LOADING

Type to search

Islamabad National

اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) ایران کو پاکستان کے ذریعے امریکی جواب موصول ;ایرانی قیدی رہا

Share

اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) امریکہ نے پاکستان کے ذریعے ایران کی 14 نکاتی تجویز کا تحریری جواب تہران کو ارسال کیا ہے۔ پاکستان نے ایک بار پھر “بیک چینل ڈپلومیسی” کے ذریعے یہ اہم پیغام پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ دوسری طرف امریکا نے قبضے میں لیے گئے ایرانی جہاز اور عملے کو پاکستان کے حوالے کردیاہے۔ ایران کو پاکستان کے ذریعے امریکی جواب موصول ہونے کی , بتایا جا رہا ہے کہ امریکی جواب میں ایران کی کئی تجاویز پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے، خاص طور پر مستقل جنگ بندی اور جوہری پروگرام پر مزید ٹھوس ضمانتوں کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ایران کو پاکستانی ثالثوں کے ذریعے امریکی جواب موصول ہونے کے بعد، اب صورت حال انتہائی نازک موڑ پر آچکی ہے۔ اس حوالے سے تفصیلات درج ذیل ہیں:
. پاکستانی وزارتِ خارجہ کا موقف;
پاکستانی دفترِ خارجہ نے اس حساس معاملے پر انتہائی محتاط لیکن امید افزا موقف اختیار کیا ہے:
ثالثی کی تصدیق:
ترجمان دفترِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان نے ایک بار پھر تہران اور واشنگٹن کے درمیان “پیغام رساں” (Bridge) کا کردار ادا کیا ہے۔
امن کی خواہش:
پاکستان کا کہنا ہے کہ اس کا واحد مقصد خطے کو ایک تباہ کن جنگ سے بچانا ہے اور اسلام آباد دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے اپنی “خاموش سفارت کاری” جاری رکھے گا۔اسلام آباد مذاکرات:
دفترِ خارجہ کے مطابق، پاکستان اس وقت ایک اعلیٰ سطح کی نشست کی میزبانی کے لیے تیاریاں کر رہا ہے جہاں دونوں ممالک کے تکنیکی وفود امریکی جواب اور ایرانی 14 نکات پر براہِ راست بات کر سکیں۔
ایران کے ممکنہ اگلے اقدامات;
امریکی جواب موصول ہونے کے بعد ایران درج ذیل حکمتِ عملی اپنا سکتا ہے:
اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس:
تہران میں سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کا ہنگامی اجلاس متوقع ہے جس میں امریکی “کاؤنٹر پروپوزل” کا جائزہ لیا جائے گا۔
ایران یہ دیکھے گا کہ امریکہ نے پابندیوں کے خاتمے اور اثاثوں کی بحالی پر کیا ٹھوس وعدہ کیا ہے۔لچک یا سختی؟
اگر امریکی جواب میں صرف مطالبات ہوئے اور مراعات کم ہوئیں، تو ایران دوبارہ آبنائے ہرمز میں اپنی سرگرمیاں تیز کر کے دباؤ بڑھا سکتا ہے۔ تاہم، اگر امریکہ نے چند منجمد اثاثے بحال کرنے کی حامی بھری ہے، تو ایران اسلام آباد میں ہونے والے اگلے دور کے لیے آمادگی ظاہر کر دے گا۔
لبنانی محاذ پر اثر:
ایران اپنے اتحادیوں حزب اللہ وغیرہ کے ساتھ مشاورت کرے گا تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ آیا امریکی تجویز کے تحت لبنان میں جنگ بندی ممکن ہے یا نہیں۔
موجودہ صورتحال میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے “مشروط آمادگی” نے ایک کھڑکی کھولی ہے، لیکن جوہری پروگرام پر امریکی اصرار اب بھی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ پاکستان کی کوشش ہے کہ کسی طرح ایران کو “محدود معائنے” (Inspections) پر راضی کر لیا جائے تاکہ امریکہ پابندیاں ہٹانے کا عمل شروع کرے۔
اگلا اہم قدم:
مئی کے دوسرے ہفتے میں پاکستانی وفد کا دوبارہ تہران اور واشنگٹن کا دورہ متوقع ہے تاکہ دونوں کے درمیان موجود “اعتماد کے فقدان” کو کم کیا جا سکے۔
ایرانی سپریم لیڈر اور عالمی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، امریکہ کے جوابی پیغام کے بعد صورتحال درج ذیل ہے:
1. ایرانی سپریم لیڈر (آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای) کا موقف;
ایرانی میڈیا اور سرکاری بیانات کے مطابق، سپریم لیڈر نے حالیہ امریکی شرائط کو “قوم کے مفادات کے منافی” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔
ان کے بیانات کے اہم نکات یہ ہیں:
ایٹمی اثاثوں کا تحفظ: سپریم لیڈر نے واضح کیا ہے کہ ایران اپنی ایٹمی اور میزائل ٹیکنالوجی کو قومی اثاثہ سمجھتا ہے اور ان پر کسی قسم کی سودے بازی نہیں کی جائے گی۔
اقتصادی جنگ: سپریم لیڈر نے قوم کو “اقتصادی اور ثقافتی جہاد” کے لیے تیار رہنے کا کہا ہے تاکہ غیر ملکی پابندیوں اور ناکہ بندی کا مقابلہ کیا جا سکے۔
امریکی انخلا: سپریم لیڈر نے خلیج فارس میں امریکی موجودگی کو عدم استحکام کی بنیاد قرار دیتے ہوئے خطے سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے عزم کو دہرایا ہے۔
2. عالمی میڈیا کی تازہ ترین رپورٹس عالمی خبر رساں اداروں (Reuters, Bloomberg, NYT) کی رپورٹس کے مطابق، مذاکرات اس وقت تعطل (Deadlock) کا شکار ہیں:
امریکہ کا انکار:
صدر ٹرمپ نے ایرانی 14 نکاتی منصوبے کو “ناقابلِ قبول” قرار دیتے ہوئے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ ایران نے ابھی تک اپنے اقدامات کی “کافی قیمت” ادا نہیں کی۔
نئی فوجی دھمکی: امریکی صدر نے مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں ایران پر دوبارہ فوجی حملوں (Strikes) کے امکان کو مسترد نہیں کیا ہے۔
جوہری تعطل: میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ کا اصرار ہے کہ ایران اپنی افزودہ یورینیم کا ذخیرہ ختم کرے اور ایٹمی پروگرام مکمل بند کرے، جبکہ ایران اس مرحلے پر ایٹمی مذاکرات سے انکار کر رہا ہے۔
آبنائے ہرمز: عالمی میڈیا کے مطابق امریکہ نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو اپنی نگرانی (Escort) میں گزارنے کا منصوبہ بنایا ہے، جسے ایران نے جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
3. پاکستان کا جاری کرداربین الاقوامی جرائد (جیسے Wall Street Journal اور Al Jazeera) کے مطابق، پاکستان تاحال دونوں فریقین کو اسلام آباد لانے کے لیے تگ و دو کر رہا ہے۔ اگرچہ مذاکرات کا تازہ ترین دور تاخیر کا شکار ہوا ہے، لیکن پاکستانی حکام اب بھی ایک “درمیانی راستے” کی تلاش میں مصروف ہیں, صدر ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران سے کہا ہے کہ وہ پابندیوں کے خاتمے سے پہلے “عملی اقدامات” کر کے دکھائے
ایران کا ردعمل: ایرانی حکام اس وقت امریکی جواب کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں۔ تہران میں اعلیٰ سطح کے مشاورتی اجلاس ہو رہے ہیں تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ آیا امریکہ کے مطالبات پر لچک دکھائی جائے یا اپنے 14 نکات پر قائم رہا جائے۔
پاکستان میں متوقع ملاقات: اس تبادلۂ خیال کے بعد، اب سب کی نظریں اسلام آباد پر لگی ہوئی ہیں، جہاں مئی کے وسط میں دونوں ممالک کے نمائندوں کے درمیان ایک اہم غیر رسمی ملاقات کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ تعطل کو ختم کیا جا سکے۔
پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے اس عمل کو انتہائی خفیہ رکھا ہے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ وہ خطے میں بڑی جنگ کو روکنے کے لیے آخری حد تک کوششیں جاری رکھیں گے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ ایران کو اپنی 14 نکاتی تجاویز پر امریکا کا جواب پاکستان کے ذریعے موصول ہوگیا ہے، جس کے بعد ایرانی حکام اس جواب کا جائزہ لے رہے ہیں۔ قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق ایران نے اپنی 14 نکاتی تجاویز پر امریکا کا موصول ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا کہ امریکا نے ایران کی تجویز پر اپنا مؤقف پاکستان کے ذریعے پہنچایا ہے۔ تاہم واشنگٹن یا اسلام آباد کی جانب سے اس حوالے سے فوری طور پر کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔ اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران اس وقت موصول ہونے والے جواب کا بغور جائزہ لے رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کا 14 نکاتی منصوبہ مکمل طور پر خطے میں جاری جنگ کے خاتمے پر مرکوز ہے اور اس کا بنیادی مقصد کشیدگی کم کر کے پائیدار امن کی راہ ہموار کرنا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ اس مرحلے پر ایران اور امریکا کے درمیان کسی قسم کے جوہری مذاکرات جاری نہیں ہیں تاہم سفارتی سطح پر رابطے مختلف ذرائع سے برقرار ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق تہران کے 14 نکاتی منصوبے میں امریکا سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ایران کی سرحدوں کے قریب سے اپنی افواج واپس بلائے، ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کرے اور تمام محاذوں پر جاری کشیدگی، بشمول لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں، بند کی جائیں۔ اس منصوبے میں دونوں ممالک کے درمیان 30 دن کے اندر معاہدہ طے پانے کی تجویز بھی دی گئی ہے جب کہ زور دیا گیا ہے کہ فریقین موجودہ جنگ بندی کو طول دینے کے بجائے جنگ کے مکمل خاتمے پر توجہ دیں۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ جلد ایران کی جانب سے پیش کیے گئے منصوبے کا جائزہ لیں گے تاہم انہوں نے عندیہ دیا کہ یہ منصوبہ قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ایران نے گزشتہ برسوں میں کیے گئے اقدامات کی ابھی تک بڑی قیمت ادا نہیں کی۔ فلوریڈا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انہیں معاہدے کے خدوخال سے آگاہ کیا گیا ہے اور جلد اس کی مکمل تفصیلات فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے سوال پر کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو یہ امکان موجود ہے۔ امریکی صدر نے یہ بھی واضح کیا کہ امریکا اس تنازع سے مکمل طور پر پیچھے نہیں ہٹے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا حل نکالا جائے گا جس کے بعد دوبارہ مداخلت کی ضرورت پیش نہ آئے۔ تہران کی یہ تجویز امریکا کے 9 نکاتی منصوبے کے جواب میں دی گئی ہے، جس میں دو ماہ کی جنگ بندی کی تجویز شامل تھی۔ ادھر صدر ٹرمپ نے امریکی کانگریس کو لکھے گئے خط میں کہا کہ 8 اپریل سے جنگ بندی کے نفاذ کے بعد تنازع ختم ہو چکا ہے، تاہم ایران اب بھی امریکا اور خطے میں تعینات اس کی افواج کے لیے خطرہ ہے۔ انہوں نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کو تنازع کا تسلسل قرار دینے سے انکار کیا۔ واضح رہے کہ امریکی قانون کے مطابق صدر کو فوجی کارروائی کے 60 دن کے اندر کانگریس سے منظوری لینا ہوتی ہے، بصورت دیگر کارروائیاں روکنا لازم ہوتا ہے۔ دریں اثنا امریکی ارکان کانگریس، بشمول ریپبلکن پارٹی کے بعض رہنما، اس تنازع پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں اور جنگ کے خاتمے یا افواج کی واپسی کے مطالبات سامنے آ رہے ہیں۔ ایران نے اپنی یہ اہم 14 نکاتی دستاویز پاکستانی حکام کے حوالے کی تھی جنہوں نے اسے واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس تک پہنچایاتھا۔ اس وقت صورتحال کچھ یوں ہے:صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس دستاویز کی وصولی کی تصدیق کی ہے لیکن وہ اسے مکمل طور پر قبول کرنے کے حق میں نظر نہیں آتے۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ تجاویز کا باریک بینی سے جائزہ لیں گے، تاہم ان کا ابتدائی تاثر یہی ہے کہ ایران نے “کافی قیمت” ادا نہیں کی امریکی انتظامیہ اور صدر ٹرمپ اس مشکل مرحلے میں پاکستان کے ثالثی کے کردار کو اہمیت دے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے ذریعے بھیجے گئے اس مسودے کو فوری طور پر رد کرنے کے بجائے اس پر غور شروع کیا گیا ہے ٹرمپ کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کی ترجیح ایک ایسا “گرینڈ ڈیل” ہے جس میں ایران کے جوہری پروگرام اور میزائل پروگرام پر مستقل پابندیاں ہوں، جبکہ ایران کی 14 نکاتی تجویز میں زیادہ تر زور اقتصادی پابندیوں کے خاتمے اور علاقائی سلامتی پر دیا گیا ہے عالمی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر صدر ٹرمپ نے ان نکات میں سے چند پر بھی اتفاق کر لیا، تو یہ خطے میں بڑی جنگ کے بادل چھٹنے کی طرف پہلا قدم ہوگا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات اور وائٹ ہاؤس کے ذرائع کی روشنی میں، ایران کے 14 نکاتی منصوبے پر امریکی انتظامیہ کے اگلے ممکنہ اقدامات جوابی “کاؤنٹر پروپوزل” امکان ہے کہ واشنگٹن ایران کے 14 نکات کے جواب میں اپنی ایک نئی ترمیم شدہ تجویز بھیجے گا۔ ٹرمپ انتظامیہ ایران سے جوہری پروگرام کی مستقل بندش اور بیلسٹک میزائلوں پر مزید سخت ضمانتیں مانگ سکتی ہے، جو ایران کی موجودہ تجویز میں واضح نہیں , امریکی وزیرِ خارجہ یا کوئی اعلیٰ سطح کا وفد اسلام آباد کا دورہ کر سکتا ہے تاکہ پاکستانی ثالثوں کی موجودگی میں ایرانی وفد سے ان 14 نکات پر تکنیکی بحث کی جا سکے۔ ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ وہ “بات چیت کے لیے تیار ہیں” بشرطیکہ سودا ان کی شرائط کے قریب ہو۔ اگر مذاکرات آگے بڑھتے ہیں، تو امریکہ خیر سگالی کے طور پر ایران کے کچھ منجمد اثاثوں (تقریباً 6 سے 10 ارب ڈالر) کو واگزار کرنے یا ادویات و خوراک کی ترسیل کے لیے بحری ناکہ بندی میں عارضی نرمی کا اعلان کر سکتا ہے تاکہ ایران کو مزید رعایتوں پر آمادہ کیا جا سکے۔”انتظار کرو اور دیکھو” کی پالیسی:صدر ٹرمپ اپنی “زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی پالیسی کو برقرار رکھتے ہوئے فوری طور پر کوئی معاہدہ کرنے کے بجائے ایران کو مزید معاشی دباؤ میں رکھنے کی کوشش کر سکتے ہیں تاکہ تہران اپنے 14 نکات میں مزید لچک پیدا کرے۔علاقائی اتحادیوں سے مشاورت:واشنگٹن کوئی بھی حتمی قدم اٹھانے سے پہلے اسرائیل اور سعودی عرب کو اعتماد میں لے گا۔ اگر اسرائیل نے لبنانی محاذ پر جنگ بندی سے انکار کیا، تو امریکہ کے لیے ایران کی “کثیر الجہتی جنگ بندی” کی شرط ماننا مشکل ہو جائے گا۔مختصر یہ کہ اگلا قدم فوجی نہیں بلکہ سخت سفارتی سودے بازی کا ہوگا، جس میں پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد مرکزی اسٹیج بن سکتا ہے پاکستان کی اگلی سفارتی حکمتِ عملی اس وقت انتہائی نازک اور اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
پاکستان کی سب سے بڑی کوشش یہ ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے نمائندوں کو اسلام آباد میں ایک میز پر بٹھایا جائے چونکہ صدر ٹرمپ نے ایرانی نکات پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، اس لیے پاکستانی دفترِ خارجہ اور سیکیورٹی حکام اب اس دستاویز کی ایسی تشریح یا ترامیم پر کام کر سکتے ہیں جو امریکہ کے لیے قابلِ قبول ہوں۔ پاکستان کا ہدف یہ ہے کہ “جوہری پروگرام” اور “علاقائی مداخلت” جیسے مشکل موضوعات پر ایران سے کچھ لچک دکھانے کا کہے تاکہ ٹرمپ انتظامیہ کو انگیج رکھا جا سکے۔ پاکستان جانتا ہے کہ خلیج میں پائیدار امن کے لیے سعودی عرب کا اعتماد ضروری ہے۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف اور اعلیٰ عسکری قیادت آنے والے دنوں میں ریاض اور انقرہ کے ساتھ مزید مشاورت کر سکتے ہیں تاکہ ایران کے 14 نکاتی منصوبے کو ایک “علاقائی امن فارمولے” کے طور پر پیش کیا جا سکے۔ ایران نے آبنائے ہرمز کے لیے جو نیا انتظامی میکانزم تجویز کیا ہے، اس میں پاکستان خود کو ایک غیر جانبدار ضامن یا مبصر کے طور پر پیش کر سکتا ہے۔ پاکستان کی بحریہ اس اہم بحری گزرگاہ کی حفاظت اور تجارتی جہازوں کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے کسی مشترکہ فریم ورک کا حصہ بننے کی پیشکش کر سکتی ہے۔ اگر واشنگٹن سے کوئی باقاعدہ جوابی تجویز آتی ہے، تو پاکستانی قیادت فوری طور پر تہران کا دورہ کرے گی تاکہ ایرانی قیادت کو اس بات پر قائل کیا جا سکے کہ وہ امریکی تحفظات کو دور کریں پاکستان کا اگلا قدم صرف پیغام رسانی تک محدود نہیں رہے گا بلکہ وہ اب ایک ایکٹو فیسیلی ٹیٹر بن کر دونوں فریقین کو سمجھوتے کے درمیانی راستے پر لانے کی کوشش کرے گا۔ ایران اور امریکا کے درمیان جاری اس کشیدگی اور حالیہ 14 نکاتی منصوبے پر امریکی سرد مہری کے باعث عالمی توانائی کی منڈی اور خطے کی عسکری صورتحال میں نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں:
1. عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں پر اثرات ;
مئی 2026 کے آغاز میں مذاکرات میں تعطل کی خبروں نے تیل کی منڈیوں میں اضطراب پیدا کر دیا ہے:
قیمتوں میں اضافہ:
خام تیل (WTI اور Brent) کی قیمتوں میں 10 سے 13 فیصد تک کا فوری اضافہ دیکھا گیا ہے۔ فی بیرل قیمت 80 سے 82 ڈالر کے درمیان گردش کر رہی ہے۔
امریکی پیٹرول مارکیٹ:
امریکہ میں پیٹرول کی قیمت اوسطاً 4.45 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے، جو ٹرمپ انتظامیہ کے لیے سیاسی طور پر ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
سپلائی کا خطرہ:
آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کا 20 سے 30 فیصد تیل گزرتا ہے، وہاں ایران کی جانب سے “نئے انتظامی میکانزم” کی دھمکی اور امریکی بحری بیڑوں کی موجودگی نے سپلائی چین کے متاثر ہونے کا خدشہ بڑھا دیا ہے۔
2. خطے میں فوجی نقل و حرکت کی تفصیل ;
مذاکرات کے ساتھ ساتھ دونوں اطراف سے عسکری دباؤ میں بھی اضافہ ہوا ہے:
امریکی نقل و حرکت: امریکہ نے خلیج فارس اور بحیرہ عرب میں اپنے بحری بیڑوں (Carrier Strike Groups) کی موجودگی برقرار رکھی ہے۔ صدر ٹرمپ نے حالیہ بیانات میں فوجی حملوں کے امکان کو “میز پر” رکھا ہے تاکہ ایران پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔ایرانی الرٹ:
ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب اپنی بحری مشقوں اور میزائل یونٹس کو ہائی الرٹ کر دیا ہے۔
تہران نے واضح کیا ہے کہ اگر اس کے معاشی مفادات کو نقصان پہنچا تو وہ اس تجارتی شاہراہ کو غیر محفوظ بنا دے گا۔اسرائیلی پوزیشن:
اسرائیلی افواج لبنان کی سرحد پر اپنی فوجی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں اور انہوں نے واضح کیا ہے کہ وہ ایرانی منصوبے کے تحت اپنی کارروائیاں بند نہیں کریں گے۔
3. پاکستان کے لیے سیکورٹی چیلنجز;
پاکستان کی مغربی سرحد (ایران بارڈر) پر بھی صورتحال حساس ہے۔ پاک فوج خطے میں کسی بھی ممکنہ بڑے تصادم کے اثرات سے بچنے کے لیے ہائی الرٹ ہے اور اسی لیے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تہران کا دورہ کر کے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ اگر اسلام آباد میں متوقع مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر سکتی ہیں، جو پاکستان سمیت پوری دنیا کے لیے ایک بڑا معاشی بحران ثابت ہوگا۔
روس اور چین اس کشیدگی میں اپنا وزن ایران کے پلڑے میں ڈال رہے ہیں,
روس اور چین اس وقت تزویراتی (Strategic) اور معاشی طور پر ایران کی پشت پناہی کر رہے ہیں، جس کا مقصد خطے میں امریکی اثر و رسوخ کو کم کرنا ہے۔
ان کے کردار کی تفصیل درج ذیل ہے:
1. چین کا معاشی اور سفارتی کردار;
چین اس وقت ایران کا سب سے بڑا معاشی سہارا ہے:
تیل کی خریداری:
امریکی پابندیوں کے باوجود چین ایران سے بڑے پیمانے پر خام تیل خرید رہا ہے۔ ایران نے تجویز دی ہے کہ یہ تجارت چینی یواین (Yuan) میں کی جائے تاکہ ڈالر کی بالادستی کو ختم کیا جا سکے۔
25 سالہ معاہدہ:
چین اور ایران کے درمیان 400 ارب ڈالر کا اسٹریٹجک معاہدہ سی پیک (CPEC) کے پھیلاؤ میں مددگار ثابت ہو رہا ہے، جس سے ایران کی معیشت کو سانس لینے کا موقع مل رہا ہے۔
سفارتی تحفظ:
چین اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کے خلاف کسی بھی سخت امریکی قرارداد کو ویٹو کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور وہ مسلسل مذاکرات کے ذریعے حل نکالنے پر زور دے رہا ہے۔2. روس کا عسکری اور تزویراتی تعاون;
یوکرین جنگ کے بعد روس اور ایران کے تعلقات ایک نئی بلندی پر پہنچ چکے ہیں:
دفاعی ٹیکنالوجی کا تبادلہ:
روس ایران کو جدید فضائی دفاعی نظام (جیسے S-400 یا جدید لڑاکا طیارے) فراہم کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے تاکہ ایران پر کسی بھی ممکنہ امریکی یا اسرائیلی حملے کو ناکام بنایا جا سکے۔
مغربی دباؤ کی مخالفت:
روس کھل کر ایران کے 14 نکاتی منصوبے کی حمایت کر رہا ہے اور واشنگٹن پر زور دے رہا ہے کہ وہ “زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی پالیسی ترک کرے,
نارتھ ساؤتھ کوریڈور (INSTC):
روس اور ایران ایک نئے تجارتی راستے پر کام کر رہے ہیں جو روس کو ایران کے ذریعے خلیج فارس اور بھارت سے جوڑتا ہے، جس سے مغربی بحری راستوں پر انحصار کم ہو جائے گا۔
3. مشترکہ مقصد:
“ملٹی پولر ورلڈ”روس اور چین دونوں کا یہ مشترکہ ہدف ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کی یکطرفہ اجارہ داری ختم ہو۔
ایران کو اپنے پلڑے میں رکھ کر وہ امریکہ کو ایک بڑے علاقائی تصادم میں الجھائے رکھنا چاہتے ہیں تاکہ واشنگٹن کی توجہ ایشیا پیسیفک اور یوکرین سے ہٹی رہے۔
روس اور چین کی حمایت کی وجہ سے ہی ایران اس پوزیشن میں ہے کہ وہ امریکہ کو 14 نکاتی جیسی سخت شرائط پیش کر سکے، کیونکہ اسے معلوم ہے کہ وہ معاشی اور عسکری طور پر تنہا نہیں ہے۔امریکا نے قبضے میں لیے گئے ایرانی جہاز اور عملے کو پاکستان کے حوالے کردیاہے۔ دفترِ خارجہ نے جاری پریس ریلیز میں بتایا کہ قبضے میں لیے گئے ایرانی بحری جہاز توسکا کے عملے کے 22 ارکان کو امریکہ کی جانب سے بحفاظت پاکستان پہنچا دیا گیا ہے۔ دفترِ خارجہ کے مطابق ان افراد کو گزشتہ رات بذریعہ ہوائی جہاز پاکستان لایا گیا تھا اور انہیں آج ہی ایرانی حکام کے حوالے کردیا جائے گا۔ مزید کہا گیا کہ ایرانی بحری جہاز کو بھی ضروری مرمت کے بعد اس کے اصل مالکان کو واپس کرنے کے لیے پاکستانی سمندری حدود میں واپس لایا جا رہا ہے۔ پاکستان ایسے اعتماد سازی کے اقدامات کا خیر مقدم کرتا ہے اور علاقائی امن و سلامتی کیلئے جاری ثالثی کی کوششوں کے دوران بات چیت اور سفارت کاری میں سہولت کاری جاری رکھے گا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا تھا کہ جہاز کا عملہ 6 گھنٹے تک بار بار دی جانے والی انتباہی وارننگز پر عمل کرنے میں ناکام رہا اور یہ جہاز امریکی ناکہ بندی کی خلاف ورزی کر رہا تھا۔ دریں اثنا وزیرِ خارجہ اور نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے امریکہ اور ایران کے تعاون پر پاکستان کی جانب سے اظہارِ تشکر کیا اور کہا کہ ملک علاقائی امن و سلامتی کے لیے مذاکرات، سفارت کاری اور ثالثی میں سہولت کاری کے لیے پرعزم ہے۔یہ پیش رفت ایران اور امریکا کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی میں ایک بڑی سفارتی کامیابی اور پاکستان کی کامیاب ثالثی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
اس اقدام کے اہم پہلو درج ذیل ہیں:
اعتماد سازی کا اقدام (CBM):
ایرانی جہاز ‘توسکا’ اور اس کے 22 رکنی عملے کی پاکستان کے ذریعے واپسی ایک اہم “سوفٹ ڈسپلے” ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ ایران کی 14 نکاتی تجویز کے جواب میں امریکا نے خیر سگالی کے طور پر یہ قدم اٹھایا ہے۔
پاکستان کا مرکزی کردار:
عملے کو براہِ راست ایران بھیجنے کے بجائے پاکستان لانا اور پھر پاکستانی حکام کے ذریعے تہران کے حوالے کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ دونوں ممالک اسلام آباد کو ایک قابلِ بھروسہ ضامن کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
کشیدگی میں کمی کا اشارہ:
جہاز پر رائٹرز کے مطابق امریکی ناکہ بندی کی خلاف ورزی کا الزام تھا، لیکن اس کے باوجود عملے کی بحفاظت واپسی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن فی الحال تصادم کے بجائے سفارتی راستے کو کھلا رکھنا چاہتا ہے۔
وزیرِ خارجہ کا بیان:
اسحاق ڈار کا اس تعاون پر شکریہ ادا کرنا اس عزم کو دہراتا ہے کہ پاکستان خطے میں امن کے لیے اپنا ثالثی کا کردار مزید فعال طریقے سے جاری رکھے گا۔یہ واقعہ اسلام آباد میں ہونے والے متوقع مذاکرات کے لیے ایک خوش آئند آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »