اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) بھارت کو کھلا چیلنج
Share
اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) معرکہ حق کا ایک سال مکمل ہونے پر پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کی مسلح افواج کی عسکری کامیابیوں دفاعی تیاریوں اور درپیش چیلنجز کے حوالے سے جامع بریفنگ اس بات کا عکاس تھی کہ افواج پاکستان دشمن کو کسی خاطر میں لانے کے لئے تیار نہیں لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے بھارت کو واضح اور دو ٹوک پیغام دیتے ہوئے کہنا تھا کہ معرکہ حق میں 5 گنا بڑے دشمن کو شکست دی بھارتی سیاستدان اکھنڈ بھارت کی باتیں کر رہے ہیں یہی زبان استعمال کرنی ہے تو سامنے آؤ پھرجو کرنا ہے کرو چاہے روایتی یا غیر روایتی جنگ ہو ہم پہلے بھی تیار تھے اور اب بھی تیار ہیں ہم کھڑے ہیں اور بھر پور طاقت سے جواب دیں گے پاکستان کی سلامتی اور دفاع کا ہر قیمت پر دفاع کریں گے جنوبی ایشیا کا خطہ اپنے جغرافیائی ثقافتی اور سیاسی تنوع کی بدولت ہمیشہ سے عالمی توجہ کا مرکز رہا ہے تاہم حالیہ برسوں میں بھارت کی بعض پالیسیوں اور اقدامات نے اس خطے کے استحکام کو شدید خطرات سے دوچار کیا ہے بھارتی حکمرانوں کا بڑھتا ہوا جنگی جنون عالمی معاہدوں کی یک طرفہ خلاف ورزی اپنے ملک میں اقلیتوں پر مظالم بیرونِ ممالک میں ٹارگٹ کلنگز اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ خراب ہوتے تعلقات نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں دنیا بھر میں بھارت کی دہشت گردانہ کارروائیوں کی تاریخ بڑی پرانی اور شرمناک واقعات سے بھری پڑی ہے بھارت براہ راست کشمیری اور مسلمان رہنماؤں سمیت عالمی شخصیات کے قتل میں ملوث ہے اس نے جمہوریت کے پیچھے اپنا دہشت گرد چہرہ چھپا رکھا ہے بد نام زمانہ بھارتی خفیہ ایجنسی ‘را’ کئی ممالک میں دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہے ریاستی پالیسی کے طور پر دہشت گردی کا استعمال بھارتی سیاسی قیادت کی اخلاقی پستی اور بنیادی انسانی اقدار کی نفی کا مظہر ہے بھارت نے اپنی دہشت گردی کا دائرہ مقبوضہ کشمیر سے پاکستان تک بڑھایا پھر اسے افغانستان اور پوری دنیا تک پھیلا دیا پاکستان میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات میں بھارت براہ راست ملوث ہے ہم دہشت گردی کی جس آگ میں جھلس رہے ہیں یہ بھارت کی ہی لگائی ہوئی ہے بھارت اس آگ پر مسلسل تیل ڈال رہاہے تاکہ آگ بجھنے نہ پائے تحریک طالبان پاکستان اور بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں کے جو دہشت گرد پکڑے گئے ہیں وہ بھی اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ”را” ان کی مدد کررہی تھی افغانستان میں بھارت بہت سے لوگوں اور تنظیموں کو بھڑکا کررا نہیں پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے پاکستان میں جاری ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کے تانے بانے بھارت سے ہی ملتے ہیں دہشت گردوں کی ڈوریں بھارت سے ہلائی جارہی ہیں مودی سرکار نے ریاستی دہشت گردی کو اپنی پالیسی میں شامل کیا ہوا ہے بھارت کا مقصد دہشت گردی کے ذریعے پاکستان کے امن و سلامتی کو نقصان پہنچانا ہے بھارت سے بہتر کسی ملک نے دہشت گردی کا استعمال نہیں کیا بھارت دہشت گردوں کو بھرتی کرنے ان کی مالی مدد کرنے والا ملک بنا ہوا ہے دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے لئے پاکستان اس کا ہدف ہے آپریشن بنیان مرصوص میں ہزیمت اٹھانے کے بعد بزدل دشمن اپنی خفت مٹانے کے لئے اب آسان اہداف کو نشانہ بنانے کے مذموم ایجنڈے پر عمل پیرا ہے بھارت جیسے بد خصلت اور اخلاقی پستی کے شکار دشمن اور اس کی پراکسیوں سے کسی بھی نیچ عمل کی توقع کی جاسکتی ہے آسان اہداف کو نشانہ بنانا اور پراکسیوں کے ذریعے حملہ بھارت کی ریاستی پالیسی ہے اس تلخ حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ ایک سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود بھارت فالس فلیگ آپریشن بارے پاکستان کے اٹھائے گئے سوالات کا تاحال کوئی جواب نہیں دے سکا مودی سرکاری اس معاملے میں خاموشی اس امر کی غماز ہے کہ بھارت حقائق لکا سامنا کرنے سے کترا اور عالمی برادری کے سامنے اپنی پشیمانی چھپانے کے لئے حیلے بہانوں سے کام لے رہا ہے دہشت گردی کے خلاف جنگ ہو یا بیرونی جارحیت سے دفاع افواج ہپاکستان نے ہمیشہ دفاع وطن کا تقاضا اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر نبھایا ہے پاکستان کی ریاستی ساخت میں فوج صرف دفاعی ادارہ ہی نہیں بلکہ قومی استحکام کی علامت بھی ہے فوج کے تربیتی نظام میں جہاں جہاد فی سبیل اللہ اور قومی وحدت کے تصورات پر زور دیا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ فوج خود کو صرف عسکری قوت نہیں بلکہ پاکستان کے نظریاتی اور جغرافیائی محافظ کے طور پر دیکھتی ہے بھارت کے ساتھ کشیدگی افغانستان میں غیر یقینی صورت حال مشرق وسطی میں تنازعات اور عالمی طاقتوں کی صف بندیاں بھی فوج کو متحرک رکھے ہوئے ہیں اس لئے عسکری قیادت بار بار قومی سلامتی کو وسیع تر تناظر میں پیش کرتی ہے جس میں معیشت سائبر سیکورٹی اور داخلی استحکام بھی شامل ہے مسلح افواج داخلی سلامتی کو وقتی مہم کے بجائے مسلسل جنگ کے طور پر دیکھتی ہے یہی وجہ ہے کہ وہ قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ کرنے کے لئے تیار نہیں دفاع وطن کی سیکورٹی محض اداروں کی ذمہ داری نہیں ہوتی بلکہ یہ ایک ہمہ جہت عمل ہے جس میں حکومت اور عوام کو بھی اپنے حصے کی ذمہ داری نبھانا پڑتی ہے دفاعی استحکام کے لئے داخلی وحدت اور ہم آہنگی کلیدی حیثیت رکھتی ہے اور یہی وہ سبق ہے جو معرکہ حق ہمیں سکھاتا ہے عسکری اعتبار سے آج ملکی سرحدیں پوری طرح محفوظ ہیں البتہ ملک کو اندرونی طور پر مستحکم کرنے کے لئے معاشی اور سماجی انصاف کی فراہمی ناگزیر ہے**

