LOADING

Type to search

National

ملتان (ڈیجیٹل پوسٹ) “جنوبی پنجاب کے دیہی علاقوں میں جگر کے امراض کا بڑھتا ہوا بحران

Share

ملتان (ڈیجیٹل پوسٹ) جنوبی پنجاب کے دیہی علاقوں میں جگر کے امراض ایک خاموش مگر خطرناک وبا کی صورت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ نشتر ہسپتال ملتان جیسے بڑے طبی مراکز میں روزانہ ایسے سینکڑوں مریض آتے ہیں جو ہیپاٹائٹس بی (ہیپاٹائٹس بی)، ہیپاٹائٹس سی (ہیپاٹائٹس سی)، فیٹی لیور (فیٹی لیور)، جگر کے سکڑاؤ (لیور سیروسس)، جگر فیل ہونے (لیور فیلئر)، ہیپاٹک اینسیفالوپیتھی (ہیپاٹک اینسیفالوپیتھی) اور معدے سے خون آنے جیسے پیچیدہ مسائل کا شکار ہوتے ہیں۔ مختلف حالیہ مطالعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنوبی پنجاب میں کرونک لیور ڈیزیز نہ صرف تیزی سے بڑھ رہی ہے بلکہ نوجوان افراد بھی اس بیماری کی لپیٹ میں آ رہے ہیں۔
نشتَر ہسپتال ملتان میں ہونے والی حالیہ تحقیقات کے مطابق ہیپاٹائٹس سی اب بھی جگر کے دائمی امراض کی سب سے بڑی وجہ ہے جبکہ ہیپاٹائٹس بی بھی بڑی تعداد میں موجود ہے۔ خون عطیہ کرنے والے افراد پر کی گئی ایک تحقیق میں تشویشناک حد تک ہیپاٹائٹس بی اور C رپورٹ ہوئے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ وائرس عام آبادی میں خاموشی سے پھیل رہے ہیں۔
جنوبی پنجاب میں جگر کے امراض بڑھنے کی ایک بڑی وجہ غربت اور بنیادی طبی سہولیات کی کمی ہے۔ دیہی علاقوں میں آج بھی بہت سے لوگ غیر تربیت یافتہ افراد سے علاج کرواتے ہیں جہاں ایک ہی سرنج یا غیر جراثیم کش آلات کئی مریضوں پر استعمال کیے جاتے ہیں۔ حجاموں کی دکانوں پر ایک ہی بلیڈ کا بار بار استعمال، غیر محفوظ ڈرپس، غیر معیاری ڈینٹل طریقہ کار اور خون کی غیر مناسب اسکریننگ بھی بیماری کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایک اور اہم مسئلہ غیر فلٹر شدہ اور آلودہ پانی ہے۔ جنوبی پنجاب کے کئی دیہی علاقوں میں لوگ نہری، زیر زمین یا ٹینکر کا پانی بغیر فلٹریشن استعمال کرتے ہیں۔ اس پانی میں شامل بیکٹیریا، کیمیکل، آرسینک اور دیگر مضر مادے جگر پر مسلسل منفی اثرات ڈالتے ہیں۔ آلودہ پانی سے ہونے والے انفیکشنز جسم کے مدافعتی نظام اور جگر دونوں کو متاثر کرتے ہیں۔

 

غذائی عادات بھی اس بحران کو بڑھا رہی ہیں۔ دیہی علاقوں میں تلی ہوئی اشیاء، دیسی گھی، بار بار گرم کیے گئے تیل، فاسٹ فوڈ اور Saturated Fats کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے۔ یہی غذائیں فیٹی لیور اور موٹاپے کا سبب بنتی ہیں۔ نشتَر میڈیکل یونیورسٹی کی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق موٹاپے اور انسولین ریزسٹنس والے افراد میں Non-Alcoholic Fatty Liver Disease کی شرح تقریباً 58 فیصد تک دیکھی گئی۔
اسی طرح کھلے اور غیر معیاری مصالحہ جات بھی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہے ہیں۔ ملاوٹ شدہ مرچیں، مصنوعی رنگوں والی ہلدی اور ناقص مصالحہ جات معدے اور جگر پر اضافی بوجھ ڈالتے ہیں۔ بہت زیادہ مرچ مصالحے معدے کی سوزش، بدہضمی اور جگر کے مریضوں میں علامات کو مزید خراب کر سکتے ہیں۔

نشتَر ہسپتال کے میڈیکل وارڈز پر کی گئی مطالعات سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ جنوبی پنجاب میں صرف جگر کے امراض ہی نہیں بلکہ ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، فالج، گردوں کے امراض اور سانس کی بیماریاں بھی بہت عام ہیں۔ یہ تمام بیماریاں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ مثال کے طور پر ذیابیطس اور موٹاپا فیٹی لیور کے خطرے کو کئی گنا بڑھا دیتے ہیں جبکہ گردوں اور جگر کے مریض اکثر غذائی کمی اور کمزوری کا شکار ہو جاتے ہیں۔
جگر کے مریضوں میں غذائی قلت ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ بہت سے مریض Protein Energy Malnutrition، آئرن کی کمی، وٹامن ڈی کی کمی، پٹھوں کے ضیاع، خون کی کمی اور شدید کمزوری کا شکار ہوتے ہیں۔ Chronic Liver Disease کے مریضوں میں بھوک کم ہو جاتی ہے، خوراک ہضم نہیں ہوتی اور جسم غذائی اجزاء کو صحیح طرح استعمال نہیں کر پاتا۔ اس کے نتیجے میں مریض جسمانی اور ذہنی طور پر کمزور ہوتے جاتے ہیں۔
جگر کے امراض کی علامات ابتدا میں معمولی محسوس ہوتی ہیں، اسی لیے اکثر لوگ انہیں نظر انداز کر دیتے ہیں۔ مستقل تھکن (Fatigue)، بھوک کی کمی (Appetite Loss)، وزن میں کمی (Weight Loss)، متلی، پیٹ میں سوجن، جلد اور آنکھوں کا پیلا ہونا، جسم میں خارش، ذہنی الجھن، پیشاب کا گہرا رنگ اور خون کی الٹی جیسے علامات خطرے کی گھنٹی ہو سکتی ہیں۔ بدقسمتی سے بہت سے مریض اس وقت ہسپتال پہنچتے ہیں جب جگر شدید متاثر ہو چکا ہوتا ہے۔
ایک حالیہ تحقیق کے مطابق دائمی جگر کے مریضوں میں ذہنی دباؤ اور ڈپریشن کی شرح بھی کافی زیادہ دیکھی گئی، خاص طور پر خواتین، دیہی آبادی اور کم آمدنی والے افراد میں۔
احتیاطی تدابیر
جگر کے امراض سے بچاؤ کے لیے چند بنیادی احتیاطی تدابیر اپنانا انتہائی ضروری ہے:
ہیپاٹائٹس بی کی ویکسین لازمی لگوائیں۔
ہمیشہ نئی اور جراثیم سے پاک سرنج استعمال کروائیں۔
خون لگوانے سے پہلے اس کی مکمل اسکریننگ یقینی بنائیں۔
حجام کے پاس نیا بلیڈ استعمال کروائیں۔
غیر ضروری ڈرپس اور انجیکشن سے پرہیز کریں۔
صاف، ابلا ہوا یا فلٹر شدہ پانی استعمال کریں۔
کھلے مصالحوں اور ملاوٹ شدہ اشیاء سے بچیں۔
بازاری اور بار بار گرم کیے گئے تیل کا استعمال کم کریں۔
تازہ سبزیاں، پھل، دالیں اور کم چکنائی والی غذا کو روزمرہ خوراک کا حصہ بنائیں۔
وزن، شوگر اور بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھیں۔
جگر کے مریض ڈاکٹر اور ماہرِ غذائیت کے مشورے سے مناسب غذا استعمال کریں۔
تھکن، یرقان یا پیٹ میں سوجن جیسی علامات کو نظر انداز نہ کریں اور فوری طبی معائنہ کروائیں۔
عوام میں ہیپاٹائٹس اور جگر کے امراض کے بارے میں آگاہی پھیلانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اگر آج بھی ہم نے احتیاط نہ کی تو جنوبی پنجاب میں جگر کے امراض آنے والے برسوں میں صحت کے نظام پر ایک بہت بڑا بوجھ بن سکتے ہیں۔ یہ صرف ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی، غذائی اور عوامی صحت کا بحران بنتا جا رہا ہے۔ بروقت احتیاط، متوازن غذا، صاف پانی اور عوامی شعور ہی اس خاموش قاتل کے خلاف ہماری سب سے بڑی طاقت ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »