اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) اسلام آباد میں چہلم سید الشہداء امام حسین علیہ السلام عقیدت و احترام سے منایا گیا
Share
اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) اسلام آباد میں چہلم سید الشہداء امام حسین علیہ السلام عقیدت و احترام سے منایا گیا
مرکزی جلوس امام بارگاہ جی سکس ٹو سے برآمد ہوا، جلوس میں شبیہہ ذوالجناح،علم غازی عباس، گہوارہ شہزادہ علی اصغر، تابوت مبارک اور دیگر تبرکات شامل تھے،
جلوس علم و ذوالجناح کی قیادت سیکریٹری جنرل تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پاکستان علامہ راجہ بشارت حسین امامی، علمائے کرام، تحریک کے عہدیداران اور عمایدین نے کی
چہلم امام حسین کا زریں باب عشق حضرت علی ابن الحسین اور حضرت زینب بنت علی نے کمال استقامت و صبر سے رقم کیا۔علامہ بشارت حسین امامی
یزیدی سنسرشپ اور درباری راویوں کی من گھڑت تاریخ نویسی کے باوجود پرچم حسینیت و حقانیت نواسہ رسول کو اجاگر کرنا زینب و زین العابدین کی تبلیغ کا معجزہ ہے۔ سیکریٹری جنرل ٹی این ایف جے علامہ بشارت امامی
عزائے حسین پر کسی قسم کی پابندی قبول نہیں، حکمران دونوں کانوں سے سن لیں ہم نے لہو رنگ قربانیاں صرف یا حسین کی بقاء کے لیے دی ہے۔ علامہ بشارت حسین امامی
جلوس شبیہ علم و ذوالجناح مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا واپس امام بارگاہ جی سکس ٹو میں اختتام پذیر ہوا
مختار فورس کے والنٹیرز، ابراہیم اسکاوٹس نے خدمت خلق میں ڈیوٹی سرانجام دیں۔جبکہ ون ٹوچوک میں مختار اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن اسلام آباد نے عزاداری کیمپ لگایا۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں چہلم سید الشہداء امام حسین اور ان کے بہتُ٘ر جانثاروں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے مرکزی جلوس امام بارگاہ جی سکس ٹو سے برآمد ہوا، جلوس میں دیگر مقدسات و تبرکات کے علاوہ شبیہہ ذوالجناح، شبیہ علم غازی عباس، گہوارہ شہزادہ علی اصغر، تابوت مبارک بھی شامل تھے، ہزاروں عزاداروں نے جلوس میں شریک ہو کر ماتم و پرسہ داری میں حصہ لیا۔ اس موقع جلوس شبیہ علم و ذوالجناح کی قیادت سیکریٹری جنرل تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پاکستان علامہ راجہ بشارت حسین امامی نے کی، علمائے کرام، تحریک کے عہدیداران اور عمایدین بھی ان کے ہمراہ تھے۔ اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ بشارت حسین امامی نے اربعین حسینی کی قدر ومنزلت اور بزرگی پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ چہلم امام حسین اس عظیم یادگار کی زندہ مثال اور زریں باب عشق ہے جسے حضرت علی ابن الحسین اور حضرت زینب بنت علی نے کمال استقامت و صبر اور رضائے الہی سے رقم کیا۔ انہوں نے کہا کہ یزیدی سنسرشپ اور درباری راویوں کی من گھڑت تاریخ نویسی کے باوجود پرچم حسینیت و حقانیت نواسہ رسول کو اجاگر کرنا زینب و زین العابدین کی تبلیغ کا معجزہ ہے۔ علامہ امامی نے کہا کہ عزائے حسین پر کسی قسم کی پابندی قبول نہیں کریں گے، حکمران دونوں کانوں سے سن لیں ہم نے لہو رنگ قربانیوں کی داستان صرف یا حسین کی بقاء کے لیے دی ہے۔ انہوں نے کہا ہماری تاریخ دیکھ لیں ہم جہاں چاہتے ہیں علم عباس لہرا دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا پنجاب کی عجب انتظامیہ ہے ایک جانب سہولیات کا اعلان کرتی ہے اور دوسری جانب گھروں میں بھی عزائے حسین کے انعقاد پر پابندی ہے، یک بام دو تا ہوا کسی صورت قبول نہیں۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جہاں چاہیں کنٹینر لگا لیں عزاداری ہر صورت جاری رہے گی۔ علامہ امامی نے اس موقع پر ملک وقوم کی سلامتی ایلیان وطن کی حفاظت، امن کے قیام امن عساکر پاکستان کی کامیابی کے لیے بھی خصوصی دعائیں کیں۔ جلوس شبیہ علم و ذوالجناح مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا واپس امام بارگاہ جی سکس ٹو میں اختتام پذیر ہوا۔ اس موقع پر مختار فورس کے والنٹیرز نے حفاظتی انتظامات جبکہ ابراہیم اسکاوٹس نے خدمت خلق میں ڈیوٹی سرانجام دیں۔ علاوہ ازیں ون ٹو چوک میں مختار اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن اسلام آباد کے زیر اہتمام مرکزی عزاداری کیمپ لگایا گیا جہاں عزاداروں کے لیے سبیل حسینی اور نیاز وتبرک کا اہتمام کیا گیا تھا۔

