اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) امریکہ اور ایران مذاکرات کی بحالی کے لیے پاکستانی کوششیں
Share
اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) مذاکرات کی بحالی, بڑھتی ہوئی کشیدگی کو روکنے کے لیے پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے فوری سفارتی مشن کا آغاز کیا ہے, پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے ساتھ ایک اہم ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے، جس میں مشرقِ وسطیٰ اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے خطے میں تیزی سے بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال اور اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا۔ گفتگو کے دوران نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت (جون 2026) پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا اوراس بات پر زور دیا کہ تمام متعلقہ فریقین کشیدگی میں کمی لانے کا راستہ اختیار کریں اور انتہائی تحمل کا مظاہرہ کریں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے جون 2026 میں طے پانے والے تاریخی “اسلام آباد ایم او یو” (مفاہمت کی یادداشت) کے تحت کیے گئے فیصلوں اور اصولوں پر سختی سے عمل کیا جانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
وزیر خارجہ پاکستان نے واضح کیا کہ خطے میں جاری تنازعات اور پسماندہ مسائل کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کے لیے صرف اور صرف مذاکرات اور سفارت کاری ہی واحد قابلِ عمل راستہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پرامن بقائے باہمی، بات چیت اور سفارتی روابط کے ذریعے ہی خطے میں پائیدار امن، خوشحالی اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکتا ہے,سینیٹر اسحاق ڈار نے تہران کے ساتھ بات چیت میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان علاقائی امن و استحکام کے فروغ اور بقا کے لیے اپنا مثبت اور تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے ہمیشہ کی طرح اب بھی مکمل طور پر تیار اور پرعزم ہے۔رابطے کے اختتام پر دونوں ممالک کے رہنماؤں نے خطے کی تازہ ترین صورتحال پر کڑی نظر رکھنے اور مستقبل میں بھی قریبی روابط برقرار رکھنے پر مکمل اتفاق کیا اس ٹیلیفونک رابطہ کے تناظر میں حالیہ علاقائی و سفارتی صورتحال یہ ہےکہ “اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت” اسلام آباد میمورنڈم یا اسلام آباد ایم او یو پر 17 جون 2026 کو دستخط ہوئے تھے یہ پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والا ایک تاریخی سفارتی بریک تھرو تھا، جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے دستخط کیے تھے اس کا مقصد مشرقِ وسطیٰ کی جنگ امریکہ-ایران حالیہ تنازع کا خاتمہ کرنا تھا۔ اسلام آباد ایم او یو کے تحت دونوں فریقین کے درمیان 60 روز کے لیے عارضی سیز فائر (جنگ بندی) پر اتفاق کیا گیا تھا تاکہ مستقل امن معاہدے کے لیے راہیں ہموار کی جا سکیں, اس پورے عمل میں پاکستان نے مرکزی ثالث کا کردار ادا کیا جبکہ قطر، سعودی عرب، مصر اور ترکی نے بھی اس مذاکراتی عمل میں معاونت فراہم کی ,پاکستانی وزارتِ خارجہ کی ترجمان نے پاک-ایران تعلقات اور مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والے بحران پر پاکستان کا باقاعدہ مؤقف دنیا کے سامنے رکھاہے۔پاکستان نے واضح طور پر کہاہے کہ پاکستان خطے میں کسی بھی نئی جنگ یا عسکری کارروائی کی شدید مذمت کرتا ہے اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت (MoFA) کی روشنی میں خطے میں تمام محاذوں پر فوری اور مستقل جنگ بندی ہونی چاہیے ترجمان نے تمام علاقائی ممالک اور عالمی طاقتوں پر زور دیا کہ وہ کوئی بھی ایسا غیر سنجیدہ قدم اٹھانے سے گریز کریں جس سے خودمختاری کی خلاف ورزی ہو یا مشرقِ وسطیٰ میں سیکیورٹی کی صورتحال مزید خراب ہو۔
پاکستان کے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کے ساتھ حالیہ ٹیلی فونک رابطے کے علاوہ، ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے تہران میں بین الاقوامی میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے پاکستان کی سفارتی کوششوں کا خاص طور پر ذکر کیا ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران، خطے میں امن قائم کرنے اور مذاکرات کی بحالی کے لیے پاکستان کے “سفارتی مخلصانہ کردار اور کوششوں” (Good Offices) کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے انہوں نے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ اسلام آباد ایم او یو کے تحت عارضی سیز فائر اور آبنائے ہرمز کو تجارتی جہازوں کے لیے کھلا رکھنے کی بنیادی ذمہ داری امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر عائد ہوتی ہے اور امریکہ کو خطے کے ممالک پر فضائی حملے بند کرنے ہوں گے اس سفارتی سرگرمی کے بعد پاکستان اور ایران دونوں کے سفارتی چینلز نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ مستقل رابطے میں رہیں گے۔ پاکستان اس وقت قطر اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر ایک متحرک سفارتی نیٹ ورک کے طور پر کام کر رہا ہے تاکہ تہران اور واشنگٹن کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے اور خطے کو ایک بڑی جنگ سے بچایا جا سکے۔ مزید یہ کہ ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار اور اسپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ یکطرفہ معاہدوں کا دور ختم ہو چکا ہے۔ باقرقالیباف نے ایکس پر اپنے پیغام میں کہایک طرفہ معاہدوں کا دور ختم ہوچکا،پہلے ہی خبردارکیا تھا اپنےوعدے پورے کرو یا اس کی قیمت چکاؤ۔ ایرانی اسپیکر نےکہا اب حقیقت تمہارے دروازے پردستک دے رہی ہے،تہران آبنائے ہرمز میں اپنےمفادات کاہرقیمت پر تحفظ کرے گا۔ قالیباف نے اپنی پوسٹ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت (MoU) کے آرٹیکل 5 کی تصویر بھی شیئر کی، جس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق شق موجود ہے،تصویر میں اسلامی جمہوریہ ایران انتظامات کرے گا کے الفاظ کو نمایاں کیا گیا ہے۔اس دوران، ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی،پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ خطے میں امریکی فوجی تنصیبات اور لاجسٹک مراکز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایران پر تازہ امریکی حملوں کےبعد عُمان، قطر، اردن، بحرین اور کویت میں ایران کی جانب سے امریکی فوجی اہداف پر حملے کیے گئے ہیں۔ ایران کی پاسداران انقلاب کاکہنا ہےکہ عُمان کی بندرگاہ دُقم میں امریکی طیارہ بردار بحری جہازوں کے لیے استعمال ہونےوالےلاجسٹک سپورٹ مراکز اور ایندھن بھرنےوالےپلیٹ فارمز پرشدید اور اچانک حملہ کیا ہے۔ قطر میں العدیدفضائی اڈےپربھی بیلسٹک میزائل داغے اور جنگی طیاروں کی دیکھ بھال اور مرمت کا مرکز اور ایک کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر تباہ کر دیا گیا۔ ایرانی فوج نے کویت اور بحرین میں امریکی فوج کے زیر استعمال پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام، اسلحہ گودام اور ریڈار تنصیب کو نشانہ بنانے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔اسی طرح
امریکا نے ایران کےخلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کرتے ہوئےمتعدد ساحلی شہروں پر میزائل داغ دئیے ،چابہار،بوشہر، قشم اور بندرعباس میں شدید دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں،جبکہ کنارک، میناب، سیریک اور بوشہر میں بھی فضائی حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کےمطابق پاسداران انقلاب نےآبنائےہرمزمیں قبرص کے پرچم بردار جہاز پر حملہ کیا،جہاز کے ایک سویلین عملے کارکن لاپتہ ہے،جہازمیں آگ لگنےکےباعث وہ اپناسفرجاری رکھنے کےقابل نہیں رہا،ایران کو مفاہمتی یادداشت کی پاسداری کا ایک اور موقع دیا گیا تھا،ایران ایک بار پھر اس پرعمل کرنے میں ناکام رہا، حملے کے جواب میں امریکا ایران پربھاری قیمت عائد کررہا ہے،یہ حملے امریکی سینٹرل کمانڈ کی ہدایت پر کیے جا رہے ہیں۔ امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران نے غلط فیصلہ کیا اور اب اسے اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔نائب وزیرِاعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کے سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان سے ٹیلی فونک رابطہ خطے میں بڑھتی کشیدگی پر اظہار تشویش کیا گیا، سفارتکاری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے مالدیپ کی وزیر خارجہ کو بھی ٹیلی فون کرکے علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت پر گفتگو کی۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے خطے کی تازہ صورتحال اور بڑھتی کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے امن معاہدے کے باوجود کشیدگی میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ سعودی وزیر خارجہ نے کشیدگی میں کمی اور بات چیت جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ جبکہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ تمام فریق زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں۔ ثالثی کی کوششوں کو کامیاب بنانے کے لیے وقت اور مواقع فراہم کیے جائیں۔ دوسری جانب اسحاق ڈار نے مالدیپ کی وزیر خارجہ ڈاکٹر ایڈم کو بھی ٹیلی فون کیا اور مالدیپ کی آزادی کی اکسٹویں سالگرہ پر پیشگی مبارکباددی۔ وزیر خارجہ ایڈم نے ایران امریکا تنازع میں پاکستان کے ثالثی کردار کو سراہا۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور مالدیپ کے درمیان دیرینہ دوستی اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس دوران اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں،تشدد اور عدم استحکام کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کےمستقل مندوب عاصم افتخار نےخطاب میں کہا سفارتکاری اور مسلسل مذاکرات ہی متنازع امور کے پائیدارحل کا واحد راستہ ہے،خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کسی کےمفاد میں نہیں، تشدد اور عدم استحکام کا سلسلہ ختم ہوناچاہیے،پاکستان کشیدگی میں کمی،جنگ بندی اورعلاقائی استحکام کےلیےتعمیری سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئےہے۔ انہوں نےزوردیاکہ حساس مذاکرات کےدوران ایسے بیانات اوراقدامات سےگریزکیاجائے،جوغلط فہمیوں کوجنم دیں،تمام ترتوجہ اورکوششیں اسلام آبادمفاہمتی یادداشت پرمؤثرعملدرآمد یقینی بنانےپرمرکوزہونی چاہئیں۔

