LOADING

Type to search

National

راولپنڈی (ڈیجیٹل پوسٹ) تحریر صوفی عابد چشتی نظامی نیازی راولپنڈی عوام پسینے میں، قیادت گرم کوٹوں مفلروں میں

Share
تحریر صوفی عابد چشتی نظامی نیازی راولپنڈی عوام پسینے میں، قیادت گرم کوٹوں مفلروں میں ‎راولپنڈی (ڈیجیٹل پوسٹ)، جو پاکستان کے اہم ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے، آج شدید عوامی مسائل کی لپیٹ میں ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہاں کے شہری پانی، بجلی، گیس، بے روزگاری، مہنگائی، ناقص صحت کی سہولیات اور روزمرہ زندگی کے دیگر بنیادی مسائل سے مسلسل دوچار ہیں، لیکن حکمران طبقہ ان مسائل کے مستقل حل کے بجائے زیادہ تر نمائشی ترقیاتی منصوبوں تک محدود نظر آتا ہے۔
حکومت کی توجہ کا زیادہ تر مرکز سڑکوں، پلوں اور دیگر مسلم لیگ (ن) کی قیادت بھی داخلی اختلافات اور مختلف دھڑوں میں تقسیم دکھائی دیتی ہے، جس کا اثر عوامی رابطے اور حکومتی کارکردگی پر بھی محسوس کیا جا رہا ہے۔ عوام کو ایسے رہنماؤں کی ضرورت ہے جو انکے درمیان رہیں، ان کے دکھ درد کو محسوس کریں
تعمیراتی منصوبوں پر دکھائی دیتا ہے
سب سے زیادہ تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ راولپنڈی میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی عوامی قیادت خاموش دکھائی دیتی ہے۔ کارکن اپنے مسائل اور عوام کی شکایات لے کر دروازے کھٹکھٹاتے ہیں، مگر انہیں مؤثر جواب یا رہنمائی کم ملتی ہے وہ کارکن جنہوں نے برسوں پارٹی کے لیے سیاسی جدوجہد کی، آج خود کو نظر انداز محسوس کرتے ہیں ان کی رائے ہے کہ پارٹی کو ایسے کارکنوں کی عزت اور حوصلہ افزائی کرنی چاہیے جنہوں نے مشکل حالات میں جماعت کا ساتھ دیا
آج  بازاروں میں عام آدمی کی قوتِ خرید بری طرح متاثر ہو چکی ہے۔ سبزی، گوشت، آٹا، چینی، ادویات اور دیگر بنیادی ضروریات کی قیمتیں بہت سے خاندانوں کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں بے روزگاری نے نوجوانوں کو مایوسی میں مبتلا کر دیا ہے، جبکہ سرکاری اسپتالوں کی حالت بھی عوام کے لیے اطمینان بخش نہیں علاج معالجے کی سہولیات اور ادویات کی دستیابی ایک بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے منتخب نمائندے صرف  رسمی تقریبات تک محدود نہ رہیں، بلکہ شدید گرمی، حبس اور مشکل حالات میں بھی عوام کے درمیان نظر آئیں وہ گلی محلوں، بازاروں، سرکاری اسپتالوں، تھانوں، کچہریوں اور عوامی اجتماعات میں جا کر لوگوں کے مسائل اپنی آنکھوں سے دیکھیں
عوام کا یہ بھی تاثر ہے کہ بعض بااختیار شخصیات وزارتوں اور سرکاری مراعات تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں جب شدید گرمی میں عام شہری بجلی، پانی اور روزگار کے مسائل سے نبرد آزما ہو، اور دوسری طرف حکمران طبقہ ایئرکنڈیشنڈ دفاتر، سرکاری گاڑیوں اور پروٹوکول میں مصروف نظر آئے، تو عوام اور قیادت کے درمیان فاصلہ بڑھنا ایک فطری بات ہے۔ عوام چاہتے ہیں کہ ان کے نمائندے صرف تقریبات میں نہیں بلکہ ان کے محلوں، بازاروں اور گلیوں میں ان کے دکھ سکھ میں بھی نظر آئیں، تاکہ انہیں حقائق کا  ان کواندازہ ہو سکے
راولپنڈی کے عوام میں یہ تاثر بھی تیزی سے پھیل رہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی مقامی قیادت عوام سے کٹتی جا رہی ہے۔ شہری سوال اٹھاتے ہیں کہ جب شدید گرمی میں عام آدمی بجلی کی لوڈشیڈنگ، مہنگائی اور بنیادی سہولیات کی کمی کے باعث پسینے میں شرابور ہو کر زندگی گزار رہا ہو، تو اس وقت بعض سیاسی رہنما گرم چیک والے کوٹ، بلیزر اور مفلر پہنے، ایئرکنڈیشنڈ دفاتر اور گاڑیوں میں بیٹھ کر عوامی نمائندگی کا دعویٰ کرتے دکھائی دیتے ہیں عوام کی نظر میں یہ منظر علامتی طور پر اس بڑھتے ہوئے فاصلے کی عکاسی کرتا ہے جو قیادت اور عام شہری کے درمیان پیدا ہو چکا ہے
عوام کا کہنا ہے کہ قیادت کی اصل پہچان لباس پروٹوکول یا سرکاری مراعات نہیں بلکہ عوام کے درمیان موجودگی، ان کے دکھ درد میں شرکت اور ان کے مسائل کے عملی حل میں ہوتی ہے۔ اگر سیاسی رہنما صرف رسمی تقریبات، تصاویر اور نمائشی سرگرمیوں تک محدود رہیں، جبکہ دوسری طرف شہری پانی، بجلی، گیس، بے روزگاری، مہنگائی اور انصاف کے حصول جیسے بنیادی مسائل میں گھرے رہیں، تو عوامی اعتمادختم  ہونا ایک فطری امر ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ راولپنڈی کی قیادت ایئرکنڈیشنڈ کمروں سے نکل کر گلی، محلوں، بازاروں اور عام شہری کے درمیان جائے، ان کے مسائل سنے اور ان کے حل کے لیے عملی کردار ادا کرے، کیونکہ عوام کو نعروں سے زیادہ خدمت اور نتائج درکار ہیں پارٹی کے اندر ایسے افراد کو آگے لانے کی ضرورت ہے جو عوام کے درمیان رہتے ہوں، ان کے مسائل کو سمجھتے ہوں اور خدمت کا عملی جذبہ رکھتے ہوں۔ صرف عہدے، پروٹوکول، مہنگے لباس یا نمائشی سیاست عوام کا اعتماد بحال نہیں کر سکتے وقت کا تقاضا ہے کہ نمائشی سیاست سے آگے بڑھ کر حقیقی عوامی خدمت کو ترجیح دی جائے
تمام حالات حکومتِ پاکستان اور بالخصوص مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت کے لیے سنجیدہ توجہ کے متقاضی ہیں۔ میاں محمد نواز شریف اور وزیرِاعظم میاں شہباز شریف کو راولپنڈی کی تنظیمی اور عوامی صورتحال کا ازسرِنو جائزہ لینا چاہیے۔ اگر کارکنوں کی آواز نہ سنی گئی، زمینی حقائق کو نظر انداز کیا گیا اور عوامی رابطہ کمزور رہا، تو اس کے سیاسی اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں پارٹی کے اندر ایسے افراد کو آگے لانے کی ضرورت ہے جو عوام کے درمیان رہتے ہوں، ان کے مسائل کو سمجھتے ہوں اور خدمت کا عملی جذبہ رکھتے ہوں صرف عہدے، پروٹوکول، مہنگے لباس یا نمائشی سیاست عوام کا اعتماد بحال نہیں کر سکتے

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »