اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) لاپرواہی کی قیمت: دستاویزات آپ کے حقوق کی حفاظت کیوں کرتی ہیں
Share
اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) لاپرواہی کی قیمت: دستاویزات آپ کے حقوق کی حفاظت کیوں کرتی ہیں
از: عزیر رزاق
ایڈووکیٹ | کالم نگار، ماہر سرکاری اصلاحات اور شفافیت
uzair.razzaq@gmail.com
ہمارے معاشرے میں وکیلوں کو برا بھلا کہنا، عدالتوں کو کوسنا اور حکومت پر تنقید کرنا ایک عام روایت بن چکی ہے۔ نظام کو ناکام قرار دینا آسان ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم خود اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہیں؟ روزانہ خریدار اور فروخت کنندہ، سروس فراہم کرنے والے اور کلائنٹ، مالک مکان اور کرایہ دار کے درمیان تنازعات پیدا ہوتے ہیں۔ جب یہ تنازعات وکیل کے پاس پہنچتے ہیں تو ایک ہی مسئلہ بار بار سامنے آتا ہے: متاثرہ شخص کے پاس اپنے دعوے کو ثابت کرنے کے لیے کوئی ثبوت موجود نہیں ہوتا۔ حق موجود ہوتا ہے، مگر ثبوت نہیں۔
پوچھا جائے کہ کیا کوئی تحریری معاہدہ ہوا تھا؟ جواب ملتا ہے: “نہیں، صرف زبانی بات ہوئی تھی۔” ادائیگی کیسے کی؟ جواب: “کیش دے دی تھی۔” رسید؟ بینک ٹرانزیکشن؟ چیک؟ کوئی ریکارڈ؟ کچھ بھی نہیں۔ اور اگر معاہدہ موجود بھی ہو تو اکثر وہ ایک معمولی، کاپی پیسٹ شدہ کاغذ ہوتا ہے جس پر کروڑوں روپے کے لین دین درج ہوتے ہیں۔ اس میں نہ حقوق واضح ہوتے ہیں، نہ ذمہ داریاں، نہ شرائط، نہ تنازع کے حل کا طریقہ۔ نتیجہ یہ کہ جب دھوکہ ہوتا ہے تو وہ کاغذ کسی کام کا نہیں رہتا۔
یہ لاپرواہی کسی ایک شعبے تک محدود نہیں۔ ایونٹ پلانرز، کیٹررز، ڈیکوریٹرز، فوٹوگرافرز، فری لانسرز، آن لائن سیلرز اور جائیداد کے خریدار سبھی روزانہ لاکھوں اور کروڑوں روپے کے معاملات بغیر کسی تحریری ثبوت کے کرتے ہیں۔ وہ زبانی وعدوں پر بھروسہ کرتے ہیں، رسیدیں نہیں لیتے، قانونی احتیاط نہیں کرتے۔ اور جب نقصان ہوتا ہے تو الزام نظام پر ڈال دیتے ہیں، حالانکہ اصل کمزوری ان کی اپنی لاپرواہی ہوتی ہے۔
ایک ایونٹ پلانر کی مثال لیجیے۔ انہوں نے ایک تقریب کا مکمل انتظام کیا، ایڈوانس وصول کیا اور تمام طے شدہ خدمات فراہم کیں۔ تقریب کے بعد کلائنٹ نے ایسی چیزوں پر اعتراضات اٹھائے جو نہ معاہدے کا حصہ تھیں، نہ ان کے چارجز لیے گئے تھے۔ انہی اعتراضات کو بنیاد بنا کر باقی ادائیگی روک لی گئی۔ جب پوچھا گیا کہ کیا کوئی تحریری معاہدہ، رسید یا حتیٰ کہ واٹس ایپ پر کنفرمیشن موجود ہے؟ جواب تھا: “نہیں۔” وہ جانتی تھیں کہ ان کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے، مگر ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے ان کا کیس کمزور تھا۔
ایک اور شخص نے جائیداد خریدنے کے لیے بڑی رقم ادا کی۔ بعد میں پتہ چلا کہ وہ زمین سرے سے موجود ہی نہیں تھی۔ حیرت انگیز بات یہ کہ انہوں نے ادائیگی سے پہلے جا کر زمین دیکھی تک نہیں تھی۔ نہ معاہدہ، نہ تصدیق، نہ کوئی قانونی احتیاط۔ نقصان ان کی اپنی غفلت کا نتیجہ تھا۔ یہ کہانیاں انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی ہیں۔ پاکستان میں ہزاروں لوگ روزانہ اسی انداز میں کاروبار کرتے ہیں اور پھر نقصان کے بعد نظام کو الزام دیتے ہیں۔
سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ہماری اپنی دینی تعلیمات ہمیں اس معاملے میں واضح رہنمائی دیتی ہیں۔ قرآن مجید کی سب سے طویل آیت، سورۃ البقرہ کی آیت 282، صاف حکم دیتی ہے: “اے ایمان والو! جب تم ایک مقررہ مدت کے لیے آپس میں کوئی معاملہ کرو تو اسے لکھ لیا کرو۔” چودہ سو سال پہلے ہمیں تحریری معاہدے، گواہوں اور دیانت داری کے اصول سکھا دیے گئے تھے۔ آج جسے ہم “لیگل ڈاکیومنٹیشن” اور “سیفٹی پروٹوکولز” کہتے ہیں، اس کی بنیادیں ہمیں پہلے ہی عطا کر دی گئی تھیں۔ مگر ہم نے ان اصولوں پر عمل کرنے کے بجائے صرف تنقید کرنا سیکھ لیا ہے۔
عدالتیں کمزور نہیں ہوتیں، قانون بے بس نہیں ہوتا۔ کمزوری اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ہمارے پاس ثبوت نہیں ہوتا۔ جج جذبات پر نہیں بلکہ ثبوت پر فیصلہ کرتے ہیں۔ اس لیے دستاویزات محض کاغذ نہیں بلکہ آپ کے حق کی ڈھال ہیں۔ تحریری معاہدے حقوق اور ذمہ داریاں واضح کرتے ہیں۔ رسیدیں اور انوائسز ادائیگی کا ناقابلِ انکار ثبوت فراہم کرتے ہیں۔ بینک ٹرانزیکشنز ایک ایسا ریکارڈ چھوڑتے ہیں جسے جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ تصدیق یہ یقینی بناتی ہے کہ پراپرٹی یا سروس حقیقت میں موجود ہے۔ یہ سب چیزیں آپ کے حقوق کو محفوظ بناتی ہیں۔
ہم اکثر چاہتے ہیں کہ نظام بدلے، عدالتیں تیز فیصلے کریں، قوانین سخت ہوں۔ لیکن اگر ہم خود اپنی عادات نہ بدلیں تو کوئی نظام ہمیں نہیں بچا سکتا۔ اگر آپ انصاف چاہتے ہیں تو سب سے پہلے اپنی ذمہ داری پوری کریں۔ ہر بڑے مالی معاملے کو تحریری شکل دیں۔ رسید یا بینک ٹرانزیکشن ضرور محفوظ رکھیں۔ ادائیگی سے پہلے تصدیق کریں۔ ریکارڈ کو سنبھال کر رکھیں۔ احتیاط کی قیمت ہمیشہ نقصان کی قیمت سے کم ہوتی ہے۔ چند ہزار روپے کا معاہدہ کروڑوں بچا سکتا ہے۔ چند منٹ کی تصدیق زندگی بھر کے نقصان سے بچا سکتی ہے۔
عام آدمی کے لیے قانونی زبان مشکل لگ سکتی ہے، لیکن اپنی حفاظت کے لیے وکیل ہونا ضروری نہیں۔ صرف نظم و ضبط اور ذمہ داری کافی ہے۔ دستاویزات کو انشورنس سمجھیں: امید ہے کہ کبھی ضرورت نہ پڑے، لیکن جب وقت آئے تو یہی آپ کو بچاتی ہیں۔ فری لانسر کو اپنے پروجیکٹ کے لیے تحریری اسکوپ لینا چاہیے۔ کیٹرر کو انوائس دینا اور ادائیگی کا ریکارڈ رکھنا چاہیے۔ جائیداد خریدنے والے کو ٹائٹل ڈاکیومنٹس دیکھنے اور ملکیت کی تصدیق کرنی چاہیے۔ چھوٹے کاروبار کو بھی رسیدیں اور معاہدے محفوظ رکھنے چاہئیں۔ یہ سب چیزیں عیش نہیں بلکہ ضرورت ہیں۔
وکیلوں کو برا بھلا کہنا آسان ہے، اپنی غلطیوں کو ماننا مشکل ہے۔ دھوکہ صرف اس لیے کامیاب ہوتا ہے کہ متاثرہ شخص نے احتیاط نہیں کی۔ اگر ہم بہتر معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی عادات بدلنی ہوں گی۔ ہمیں دستاویزات، تصدیق اور احتیاط کو اپنانا ہوگا۔ ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ قرآن خود ہمیں لین دین لکھنے کا حکم دیتا ہے۔ انصاف صرف عدالتوں میں نہیں بلکہ ہماری روزمرہ ذمہ داریوں میں بھی قائم ہوتا ہے۔
قانون کمزور نہیں، ہماری لاپرواہی ہمیں کمزور بناتی ہے۔ عدالتیں ثبوت پر فیصلہ کرتی ہیں، جذبات پر نہیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا حق محفوظ رہے تو اپنے کاغذات محفوظ رکھیں۔ تحریری معاہدہ، رسید، بینک ریکارڈ—یہ سب آپ کی ڈھال ہیں۔ آخرکار، احتیاط صرف قانونی مشورہ نہیں بلکہ ایک ذمہ دار شہری کی پہچان ہے۔ اور ذمہ داری، تنقید سے زیادہ، معاشرے کو مضبوط کرتی ہے۔

