اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) خدا حافظ سردار موارین خان تحریر ثاقب خان کھٹڑ
Share
اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) رخصت کی گھڑی ہمیشہ عجیب ہوتی ہے۔ کچھ لوگ عہدے چھوڑ جاتے ہیں اور وقت انہیں خاموشی سے بھلا دیتا ہے، جبکہ کچھ شخصیات اپنے پیچھے ایسی یادیں، روایات اور مثالیں چھوڑ جاتی ہیں جو مدتوں زیرِ بحث رہتی ہیں۔ ضلع اٹک سے سردار موارہن خان کی رخصتی بھی ایک ایسی ہی گھڑی ہے۔ ایک سال قبل جب انہوں نے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر اٹک کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالیں تو شاید کسی نے نہیں سوچا تھا کہ یہ ایک سال اٹک پولیس کی کارکردگی، عوامی رابطوں اور قانون کی عملداری کے حوالے سے ایک الگ شناخت اختیار کر لے گا۔
آج جب سردار موارہن خان اٹک کو الوداع کہنے جا رہے ہیں تو ان کے دور کا جائزہ لینا ضروری ہے، کیونکہ کسی بھی افسر کی اصل پہچان اس کے عہدے سے نہیں بلکہ اس کے کام سے ہوتی ہے۔
ضلع اٹک میں امن و امان کی صورتحال ہمیشہ ایک اہم چیلنج رہی ہے۔ جرائم کی روک تھام، اشتہاری مجرمان کی گرفتاری، منشیات فروشوں کے خلاف کارروائیاں اور عوامی اعتماد کی بحالی جیسے معاملات کسی بھی پولیس سربراہ کے لیے امتحان سے کم نہیں ہوتے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران اٹک پولیس نے انہی محاذوں پر اپنی توجہ مرکوز رکھی۔
اعداد و شمار کے مطابق قتل کے مقدمات 77 سے کم ہو کر 55 رہ گئے جبکہ اقدام قتل کے مقدمات 74 سے کم ہو کر 56 تک آ گئے۔ سرقہ بالجبر کے مقدمات 82 سے کم ہو کر 54 ہو گئے جبکہ ڈکیتی کے واقعات میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی۔ یہ صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ ان بے شمار خاندانوں کے سکون کی علامت ہیں جو جرائم کے خوف سے محفوظ رہے۔
سردار موارہن خان کے دور کا ایک نمایاں پہلو اشتہاری مجرمان کے خلاف بھرپور کارروائیاں تھیں۔ سال 2026 کے دوران 724 اشتہاری مجرمان کو گرفتار کیا گیا۔ ان میں کیٹیگری “اے” اور “بی” کے خطرناک اشتہاری بھی شامل تھے جبکہ صرف کیٹیگری “بی” کے 534 اشتہاری گرفتار ہوئے۔ یہ کارروائیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ قانون کی گرفت کو مضبوط بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے گئے۔
منشیات کے خلاف مہم بھی پوری شدت سے جاری رہی۔ 540 کلوگرام سے زائد چرس، 30 کلوگرام آئس، 25 کلوگرام سے زائد افیون اور 2421 لیٹر شراب کی برآمدگی اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ نوجوان نسل کو منشیات کے ناسور سے بچانے کے لیے سنجیدہ کوششیں کی گئیں۔ منشیات فروشوں کے خلاف متعدد مقدمات درج ہوئے اور کئی ملزمان کو قانون کے کٹہرے تک پہنچایا گیا۔
اسی طرح غیر قانونی اسلحہ رکھنے والوں کے خلاف کارروائیاں بھی مسلسل جاری رہیں۔ اسلحہ ایکٹ کے تحت 345 مقدمات درج کیے گئے، 353 ملزمان گرفتار ہوئے جبکہ 306 پسٹل، 30 رائفلیں اور بندوقیں، 12 کلاشنکوفیں، ایک گرنیڈ، ایک کاربین اور 1301 گولیاں برآمد کی گئیں۔ یہ کارروائیاں امن و امان کے قیام اور اسلحہ کلچر کے خاتمے کی کوششوں کا حصہ تھیں۔
سردار موارہن خان کی قیادت میں قبضہ مافیا کے خلاف بھی سخت کارروائیاں عمل میں لائی گئیں۔ متعدد شہریوں کو ان کی جائیدادوں کا قبضہ واپس دلایا گیا۔ بیواؤں، یتیموں اور کمزور طبقات کے حقوق کے تحفظ کو خصوصی اہمیت دی گئی۔ ایسے اقدامات صرف قانونی کارروائیاں نہیں بلکہ معاشرتی انصاف کے فروغ کی علامت بھی ہوتے ہیں۔
پولیس اور عوام کے درمیان فاصلے کم کرنے کے لیے کھلی کچہریوں کا انعقاد کیا گیا۔ شہریوں کو براہِ راست رسائی دی گئی، ان کے مسائل سنے گئے اور شکایات کے فوری ازالے کی کوشش کی گئی۔ کمیونٹی پولیسنگ کے فروغ اور عوامی رابطوں میں اضافے سے پولیس اور عوام کے درمیان اعتماد کی فضا مضبوط ہوئی۔
تھانوں کی کارکردگی کی مسلسل نگرانی، افسران کی جوابدہی اور فیلڈ میں متحرک موجودگی بھی اس دور کی نمایاں خصوصیات رہیں۔ ایک کامیاب قائد وہی ہوتا ہے جو صرف احکامات جاری نہ کرے بلکہ عملی طور پر نظام کی نگرانی بھی کرے، اور سردار موارہن خان کی کارکردگی میں یہ عنصر نمایاں دکھائی دیا۔
یقیناً کسی بھی ضلع کے تمام مسائل ایک سال میں ختم نہیں ہوتے۔ جرائم کے نئے رجحانات جنم لیتے رہتے ہیں اور چیلنجز اپنی جگہ موجود رہتے ہیں۔ تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ برقرار رہے گی کہ گزشتہ ایک سال کے دوران اٹک پولیس نے جرائم کے خلاف جنگ، عوامی خدمت اور قانون کی عملداری کے میدان میں قابلِ ذکر پیش رفت کی۔
آج جب سردار موارہن خان اٹک سے رخصت ہو رہے ہیں تو ان کے ساتھ ایک سال کی محنت، بے شمار کامیاب کارروائیاں، عوامی دعائیں اور ایک بہتر روایت بھی رخصت ہو رہی ہے۔ عہدے بدل جاتے ہیں، دفاتر تبدیل ہو جاتے ہیں، لیکن اچھے کاموں کی بازگشت دیر تک سنائی دیتی رہتی ہے۔
خدا حافظ، سردار موارہن خان۔
اٹک کی تاریخ میں آپ کا نام ایک ایسے پولیس افسر کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس نے قانون کی عملداری، عوامی خدمت اور مؤثر پولیسنگ کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھا اور اپنے حصے کا چراغ روشن رکھنے کی کوشش کی۔

