لندن (ڈیجیٹل پوسٹ) برطانوی پاکستانی بزنس مین، ارتھ اسمارٹ کے سی ای او اور میڈیا پروڈیوسر خرم عدنان شیخ نے کہا ہے کہ برطانیہ کے بعض شہروں، خصوصاً مانچسٹر، برمنگھم، یارکشائر اور لندن میں مقیم آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) سے تعلق رکھنے والے اوورسیز افراد کا ایک مخصوص گروہ مبینہ طور پر ایسے عناصر کو مالی اور تنظیمی معاونت فراہم کر رہا ہے جو پاکستان اور کشمیر میں امن و استحکام کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔
Share
لندن (ڈیجیٹل پوسٹ) برطانوی پاکستانی بزنس مین، ارتھ اسمارٹ کے سی ای او اور میڈیا پروڈیوسر خرم عدنان شیخ نے کہا ہے کہ برطانیہ کے بعض شہروں، خصوصاً مانچسٹر، برمنگھم، یارکشائر اور لندن میں مقیم آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) سے تعلق رکھنے والے اوورسیز افراد کا ایک مخصوص گروہ مبینہ طور پر ایسے عناصر کو مالی اور تنظیمی معاونت فراہم کر رہا ہے جو پاکستان اور کشمیر میں امن و استحکام کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔
اپنے بیان میں خرم عدنان شیخ نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج اور عوام نے کئی دہائیوں سے کشمیری عوام کے سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حقوق کی حمایت کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ لہٰذا ایسی کوئی بھی سرگرمی جو خطے میں بدامنی، انتشار اور عدم استحکام کو فروغ دے، نہایت قابلِ مذمت اور غیر حب الوطنی پر مبنی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کی بھاری اکثریت محبِ وطن ہے اور پاکستان کو ترقی یافتہ، مستحکم اور خوشحال دیکھنا چاہتی ہے۔ تاہم چند عناصر بیرونی فنڈنگ اور منظم پروپیگنڈے کے ذریعے قومی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ وہ ایسے معاملات کا سنجیدگی سے جائزہ لیں اور ان عناصر کی سرگرمیوں کی مؤثر نگرانی کریں جن کے اصل مقاصد پاکستان اور کشمیر میں بدامنی اور عدم استحکام پیدا کرنا ہیں۔
خرم عدنان شیخ نے مزید کہا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی جیسے گروہ دراصل علیحدگی پسند نظریات کی نمائندگی کرتے ہیں اور پاکستان کے خلاف جذبات رکھتے ہیں۔ ان کے بقول یہ عناصر سماجی اور سیاسی مسائل کو ہوا دے کر عوام میں بے چینی اور انتشار پیدا کرتے ہیں تاکہ اپنے علیحدگی پسند ایجنڈے کو آگے بڑھا سکیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تارکینِ وطن کے لیے مختص پارلیمانی نشستوں کے معاملے کو بھی اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ خطے میں عدم استحکام پیدا کیا جا سکے آخر میں خرم عدنان شیخ نے پاکستان اور کشمیر کے عوام کے درمیان بھائی چارے، امن اور استحکام کے فروغ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ مستقبل میں بھی ان مقاصد کے حصول کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا، “ہماری وفاداری پاکستان کے ساتھ ہے۔ ہم سب سے پہلے پاکستانی ہیں، اس کے بعد کشمیری، بلوچ، پنجابی، سندھی یا کسی اور شناخت سے تعلق رکھتے ہیں۔”

