اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) پاکستان میں دودھ کی صورتحال: مسائل اور انکا حل
Share
اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) دودھ انسانی صحت کے لیے ایک مکمل اور قدرتی غذا تصور کی جاتی ہے۔ اس میں پروٹین، کاربوہائیڈریٹس، چکنائی، وٹامنز اور معدنی اجزا وافر مقدار میں موجود ہوتے ہیں، جو انسانی جسم کی نشوونما اور صحت کے لیے نہایت ضروری ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ زندگی کے ابتدائی مہینوں میں ایک بچہ صرف دودھ پر ہی گزارا کر لیتا ہے۔ دودھ نہ صرف ہڈیوں کو مضبوط بناتا ہے بلکہ قوتِ مدافعت میں اضافہ، دماغی نشوونما اور جسمانی توانائی کے لیے بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ بچوں، بڑوں اور بزرگوں سب کے لیے دودھ روزمرہ خوراک کا لازمی جزو ہے۔ ماہرینِ غذائیت کے مطابق دودھ ایسی واحد غذا ہے جو انسانی جسم کی کئی بنیادی غذائی ضروریات کو بیک وقت پورا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، اسی لیے اسے “مکمل غذا” کہا جاتا ہے۔
جہاں دودھ کے بے شمار غذائی فوائد ہیں وہیں اس سے جڑے سنگین مسائل بھی ہمارے معاشرے میں تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ پاکستان میں کی جانے والی مختلف تحقیقی مطالعات کے مطابق بازاروں میں فروخت ہونے والا دودھ بڑی حد تک ملاوٹ شدہ ہوتا ہے، جو انسانی صحت کے لیے نہایت نقصان دہ ہے۔ ماہرین کے مطابق دودھ میں 18 سے زائد ملاوٹی اجزا شامل کیے جاتے ہیں جن میں پانی، نشاستہ، یوریا، فارملین، خشک دودھ اور ہائیڈروجن پر آکسائیڈ جیسے خطرناک کیمیکلز شامل ہیں۔ اس صورتحال میں ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا پاکستان میں دودھ کی پیداوار ضرورت سے کم ہے جس کی وجہ سے ملاوٹ کی جا رہی ہے یا پھر اس کی اصل وجہ محض بددیانتی اور ناجائز منافع خوری ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان دودھ کی پیداوار کے لحاظ سے دنیا میں چوتھے نمبر پر ہے اور سالانہ 66 ملین ٹن سے زائد دودھ پیدا کرتا ہے، جو بظاہر ملکی ضرورت کے لیے کافی ہے۔ تاہم اس کے باوجود یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ سال کے کچھ مہینوں، بالخصوص جولائی سے دسمبر تک، ملک میں دودھ کی کمی رہتی ہے جبکہ اگست سے نومبر کے دوران یہ کمی شدید صورت اختیار کر لیتی ہے۔ اس کی بڑی وجوہات میں شدید گرمی کے باعث چارے کی قلت، برسیم کی نئی فصل کا نومبر دسمبر میں دستیاب ہونا، جانوروں کے بچوں کا اگست ستمبر کے بعد پیدا ہونا اور ان مہینوں میں دودھ اور دہی کے استعمال میں اضافہ شامل ہیں۔ جب دودھ کی طلب بڑھتی ہے اور رسد کم ہو جاتی ہے تو یہی صورتحال ملاوٹ مافیا کے لیے مواقع پیدا کر دیتی ہے، جس کے نتیجے میں خاص طور پر انہی مہینوں میں ملاوٹ کا رجحان مزید بڑھ جاتا ہے۔ دودھ میں پانی کی ملاوٹ سب سے عام ہے، جس میں نہ صرف دودھ فروش بلکہ بعض اوقات دکاندار بھی اپنی جگہ ملاوٹ کرتے ہیں۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ یہ رجحان صرف تجارتی سطح تک محدود نہیں بلکہ گھریلو سطح پر بھی اپنے خاندان کی ضرورت پوری کرنے کے لیے دودھ میں پانی ملانا ایک معمول بنتا جا رہا ہے، جو مجموعی طور پر دودھ کے معیار کو شدید متاثر کر رہا ہے۔
پاکستان میں دودھ کی پیداوار کا زیادہ تر انحصار چھوٹے ڈیری فارمرز پر ہے جبکہ بڑے اور جدید دودھ کے فارم نہایت محدود تعداد میں موجود ہیں۔ یہ چھوٹے کسان روزانہ کی بنیاد پر دودھ پیدا کرتے ہیں جسے دودھ جمع کرنے والے افراد، جنہیں عام طور پر ملک مین یا گوالے کہا جاتا ہے، مختلف دیہات سے اکٹھا کر کے شہروں میں سپلائی کرتے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں تقریباً 97 فیصد دودھ کھلے عام فروخت ہوتا ہے جبکہ صرف 3 فیصد دودھ ایسا ہے جو پراسیسڈ یا پیک شدہ شکل میں صارفین تک پہنچتا ہے۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی کے قواعد و ضوابط کے مطابق جولائی 2022 کے بعد کھلے دودھ کی فروخت پر پابندی عائد ہے اور کم از کم پیسچرائزیشن کو لازمی قرار دیا گیا ہے، تاہم عملی طور پر ان قوانین پر کہیں بھی مؤثر عملدرآمد نظر نہیں آتا۔ بدقسمتی سے اس اہم اور مفید اقدام کو بڑی کمپنیوں کے مفادات سے جوڑ کر ایک غیر ضروری مسئلہ بنا دیا گیا ہے، حالانکہ ضرورت اس بات کی تھی کہ ہر شہر اور حتیٰ کہ دیہی سطح پر بھی چھوٹے پیسچرائزیشن پلانٹس قائم کیے جاتے تاکہ دودھ کی مکمل ٹریس ایبلٹی ممکن بنائی جا سکتی۔ اگر گوالا سسٹم پر گہرائی سے غور کیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ زیادہ تر دودھ فروشوں کے لیے پورا سال، بالخصوص شدید گرمی کے مہینوں میں، خالص دودھ کی سپلائی برقرار رکھنا انتہائی مشکل بلکہ بعض اوقات ناممکن ہو جاتا ہے۔ گوالا مختلف چھوٹے فارمرز کے گھروں سے تھوڑی تھوڑی مقدار میں دودھ اکٹھا کرتا ہے، جس میں بعض اوقات رات کا بچا ہوا دودھ بھی شامل ہو جاتا ہے۔ یہ دودھ جمع کرنے کا عمل ہی 2 سے 4 گھنٹے لے لیتا ہے، جس کے بعد اسے 50 سے 100 کلومیٹر کا سفر موٹر سائیکل پر طے کرنا پڑتا ہے اور پھر مختلف گھروں میں تھوڑی تھوڑی مقدار میں دودھ کی ترسیل میں مزید کئی گھنٹے صرف ہو جاتے ہیں۔ شدید گرمی میں دودھ اگر ایک گھنٹہ بھی مناسب درجہ حرارت کے بغیر رہے تو خراب ہو سکتا ہے، اور صرف برف ڈالنے سے اس مسئلے کا مستقل حل ممکن نہیں۔ اسی مجبوری کے باعث بعض اوقات دودھ کو محفوظ رکھنے کے لیے مختلف اشیا کی ملاوٹ کی جاتی ہے۔ اس پورے نظام کی خرابی اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ملک میں دودھ کی کولڈ سپلائی چین اور کم از کم پیسچرائزیشن جیسے قوانین کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ تمام دودھ فروش ملاوٹ نہیں کرتے، خاص طور پر وہ جو شہروں کے قریبی علاقوں سے دودھ فراہم کرتے ہیں، مگر جیسے جیسے شہر کا حجم بڑھتا ہے دودھ کے مسائل بھی اسی تناسب سے سنگین ہوتے چلے جاتے ہیں۔
یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ دودھ کا شمار اُن غذاؤں میں ہوتا ہے جو انتہائی جلد خراب ہو جاتی ہیں، یعنی یہ ہائیلی پریشیبل خوراک ہے۔ عمومی طور پر خوراک کو تین اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے: انتہائی جلد خراب ہونے والی غذائیں جیسے دودھ، نیم جلد خراب ہونے والی غذائیں جیسے ٹماٹر اور پیاز، اور دیرپا غذائیں جیسے گندم اور چاول۔ پاکستان میں سال کے کچھ مہینے، بالخصوص جنوری سے مارچ تک، ایسے ہوتے ہیں جب دودھ کی پیداوار بہت زیادہ ہو جاتی ہے اور طلب نسبتاً کم رہتی ہے، جس کے نتیجے میں بڑی مقدار میں دودھ ضائع ہونے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔ اس صورتحال کا فائدہ دودھ کی بڑی فیکٹریاں اٹھاتی ہیں جو کسانوں سے انتہائی کم نرخوں پر دودھ خرید کر اسے خشک دودھ میں تبدیل کر لیتی ہیں اور بعد ازاں قلت کے مہینوں میں اسی خشک دودھ کو استعمال کر کے دودھ اور دیگر مصنوعات تیار کرتی ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ عمل بڑی کمپنیوں کے لیے قانونی طور پر جائز ہے، جبکہ ملک میں چھوٹے نظام، دکانوں یا مقامی سطح پر کام کرنے والوں کے لیے اس کی اجازت نہیں دی جاتی۔ حالانکہ دنیا کے کئی ممالک میں بے شمار کمپنیاں خشک دودھ سے مختلف مصنوعات تیار کر رہی ہیں، مگر ہمارے ہاں اس پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔ ان پابندیوں کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ مقامی مارکیٹ میں دستیاب زیادہ تر خشک دودھ غیر معیاری ہوتا ہے، جو دودھ کے بجائے سبزیوں کی چکنائی اور نان ملک سالڈز سے تیار کیا جاتا ہے اور اکثر ایران کے راستے اسمگل ہو کر ملک میں آتا ہے۔ یہ خشک دودھ بین الاقوامی معیار پر پورا نہیں اترتا، جبکہ خالص دودھ سے تیار کردہ معیاری ملک پاؤڈر، جو بین الاقوامی کمپنیوں کے نام سے فروخت ہوتا ہے، انتہائی مہنگا ہونے کے باعث عام صارف کی پہنچ سے باہر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سال کے وہ مہینے جن میں دودھ کی شدید قلت ہوتی ہے، یعنی جولائی سے نومبر تک، اس غیر معیاری ایرانی دودھ پاؤڈر کا استعمال بڑھ جاتا ہے۔ اگر دودھ کی زیادہ پیداوار والے مہینوں میں دودھ کو محفوظ کر کے خشک دودھ یا کھویا تیار کر لیا جائے تو بعد کے مہینوں میں پیدا ہونے والی قلت پر بڑی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے، تاہم یہ عمل جدید اور مہنگے پلانٹس کے بغیر ممکن نہیں۔ اسی لیے اس شعبے میں حکومتی سرپرستی اور عملی تعاون نہایت ضروری ہے تاکہ دودھ کے ضیاع کو روکا جا سکے اور مستقبل میں قلت جیسے مسائل سے بچا جا سکے

اس وقت ملتان میں دودھ کا سرکاری نرخ 170 روپے فی کلو مقرر ہے، جبکہ شہر سے تقریباً 100 کلومیٹر دور دیہی علاقوں میں دودھ آج بھی 140 سے 150 روپے فی کلو کے حساب سے دستیاب ہے۔ ایسی صورتِ حال میں اس دودھ کو شہری صارفین تک 170 روپے فی کلو کی قیمت پر پہنچانا عملی طور پر ناممکن ہو جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دکانوں پر فروخت ہونے والا دودھ 160 سے 170 روپے فی کلو کے درمیان ہوتا ہے، جو کئی مرتبہ اس کی اصل خریداری لاگت سے بھی کم ہوتا ہے۔ اس غیر حقیقی قیمت کے باعث وہ چند ایماندار افراد جو خالص دودھ کی فراہمی کا ارادہ رکھتے ہیں، مارکیٹ کی صورتحال دیکھ کر پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یہی مسئلہ دودھ سے بنی دیگر اشیا، خصوصاً کھویا، میں بھی نمایاں ہے۔ آج مارکیٹ میں بڑی مٹھائی کی دکانیں کھویا 750 روپے فی کلو کے حساب سے خرید رہی ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ خالص کھویا تیار کرنے کی لاگت فیکٹری سطح پر ہی 900 روپے فی کلو سے کم نہیں پڑتی اور مارکیٹ میں اسے 1100 روپے فی کلو سے کم قیمت پر فروخت کرنا ممکن نہیں۔ اسی طرح صارفین کی اکثریت بھینس کے دودھ کو ترجیح دیتی ہے، حالانکہ ملتان سے تقریباً 60 کلومیٹر دور علاقوں میں یہی بھینس کا دودھ براہِ راست گھروں سے 200 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت ہو رہا ہے۔ اگر کوئی شخص اس دودھ کو وہاں سے لا کر ملتان میں اپنی دکان پر فروخت کرے تو مزدوری، بجلی، ٹرانسپورٹ، پیکنگ اور دیگر اخراجات نکالنے کے بعد اسے کم از کم 270 روپے فی کلو میں فروخت کرنا پڑے گا، جو موجودہ مارکیٹ کے لیے ناقابلِ قبول سمجھا جاتا ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم دودھ سمیت اپنی خوراک کی اشیا کی حقیقی لاگت کو سمجھنے اور ادا کرنے کے لیے تیار نہیں، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ملاوٹ جیسی برائیاں جنم لیتی ہیں۔ اگر ہمیں واقعی معیاری اور خالص اشیا درکار ہیں تو ہمیں یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ ہر اچھی چیز کی ایک قیمت ہوتی ہے، اور وہ قیمت اسی کاروبار کے ذریعے پوری ہونی چاہیے۔
آخر میں یہ بات واضح طور پر کہی جا سکتی ہے کہ دودھ بلا شبہ ایک مکمل غذا ہے اور اس کا روزانہ استعمال ہمارے لیے اور خصوصاً ہمارے بچوں کے لیے نہایت ضروری ہے۔ تاہم جہاں دودھ پینا اہم ہے وہیں اس کا خالص اور معیاری ہونا اس سے بھی زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ اس لیے ہمیں صرف کم قیمت کے پیچھے بھاگنے کے بجائے خالص دودھ اور دیگر معیاری غذائی اشیا کو خریدنے اور ان کے استعمال کو فروغ دینا چاہیے، چاہے اس کے لیے ہمیں کچھ اضافی قیمت ہی کیوں نہ ادا کرنی پڑے۔ حکومتی سطح پر یہ نہایت ضروری ہے کہ دودھ کے نرخ زمینی حقائق اور اصل لاگت کو مدنظر رکھتے ہوئے مقرر کیے جائیں اور وہ افراد اور ادارے جو ایمانداری سے خالص دودھ کی فراہمی کو یقینی بنا رہے ہیں، ان کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ گھریلو سطح پر صارفین دودھ کے معیار کو جانچنے کے لیے لیکٹومیٹر اور تھرمامیٹر کا استعمال کر سکتے ہیں، کیونکہ دودھ کی ایل آر ویلیو اس کے معیار کا ایک اہم اشاریہ ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ دودھ سے دہی بنا کر بھی اس کی کوالٹی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، جبکہ پنجاب فوڈ اتھارٹی کی لیبارٹریز سے دودھ کی باقاعدہ جانچ بھی ممکن ہے۔ چونکہ دودھ کا سب سے زیادہ استعمال بچے اور بزرگ کرتے ہیں اور دونوں کا مدافعتی نظام نسبتاً کمزور ہوتا ہے، اس لیے دودھ کا خالص ہونا صرف ایک ذاتی مسئلہ نہیں بلکہ پوری معاشرتی صحت کا معاملہ ہے، جس پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جانا چاہیے۔

