LOADING

Type to search

Islamabad National

اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) آزاد کشمیر انتخابات، دھرنا اور پسِ پردہ سیاست؟

Share

اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) آزاد جموں و کشمیر کا موجودہ سیاسی منظر نامہ اور بحران اس وقت ایک گہرے سیاسی اور عوامی ہیجان کی زد میں ہے, ایک طرف مقامی انتخابی جوڑ توڑ اور اقتدار کی رسہ کشی عروج پر ہے، تو دوسری طرف عوامی حقوق کے نام پر شروع ہونے والی تحریکیں اب باقاعدہ ایک سیاسی طاقت بن چکی ہیں۔
جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اسی عوامی غصے کو لے کر ابھری، جس نے ریاست کے روایتی حکمران طبقے اور سیاسی جماعتوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
راولاکوٹ دھرنا سے جاری ہونے والے تازہ ترین اعلامیے نے کئی نئے سوالات کو جنم دیا ہے۔ اس اعلامیے کے اہم نکات اور ان کے سیاسی معنی درج ذیل ہیں:
کمیٹی کی جانب سے آزاد کشمیر کی مقامی حکومت یا منتخب نمائندوں کو بائی پاس کر کے براہِ راست فیلڈ مارشل کو خط لکھنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ تحریک اب مظفر آباد کی اسمبلی کو بے اختیار سمجھتی ہے
اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن کے چیئرمین سید قمر رضا کو نمائندہ خصوصی بنا کر بھیجنا اور کمیٹی کا ان سے مذاکرات کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ پسِ پردہ معاملات طے پا رہے ہیں, کمیٹی نے ‘مزید انسانی جانوں کے ضیاع’ کا جواز بنا کر لانگ مارچ تو منسوخ کر دیا، لیکن پرامن دھرنے جاری رکھنے کا اعلان کیاہے, یہ ایک کلاسک سیاسی حکمتِ عملی ہے تاکہ عوامی دباؤ بھی برقرار رہے اور مقتدرہ کے ساتھ تعلقات بھی خراب نہ ہوں , آزاد کشمیر کی سیاست میں عوامی ایکشن کمیٹی کے اس کردار کو دو مختلف زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے، جسے نقاد ‘ڈِرٹی پولیٹکس’ کا نام دے رہے ہیں,اپوزیشن اور روایتی جماعتوں کا الزام ہے کہ ایکشن کمیٹی کے چند رہنما معصوم عوام کے بنیادی مطالبات (سستی بجلی، آٹا) کو اپنے ذاتی سیاسی قد کاٹھ اور آنے والے انتخابات میں ٹکٹ یا نشستیں حاصل کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
تحریک کا آغاز حکومت مخالف نعروں سے ہوا، لیکن انجام کار مقتدرہ کے نمائندوں کی محض ایک ‘یقین دہانی’ پر لانگ مارچ کا روک دیا جانا کئی شکوک و شبہات پیدا کر رہا ہے۔
کیا یہ تحریک واقعی عوامی تھی یا اسے کسی خاص سیاسی سیٹ اپ کو گرانے یا بنانے کے لیے استعمال کیا گیا؟
موجودہ آزاد کشمیر حکومت اس پورے بحران میں محض تماشائی بنی رہی۔ جب عوامی غیظ و غضب بڑھا تو انہوں نے ذمہ داری وفاق پر ڈال دی، جس سے یہ ثابت ہوا کہ کشمیر کی مقامی قیادت عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے صرف اپنی کرسیاں بچانے کی سیاست کر رہی ہے۔
مستقبل میں ہونے والے آزاد کشمیر کے انتخابات پر اس ایکشن کمیٹی کی سیاست کے اثرات مرتب ہوں گے: پی پی پی، ن لیگ اور پی ٹی آئی جیسی بڑی جماعتیں عوام میں اپنا اعتماد کھو چکی ہیں کیونکہ وہ عوام کے ساتھ کھڑی نظر نہیں آئیں۔
ایکشن کمیٹی کے رہنما اب کشمیر کی سیاست میں نئے ‘پاور بروکرز’ بن کر ابھریں گے، اور الیکشن میں مقتدرہ ان چہروں کو روایتی سیاستدانوں کے متبادل کے طور پر استعمال کر سکتی ہے ,
آزاد کشمیر کی سیاست ہمیشہ سے وفاق اور مقامی قیادت کے درمیان توازن کا کھیل رہی ہے، لیکن حالیہ دنوں میں عوامی حقوق کی آڑ میں جو کھیل کھیلا گیا، اس نے سیاست کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ راولاکوٹ دھرنے کا لانگ مارچ ختم کرنے کا فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ کشمیر میں کوئی بھی تحریک مقتدرہ کے ساتھ سمجھوتے کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتی۔ عوام کو سستی بجلی اور آٹا ملے یا نہ ملے، لیکن اس ‘سیاسی جوڑ توڑ’ کے نتیجے میں کشمیر کے سیاسی شطرنج پر مہریں ضرور بدل چکی ہیں۔ آزاد کشمیر کی سیاست کا یہ تلخ ترین سچ ہے کہ یہاں کوئی بھی تحریک مقتدرہ کی آشیرباد کے بغیر نہ تو پنپ سکتی ہے اور نہ ہی دم توڑ سکتی ہے۔ راولاکوٹ دھرنے کا 15 جولائی 2026ء کا اعلامیہ اس سیاسی جوڑ توڑ کی مثال ہے,مہینوں سے عوام کو سستی بجلی، سستے آٹے اور حقوق کی جنگ کے نام پر متحرک کیا گیا، انہیں سڑکوں پر لایا گیا، ریاستی تشدد کا نشانہ بنوایا گیا، اور جب فیصلہ کن وقت آیا تو “صرف ایک یقین دہانی” پر لانگ مارچ منسوخ کر دیا گیا۔ نقاد پوچھتے ہیں:کیا چند بیوروکریٹس کی زبانی یقین دہانی کشمیر کے دیرینہ مسائل کا حل ہے؟ کیا یہ خطرہ تحریک شروع کرتے وقت رہنماؤں کے علم میں نہیں تھا؟حقیقت یہ لگتی ہے کہ جب تحریک مقتدرہ کے قابو سے باہر ہونے لگی، تو قیادت پر دباؤ ڈال کر یا پسِ پردہ مراعات طے کر کے اس کا رخ موڑ دیا گیا۔
سیاسی حلقوں میں یہ بحث گرم ہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اب عوامی حقوق کا فورم نہیں رہی، بلکہ آنے والے آزاد کشمیر انتخابات کے لیے ایک “سیاسی لانچنگ پیڈ” بن چکی ہے۔ کمیٹی کے چند کلیدی رہنما خود کو کشمیر کے روایتی سیاستدانوں (ن لیگ، پی پی پی، پی ٹی آئی) کے متبادل کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ مقتدرہ کشمیر کی پرانی اور فرسودہ سیاسی قیادت سے بیزار ہو چکی ہے۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ اگلی حکومت کی تشکیل میں ایکشن کمیٹی کے ان چہروں کو “کنگز پارٹی” یا آزاد امیدواروں کے طور پر استعمال کیا جائے گا تاکہ اسمبلی میں مقتدرہ کا کنٹرول سو فیصد برقرار رہے۔اعلامیے میں لانگ مارچ روکنے لیکن “پرامن دھرنے جاری رکھنے” کا جو مبہم فیصلہ کیا گیا ہے، وہ عوام کو مطمئن رکھنے کی ایک بھونڈی کوشش ہے۔ یہ حکمتِ عملی اس لیے اپنائی گئی تاکہ عوام میں یہ تاثر نہ جائے کہ قیادت نے مقتدرہ کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے ہیں۔ یہ دھرنے اب صرف ایک دباؤ کے مہرے کے طور پر استعمال ہوں گے، جن کا مقصد عوام کو ریلیف دینا نہیں بلکہ مقتدرہ سے اپنی شرائط منوانا ہے۔آزاد کشمیر انتخابات سے قبل عوامی ایکشن کمیٹی کی یہ سیاست حقوق کی تحریک سے زیادہ “پاور گیم” کا حصہ بن چکی ہے۔ معصوم کشمیری عوام ایک بار پھر سستی بجلی اور روٹی کے خواب دکھا کر استعمال کیے گئے، جبکہ اصل فائدہ ان چند رہنماؤں کو پہنچا جنہوں نے اسٹیبلشمنٹ کی ٹیبل پر بیٹھ کر اپنی سیاسی قیمت بڑھا لی۔ کشمیر کی سیاست کا یہ شطرنج گواہ ہے کہ چہرے بدلتے ہیں، مگر چالیں ہمیشہ وہی پرانی رہتی ہیں۔آزاد کشمیر کے حالیہ بحران، راولاکوٹ دھرنے کے ڈرامائی موڑ اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ابھار کے بعد، ریاست کا روایتی انتخابی نقشہ مکمل طور پر تبدیل ہو چکا ہے۔ مقتدرہ کی نئی ترجیحات اور عوامی غصے کو مدِنظر رکھتے ہوئے، آئندہ کے انتخابی اتحادوں کی ممکنہ اور حقیقت پسندانہ صورتحال درج ذیل ہیں: “کنگز پارٹی” کا قیام (ایکشن کمیٹی پلس الائنس)مقتدرہ اس وقت آزاد کشمیر کی روایتی جماعتوں (ن لیگ، پی پی پی، پی ٹی آئی) سے شدید نالاں ہے کیونکہ وہ عوامی بحران کو سنبھالنے میں ناکام رہیں۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مقبول اور مقتدرہ نواز چہروں کو ملا کر ایک غیر علانیہ “کنگز پارٹی” یا نیا سیاسی اتحاد بنایا جا سکتا ہے اس الائنس میں ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کے ساتھ ساتھ مسلم کانفرنس کے باقیات اور بجلی بحران کے دوران استعفے دینے والے الیکٹبلز شامل ہوں گے۔ مقتدرہ پسِ پردہ اس نئے اتحاد کی مکمل مالی اور سیاسی پشت پناہی کرے گی تاکہ مظفرآباد اسمبلی میں ایک “فرمانبردار” سیٹ اپ لایا جا سکے۔ ن لیگ + پی پی پی عوامی ایکشن کمیٹی کے بڑھتے ہوئے سیاسی قد کاٹھ نے آزاد کشمیر کی دو بڑی روایتی جماعتوں، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کو بقا کے خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اپنی گرتی ہوئی مقبولیت اور ایکشن کمیٹی کے طوفان کو روکنے کے لیے ن لیگ اور پی پی پی آزاد کشمیر میں ایک باقاعدہ انتخابی اتحاد یا سیٹ ایڈجسٹمنٹ کر سکتے ہیں۔ یہ دونوں جماعتیں مقتدرہ کو یہ باور کرانے کی کوشش کریں گی کہ کشمیر میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ایکشن کمیٹی جیسی “اسٹریٹ پاور” کے بجائے ان کا تجربہ کار سیاسی نیٹ ورک زیادہ قابلِ بھروسہ ہے۔ یہ اتحاد خالصتاً اپنے سیاسی بقا اور اقتدار کو بچانے کے لیے ہوگا۔ پی ٹی آئی کشمیر کا “اینٹی اسٹیبلشمنٹ” کارڈآزاد کشمیر میں پاکستان تحریک انصاف کا ایک بڑا ووٹ بینک موجود ہے، جو حالیہ دھرنوں اور حکومتی بے حسی کے بعد مزید شدت اختیار کر چکا ہے۔ پی ٹی آئی کشمیر کسی بھی ایسے اتحاد کا حصہ نہیں بنے گی جس میں مقتدرہ یا ن لیگ شامل ہو۔ پی ٹی آئی تنہا یا کشمیر کی دیگر قوم پرست جماعتوں کے ساتھ مل کر ایک سخت “اینٹی اسٹیبلشمنٹ” اور “حقوقِ کشمیر” الائنس بنا سکتی ہے اگر عوام نے یہ محسوس کیا کہ ایکشن کمیٹی نے 15 جولائی کے اعلامیے کے ذریعے مقتدرہ کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے ہیں، تو ایکشن کمیٹی کا متبادل ووٹ بینک تیزی سے پی ٹی آئی کی طرف شفٹ ہو جائے گا، جو انتخابی نتائج کو بدل کر رکھ سکتا ہے۔ قوم پرست جماعتوں اور ایکشن کمیٹی کا “کشمیری نیشنلسٹ الائنس”آزاد کشمیر کی سیاست میں قوم پرست جماعتیں (جیسے جے کے ایل ایف یا جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی) ہمیشہ سے متحرک رہی ہیں لیکن انتخابی طور پر کمزور تھیں۔ ایکشن کمیٹی کا بنیادی بیانیہ چونکہ کشمیر کے اپنے وسائل (پانی اور بجلی) پر حق کے گرد گھومتا ہے، اس لیے قوم پرست جماعتیں ایکشن کمیٹی کے دھڑوں کے ساتھ مل کر ایک نیا “کشمیری نیشنلسٹ فرنٹ” بنا سکتی ہیں یہ اتحاد مقتدرہ اور اسلام آباد کی جماعتوں دونوں کے خلاف سخت ترین موقف اپنائے گا۔ اگرچہ یہ اتحاد مکمل حکومت بنانے کی پوزیشن میں شاید نہ ہو، لیکن یہ اسمبلی میں ایک انتہائی مضبوط اور خطرناک اپوزیشن بن کر ابھر سکتا ہے۔ مقتدرہ کا حتمی کارڈآئندہ کے انتخابی اتحادوں کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا، اس کا فیصلہ شروع ہونے والے پسِ پردہ مذاکرات میں ہوگا۔ سب سے زیادہ قوی امکان یہی ہے کہ مقتدرہ ایکشن کمیٹی کے چند دھڑوں اور آزاد امیدواروں کا ایک تگڑا مکسچر تیار کرے گی تاکہ کسی بھی ایک جماعت کو اتنی اکثریت نہ ملے کہ وہ آزادانہ فیصلے کر سکے۔ کشمیر کی اگلی اسمبلی ایک شدید بٹی ہوئی اسمبلی ہوگی، جس کی ڈوریاں مکمل طور پر مقتدرہ کے ہاتھ میں ہوں گی۔آزاد جموں و کشمیر (AJK) کے عام انتخابات 27 جولائی 2026ء کو شیڈول ہیں، جس کے لیے سیاسی گہما گہمی اور انتخابی مہمات اپنے عروج پر پہنچ چکی ہیں۔ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کی کل 53 نشستیں ہیں، جن میں سے اکثریت کے لیے 27 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق 33 علاقائی حلقے آزاد کشمیر کی حدود میں ہیں، جبکہ 12 نشستیں مقیمِ پاکستان مہاجرینِ جموں و کشمیر کے لیے مخصوص ہیں۔ کل رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 38 لاکھ سے زائد ہے، جس میں 2,001,730 مرد اور 1,802,655 خواتین ووٹرز شامل ہیں۔ سب سے بڑا حلقہ ایل اے-7 بھمبر-III ہے۔ حالیہ سول نافرمانی، دھرنوں اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے پیدا ہونے والی شدید کشیدگی کے باوجود حکومت اور الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ جمہوریت کا یہ عمل کسی صورت نہیں رکے گا اور پولنگ مقررہ وقت پر ہی ہوگی۔یہ انتخابات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب پورا خطہ سیاسی بحران کی زد میں ہے۔ تنازع کی سب سے بڑی وجہ یہی 12 مخصوص مہاجرین کی نشستیں ہیں:ایکشن کمیٹی کا اعتراض: جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا مطالبہ تھا کہ ان 12 نشستوں کو ختم کیا جائے کیونکہ پاکستان میں رہنے والے غیر مقیم افراد کشمیر کے مقامی سیاسی فیصلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ آزاد کشمیر سپریم کورٹ نے اپنے تاریخی فیصلے میں واضح کیا کہ یہ نشستیں آئینی تحفظ یافتہ ہیں اور آئینی ترمیم کے بغیر انہیں ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اسی فیصلے کے بعد حکومت نے الیکشن کے انعقاد کو حتمی شکل دی انتخابی میدان میں اس وقت روایتی حریف آمنے سامنے ہیں، جن کی مہمات عروج پر ہیں:پاکستان مسلم لیگ (ن): ن لیگ نے پونچھ، میرپور اور مظفرآباد ڈویژنوں کے اہم حلقوں میں ٹکٹ جاری کر کے بھرپور کارنر میٹنگز شروع کر رکھی ہیں۔ راجہ فاروق حیدر (حلقہ چکار) اور چوہدری طارق فاروق (حلقہ بھمبر) جیسے بڑے نام میدان میں متحرک ہیں۔پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی مظفرآباد اور پونچھ ڈویژن کا ہنگامی دورہ کر کے پارٹی امیدواروں کے ساتھ انتخابی حکمتِ عملی اور منشور کو حتمی شکل دی ہے جہاں ایک طرف 750 سے زائد امیدوار میدان میں ہیں، وہیں دوسری طرف ایکشن کمیٹی کے حامیوں اور بعض قوم پرست دھڑوں کی جانب سے ریاستی رویوں اور گرفتاریوں کے خلاف شدید احتجاج اور بائیکاٹ کا دباؤ بھی موجود ہے ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق مہاجرین جموں و کشمیر مقیم پاکستان کے حلقوں سے اب تک 146 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق میرپور ڈویژن سے 264، پونچھ ڈویژن سے 152 جبکہ مظفرآباد ڈویژن سے 193 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق 45 انتخابی حلقوں سے مجموعی طور پر 755 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے ہیں۔ کاغذات نامزدگی جمع کروانے کی آخری تاریخ 23 جون مقرر تھی۔ دوسری جانب سیاسی جماعتوں میں ٹکٹوں کی تقسیم کا عمل مکمل نہ ہو سکا، مسلم لیگ (ن) نے 37 حلقوں سے ٹکٹ جاری کر دیے ہیں، جبکہ 8 حلقوں میں امیدواروں کا حتمی فیصلہ تاحال نہیں ہو سکا27 جولائی کے انتخابات آزاد کشمیر کی تاریخ کے پیچیدہ ترین انتخابات ثابت ہونے جا رہے ہیں۔ ایک طرف روایتی جماعتیں (ن لیگ، پی پی پی) ہر صورت الیکشن کروا کر نظام بحال کرنا چاہتی ہیں، تو دوسری طرف عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاجی بیانیے نے ووٹرز کے ذہنوں کو بدل دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا کشمیری عوام روایتی سیاست دانوں پر دوبارہ اعتماد کرتے ہیں یا دھرنوں اور تحریکوں کی کوکھ سے جنم لینے والی نئی قیادت کو اسمبلی کا راستہ دکھاتے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »