LOADING

Type to search

National

ہری پور (ڈیجیٹل پوسٹ) یونیورسٹی آف ہری پور میں رجسٹرار، خزانچی اور کنٹرولر ام/تحانات پانچ سال سے غیر قانونی طور پر کام کر رہے ہیں یونیورسٹی آف ہری پور میں موجودہ رجسٹرار ٹینیور میں اساتذہ کی غیر قانونی تقرریوں کے خلاف انکوائریاں شروع

Share

ہری پور (ڈیجیٹل پوسٹ) یونیورسٹی آف ہری پور میں خیبر پختونخوا یونیورسٹیز ایکٹ 2012 (ترمیم شدہ 2024) کی خلاف ورزی کا انکشاف ہوا ہے، جہاں رجسٹرار، خزانچی اور کنٹرولر امتحانات گزشتہ پانچ سال سے اضافی چارج پر کام کر رہے ہیں، حالانکہ یہ عہدے تین سالہ مدت کے لیے باقاعدہ افسران کو دیے جانے لازمی ہیں۔

ایکٹ کی دفعہ 17A اور دفعہ 13 کے مطابق رجسٹرار سینئر ترین انتظامی افسر ہونا چاہیے، لیکن دستاویزات سے معلوم ہوا ہے کہ اساتذہ اور جونیئر افسران ان عہدوں پر غیر قانونی طور پر کام کر رہے ہیں۔

ریاض محمد بطور پرووسٹ عارضی چارج پر ہیں اور رجسٹرار کے فرائض بھی انجام دے رہے ہیں۔ عمران محمد جو ڈپٹی خزانچی (BPS-18) ہیں، بطور خزانچی (BPS-20) کام کر رہے ہیں۔ ضیاء الرحمن اسسٹنٹ پروفیسر (BPS-19) ہیں اور کنٹرولر امتحانات (BPS-20) و ڈائریکٹر ورکس (BPS-20) کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ پروفیسر ڈاکٹر عزیز اللہ، ڈاکٹر شاہ مسعود، ڈاکٹر محمد جہانگیر، ڈاکٹر سمیع اللہ خان، پروفیسر ڈاکٹر سید معزم نظامی، ڈاکٹر اعجاز خان، ڈاکٹر داؤد علی، ڈاکٹر شیر از خان، ڈاکٹر شبیع الحسن، ڈاکٹر محتاج خان اور ڈاکٹر ضیاء الاسلام بھی مختلف انتظامی عہدوں پر فائز ہیں، جن میں ڈائریکٹر اکیڈمکس، ORIC، ASRB اور کوالٹی انہانسمنٹ سیل شامل ہیں۔

یکم اپریل 2026 کو پشاور ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا کہ تدریسی عملہ انتظامی عہدے اضافی چارج پر نہیں رکھ سکتا۔ اس کے بعد ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے 6 اور 16 اپریل کو خطوط جاری کیے اور 7 سے 15 دن میں عمل درآمد کا حکم دیا۔ تاہم ان احکامات کے باوجود 22 اساتذہ ان عہدوں پر کام کر رہے ہیں۔

انتظامی افسران نے کئی بار وائس چانسلر، پرو چانسلر اور معزز چانسلر کو خطوط بھیجے ہیں تاکہ ایکٹ، عدالتی احکامات اور ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی ہدایات پر عمل درآمد ہو، لیکن یونیورسٹی انتظامیہ تاحال ان پر عمل کرنے میں ناکام رہی ہے۔

صوبائی حکومت نے اب ان غیر قانونی تقرریوں کے خلاف تین الگ الگ انکوائریاں شروع کر دی ہیں، جس سے جامعہ میں میرٹ، شفافیت اور گورننس پر سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »