اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) سماجی تنظیم پیاس انٹرنیشنل کا مبینہ منشیات فروش انمول عرف پنکی کیس میں سندھ پولیس کے بعض افسران کے کردار پر تحفظات کا اظہار
Share

اسلام آباد۔14مئی (ڈیجیٹل پوسٹ):منشیات کے خلاف سرگرم سماجی تنظیم پیاس انٹرنیشنل نے مبینہ منشیات فروش انمول عرف پنکی کیس میں سندھ پولیس کے بعض افسران کے کردار پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ سطحی تحقیقات، جوڈیشل کمیشن یا مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے قیام کا مطالبہ کیا ہے۔
تنظیم کے چیئرمین رانا عمران لطیف کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پیاس انٹرنیشنل کئی برسوں سے انسانی حقوق کے تحفظ اور ’’ڈرگ فری پاکستان‘‘ مہم کے تحت منشیات کے خلاف کام کر رہی ہے۔بیان کے مطابق مبینہ منشیات فروش انمول عرف پنکی کو عدالت میں سندھ پولیس کی جانب سے بغیر ہتھکڑی کے پیش کیا گیا جسے تنظیم نے غیر معمولی پروٹوکول قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی۔
تنظیم نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے میں ملوث تفتیشی افسران اور پروٹوکول فراہم کرنے والے اہلکاروں کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائی جائے۔پیاس انٹرنیشنل نے مطالبہ کیا کہ مبینہ منشیات نیٹ ورک میں ملوث عناصر کے خلاف شفاف تحقیقات کی جائیں جبکہ انسپکٹر جنرل سندھ پولیس اور متعلقہ افسران کے کردار کا بھی جائزہ لیا جائے۔
بیان میں مزید الزام عائد کیا گیا کہ تھانہ گلشن اقبال ایسٹ کے بعض اہلکار مبینہ طور پر منشیات فروشوں کو سہولت فراہم کر رہے ہیں۔ تنظیم نے کہا کہ پاکستان پہلے ہی منشیات کے سنگین مسئلے سے دوچار ہے اور مختلف رپورٹس کے مطابق ملک میں لاکھوں افراد منشیات کے استعمال سے متاثر ہیں لہٰذا نوجوان نسل کو منشیات سے بچانے کے لئے سخت اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔

