LOADING

Type to search

Islamabad National

اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) پٹرولیم لیوی میں غیر ضروری اضافہ۔ معاشی اصلاحات پر عدم توجہی

Share

اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) وفاقی حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات پر لیوی میں مزید اضافہ ایک بار پھر عوام پر اضافی معاشی بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے۔ ایسے وقت میں جب مہنگائی پہلے ہی عام شہری کی قوتِ خرید کو بری طرح متاثر کر چکی ہے، عوام کو ریلیف دینے کے بجائے ایندھن پر مزید ٹیکس عائد کرنا نہ صرف مایوس کن بلکہ معیشت کے لیے بھی نقصان دہ فیصلہ ہے۔ بین الاقوامی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 76 امریکی ڈالر فی بیرل ہونے کے باوجود حکومت نے اس کا فائدہ عوام تک پہنچانے کے بجائے پٹرولیم لیوی بڑھا دی، حالانکہ ایسے مواقع پر ٹیکس اور لیوی میں کمی کر کے عوام کو ریلیف دیا جا سکتا تھا۔

پٹرول کی قیمت صرف ایندھن کی قیمت نہیں بلکہ پوری معیشت کا رخ متعین کرتی ہے۔ پٹرول مہنگا ہونے سے ٹرانسپورٹ کرائے، اشیائے خورونوش، زرعی اخراجات اور صنعتی پیداواری لاگت میں اضافہ ہوتا ہے، جس سے مہنگائی کی نئی لہر جنم لیتی ہے۔ اس کا سب سے زیادہ بوجھ متوسط اور کم آمدنی والے طبقے پر پڑتا ہے، جبکہ صنعتوں کی پیداواری لاگت بڑھنے سے ملکی مصنوعات عالمی منڈی میں کم مسابقتی ہو جاتی ہیں۔

بدقسمتی سے ہمارے ہاں ایک اور مسئلہ بھی شدت اختیار کر چکا ہے۔ جب بھی پٹرول کی قیمت بڑھتی ہے تو ٹرانسپورٹ کرایوں اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں فوراً اضافہ کر دیا جاتا ہے، لیکن بعد میں جب عالمی منڈی میں خام تیل سستا ہوتا ہے یا حکومت پٹرول کی قیمت کم کرتی ہے تو نہ ٹرانسپورٹ کرائے واپس کم ہوتے ہیں اور نہ ہی روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں کمی آتی ہے۔ نتیجتاً عوام مہنگائی کے مستقل بوجھ تلے دبے رہتے ہیں جبکہ قیمتوں میں کمی کا حقیقی فائدہ کبھی صارف تک نہیں پہنچ پاتا۔

اسی لیے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا ہر ہفتے یا ہر پندرہ روز بعد جائزہ لینے کی موجودہ پالیسی پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ بہتر ہوگا کہ قیمتوں کا تعین سہ ماہی بنیادوں پر کیا جائے یا ایک سال کے لیے نسبتاً مستحکم رکھا جائے، جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے اثرات کو پٹرولیم لیوی اور ٹیکسوں میں مناسب ردوبدل کے ذریعے جذب کیا جائے۔ اس سے ٹرانسپورٹ کرایوں، اشیائے ضروریہ اور صنعتی لاگت میں غیر ضروری اتار چڑھاؤ سے بچا جا سکتا ہے اور کاروباری طبقے کو بھی ایک مستحکم معاشی ماحول میسر آئے گا۔

یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ پٹرولیم لیوی حکومت کے لیے محصولات حاصل کرنے کا آسان ذریعہ بن چکی ہے، لیکن آسان راستہ ہمیشہ درست راستہ نہیں ہوتا۔ عوام پر بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنے کے بجائے حکومت کو اپنے غیر ترقیاتی اخراجات میں نمایاں کمی، وفاقی کابینہ کے حجم کو محدود کرنے، غیر ضروری مراعات ختم کرنے اور مالی نظم و ضبط کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ اسی کے ساتھ ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جائے، ٹیکس چوری کی روک تھام کی جائے اور محصولات کی وصولی کا نظام مؤثر بنایا جائے تاکہ بار بار پٹرولیم لیوی میں اضافے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔

بہت سے معاشی ماہرین کی رائے ہے کہ اگر پٹرول کی قیمت تقریباً 200 روپے فی لیٹر کے قریب رکھی جائے تو اس سے ٹرانسپورٹ کرایوں، مہنگائی اور صنعتی پیداواری لاگت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے، کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا اور عوام کی قوتِ خرید بہتر ہوگی۔

پاکستان کو مالی مشکلات ضرور درپیش ہیں، لیکن ان کا حل ہر بار عوام پر نئے ٹیکس عائد کرنا نہیں۔ حکومت کو محصولات میں اضافے کے ساتھ ساتھ اپنے اخراجات، انتظامی ڈھانچے اور مالی نظم و نسق پر بھی توجہ دینا ہوگی۔ عوام کو یہ تاثر نہیں ملنا چاہیے کہ مالی خسارے اور محصولات کی کمی کا آسان ترین حل صرف پٹرول مہنگا کرنا ہے، جبکہ حکومتی فضول اخراجات اور انتظامی کمزوریاں برقرار رہیں۔

وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت پٹرولیم لیوی کی موجودہ پالیسی پر ازسرِنو غور کرے اور ایسی جامع معاشی حکمتِ عملی اختیار کرے جس سے مہنگائی پر قابو پایا جا سکے، صنعت و تجارت کو فروغ ملے، ٹرانسپورٹ کے کرائے مستحکم رہیں اور عام آدمی کو حقیقی ریلیف ملے۔ مضبوط معیشت کا راستہ عوام پر مزید بوجھ ڈالنے سے نہیں بلکہ کفایت شعاری، بہتر حکمرانی، شفاف مالیاتی نظم و نسق اور دوررس معاشی اصلاحات سے ہو کر گزرتا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »