LOADING

Type to search

Islamabad National

اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) معاشی استحکام بدستور خواب

Share

اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) مرکزی بنک کی رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے حوالے سے جاری کردہ رپورٹ ملکی معیشت کا جامع جائزہ پیش کرتی ہے اس رپورٹ میں عارضی استحکام کا اعتراف بھی ہے اور درپیش سنگین اندرونی وبیرونی خطرات کی نشاندہی بھی اسٹیٹ بنک کا کہنا ہے کہ مالی سال 2025-26 کی پہلی ششماہی میں حقیقی جی ڈی پی نمو 3.8 فیصد رہی عالمی تجارتی غیر یقینی صورتحال اور ملکی سیلاب جیسے چیلنجز کے باوجود مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی کے دوران پاکستان کے میکرو اکنامک استحکام میں مزید بہتری آئی ہے رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ مشرقِ وسطی کی جنگ میکرو اکنامک منظرنامے کیلئے بڑے خطرات کا سبب ہے جسے بے یقینی کی بلند سطح نے گھیرا ہوا ہے اس کے باعث سپلائی چین میں آنے والا خلل مہنگائی بیرونی تجارت اور ترسیلات کے بہاؤ پر اور اس کے نتیجے میں پاکستان میں اقتصادی سرگرمیوں پر اثر ڈال سکتا ہے سٹیٹ بنک کے مطابق معاشی سرگرمیوں میں تحرک اور اجناس کی بلند قیمتوں کے باوجود جاری کھاتے کا خسارہ جی ڈی پی کے صفر تا ایک فیصد کے سابقہ تخمینے کی نچلی سطح کے قریب رہنے کی توقع ہے تاہم تیل کی بین الاقوامی قیمتوں میں اضافے اور دیگر اجناس کی قیمتوں پر اس کے اثرات کے باعث قومی مہنگائی بلحاظِ صارف اشاریہ قیمت مالی سال 27 کے بیشتر عرصے میں 5 تا 7 فیصد کے وسط مدتی ہدف کی بالائی حد سے اوپر رہنے کی توقع ہے کٹھن معاشی حالات میں 3.8 فیصد شرح نمو اطمینان بخش نہ سہی امید افزا ضرور ہے مگر تلخ حقیقت یہ ہے کہ اس رفتار کے آگے بڑھتی معیشت بھی عوام کو ریلیف اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے حوالے سے کوئی نوید سناتی نظر نہیں آتی پہلی ششماہی میں معاشی اشارے نسبتا مثبت رہے مگر خرابی کے دہانے بھی اب تک وہیں موجود ہیں ہم اپنے معاشی بگاڑ سے بخوبی آگاہ ہیں اور اس کے عوامل و محرکات بھی معلوم ہیں یہ بھی جانتے ہیں کہ ان مسائل کا مداوا کیوں کر ممکن ہے مگر یہ سب جانتے ہوئے بھی ہم اپنے گرد معاشی بدحالی کی آکاس بیل کو ہٹا نہیں پا رہے اس بیل کو ہٹانے کے لئے جو عملی اقدامات ہونے چاہئیں وہ نہیں کئے جاسکے عالمی مالیاتی ادارے اور دوست ممالک تواتر کے ساتھ پاکستانی معیشت میں اصلاحات لانے کی ضرورت و اہمیت کو اجاگر کر رہے ہیں ہمیں ملکی معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لئے خود انحصاری کی جانب قدم بڑھانا اور قلیل المدتی اور طویل المدتی پالیسیاں بنانا پڑیں گی قرض کے پروگراموں سے ادائیگیوں کا توازن کسی قدر قائم ہوا مگر اب بھی معاشی استحکام کی منزل خاصی دور ہے معاشی استحکام کے لئے قومی پیدواری صلاحیت کو بڑھانے اور دولت پیدا کرنے کی ضرورت ہے برآمدات میں اضافہ درآمدات میں کمی اور بیرونی سرمایہ کاری وہ بنیادی معاشی اشاریئے ہیں جو مضبوط اور مستحکم اقتصادی بنیادوں پر نشاندہی کرتے ہیں مگر پاکستان کے معاملے میں یہ تنوں بنیادی اشارے منفی ہیں برآمدات میں مسلسل کمی اور تجارتی خسارے میں اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ معیشت میں کچھ بنیادی اور ساختی کمزوریاں موجود ہیں برآمدات میں مسلسل کمزوری نے درمیانی مدت میں مستحکم زرمبادلہ کمانے کی صلاحیت پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے یہ طویل سکڑاؤ برآمدی کارکردگی میں کمزوری کے تاثر کو مزید مضبوط کرتا ہے جسے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کار معیشت کی ترقی کی صلاحیت جانچنے کے لیے نہایت اہم سمجھتے ہیں برآمدات اور درآمدات کے درمیان بڑھتا ہوا فرق بیرونی پائیداری کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کو بڑھا رہا ہے سرمایہ کاروں کے لیے مسلسل تجارتی عدم توازن اور برآمدات میں کمزوری ایک حوصلہ شکن عنصر بن سکتی ہے برآمدی آمدن دباؤ میں ہو تو ادارے نئے منصوبوں میں سرمایہ لگانے پیداواری صلاحیت بڑھانے یا پیداوار میں بہتری لانے والی ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری سے گریز کرتے ہیں اس روئیے سے سرمایہ کاری کی رفتار سست اور معاشی ترقی کمزور ہو جاتی ہے معاشی نمو پر اس کے اثرات اس لئے بھی اہم ہیں کہ برآمدات ترقی کا ایک اہم ذریعہ سمجھی جاتی ہیں برآمدات میں طویل کمی کے باعث معیشت کو یا تو اندرونی طلب یا بیرونی مالی وسائل پر زیادہ انحصار کرنا پڑتا ہے اسی دوران بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ مالی اور پالیسی گنجائش کو بھی محدود کر دیتا ہے جس سے ترقیاتی اخراجات اور نمو بڑھانے والے اقدامات متاثر ہوتے ہیں سرمایہ کاروں کا اعتماد مستقبل کی مسابقت اور معاشی استحکام سے بھی جڑا ہوتا ہے مسلسل تجارتی سکڑا کمزوری کے تاثر کو مضبوط کرتا ہے جس سے طویل المدتی منصوبہ بندی اور خطرات کے اندازے متاثر ہوتے ہیں برآمدات میں کمی اختراع معیار میں بہتری اور تکنیکی ترقی کی حوصلہ شکنی کرتی ہے حالانکہ یہی عوامل پیداوار بڑھانے اور پائیدار ترقی کے لیے نہایت ضروری ہیں مجموعی طور پر اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان میں مسلسل تجارتی سکڑاؤ سرمایہ کاروں کے اعتماد کو نقصان پہنچا رہا ہے اور معاشی ترقی کے امکانات کو کمزور کر رہا ہے برآمدات میں طویل کمی اور بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ بیرونی شعبے کو درپیش چیلنجز کو واضح کرتا ہے اگر برآمدی کارکردگی میں استحکام نہ آیا اور تجارتی عدم توازن کم نہ ہوا تو یہ رجحانات مستقبل میں بھی محتاط سرمایہ کاری کے رویے اور محدود معاشی نمو کا باعث بن سکتے ہیں حکومتی عہدیداران کے معیشت کے حوالے سے خوش کن دعوے اپنی جگہ لیکن حقیقت یہی ہے کہ پاکستانی معیشت اس وقت ترسیلات زر اور غیر ملکی قرضوں کے سہارے عبوری استحکام کے کنارے کھڑی ہے غیر یقینی حالات میں معیشت کا دوبارہ ڈگمگا جانا خارج از امکان نہیں اس لئے بہتر یہی ہوگا کہ حکومت اس عبوری استحکام کو غنیمت سمجھتے ہوئے دیرینہ مسائل کے حل پر توجہ دے حکومت کے لئے چیلنج یہ ہے کہ ٹیکس نیٹ سے باہر شعبوں کے نشاندہی کرے اور ان سے محصولات اکٹھے کرے یہ اسی صورت ممکن ہوگا کہ جب حکومت خود بھی ساختی نوعیت کی ٹیکس اصلاحات اور اس شعبے کے بنیادی مسائل کو حل کرنے میں سنجیدہ ہو اگر مالیاتی اداروں کی شرائط کو پورا کرنے کے لئے عارضی اقدامات کئے جاتے رہے تو نتیجہ اب بھی ماضی سے مختلف نہیں ہوگا**

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »