LOADING

Type to search

National

گلگت بلتستان (ڈیجیٹل پوسٹ) انتخابی معرکہ آ ج ; سجے گاکس کےسر ,حکمرانی کا تاج ؟

Share

گلگت بلتستان (ڈیجیٹل پوسٹ) انتخابی معرکہ آ ج ; کس کے سر سجے گاحکمرانی کا تاج ؟ گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات 2026 کے لیے پولنگ آ ج اتوار، 7 جون 2026 کو ہوگی۔ حکمرانی کا تاج کس کے سر سجے گا، اس کا فیصلہ عوام آ ج اپنے ووٹ کی طاقت سے کریں گے۔ گلگت بلتستان ایمپاورمنٹ اینڈ سیلف گورننس آرڈر کی 2009 میں منظوری کے بعد وہاں عام انتخابات کی راہ ہموار ہوئی تھی۔ اسی آرڈر کے تحت پہلی مرتبہ نومبر 2009 میں عام انتخابات کروائے گئے اور اس کے بعد ہر پانچ سال بعد انتخابات ہوتے ہیں۔
آخری عام انتخابات 2020 میں ہوئے تھے جس میں پی ٹی آئی کے خالد خورشید وزیراعلیٰ منتخب ہوئے تھے، تاہم گلگت بلتستان کی عدالت نے 2023 میں خالد خورشید کو جعلی ڈگری کیس میں نااہل کر دیا تھا۔ اس کے بعد پی ٹی آئی کے ناراض ارکان، پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی نے اتحادی حکومت قائم کی تھی، جس کا دورانیہ 24 نومبر 2025 کو ختم ہو گیا۔انتخابی مہم کا وقت ختم ہو چکا ہے اور تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔گلگت بلتستان اسمبلی میں مجموعی طور پر 33 نشستیں ہیں، جن میں 24 جنرل نشستیں شامل ہیں جن پر ووٹنگ ہوگی۔ اسمبلی میں 6 نشستیں خواتین جبکہ 3 نشستیں ٹیکنوکریٹس کے لیے مخصوص ہیں۔
گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 عام نشستوں کے لیے اب مختلف سیاسی جماعتوں کے امیدوار میدان میں ہیں اور اس مرتبہ پھر پی ٹی آئی کے امیدوار آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔
اس انتخابات میں گلگت بلتستان کے نو لاکھ 50 ہزار سے زیادہ رجسٹرڈ ووٹرز اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔ ان ووٹروں میں پانچ لاکھ سے زائد مرد اور چار لاکھ 54 ہزار سے زائد خواتین شامل ہیں۔ انتخابی نتائج کے بعد حکومت سازی کے لیے کسی بھی جماعت یا اتحاد کو 17 نشستوں کی حمایت درکار ہوگی تاکہ سادہ اکثریت حاصل کرکے حکومت بنائی جا سکے۔پی ٹی آئی اور مجلس وحدت المسلمین نے ان انتخابات میں اتحاد کا اعلان کر رکھا ہے اور مجلس وحدت المسلمین کے مطابق جہاں پی ٹی آئی کا امیدوار کھڑا ہوگا، اسے اس کی سپورٹ حاصل ہوگی اور جہاں مجلس وحدت المسلمین کا امیدوار ہوگا، وہاں اسے پی ٹی آئی کی حمایت حاصل ہوگی۔ دوسری جانب گلگت بلتستان میں 24 نشستوں پر الیکشن میں مجموعی طور پر 403 امیدوار مدمقابل ہیں جبکہ ن لیگ، پیپلزپارٹی کے درمیان کئی حلقوں میں کانٹے دار مقابلے کی توقع ہے۔ پیپلزپارٹی کے 23، ن لیگ کے 22، آئی پی پی کے 15، پاکستان مسلم لیگ کے 11، جے یو آئی کے 9، وحدت المسلمین کے 7، جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم نے 6 نشتوں پر امیدوار کھڑے کیے جبکہ 266 کے قریب آزاد امیدوار میدان میں ہیں۔ جن کے چناؤ کیلیے مجموعی طور پر 9 لاکھ 58 ہزار 480 ووٹر حق رائے دہی استعمال کریں گے
اُدھر سیکیورٹی کو یقینی بنانے کیلیے گلگت شہر میں انٹرنیٹ سروس کو مکمل طور پر بند کردیا گیا ہے، موبائل انٹرنیٹ، فائبر نیٹ، وائی فائی سروس کی بندش کی وجہ سے شہریوں کو رابطوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
انتخابی معرکے کی اہم ترین تفصیلات درج ذیل ہیں:
انتخابات اور سیکیورٹی کے انتظامات;

پولنگ کا دن: آ ج اتوار، 7 جون 2026ء کو صبح سے شام تک ووٹ ڈالے جائیں گے۔
سیکیورٹی الرٹ: امن و امان برقرار رکھنے کے لیے 10,000 سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
اسکردو کی صورتحال: اسکردو کے 4 حلقوں میں مجموعی طور پر 124 پولنگ اسٹیشنز قائم ہیں۔ الیکشن کمیشن گلگت بلتستان کی حتمی ووٹر فہرستوں کے مطابق خطے کے 10 اضلاع میں مجموعی ووٹرز کی تعداد 9 لاکھ 63 ہزار 34 ہے جن میں 5 لاکھ 6 ہزار 97 مرد اور 4 لاکھ 56 ہزار 937 خواتین ووٹرز شامل ہیں۔ ان ووٹرز کے لیے مجموعی طور پر 24 انتخابی حلقے قائم کیے گئے ہیں۔

گلگت بلتستان اسمبلی کل 33 نشستوں پر مشتمل ہے جن میں 24 براہ راست منتخب ارکان کے علاوہ 6 نشستیں خواتین اور 3 نشستیں ٹیکنوکریٹس کے لیے مختص ہیں۔

دیامر اور سکردو سیاسی طور پر انتہائی اہم ہیں اور ان میں سے ہر ایک ضلعے میں سب سے زیادہ یعنی 4، 4 انتخابی حلقے ہیں۔ گلگت، غذر اور گانچھے میں 3، 3 انتخابی حلقے قائم کیے گئے ہیں۔ نگر اور استور کے حصے میں 2، 2 انتخابی حلقے آئے ہیں۔ ہنزہ، شگر اور کھرمنگ چھوٹے اضلاع ہیں اور ان میں سے ہر ایک ضلعے میں 1، 1 انتخابی حلقہ موجود ہے۔ضلع دیامر کے 174 پولنگ اسٹیشنز میں سے 119 کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔ ضلع دیامر کے 4 انتخابی حلقوں میں کل ووٹرز کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 58 ہزار 714 ہے، جن میں رجسٹرڈ مرد ووٹرز کی تعداد 81 ہزار 655 جب کہ خواتین ووٹرز کی تعداد 77 ہزار 059 ہے۔ اسی طرح ضلع دیامر کے چاروں حلقوں میں مجموعی طور پر 174 پولنگ اسٹیشنز اور 380 پولنگ بوتھ قائم کر دیے گئے ہیں، جہاں 174 پولنگ اسٹیشنز میں سے 119 انتہائی حساس، 22 حساس اور 33 نارمل قرار دیے گئے ہیں۔ حلقہ جی بی اے 15 دیامر 1 (چلاس) میں کل ووٹرز کی تعداد 44 ہزار 526 ہے۔ حلقہ جی بی اے 15 میں 52 پولنگ اسٹیشنز قائم ہیں، جن میں سے 22 انتہائی حساس، 12 حساس اور 18 نارمل قرار دیے گئے ہیں۔ حلقہ جی بی اے 16 دیامر 2 (چلاس) میں سب سے زیادہ 46 ہزار 282 ووٹرز حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔ حلقہ جی بی اے 16 میں کل 44 پولنگ اسٹیشنز قائم ہیں، جن میں سے 19 انتہائی حساس اور 10 حساس قرار ہیں۔ حلقہ جی بی اے 17 دیامر 3 (داریل) کے تمام 46 پولنگ اسٹیشنز کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔ حلقہ جی بی اے 17 داریل میں کل رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 41 ہزار 045 ہے۔ حلقہ جی بی اے 18 دیامر 4 (تانگیر) کے بھی تمام 32 پولنگ اسٹیشنز انتہائی حساس قرار دیے گئے ہیں۔ حلقہ جی بی اے 18 تانگیر میں ووٹرز کی کل تعداد 26 ہزار 861 ہے۔ واضح رہے کہ گلگت بلتستان الیکشن کی سیکیورٹی کے لیے پنجاب پولیس کے 5 ہزار جوانوں کا عملہ گلگت بلتستان پہنچ گیا ہے۔

اہم حلقے اور بڑے مقابلے;…
گلگت کے تین حلقے اس بار سیاسی جوڑ توڑ اور سخت مقابلوں کی وجہ سے مرکزِ نگاہ بنے ہوئے ہیں:
گلگت کے تین حلقے اس بار انتہائی اہمیت اختیار کر گئے ہیں جہاں سخت اور کانٹے دار مقابلوں کی توقع کی جا رہی ہے۔
گلگت حلقہ ایک میں پاکستان پیپلز پارٹی کے امجد حسین ایڈوکیٹ اور مسلم لیگ ن کے محمد شفیق الدین کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے، جبکہ مجلس وحدت المسلمین کے محمد الیاس صدیقی اور استحکام پاکستان پارٹی کے سلطان رئیس بھی میدان میں موجود ہیں اور مضبوط چیلنج دینے کے لیے تیار ہیں۔
گلگت حلقہ دو میں مسلم لیگ ن کے صوبائی صدر حافظ حفیظ الرحمان اور پیپلز پارٹی کے جمیل احمد کے درمیان مقابلے کا امکان ہے۔ اس کے ساتھ استحکام پاکستان پارٹی کے فتح اللہ خان اور پی ٹی آئی حمایت یافتہ آزاد امیدوار عتیق پیرزادہ بھی کامیابی کے لیے پُرامید ہیں۔آزاد امیدوار اور استحکامِ پاکستان پارٹی کے سیاستدان بھی کئی حلقوں میں میچ کا رخ بدلنے کی پوزیشن میں ہیں۔
گلگت حلقہ تین میں مسلم لیگ ن کے ڈاکٹر محمد اقبال اور پیپلز پارٹی کے آفتاب حیدر کے درمیان مقابلہ متوقع ہے، جبکہ استحکام پاکستان پارٹی کے کیپٹن (ر) محمد شفیع اور پی ٹی آئی و مجلس وحدت المسلمین کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار سہیل عباس بھی میدان میں موجود ہیں۔
مجموعی طور پر تمام سیاسی جماعتیں اور امیدوار فیصلہ کن مرحلے سے قبل جوڑ توڑ اور سیاسی حکمت عملی ترتیب دینے میں مصروف ہیں۔

دوسری جانب گلگت بلتستان کے 24 حلقوں میں 7 جون کو شفاف اور پرامن انتخابات کیلئے تمام تیاریاں مکمل کرلی ہیں، الیکشن کمیشن کو فنڈز، سیکورٹی سمیت تمام سہولیات فراہم کردی گئی ہیں۔ سیکورٹی کیلئے پنجاب، خیبرپختونخوا اور اسلام آباد پولیس سمیت دیگر اداروں سے نفری منگوائی ہے،

حکمرانی کا تاج کس کے سر سجے گا، یہ رات پولنگ کے عمل کی تکمیل اور غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہو سکے گا۔
جی بی اے 15 اور 16 کے آزاد امیدواروں کے سپورٹرز میں تصادم ہوا ہے۔ایک دوسرے پر ڈنڈوں اور پتھروں سے حملہ کردیا۔ فائرنگ سے خوف وہراس پھیل گیا۔ پولیس نے کارکنوں کو منتشر کرنے کیلئے شیلنگ کی، ڈاکخانہ بازار کی دکانیں بند ہوگئی۔
گلگت بلتستان میں 24 نشستوں پر 8 خواتین سمیت 400 سے زائد امیدوار میدان میں ہیں۔ پولنگ صبح 8 سے شام 5 بجے تک جاری رہے گی۔ سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔
ضلع نگر کے آخری گاؤں ہسپر میں گلیشیر کے پگھلاؤ کے باعث دریائی کٹاؤ اور لینڈ سلائیڈنگ جاری ہے۔ این ڈی ایم اے نے بھی الرٹ جاری کردیا ہے۔ نگر کے آخری گاؤں ہسپر میں گلیشیر کے پگھلاؤسے دریائی کٹاؤ اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث پانی کی سطح بلند ہورہی ہے۔ نگر خاص چوک سے آگے راستے بند ہوگئے ہیں۔ قبل ازیں این ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کر دیا تھا کہ گرمی کی شدت میں اضافے کے باعث گلگت بلتستان میں گلیشیئرز پگھلنے میں تیزی۔ ہسپر ہوپر گلیشیئر پگھلنے سے دریا میں پانی کے بہاؤ اور سطح میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ ترجمان کے مطابق این ڈی ایم اے تمام صورتحال سے پوری طرح باخبر ہے اور مانیٹرنگ کا عمل مسلسل جاری ہے۔ این ڈی ایم اے نے متعلقہ انتظامیہ کو دریا کے کنارے مقیم رہائشیوں کے لیے فوری حفاظتی اقدامات کی ہدایت جاری کر دی۔ گروجگلوٹ، رحیم آباد، نومل، جوتل، جگلوٹ کالونی اور چلمش کے رہائشیوں سمیت مسافروں کو بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔دوسری جانب بھارت کی جانب سے گلگت بلتستان کے انتخابات کو ’غیر قانونی‘ قرار دیا گیا جس کے جواب میں پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ اس دعوے کو ’یکسر مسترد کرتا ہے۔‘پاکستان کے زیرِ انتظام خطے گلگت بلتستان میں سات جون کو شیڈول اسمبلی انتخابات کے معاملے پر ’شدید احتجاج‘ کرتے ہوئے بھارتی وزارتِ خارجہ کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا۔ بھارت نے کہا کہ جموں کشمیر، لداخ اور گلگت بلتستان کے علاقے بھارت کے ’اٹوٹ اور ناقابل تنسیخ‘ حصے ہیں۔ اس پر ردعمل دیتے ہوئے پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ بھارت ’جعلی بیانیوں اور جانب دارانہ پروپیگنڈا پھیلانے میں ایک عالمی رہنما ہے۔ اس مضحکہ خیز دعوے کا مقصد حقیقت کو افسانے میں بدلنے کی کوشش ہے۔‘
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق بھارت کی جانب سے کیے گئے یہ دعوے حقائق کے منافی اور گمراہ کن پراپیگنڈے کا حصہ ہیں۔ پاکستان نے واضح کیا کہ وہ ان بھارتی بیانات کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے اور انہیں کسی اہمیت کا حامل نہیں سمجھتا۔ پاکستان نے اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت جموں و کشمیر کے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع علاقے پر غیر قانونی طور پر قابض ہے۔ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر سب سے پرانا حل طلب تنازع ہے، جو 1947 میں بھارت کے ریاست جموں و کشمیر پر جبری اور غیر قانونی قبضے سے شروع ہوا۔ پاکستان نے کہا ہے کہ اس تنازع کے منصفانہ اور پائیدار حل کا واحد راستہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر عملدرآمد ہے، جن کے مطابق کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی نگرانی میں آزاد اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے حقِ خودارادیت دیا جانا چاہیے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بھارت کے گلگت بلتستان سے متعلق بے بنیاد دعوے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فورسز کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہیں۔ بھارتی افواج کو وہاں سخت قوانین کے تحت حاصل استثنیٰ، ریاستی جبر کی ایک شکل ہے۔ پاکستان نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تمام غیر قانونی طور پر زیرِ قبضہ علاقے خالی کرے، 5 اگست 2019 کے بعد کیے گئے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات کو واپس لےاور آزاد مبصرین، انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی میڈیا کو زمینی صورتحال تک رسائی دے۔ ترجمان نے کہا کہ بھارت کو کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت کے استعمال کا موقع فراہم کرنا چاہیے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی 3 نسلوں سے گلگت بلتستان کے حقِ حاکمیت کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔ جاری کیے گئے پیغام میں انہوں نے کہا ہے کہ صدرزرداری نے گلگت بلتستان کو شناخت دی جس سے وہاں انتظامی اصلاحات ہوئیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ شہید بھٹو نے ایف سی آر اور راج شاہی نظام کا خاتمہ کیا اور آپ کو سبسڈی دلوائی۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا ہے کہ اب میں نے، آپ نے اور نئی نسل نے جدوجہد کرنی ہے، 7 جون کو تیر پر مہر لگائیں، پیپلز پارٹی کو کامیاب کریں تاکہ آپ کے حقِ حاکمیت کے لیے اسلام آباد میں آواز اٹھا سکوں۔ بلاول بھٹو زرداری نے یہ بھی کہا ہے کہ ان شاء اللّٰہ تعالیٰ آپ پیپلز پارٹی کو کامیاب کریں گے تو وہ دن دور نہیں ہے کہ ہم نعرہ لگائیں گے کہ ’پانچوں صوبوں کی زنجیر، جیئے بھٹو، جیئے بینظیر‘۔ دوسری جانب وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں ہرطرف شیر ، شیر کی آوازیں آرہی ہیں۔ اپنے بیان میں عظمیٰ بخاری کا کہنا تھاکہ مسلم لیگ ن کو عوام ہمیشہ کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ دیتے ہیں، مخالفین مسلم لیگ ن پر کیچڑ اچھال کر ووٹ مانگتے ہیں۔ گلگت بلتستان میں مسلم لیگ ن کے سوا کسی جماعت نے ایک اینٹ نہیں لگائی، گلگت بلتستان میں تحریک انصاف کا صفر ووٹ بینک ہے، پی ٹی آئی کے لوگ ایک ہفتے سے شور مچا رہے ہیں کہ کمپیئن نہیں کرنے دی جارہی، پی ٹی آئی کے امیدوار پورے نہیں وہ قبل ازوقت دھاندلی کا واویلا کس منہ سے کررہے؟ عظمیٰ بخاری کا کہنا تھاکہ تحریک انصاف کا بطور جماعت ہر بیانیہ ریت کی دیوار ثابت ہوتا ہے، مسلم لیگ ن کا مقابلہ کارکردگی سے کریں، جھوٹ اور پروپیگنڈہ ناکام سیاسی چالیں ہیں، ہم فخر سے کہہ سکتے گلگت کو لاہور جیسا خوبصورت بنائیں گے۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما و اسد قیصر نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کو لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں ملی اور تحریک انصاف کے خلاف تمام ناجائز حربےاستعمال کیے گئے۔ خیال رہے کہ دستاویز کے مطابق رواں مالی سال گلگت بلتستان کیلئے37 ارب10کروڑ روپے کا ترقیاتی بجٹ رکھا گیا تھا، آئندہ مالی سال گلگت بلتستان کیلئے بلاک الوکیشن/اے ڈی پی کی مدمیں23 ارب روپے ، وزیراعظم کے خصوصی پیکج کے تحت 4 ارب روپے ، نلترہائیڈروپاورکے16میگاواٹ منصوبےکی تعمیرکے لیے 2 ارب20 کروڑروپے، ریجنل گرڈ کے قیام کے منصوبے کیلئے ایک ارب ، مختلف سائٹس پر سولرپلانٹس منصوبے کے لیے ایک ارب 71کروڑ اور ریجنل گرڈ کے قیام کےمنصوبے کیلیے ایک ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں۔گلگت بلتستان میں نکاس آب، سڑکوں اور پانی فراہمی کےمنصوبوں جب کہ اسپتالوں کی تعمیر کےمنصوبوں کے لیےبھی فنڈز تجویز کیا گیا ہے۔ وفاقی حکومت نے آئندہ مالی کے بجٹ میں گلگت بلتستان کےترقیاتی بجٹ میں اضافے کی تیاری شروع کردی۔ دستاویز کے مطابق آئندہ مالی سال گلگت بلتستان کےوفاقی ترقیاتی بجٹ میں27.32 فیصد کا اضافہ تجویز کیا گیا ہے ، یہ اضافہ گلگت بلتستان کے رواں مالی سال کے نظرثانی ترقیاتی بجٹ میں تجویزکیا گیا جب کہ اصل ترقیاتی بجٹ کے مقابلےگلگت بلتستان کیلئے 5.26 فیصد اضافہ بنتا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ آئندہ مالی سال گلگت بلتستان کا ترقیاتی بجٹ 39 ارب روپے سے زائد تجویز کیا گیا ہے جب کہ نظرثانی ترقیاتی بجٹ 30ارب67 کروڑروپےمختص ہے,

دستاویز کے مطابق رواں مالی سال گلگت بلتستان کیلئے37 ارب10کروڑ روپے کا ترقیاتی بجٹ رکھا گیا تھا، آئندہ مالی سال گلگت بلتستان کیلئے بلاک الوکیشن/اے ڈی پی کی مدمیں23 ارب روپے ، وزیراعظم کے خصوصی پیکج کے تحت 4 ارب روپے ، نلترہائیڈروپاورکے16میگاواٹ منصوبےکی تعمیرکے لیے 2 ارب20 کروڑروپے، ریجنل گرڈ کے قیام کے منصوبے کیلئے ایک ارب ، مختلف سائٹس پر سولرپلانٹس منصوبے کے لیے ایک ارب 71کروڑ اور ریجنل گرڈ کے قیام کےمنصوبے کیلیے ایک ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں , گلگت بلتستان میں نکاس آب، سڑکوں اور پانی فراہمی کےمنصوبوں جب کہ اسپتالوں کی تعمیر کےمنصوبوں کے لیےبھی فنڈز تجویز کیا گیا ہے۔گلگت بلتستان کے انتخابات کو ملک کی سیاسی صورت حال کے لیے اہم سمجھتے ہیں کیوں کہ اس سے مستقبل میں ملک بھر میں عام انتخابات کے حوالے سے بیانیہ ہموار ہو سکتا ہے۔ مجموعی طور پر تمام سیاسی جماعتوں کی جانب سے انتخابی مہم جاری رہی ہے، مگر کچھ الزامات سامنے آرہے ہیں ووٹرز لسٹوں میں کچھ علاقوں میں مسائل موجود ہیں کیوں کہ اگر ایک گھر میں پانچ افراد ہیں تو ان کو الگ الگ پولنگ سٹیشن دیا گیا ہے۔بعض پولنگ سٹشن ووٹرز کے گھر سے بہت دور ہیں لیکن مجموعی طور پر انتخابات ٹھیک لگ رہے ہیں جب کہ اس مرتبہ وفاقی حکومت نظریں جمائے ہے۔ پی پی پی نے ایک عام نشست کے علاوہ باقی 23 نشستوں پر امیدوار کھڑے کیے ہیں جو سب سے زیادہ تعداد ہے۔ اسی طرح پاکستان مسلم لیگ اور پی ٹی آئی نے آزاد حیثیت میں امیدواران کھڑتے کیے ہیں,گلگت بلتستان کا ایک دیرینہ مطالبہ آئینی اصلاحات ہیں۔ لوگوں کی اب بھی اس سے امیدیں وابستہ ہیں, عوام کی یہی امید ہے کہ گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت مضبوط اور گورننس کے حوالے سے ریفارمز کی جائیں گی۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »