اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) جولائی 2026 دہشت گرد حملوں اور انسداد دہشت گردی کارروائیوں میں شدت کے باعث رواں سال کا سب سے خون ریز مہینہ ثابت ہوا جس میں 205 افراد جاں بحق جبکہ 218 زخمی ہوئے پاکستان انسٹٹی ٹیوٹ فار کنفلیکٹ اینڈ سیکورٹی سٹڈیز کی جاری
Share
اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) جولائی 2026 دہشت گرد حملوں اور انسداد دہشت گردی کارروائیوں میں شدت کے باعث رواں سال کا سب سے خون ریز مہینہ ثابت ہوا جس میں 205 افراد جاں بحق جبکہ 218 زخمی ہوئے پاکستان انسٹٹی ٹیوٹ فار کنفلیکٹ اینڈ سیکورٹی سٹڈیز کی جاری ماہانہ سیکورٹی رپورٹ کے مطابق جولائی میں دہشت گردی کے مختلف واقعات میں جاں بحق افراد میں 112 سیکورٹی اہلکار 74 شہری اور امن کمیٹیوں کے9 ارکان شامل ہیں سیکورٹی فورسز کی شہادتوں کے حوالے سے ماہ جولائی ایک بھاری مہینہ تھا جنوری 2023 کے بعد کسی ایک ماہ میں یہ سب سے زیادہ اور گزشتہ ایک دہائی میں دوسری بلند ترین ماہانہ تعداد ہے جنوری 2023 میں 114 اہلکار شہید ہوئے تھے جولائی میں سیکورٹی فورسز کی انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں 401 دہشت گردوں کی ہلاکت گزشتہ دس برسوں میں کسی ایک ماہ کی بلند ترین تعداد ہے جولائی میں کم از کم 8 خود کش حملے ہوئے جن میں سے پانچ میں بارود سے بھری گاڑیوں کا استعمال کیا گیا گزشتہ ایک دہائی میں کسی بھی ایک ماہ کے دوران خود کش حملوں کی یہ سب سے زیادہ تعداد ہے گزشتہ ماہ جولائی کے دوران دہشت گردی کے ریکارڈ واقعات اس بات کا انتباہ ہیں کہ دہشت گردی کا عفریت دوبارہ سر اٹھا رہاہے قابل غور بات یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف بڑی تعداد میں کارروائیوں اور جوانوں کی قربانیوں کے باوجود دہشت گردی کے حالیہ واقعات لمحہ فکریہ ہیں ملک میں گزشتہ تین سالوں کے دوران دہشت گردی میں جس قدر اضافہ ہوا وہ سب پر عیاں ہے دکھ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان مزید پر تشدد حملوں کے سامنے کھڑا ہے پاکستان کو درپیش سیکورٹی خطرات کا سرحد پار کے حالات سے ہمیشہ بہت گہرا تعلق رہا ہے ماضی میں بھی یہ سرحد کے حالات ہی تھے جنہوں نے پاکستان کو دہشت گردی کے خوفناک صورت حال سے دوچار کیا اور پھر اس سے نکلنے کے لئے ایک طویل جدوجہد کرنا پڑی 2021 کے وسط میں کابل میں آنے والی تبدیلی کے اثرات ایک بار پھر پاکستان کے سیکورٹی منظر نامے کو متاثر کر رہے ہیں افغانستان میں دہشت گردی کے نیٹ ورک کس طرح پروان چڑھ رہے ہیں وہ دنیا سے ڈھکا چھپا نہیں افغانستان اس وقت عملا فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کا ٹھکانہ ہے پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک کو طالبان حکومت سے جو امیدیں وابستہ تھیں وہ چکنا چور ہوگئی ہیں موجودہ صورت حال نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لئے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے کیونکہ افغانستان جس طرح علاقائی اور عالمی شدت پسندوں کا ٹھکانہ بن رہا ہے اس کی تصدیق اقوام متحدہ کے ادارے اور آزاد تحقیقی ادارے بھی اپنی رپورٹوں میں کر رہے ہیں طالبان کے زیر اقتدار افغانستان میں دہشت گرد تنظیمیں نہ صرف متحرک ہیں بلکہ مبینہ طور پر محفوظ پناہ گاہوں سے بھی فائدہ اٹھا رہی ہیں القاعدہ سمیت کئی شدت پسند گروہ افغانستان میں اپنی موجودگی برقرار اور سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں ہمیں یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ قومیں ہمیشہ عزت ووقار کے ساتھ ہی اپنی آزادی سلامتی اور خود مختاری کا تحفظ کر سکتی ہیں پچھلے کچھ عرصہ کے دوران ملک میں سیکورٹی چیلنجز میں اضافہ ہوا ہے مگر ان چیلنجز سے نمٹنے کے لئے سیکورٹی فورسز پورے عزم اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ مستعد ہیں فوری کنٹرول دہشت گردوں کو دوبارہ منظم ہونے سے روکنا اور نفسیاتی جنگ ناکام بنانا پاکستان نے تینوں مراحل جیت لئے ہیں عام شہریوں خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانے سے علیحدگی پسند بیانیہ بے نقاب اور دہشت گردی ثابت ہوئی دہشت گردوں کو جسمانی، مالی اور نفسیاتی جگہ نہ دینا ہی پاکستان کی کامیاب حکمت عملی اور استحکام کی ضمانت ہے جدید دفاع کا مقصد صرف حملہ روکنا نہیں بلکہ ہر دھچکے کو رفتار میں بدلنے سے روکنا ہے سیکورٹی فورسز کے بھرپور اور موثر رد عمل کی وجہ سے دہشت گردوں اور انکے سرپرستوں کو مسلسل اپنے مکروہ عزائم میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر چھانہ مار کارروائیاں مسلسل جاری ہیں اور سیکورٹی فورسز کا زیادہ تر جانی نقصان انہی کارروائیوں میں ہو رہا ہے دہشت گردی کے حوالے سے بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کے چیلنجز بڑے ہیں چنانچہ بچاؤ کے اقدامات کو بھی اسی حساب سے بڑا ہونا چاہیے حکومت اس ضمن میں قانون نافذ کرنے والے اداروں بالخصوص پولیس کی تربیت اور ہتھیاروں پر خصوصی اخراجات کرے ملک کی موجودہ صورت حال میں دشمن کی پاکستان کو اندرونی محاذوں پر الجھانے کی کوشش کو ناکام بنانے اور اندرونی وبیرونی چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لئے ٹھوس اقدامات ناگزیر ہیں دہشت گردی کو جامع دفاعی حکمت عملی اور قومی ہم آہنگی کا مضبوط بند باندھ کر ہی ختم کیا جاسکتا ہے اگر ہم اندرونی طور پر مضبوط ہوں گے تو بیرونی دشمن کو جرات نہیں ہوگی کہ وہ ہمارے ملک کے خلاف کسی بھی سازش یا جارحیت کا ارتکاب کرسکے**

