LOADING

Type to search

Islamabad National

اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) ویل کم بیک بابر سرفراز الپا صاحب

Share

اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) کچھ شخصیات محض عہدوں پر تعینات نہیں ہوتیں بلکہ اپنے نظم، وقار، فیصلوں اور کمانڈ کی قوت سے پورے خطے کی شناخت بن جاتی ہیں۔ ان کی موجودگی اداروں میں جان ڈالتی ہے، فورس کے قدموں میں اعتماد پیدا کرتی ہے اور قانون شکن عناصر کے دلوں میں خوف کی کیفیت طاری کر دیتی ہے۔ بابر سرفراز الپا انہی افسران میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے وردی کے وقار کو صرف دفتر کی چار دیواری تک محدود نہیں رکھا بلکہ میدانِ عمل میں اپنی کمانڈ، ڈسپلن اور فیصلہ کن انداز سے اسے منوایا۔
پنجاب حکومت کی جانب سے کورس کی تکمیل کے بعد بابر سرفراز الپا کو دوبارہ ریجنل پولیس آفیسر راولپنڈی تعینات کرنا محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ راولپنڈی ڈویژن کیلئے ایک مضبوط پیغام ہے کہ کمان دوبارہ ایک ایسے افسر کے ہاتھ میں دی گئی ہے جو نظم و ضبط، فوری رسپانس، فیلڈ کمان اور ریاستی رٹ پر یقین رکھتا ہے۔
راولپنڈی کوئی عام ڈویژن نہیں۔ یہ حساسیت، دباؤ، چیلنجز اور مسلسل آپریشنل تیاری کا علاقہ ہے۔ یہاں پولیسنگ صرف تھانوں کی حد تک محدود نہیں رہتی بلکہ یہ ایک مکمل کمانڈ اسٹرکچر کا امتحان بن جاتی ہے۔ ایسے ماحول میں صرف وہی افسر کامیاب ہوتا ہے جو دباؤ میں فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو، جس کی اعصاب پر گرفت مضبوط ہو اور جس کی موجودگی ماتحت فورس کیلئے مورال بوسٹر بن جائے۔ بابر سرفراز الپا کی شخصیت انہی خصوصیات کی آئینہ دار رہی ہے۔
ان کے سابق دور کو یاد کیا جائے تو ایک چیز نمایاں دکھائی دیتی ہے: “فیلڈ میں موجود کمانڈر”۔ پاکستان میں اکثر افسران فائلوں اور بریفنگ رومز تک محدود ہو جاتے ہیں مگر کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو خود گراؤنڈ زیرو پر کھڑے ہو کر صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں۔ یہی طرزِ عمل فورس میں جنگی جذبہ پیدا کرتا ہے۔ ماتحت اہلکار جانتے ہیں کہ ان کا کمانڈر صرف احکامات جاری نہیں کرتا بلکہ خود مورچے کے قریب موجود رہتا ہے۔
بابر سرفراز الپا کا انداز ہمیشہ ایک سخت گیر مگر متوازن کمانڈر کا رہا۔ ان کے مزاج میں غیر ضروری شور نہیں بلکہ خاموش کنٹرول دکھائی دیتا ہے۔ وہ ان افسروں میں سے نہیں جو صرف بیانات سے ماحول گرم رکھتے ہیں بلکہ ان کی اصل طاقت ان کی آپریشنل گرفت، فوری فیصلہ سازی اور قانون شکن عناصر کیلئے “زیرو ٹالرنس” کی پالیسی رہی ہے۔
پولیس فورس کی اصل طاقت اسلحہ نہیں بلکہ کمانڈ اینڈ کنٹرول ہوتا ہے۔ اگر کمانڈر کمزور ہو تو پوری فورس دفاعی پوزیشن پر چلی جاتی ہے۔ لیکن جب قیادت مضبوط، متحرک اور حاضر دماغ ہو تو فورس میں خود بخود جارحانہ اعتماد پیدا ہو جاتا ہے۔ راولپنڈی ڈویژن میں بابر سرفراز الپا کے دور کو اسی تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ ان کی موجودگی نے فورس میں ایک واضح ڈسپلن پیدا کیا، جبکہ جرائم پیشہ عناصر کیلئے یہ پیغام واضح تھا کہ ریاستی عملداری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
تاریخ گواہ ہے کہ ریاستیں صرف قوانین سے نہیں بلکہ مضبوط کمانڈرز سے اپنا رعب قائم رکھتی ہیں۔ چاہے عسکری محاذ ہو یا داخلی سلامتی کا میدان، قیادت ہمیشہ فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔ بابر سرفراز الپا کی شخصیت میں بھی وہی کمانڈنگ آورا دکھائی دیتا ہے جو ایک منظم فورس کو درکار ہوتا ہے۔ ان کی گفتگو مختصر مگر احکامات واضح ہوتے ہیں۔ ان کا طرزِ عمل نرم الفاظ سے زیادہ عملی کارروائی پر یقین رکھتا ہے۔
راولپنڈی ڈویژن جیسے حساس علاقے میں ایک لمحے کی غفلت بھی بڑے نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔ یہاں جرائم پیشہ نیٹ ورکس، منظم گروہ، منشیات فروش اور قانون شکن عناصر ہمیشہ موقع کی تلاش میں رہتے ہیں۔ ایسے ماحول میں وہی افسر مؤثر ثابت ہوتا ہے جو انٹیلی جنس، فیلڈ آپریشنز اور ریسپانس سسٹم کو ایک مربوط حکمتِ عملی کے تحت چلا سکے۔ بابر سرفراز الپا کی پیشہ ورانہ شہرت بھی ایک ایسے ہی کمانڈر کی رہی ہے جو صرف دفتر نہیں بلکہ پورے آپریشنل گرڈ پر نظر رکھتا ہے۔
ان کے بارے میں پولیس فورس کے اندر ایک بات اکثر سننے کو ملتی ہے کہ وہ “موجود” رہتے ہیں۔ یہ لفظ بظاہر چھوٹا ہے مگر فورس کی زبان میں اس کی بڑی اہمیت ہے۔ جب کمانڈر موجود ہو تو اہلکاروں کے قدم مضبوط رہتے ہیں، ان کی ہمت قائم رہتی ہے اور وہ جانتے ہیں کہ ان کی پشت پر ایک فیصلہ کن قیادت کھڑی ہے۔ یہی احساس فورس کے مورال کو بلند کرتا ہے۔
بابر سرفراز الپا کے سابق دور میں متعدد ایسے مواقع آئے جب فوری کارروائی، موثر کریک ڈاؤن اور مضبوط فیلڈ کمان نے صورتحال کو قابو میں رکھا۔ ان کی حکمتِ عملی میں تاخیر کی گنجائش کم اور ردعمل کی رفتار نمایاں رہی۔ یہی خوبی کسی بھی سکیورٹی کمانڈر کی اصل پہچان ہوتی ہے۔
پاکستان میں عوام اب لمبی تقریروں سے زیادہ نتائج دیکھنا چاہتے ہیں۔ لوگ ایسے افسر چاہتے ہیں جن کی موجودگی محسوس ہو، جن کے دور میں قانون کی گرفت دکھائی دے اور جن کے ہوتے ہوئے جرائم پیشہ عناصر کھلے عام دندناتے نہ پھریں۔ بابر سرفراز الپا کی واپسی پر راولپنڈی ڈویژن میں جو اطمینان محسوس کیا جا رہا ہے، اس کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے کہ لوگ انہیں ایک متحرک، منظم اور فیلڈ پر گرفت رکھنے والے افسر کے طور پر دیکھتے ہیں۔
فوجی اصطلاح میں کہا جاتا ہے کہ “ایک مضبوط کمانڈر اپنی فورس کا مورال ہوتا ہے”۔ اگر قیادت غیر یقینی کا شکار ہو تو پوری لائن کمزور پڑ جاتی ہے، مگر اگر کمانڈر پرعزم ہو تو تھکی ہوئی فورس بھی نئی توانائی کے ساتھ کھڑی ہو جاتی ہے۔ بابر سرفراز الپا کی شخصیت میں یہی عنصر نمایاں دکھائی دیتا ہے۔
ان کی واپسی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب داخلی نظم و ضبط، موثر پولیسنگ اور ریاستی عملداری پہلے سے زیادہ اہم ہو چکی ہے۔ شہری آبادی بڑھ رہی ہے، جرائم کی نوعیت تبدیل ہو رہی ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ایسے ماحول میں تجربہ، اعصابی مضبوطی اور فوری فیصلہ سازی رکھنے والے افسران کی اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔
بابر سرفراز الپا کیلئے یہ واپسی صرف ایک نئی تعیناتی نہیں بلکہ دوبارہ محاذ سنبھالنے کے مترادف ہے۔ ان کے سامنے چیلنجز بھی بڑے ہیں اور توقعات بھی۔ مگر ان کی پیشہ ورانہ شہرت یہی بتاتی ہے کہ وہ دباؤ میں بکھرنے کے بجائے مزید منظم ہو کر سامنے آتے ہیں۔
وردی صرف کپڑا نہیں ہوتی، یہ ریاست کی اتھارٹی، نظم اور وقار کی علامت ہوتی ہے۔ کچھ لوگ اس وردی کو صرف ملازمت سمجھتے ہیں جبکہ کچھ اسے ذمہ داری سے بڑھ کر اعزاز مانتے ہیں۔ بابر سرفراز الپا انہی افسروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنے طرزِ عمل سے یہ ثابت کیا کہ کمان صرف عہدے سے نہیں بلکہ کردار، نظم اور فیصلہ کن قیادت سے قائم ہوتی ہے۔
راولپنڈی ڈویژن آج ایک بار پھر ایک ایسے کمانڈر کے سپرد ہے جس کے بارے میں یہ تاثر مضبوط ہے کہ وہ محاذ پر کھڑا رہنے والا افسر ہے۔ اور میدان ہمیشہ انہی لوگوں کو یاد رکھتا ہے جو قیادت صرف کرتے نہیں بلکہ اپنی موجودگی سے پوری فورس میں جنگی روح پھونک دیتے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »