LOADING

Type to search

Islamabad National

اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) عوامی ریلیف پیکج; کفایت شعاری مہم سے 129 ارب روپے کی بچت ہوئی

Share

اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) وزیراعظم محمد شہباز شریف نےایک اہم فیصلے کے تحت عوامی ریلیف پیکج کے ساتھ ساتھ 9 مارچ 2026 سے نافذ العمل تمام اضافی کفایت شعاری اور ایندھن بچت اقدامات کو فوری طور پر ختم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
حکومت نے ہنگامی کفایت شعاری مہم کے ذریعے جو 129 ارب روپے بچائے تھے، وہ اب اس ریلیف پیکج اور احساس/بینظیر انکم سپورٹ جیسے سماجی تحفظ کے پروگراموں کے ذریعے غریب خاندانوں کو منتقل کیے جا رہے ہیں۔
حکومتِ پاکستان نے وفاقی بجٹ 2026-27 اور وزیر اعظم کے حالیہ پیکیجز میں ملک کے مخصوص اور کمزور طبقات کے لیے متعدد مالی ریلیف اقدامات متعارف کروائے ہیں۔
ان اقدامات کا بنیادی مقصد تنخواہ دار طبقے، سرکاری ملازمین، پینشنرز، غریب خاندانوں اور کسانوں کو براہِ راست ریلیف فراہم کرنا ہے,
تمام وفاقی سرکاری ملازمین (گریڈ 1 سے 22) کی تنخواہوں میں 7 فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس کا اضافہ,ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پینشن میں بھی 7 فیصد اضافہ منظور کیا گیا ہے,
کم آمدنی والے طبقے کو چھت فراہم کرنے کے لیے بجٹ میں 71 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔
ملک کے 1 کروڑ 21 لاکھ مستحق خاندانوں کو شفاف ڈیجیٹل بینکنگ کے ذریعے 13,000 روپے فی خاندان کی براہِ راست مالی امداد دی گئی ہے۔
عام آدمی کی سہولت کے لیے ادویات اور دیگر ضروری طبی سامان پر ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی گئی ہے
ملک میں مزدور کی کم از کم ماہانہ اجرت میں 10 فیصد اضافہ کر کے اسے 40,700 روپے مقرر کیا گیا ہے۔,
چھوٹے کسانوں کے لیے ڈیجیٹل نظام کے تحت زمین یا گھر گروی رکھے بغیر مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔
نوجوانوں کو زراعت کی طرف راغب کرنے کے لیے 262 ارب روپے کی بڑی رقم مختص کی گئی ہے، جس میں سے 125 ارب روپے خالصتاً زرعی ترقی کے لیے استعمال ہوں گے
مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے پر یہ ہنگامی اقدامات نافذ کیے گئے تھے، جنہیں اب معاشی استحکام اور پیٹرول کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی کے بعد واپس لے لیا گیا ہےکابینہ ڈویژن کے جاری کردہ سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق جمعہ کی اضافی ہفتہ وار چھٹی ختم کر کے 5 روزہ ورکنگ ویک دوبارہ بحال کر دیا گیا ہے۔
60 فیصد سرکاری گاڑیوں کو بند کرنے کا حکم واپس لے لیا گیا ہے۔افسران اور وزراء کے پیٹرول کوٹے میں کی گئی 50 فیصد کٹوتی ختم کر کے مکمل کوٹہ بحال کر دیا گیا ہے
ملازمین کے لیے 50 فیصد ‘گھر سے کام کرنے’ کی ہنگامی سہولت ختم کر دی گئی ہے۔
9 مارچ 2026 سے پہلے سے لاگو بنیادی کفایت شعاری اقدامات جیسے کابینہ ارکان کی تنخواہیں نہ لینا اور غیر ضروری خریداریوں پر پابندی بدستور برقرار رہیں گے
تجارتی مارکیٹوں اور بازاروں کے نئے اوقاتِ کاراضافی اقدامات کے خاتمے کے باوجود توانائی کی بچت کے لیے 3 اور 10 جون کو مقرر کردہ مارکیٹ اوقات برقرار رہیں گے وزیراعظم کے مطابق حکومت نے ترقیاتی اخراجات اور کفایت شعاری مہم کے ذریعے 129 ارب روپے کی بچت کی تھی۔ اس بچت کو براہِ راست عوام تک منتقل کرنے کے لیے پٹرول 74 روپے اور ڈیزل 67 روپے سستا کر دیا گیا ہے
وفاقی بجٹ 2026-27 میں غریب طبقات، بالخصوص خواتین کو بااختیار بنانے اور ان کی مالی شمولیت کے لیے خصوصی ریلیف اقدامات شامل کیے گئے ہیں وزیراعظم نے صوبائی حکومتوں کو سخت مانیٹرنگ کا حکم دیا ہے تاکہ ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں کمی لائی جا سک ریلیف براہِ راست عام شہریوں کی جیب تک پہنچے۔حکومت نے جمعہ کی چھٹی اور کفایت شعاری اقدامات ختم کر دیے
وزیراعظم شہباز شریف نے عوام کے لیے ایک تاریخی عوامی ریلیف پیکج کا اعلان کرتے ہوئے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی کی ہے۔
عالمی مارکیٹ میں خام تیل کے نرخ گرنے اور ملک میں معاشی صورتحال بہتر ہونے پر حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کر کے ریلیف براہِ راست عوام تک منتقل کیا ہے۔
پٹرولیم مصنوعات کے علاوہ رواں سال حکومت کی جانب سے بڑے ریلیف پیکجز بھی فراہم کیے گئے ہیں,
مستحق خاندانوں کی مالی معاونت کے لیے 38 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا۔رمضان المبارک کے دوران غریب اور حقدار خاندانوں کو 13,000 روپے فی خاندان کی براہِ راست نقد امداد پہنچائی گئی۔
وزیر اعظم نے صوبائی حکومتوں کو سخت ہدایات جاری کی ہیں تاکہ پٹرول سستا ہونے کے بعد روزمرہ کی اشیائے خوردونوش اور ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی نمایاں کمی لائی جا سکے۔ حکومت کی جانب سے جاری کردہ حالیہ ریلیف پیکجز کا بنیادی ہدف پٹرولیم مصنوعات کی سستی قیمتوں کے فوائد کو فوری طور پر نچلی سطح تک پہنچانا اور مہنگائی کو کم کرنا ہے۔
ان پیکجز کے تحت پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی کے بعد ملک بھر میں کرائے سستے کر دیے گئے ہیں , پبلک ٹرانسپورٹ اور ویگنوں کے کرایوں میں 15% سے 20% تک کمی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے,
مال بردار گاڑیوں اور ٹرکوں کے کرائے کم ہونے سے کارخانوں اور منڈیوں تک مال پہنچانے کی لاگت میں واضح کمی آئی ہے
وزیر اعظم کی ہدایت پر تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو ٹرانسپورٹ اڈوں پر نئے ریٹ لسٹ خود چیک کرنے کا حکم دیا گیا ہے
یوٹیلیٹی اسٹورز پر سبسڈیزعام صارفین اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے کارڈ ہولڈرز کے لیے اشیائے ضرورت پر ریلیف برقرار ہے:بنیادی اشیاء پر رعایت: آٹا، گھی، چینی، دالوں اور چاول پر مارکیٹ سے 20% سے 30% تک رعایت دی جا رہی ہے۔
غریب خاندان بی آئی ایس پی پورٹل پر اپنا شناختی کارڈ وریفائی کروا کر یہ سستی اشیاء خرید سکتے ہیں, بجلی صارفین 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ اور اضافی ٹیکسوں سے استثنیٰ دیا گیا ہے
مڈل کلاس اور غریب طبقے کے لیے آسان اقساط اور سبسڈائزڈ ریٹس پر سولر پینلز کی فراہمی کے منصوبے پر کام تیز کر دیا گیا ہے تاکہ بجلی کے بلوں کا بوجھ مستقل کم ہو سکے۔
خریف کی فصلوں (کپاس اور چاول) کے لیے یوریا اور ڈی اے پی کھاد کی قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے فنڈز جاری کیے گئے ہیں کسانوں کو مہنگے ڈیزل سے نجات دلانے کے لیے زرعی ٹیوب ویلوں کو سولر پر منتقل کرنے کے لیے بلا سود قرضے دیے جا رہے ہیں ,حکومت کی جانب سے حالیہ ریلیف پیکج کے تحت پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تاریخی کمی کے ثمرات عوام تک پہنچانے کے لیے ملک بھر میں ہنگامی اقدامات نافذ کر دیئے ہیں۔ معاشی صورتحال بہتر ہونے اور مہنگائی کی شرح گرنے پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے مل کر عوام کو براہِ راست ریلیف فراہم کرنے کے لیے توجہ مرکوز کی ہے,وفاقی بجٹ میں حکومت نے معاشرے کے غریب، مستحق اور معاشی طور پر کمزور طبقات کو مستقل بنیادوں پر ریلیف دینے کے لیے سماجی تحفظ کے بجٹ میں تاریخی اضافہ کیا ہے۔ اس سال سماجی تحفظ کے اقدامات کا بنیادی مقصد مہنگائی کے اثرات کو کم کرنا اور خواتین کی مالی شمولیت کو یقینی بنانا ہےملک کے سب سے بڑے سماجی تحفظ کے نیٹ ورک کے بجٹ کو گزشتہ سال کے 716 ارب روپے سے بڑھا کر 838 ارب روپے کر دیا گیا ہے,
کفالت پروگرام کے تحت امداد حاصل کرنے والے خاندانوں کی تعداد کو 90 لاکھ سے بڑھا کر 10.2 ملین (1 کروڑ 2 لاکھ) خاندانوں تک توسیع دی جا رہی ہے, غریب خاندانوں کے لیے سہ ماہی مالی امداد (Stipend) کو بڑھا کر 14,500 روپے کر دیا گیا ہےرقم کی کٹوتی اور کرپشن روکنے کے لیے بینکوں اور ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے براہِ راست برقی منتقلی کا نیا نظام نافذ کیا گیا ہے بجٹ 2026-27 کے تحت کم آمدنی والے افراد کو بلا سود قرضے دیے جا رہے ہیں تاکہ وہ اپنا روزگار شروع کر سکیں, ہنر مند افرادی قوت تیار کرنے کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر اربوں روپے کے فنڈز مختص کیے گئے ہیں تاکہ نوجوانوں کو عالمی معیار کی تکنیکی تربیت دے کر روزگار فراہم کیا جا سکے۔غریب طبقات کو مفت علاج کی سہولت فراہم کرنے کے لیے کینسر کیئر ہسپتالوں اور بنیادی صحت کے مراکز کے لیے فنڈز جاری کیے گئے ہیں, پسماندہ علاقوں کے بچوں کو مفت اور معیاری تعلیم دینے کے لیے دانش اسکول نیٹ ورک کا دائرہ بڑھایا جا رہا ہے۔سیلاب یا دیگر قدرتی آفات سے متاثر ہونے والے غریب خاندانوں کو فوری سماجی تحفظ اور امداد فراہم کرنے کے لیے ایک مستقل فنڈ قائم کیا گیا ہے۔ وفاقی بجٹ میں حکومت نے ملک سے غربت میں کمی اور کم آمدنی والے خاندانوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے ایک کثیر الجہتی حکمتِ عملی نافذ کی ہے۔ اس اسکیم کا بنیادی مقصد محض نقد امداد دینا نہیں، بلکہ غریب طبقات کو معاشی طور پر خود کفیل بنانا ہے۔چھوٹے کاروبار شروع کرنے کے خواہشمند افراد کے لیے حکومت نے مالیاتی رکاوٹیں دور کر دی ہیں, اس پروگرام کے تحت ملک بھر کے مستحق اور کم آمدن والے افراد کو قرضے حاصل کرنے کے لیے کسی بڑی زمین یا گھر کی ضمانت کی شرط ختم کر کے اسے ڈیجیٹل اور آسان بنایا گیا ہے تاکہ دیہی علاقوں کے لوگ بھی فائدہ اٹھا سکیں ملک کے 1 لاکھ 20 ہزار نوجوانوں کو آئی ٹی (IT) اور جدید ڈیجیٹل اسکلز کی مفت تربیت دی جائے گی۔: ڈیجیٹل ٹریننگ کے اس منصوبے کے لیے حکومت نے 5.29 ارب روپے سے زائد کی رقم مختص کی ہے نوجوانوں کو عملی تجربہ اور ماہانہ وظیفہ فراہم کرنے کے لیے 30 کروڑ روپے کی لاگت سے انٹرن شپ پروگرام کا آغاز کیا گیا ہے تاکہ ڈگریاں مکمل کرنے کے بعد وہ فوری برسرِ روزگار ہو سکیں۔ کفالت پروگرام کا ہدف اب 1 کروڑ 20 لاکھ غریب ترین خاندانوں تک بڑھا دیا گیا ہے تاکہ ملک کا کوئی بھی مستحق فرد پیچھے نہ رہ جائےغربت کے مستقل خاتمے کے لیے مستحق خاندانوں کے 92 لاکھ بچوں کو تعلیمی وظائف دیے جا رہے ہیں تاکہ غریب بچے تعلیم حاصل کر کے اپنے خاندان کو غربت سے نکال سکیں۔غریب اور دیہاڑی دار طبقے کو کرائے کے مکانات کے بوجھ سے نجات دلانے اور ان کے اثاثے بنانے کے لیے حکومت نے بجٹ میں 71 ارب روپے کی لاگت سے ‘وزیر اعظم اپنا گھر اسکیم’ کو فعال کیا ہے تاکہ کم آمدنی والے اپنے گھر کے مالک بن سکیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »