاز، بالخصوص طغرل کلاس فریگیٹس اور بابر کلاس ملجم کارویٹس، دنیا کے جدید ترین ہتھیاروں اور دفاعی سسٹمز سے لیس ہیں۔ فضائی دفاع کے لیے طغرل کلاس فریگیٹس پر 32 سیل کا ورٹیکل لانچ سسٹم نصب ہے جو 70 کلومیٹر تک دشمن کے طیاروں اور میزائلوں کو تباہ کرنے والے HQ-16 میزائل فائر کرتا ہے، جو متحدہ عرب امارات کو ایران یا یمن کے حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں سے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔پاکستان خلیجی ممالک کو صرف افرادی قوت ہی فراہم نہیں کرتا، بلکہ وہ اپنی نیوکلیئر صلاحیت، اسٹریٹجک گہرائی اور مکہ دفاعی معاہدے کے تحت خلیج کے پورٹ فولیو کا سب سے مضبوط حفاظتی ستون بن چکا ہےاس خطرے کے پیشِ نظر، حالیہ سالوں میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر جیسے خلیجی ممالک کی خارجہ پالیسی میں ایک بڑا اسٹریٹجک شفٹ آیا ہے۔ ان ممالک نے واضح طور پر یہ سفارتی لائن اپنائی ہے کہ وہ امریکہ اور ایران کی کسی بھی ممکنہ جنگ میں خود کو دور رکھیں گے اور اپنی سرزمین کو ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت یا حملے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ چین کی ثالثی میں سعودی عرب اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدے کا ایک بڑا مقصد بھی یہی تھا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کی سیکیورٹی کو یقینی بنائیں۔موجودہ دور میں خلیجی ممالک کا پورا فوکس اپنی معاشی ترقی (جیسے سعودی ویژن 2030) پر ہے۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ خطے میں کسی بھی قسم کی جنگ یا میزائل حملے ان کے معاشی منصوبوں اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اسی لیے عرب ممالک ایران کے ساتھ سفارتی چینلز کو مسلسل فعال رکھتے ہیں تاکہ کسی بھی غلط فہمی یا حادثاتی حملے کے خطرے کو بروقت روکا جا سکے۔قطر اور بحرین میں موجود امریکی عسکری اڈے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی طاقت اور فضائی و بحری کنٹرول کے دو سب سے بڑے اور اہم ترین مراکز ہیں۔ ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خلیج کی سیکیورٹی کے تناظر میں ان دونوں اڈوں کی اسٹریٹجک اہمیت ہے: قطر: العدید ایئر بیس خطے کا سب سے بڑا فوجی اڈہ ہے، جہاں عام طور پر 10,000 سے زائد امریکی اور اتحادی فوجی مستقل تعینات رہتے ہیں امریکی فضائی فورسز کی سینٹرل کمانڈ کا فارورڈ ہیڈ کوارٹر اسی اڈے پر واقع ہے، جو پورے خطے (بشمول افغانستان، عراق، اور شام) میں فضائی آپریشنز کی نگرانی کرتا ہے۔ یہاں طویل فاصلے تک مار کرنے والے بی-52 بمبار طیارے، جے ایف-22 اور دیگر جدید ترین جنگی طیارے موجود رہتے ہیں۔ ایران کے بالکل سامنے واقع ہونے کی وجہ سے یہ کسی بھی ممکنہ عسکری کارروائی کے لیے فضائی حملوں کا مرکز مانا جاتا ہے۔ بحرین میں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کا مستقل ہیڈ کوارٹر قائم ہے。 یہ بیڑا خلیجِ فارس، بحیرہ عرب، بحیرہ احمر اور بحرِ ہند کے حصوں کی نگرانی کرتا ہےآبنائے ہرمز (Strait of Hormuz)، خلیجِ عدن اور بحیرہ احمر جیسے حساس عالمی تجارتی اور تیل کی سپلائی کے راستوں کو محفوظ رکھنا اور ایران کی بحری سرگرمیوں پر نظر رکھنا اس فورس کا بنیادی مشن ہے۔یہاں لگ بھگ 8,000 سے زائد امریکی عسکری اہلکار اور درجنوں جنگی بحری جہاز و آبدوزیں چوبیس گھنٹے الرٹ پوزیشن میں رہتی ہیں ایران ان اڈوں کو اپنی قومی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیتا ہے اور اس نے متعدد بار وارننگ دی ہے کہ کسی بھی جنگ کی صورت میں یہ اڈے اس کے میزائلوں کے پہلے ہدف ہوں گے۔ قطر اور بحرین دونوں ہی ایران کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات کو مکمل طور پر خراب نہیں کرنا چاہتے۔ قطر نے حالیہ سالوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان قیدیوں کے تبادلے اور مذاکرات میں اہم ثالث کا کردار ادا کیا ہے خلیجی ممالک کی موجودہ پالیسی یہ ہے کہ وہ امریکہ کو ان اڈوں سے ایران پر براہِ راست حملہ کرنے کی اجازت نہ دیں، تاکہ وہ خود اس جنگ کی لپیٹ میں آنے سے بچ سکیں۔کویت اور متحدہ عرب امارات (UAE) میں موجود امریکی عسکری تنصیبات مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوج کے لاجسٹکس، زمینی دفاع اور فضائی نگرانی کے نیٹ ورک کا ایک انتہائی اہم حصہ ہیں۔ قطر اور بحرین کی طرح یہ دونوں ممالک بھی ایران کے ساتھ اسٹریٹجک توازن برقرار رکھنے کے لیے ان اڈوں پر انحصار کرتے ہیں۔کویت میں 1991 کی جنگِ خلیج کے بعد سے امریکی فوج کی بہت بڑی اور مستقل موجودگی ہے، اور یہ ملک خطے میں امریکی زمینی آپریشنز کی ریڑھ کی ہڈی مانا جاتا ہے۔کیمپ عریفجان کویت میں امریکہ کا سب سے بڑا عسکری مرکز ہے جہاں ہزاروں امریکی فوجی تعینات ہیں۔ یہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوج کے لیے سب سے بڑا لاجسٹک، فورورڈ سپلائی اور کمانڈ اینڈ کنٹرول ہیڈ کوارٹر ہے۔کیمپ بیہرنگ اڈہ عراق کی سرحد کے قریب واقع ہے اور یہاں امریکی بکتر بند فورسز، ہیلی کاپٹرز اور ڈرونز کی ٹریننگ اور آپریشنز مانیٹر کیے جاتے ہیں۔علی السالم ایئر بیس امریکی فضائیہ کا ایک اہم لاجسٹک اور کارگو ایئر بیس ہے، جو پورے خطے میں امریکی افواج کو عسکری سازوسامان اور سپلائی پہنچانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔متحدہ عرب امارات میں امریکی تنصیبات بنیادی طور پر فضا اور سمندر سے ایران کی نگرانی کرنے اور اماراتی دفاعی نظام کو مضبوط بنانے پر مرکوز ہیں۔الظفرہ ایئر بیس ابوظہبی کے قریب واقع اڈہ انتہائی اسٹریٹجک اہمیت کا حامل ہے۔ یہاں امریکی فضائیہ کے جدید ترین اسٹیلتھ جنگی طیارے (جیسے F-35 اور F-22) اور عالمی سطح پر نگرانی کرنے والے جدید ترین ڈرونز اور یو-2 (U-2) جاسوس طیارے تعینات رہتے ہیں۔جبل علی پورٹ (Jebel Ali Port): دبئی میں واقع یہ بندرگاہ امریکہ سے باہر دنیا کی واحد گہرے پانی کی بندرگاہ ہے جہاں امریکی بحریہ کے سب سے بڑے نیوکلیئر ائیرکرافٹ کیریئرز (طیارہ بردار بحری جہاز) لنگر انداز ہو سکتے ہیں۔ یہ امریکی پانچویں بیڑے کے جہازوں کی آرام گاہ اور سپلائی کا سب سے بڑا مرکز ہے۔پیٹریاٹ میزائل سسٹمز: الظفرہ بیس پر امریکہ نے اپنے جدید ترین پیٹریاٹ (Patriot) اور تھاڈ (THAAD) ایئر ڈیفنس سسٹمز نصب کر رکھے ہیں، جو متحدہ عرب امارات کو ایران یا یمن کے حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں سے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ایران کویت اور امارات کے ان اڈوں کو اپنے دفاع کے لیے ایک مستقل خطرہ سمجھتا ہے اور ان پر گہری نظر رکھتا ہے۔امارات کا سفارتی شفٹ: متحدہ عرب امارات نے حالیہ سالوں میں ایران کے ساتھ اپنے تجارتی اور سفارتی تعلقات کو بہتر کیا ہے۔ایران کویت اور امارات کے ان اڈوں کو اپنے دفاع کے لیے ایک مستقل خطرہ سمجھتا ہے اور ان پر گہری نظر رکھتا ہے۔امارات کا سفارتی شفٹ: متحدہ عرب امارات نے حالیہ سالوں میں ایران کے ساتھ اپنے تجارتی اور سفارتی تعلقات کو بہتر کیا ہے۔ امارات اور کویت دونوں نے امریکہ کو واضح کر رکھا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود ان اڈوں کو ایران پر کسی بھی جارحانہ یا یکطرفہ حملے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے تاکہ وہ اس جنگ کا براہِ راست حصہ بننے سے محفوظ رہ سکیں

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »